بہار شریعت

دعوے کے متعلق مسائل

دعوے کے متعلق مسائل

حدیث ۱: صحیح مسلم میں حضرت ابنٍ عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو محض دعوے کی وجہ سے دے دیا جایا کرے تو کتنے لوگ خون ا ور مال کا دعوی کر ڈالیں گے۔لیکن مدعی علیہ پر حلف ہے اور بیہقی کی روایت میں ہے ولیکن مدعی کے ذمہ بینہ (گواہ) ہے ا ور منکر پر قسم۔

حدیث ۲: امام احمد و بیہقی ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اس چیز کا دعوی کرے جو اس کی نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں اور وہ جہنم کو اپنا ٹھکانہ بنایٔ۔

حدیث۳: طبرا نی واثلہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ بہت بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ مرد اپنی اولاد سے انکار کردے۔

حدیث۴: امام احمد و طبرانی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی فرماتے ہیں ﷺ جو اپنی اولاد سے انکار کرے کہ اسے دنیا میں رسوا کرے قیامت کے دن علی رؤس الاشہاد اس کو اللہ تعالی رسوا کرے گا یہ اسکا بدلہ ہے ۔

حدیث۵: عبدالرزاق نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی میری عورت کے سیاہ بچہ پیدا ہوا ہے (یہ شخص اشارۃً اس بچہ سے انکار کرنا چاہتا ہے) حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تیرے یہاں اونٹ ہیں ۔ عرض کی ہاں ‘ فرمایا ان کے رنگ کیا کیا ہیں ۔عرض کی سب سرخ ہیں ۔ فرمایا ان میں کوئی بھورے رنگ کا بھی ہے۔ عرض کی چند بھورے بھی ہیں ۔ فرمایا سرخ اونٹوں میں بھورے اونٹ کہاں سے پیدا ہو گئے۔عرض کی مجھے معلوم نہیں شاید رگ نے کھینچ لیا ہو یعنی ان کی اوپر کی پشت میں کوئی بھورا ہوگا ۔ اس کا یہ اثر ہو گا۔ فرمایا تیرے بیٹے کو بھی شاید رگ نے کھینچ لیا ہو یعنی تیرے آبأاجداد میں کوئی سیاہ ہو اس کا یہ اثر ہو ۔ اس شخص کو نسب سے انکار کی اجازت نہیں دی۔

مسائل فقہیہ

دعوی اس قول کو کہتے ہیں جو قاضی کے سامنے اس لئے پیش کیا گیا جس سے مقصود دوسرے

شخص سے حق طلب کرنا ہے۔

مسئلہ۱: دعوی میں سب سے زیادہ اہم جو چیز ہے وہ مدعی و مدعی علیہ کا تعین ہے اس میں غلطی کرنا فیصلہ کی غلطی کا سبب ہوتا ہے عام لوگ تو اس کو مدعی جانتے ہیں جو پہلے قاضی کے پاس جاکر دعوی کرتا ہے اور اس کے مقابل کو مدعی علیہ۔ مگر یہ سطحی و ظاہری بات ہے بہت مرتبہ یہ ہوتا ہے جو صورۃًمدعی ہے وہ مدعی علیہ ہے اور جو مدعی علیہ ہے وہ مدعی۔فقہا نے اس کی تعریفات میں بہت کچھ کلام ذکر کئے ہیں اس کی ایک تعریف یہ ہے کہ مدعی وہ ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے کو ترک کردے تو اسے مجبور نہ کیا جایٔ اور مدعی علیہ وہ ہے جو مجبور کیا جاتا ہو مثلاً ایک شخص کے دوسرے پر ہزار روپے ہیں اگر وہ دائن مطالبہ نہ کرے تو قاضی کبھی اس کو دعوی کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا اگر چہ قاضی کو معلوم ہو اور مدیون اس کے دعوی کے بعد مجبور ہے ۔اس کو لا محالہ جواب دینا ہی پڑے گا ۔ ظاھر میں مدعی اور حقیقت میں مدعی علیہ کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شخص نے دعوی کیا کہ فلاں کے پاس میری امانت ہے دلادی جایٔ ۔ امین یہ کہتا ہے کہ میں نے امانت واپس کردی ۔ اس کا ظاہر مطلب یہ ہوا کہ اس کی امانت مجھ کو تسلیم ہے مگر میں دے چکا ہوں یہ امین کا ایک دعوی ہے مگر حقیقت میں امین ضمان سے منکر ہے ۔کیونکہ امین جب امانت سے انکار کرے تو امین نہیں رہتا بلکہ اس پر ضمان واجب ہو جاتا ہے ۔لہذ پہلے شخص کے دعوے کا حاصل طلب ضمان ہے۔ اور اس کے جواب کا محصل وجوب ضمان سے انکار ہے اب اس صورت میں حلف امین کے ذمہ ہوگا اور حلف سے کہہ دے گا تو بات اسی کی معتبر ہوگی (ہدایہ)

مسئلہ۲: مدعی اگر اصیل ہے یعنی خود اپنے حق کا دعوی کرتا ہے تو اس کو دعوے میں یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ فلاں کے ذمہ میرا یہ حق ہے اور اگر اصیل نہیں ہے بلکہ دوسرے شخص کا قائم مقام ہے ۔ مثلاً وکیل یا وصی ہے تو یہ بتانا ہوگا کہ فلاں شخص جس کا میں قائم مقام اس کا فلاں کے ذمہ یہ حق ہے (درمختار)

مسئلہ۳: دعوی وہی کرسکتا ہے جو عاقل تمیزدار ہو مجنوں یا اتنا چھوٹا بچہ جس کو کچھ تمیز نہیں ہے دعوی نہیں کر سکتا ۔ نابالغ سمجھدار دعوی کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ جانب ولی سے ماذون ہو (درمختار)

مسئلہ۴: دعوے میں مدعی کو جزم و یقین کے ساتھ بیان دینا ہوگا ۔ اگر یہ کہے گا مجھے ایسا شبہ ہوتا ہے یا میرا گمان یہ ہے تو دعوی قابل سماعت نہ ہو گا۔(ردالمختار)

مسئلہ۵: دعوے کی صحت کے شرائط یہ ہیں :

(۱) جس چیز کا دعوی کرے وہ معلوم ہو ۔ مجہول شے کا دعوی مثلاً فلاں کے ذمہ میں میرا کچھ حق ہے ۔قابل سماعت نہیں ۔

(۲)دعوی ثبوت کا احتمال رکھتا ہو لہذا ایسا دعوی جس کا وجود محال ہے باطل ہے مثلاً کسی ایسے کو اپنا بیٹا

بتاتا ہے کہ اس کی عمر اس سے زائد ہے یا اس عمر کا اس کا بیٹا نہیں ہو سکتا یا معروف النسب کو کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے قابل سماعت نہیں ۔ جو چیز عادۃً محال ہے وہ بھی قابل سماعت نہیں مثلاً ایک شخص فقرو فاقہ میں مبتلا ہے سب لوگ اسکی محتاجی سے واقف ہیں اغنیا سے زکو ۃ لیتا ہے وہ یہ دعو ی کرتا ہے کہ فلاں شخص کو میں نے ایک لاکھ اشرفی قرض دی ہے ۔ وہ مجھے دلادی جائے۔ یا کہتا ہے فلاں امیرکبیر نے میرے لاکھوں روپے غصب کر لیے وہ مجھ کو دلادئے جائیں ۔

(۳) خود مدعی اپنی زبان سے دعوی کرے بلا عذر اسکی طر ف سے دوسرا شخص دعو ی نہیں کرسکتا اگر مدعی زبانی دعوی کرنے سے عاجز ہے تولکھ کر پیش کرے ا و ر اگرقاضی اسکی زبان نہ سمجھتا ہو تو متر جم مقرر کرے۔

(۴) مدعی علیہ یا اس کے نائب کے سامنے اپنے دعوے کو بیان کرے ا ور اس کے سامنے ثبوت پیش کرے۔

(۵)دعوے میں تناقض نہ ہو یعنی اس سے پہلے ایسی بات نہ کہی ہو جو اس دعوے کے مناقض ہو مثلاً پہلے مدعی علیہ کی ملک کا خود اقرار کر چکا ہے اب یہ دعوی کرتا ہے کہ اس اقرار سے پہلے میں نے یہ چیز اس سے خرید لی ہے۔ نسب اور حریت میں تناقض مانع دعوی نہیں ۔

(۶) دعوی ایسا ہو کہ بعد ثبوت خصم پر کوئی چیز لازم کی جاسکے یہ دعوی کہ میں اس کا وکیل ہوں بیکار ہے (خانیہ، بحرالرائق،مننحۃالخالق، عالمگیری)

مسئلہ۶: جب دعوی صحیح ہو گیا تومدعی علیہ پر جواب دینا ہاں یا نہ کے ساتھ لازم ہے اگر سکوت کرے گاتو یہ بھی انکار کے معنی میں ہے۔ اس کے مقابلے میں مدعی کو گواہ پیش کرنے کا حق ہے ، گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ پر حلف ہے (درمختار)

مسٔلہ۷: منقول شے کا دعوی ہو تو یہ بھی بیان کرنا ہوگا کہ وہ مدعی علیہ کے قبضہ میں ناحق طور پر ہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ چیز مدعی کی ہو اورمدعی علیہ کے پاس مرہون ہو یا ثمن نہ دینے کی وجہ سے اس نے روک رکھی ہو (درمختار)

مسٗلہ۸: ایک چیز میں ملک مطلق کا دعوی کرتا ہے اور وہ چیز مدعی علیہ کے مستاجر یا مستعیر یا مرتہن کے قبضہ میں ہے اس صورت میں مالک و قابض دونوں کو حاضر ہونا ضروری ہے ہا ں اگر مدعی یہ کہتا ہے کہ مالک کے اجارہ پر دینے سے قبل میں نے خریدی ہے تو تنہا مالک خصم ہے اسی کے حاضر ہو نے کی ضرورت ہے(بحر)

مسٗلہ۹: زمین کے متعلق دعوی ہے ا ور زمین مزار ع کے قبضہ میں ہے اگر بیج اس نے اپنے ڈالے ہیں یا زراعت اگ چکی ہے تو مزارع کا حاضر ہو نا بھی ضروری ہے ۔و رنہ نہیں (بحر)

مسئلہ ۱۰: منقول چیز اگر ایسی ہو کہ اسکے حاضر کرنے میں دشواری نہ ہو تو مدعی علیہ کے ذمہ اس کا حاضر کرنا ہے تاکہ دعوی ا ور شہادت ا ور حلف میں اسکی طرف اشارہ کیا جاسکے ا ور اگر وہ چیز ہلاک ہو چکی ہے یا غائب ہو گئی ہے تو مدعی اسکی قیمت بیان کردے ا ور چیز موجود ہے مگر اسکے لانے میں دشواری ہو اگرچہ فقط اتنی ہے کہ ا س کے لانے میں مزدوری دینی پڑے گی تکلیف ہوگی جیسے چکی ا ور غلًہ کی ڈھیری بکریوں کا ریوڑتو مدعی قیمت ذکر کرے گا ا ور قاضی معائنہ کیلے اپنا امین بھیجے گا (درمختار)

مسئلہ۱۱: دعوی کیا کہ فلاں شخص نے میری فلاں چیز غصب کر لی ا ورمدعی اسکی قیمت نہیں بتا تا ہے جب بھی دعوی مسموع ہے یعنی مدعی علیہ منکر ہے تو اس پر حلف دیا جا ئے گا ا ور مقر ہے یا قسم سے انکار کرتا ہے توبیان کرنے پر مجبور کیا جائے گا ۔(درمختار)

مسئلہ۱۲: چند جنس و نوع و صفت کی چیزوں کا دعوی کیا ا ور تفصیل کے ساتھ ہر ایک کی قیمت نہیں بتا تا مجموعی قیمت بتا دینا کافی ہے ۔ اس کے ثبو ت کے گوا ہ لئے جائیں گے ا ورحلف کی ضرورت ہو گی تو مجموعہ پر ایک دم حلف دیا جا ئے گا (درمختار )

مسئلہ ۱۳: مد عی علیہ نے مد عی کی کوئی چیز ہلا ک کردی ہے ۔اس کی قیمت دلا پا نے کا دعوی ہے تو مدعی اس کی جنس و نوع بیان کرے تاکہ قاضی کو معلوم ہو سکے کہ کیا فیصلہ دینا چاہیئے کیونکہ بعض چیزیں مثلی ہیں جن کا تاوان مثل سے ہے ا ور بعض قیمی جن کا تاوان قیمت سے دلایا جائے گا (درمختار، عالمگیری )

مسئلہ ۱۴: کرتے کا دعوی ہو تو جنس و نوع وصفت و قیمت کرنے کے علا وہ یہ بھی بیان کرنا ہو گا کہ زنانہ ہے یا مردانہ بڑا ہے یا چھو ٹا(المگیری)

مسئلہ۱۵: ودیعت(امانت)کا دعوی ہو تو یہ بیان کر نا ضروری ہے کہ یہ چیز فلاں جگہ اس کے پاس امانت رکھی گئی تھی خواہ وہ چیز ایسی ہو جس کے لیے بار برداری صرف کرنی پڑے یا نہ پڑے ا ور غصب کا دعوی ہو تو جگہ بیان کرنے کی وہا ں ضرورت ہے کہ اس چیز کے جگہ بدلنے میں باربردا ری صرف کرنی پڑے ورنہ جگہ بیان کرنا ضرو ری نہیں ۔ غیر مثلی چیز کے غصب کا دعوی ہو تو غصب کے د ن جو اس کی قیمت ہو وہ بیا ن کرے(درمختا ر ،بحر)

مسئلہ ۱۶ : جائدادغیرمنقولہ کا دعوی ہو تو اس کے حدود کے متعلق مسائل کرنا ضرور ہے دعوی میں بھی ا ور شہادت میں بھی اگریہ جائدا دبہت مشہور ہو جب بھی ا س کے حدو د کے متعلق مسائل کر نا ضروری ہے گواہوں کو وہ مکان جس کے متعلق دعوی ہے معلوم ہے یعنی بعینہٖ اس کو پہچانتے ہوں تو ان کو حدود کا ذکر کرنا ضروری نہیں ا ور عقار( غیرمنقولہ) میں یہ بھی بیان کرنا ہو گا کہ وہ کس شہر کس محلہ کس کوچہ میں ہے (ہدایہ، درمختار )

مسئلہ ۱۷ : تین حدوں کا بیا ن کر نا کا فی ہے ۔یعنی مدعی یاگواہ چوتھی حد چھو ڑگیا دعوی صحیح ہے ا ور گواہی بھی صحیح ا ور اگر چوتھی حد غلط بیان کی یعنی جوچیز اس جانب ہے اس کے سوا دوسری چیز کو بتا یا تو نہ دعوی صحیح نہ شہادت کیونکہ مدعی علیہ یہ کہے گا کہ یہ چیز میرے پاس نہیں ہے پھر مجھ پر دعوی کیوں ہے ۔ا ور اگر مدعی علیہ یہ کہے کے یہ محدود میرے قبضہ میں ہے مگر تو نے حدود کے ذکر میں غلطی کی یہ بات قابل ا لتفات نہیں یعنی مدعی علیہ پر ڈگری نہ ہو گی ہا ں دونو ں نے بالاتفاق غلطی کا اعتراف کیا تو سرے سے مقدمہ کی سماعت ہوگی ( خانیہ) ا ور اگر صرف دو ہی حدیں ذکر کیں تو نہ دعوی صحیح ہے نہ شہادت۔رہی یہ بات کہ یہ کیونکر معلوم ہو کہ مدعی یاشا ہد نے حد کے بیان میں غلطی کی ہے اس کے متعلق مسائل خود اس کے ا قرار سے ہو گا مدعی علیہ اس کی غلطی پر گواہ نہیں پیش کرے گا ۔(بحر،درمختار)

مسئلہ ۱۸: تین حدیں ذکر کردی ہیں ۔ ایک باقی ہے جب یہ صحیح ہے تو چو تھی جانب کہا ں تک چیز شمار ہو گی اس کی صورت یہ کی جا ئے گی کہ تیسری حدجہا ں ختم ہوئی ہے وہاں سے پہلی حدکے کنارہ تک ایک خط مستقیم کھینچا جائے ا ور ا س کو چو تھی حد قر ا ردیا جائے (بحرالرائق)

مسئلہ ۱۹ : راستہ حد ہو سکتا ہے اس کا طول و عرض بیان کر نا ضروری نہیں نہر کو حد قرار نہیں دے سکتے ۔شہر پناہ کو حد قرار دے سکتے ہیں ۔ا ور خندق کو نہیں ۔اگر یہ کہا کہ فلاں جانب فلاں شخص کی زمین یا مکان ہے اگرچہ اس شخص کے اس شہر یا گائوں میں بہت مکان یا زمینیں ہیں جب بھی یہ دعوی ا ور شہادت صحیح ہے (بحر)

مسئلہ ۲۰: حدود میں جو چیز لکھی جا ئیں گی ان کے مالکو ں کے نام ا ور ان کے باپ دادا کے نام لکھے جائیں گے یعنی فلاں بن فلا ں بن فلاں ا ور اگر وہ شخص معروف و مشہور ہو تو فقط اس کا نام ہی کا فی ہے اگر کو ئی جائدادموقوفہ کسی جانب میں واقع ہو تو اس کو اس طرح تحریر کیا جائے کہ پوری طرح ممتاز ہوجائے۔مثلااگر وہ واقف کے نام سے مشہور ہے تو اسکا نام جن لوگوں پر وقف ہے ان کے نام سے مشہور ہو تو ان کے نام لکھے جائیں ( درمختار ردالمختار )

مسئلہ ۲۱: مکان کا دعوی کیا قاضی نے دریافت کیا تم اس مکان کی حدود کو پہچا نتے ہواس نے کہا نہیں دعو ی خارج ہو گیا ا ب پھر دعوی کرتا ہے ا ور حدود بیا ن کرتا ہے یہ دعوی مسموع نہ ہو گا ا ور اگر پہلی مرتبہ کے دعوے میں اس نے یہ کہا تھا کہ جن لوگوں کے مکان حدودمیں واقع ہیں ان کے نام مجھے نہیں معلوم ہیں اس وجہ سے خارج ہوا تھا ا ور اب دعوے کے ساتھ نام بتاتا ہے تو یہ دعوی مسمو ع ہو گا (عا لمگیری)

مسئلہ ۲۲: عقار میں مدعی کو یہ ذکر کرنا ہو گا کہ مدعی علیہ اس پر قا بض ہے کیونکہ بغیر اس کے خصم نہیں ہو سکتا ا ور دونوں کا متفق ہو کر مدعی علیہ کا قبضہ ظا ہر کرنا یہ کافی نہیں بلکہ گواہوں سے قبضئہ مدعی علیہ ثابت کرنا ہو گا یا قاضی کو ذاتی طور پر اس کا علم ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک مکان کے متعلق زید نے عمرو پر دعوی کردیا ا ور عمرو نے اقرار کرلیا زید کے موافق فیصلہ ہوگیا حالانکہ وہ مکان نہ زید کا ہے نہ عمرو کا بلکہ تیسرے کا ہے ا ور اس کے قبضہ میں ہے یہ دونو ں مل گئے ا ن میں ایک مدعی بن گیا ایک مدعی علیہ تا کہ ڈگری کراکے آپس میں بانٹ لیں ( درمختار ،ہدایہ ) ۔

مسئلہ ۲۳ : عقار میں اگر غصب کا دعوی ہو کہ میرا مکان فلاں نے غصب کر لیا یا خریداری کا دعوی ہو کہ میں نے وہ مکان خریدا ہے تو اس کی ضرورت نہیں کہ گواہو ں سے مدعی علیہ کا قابض ہو نا ثابت کرے کہ فعل کا دعوی قابض ا ور غیرقابض دونوں پر ہوتا ہے ۔ فرض کیا جائے کہ وہ قابض نہیں ہے تو دعوے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ( درمختار )

مسئلہ ۲۴ : یہ دعوی کیا کہ فلاں شخص کے مکان میں میرے مکان کی نالی جاتی ہے یا اس کے مکان میں پر نالہ گرتا ہے یا آبچک ہے تو یہ بیا ن کرنا ہو گا کہ برساتی پانی جانے کا راستہ ہے یا وہا ں گرتا ہے ۔ یا استعمالی پانی بھی ا ور نالی یا آبچک کی جگہ بھی متعین کرنی ہو گی کہ اس مکان کے کس حصہ میں ہے (عا لمگیری )

مسئلہ۲۵: یہ دعوی کیا کہ فلاں شخص نے میری زمین میں درخت نصب کئیے ہیں تو زمین کو بتانا ہوگاکہ کس زمین میں درخت لگائے اور کیا درخت لگائے ہیں ۔ یہ دعوی کیاکہ میری زمین میں مکان بنالیاہے تو زمین کو بیان کرے اور مکان کا طول و عرض بیان کرے اور یہ کہ اینٹ کا بنایا ہے یا کچا مکان ہے (عالمگیری)

مسئلہ۲۶: دوسرے کا مکان بیع کر دیا اور مشتری کو قبضہ بھی دے دیا اب مالک ا ٓیا اور اس نے بائع پر دعوی کیا اسکی چند صورتیں ہیں اگر مالک کا یہ مقصد ہے کہ مکان واپس لوں تو دعوی صحیح نہیں کہ بائع کے پاس مکان کب ہے جو اس سے لے گا۔ اور اگر یہ مقصود ہے کہ اس سے تاوان لے تو امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا مسلک معلوم ہے کہ عقار میں امام کے نزدیک غصب سے ضمان نہیں مگر چونکہ اس شخص نے بیع کر کے تسلیم بیع کی ہے اور اس میں اصح قول یہی ہے کہ ضمان واجب ہے اور اگر مالک یہ چاہتا ہے کہ بیع جائز کر کے بائع سے ثمن وصول کرلے یہ دعوی صحیح ہے (عالمگیری)

مسئلہ۲۷: ایک شخص نے جائدادغیرمنقولہ بیع کی اور بائع کا بیٹایا بی بی یا بعض دیگر قریبی رشتہ دار وہاں حاضر تھے۔اور مشتری مبیع پر قبضہ کر کے ایک زمانہ تک تصرف کرتارہا پھر ان حاضرین میں کسی نے مشتری پر دعوی کیا کہ بائع مالک نہ تھا میں مالک ہوں یہ دعوی مسموع نہ ہوگا اور اس کا سکوت ملک بائع کا اقرار متصور ہوگا (عالمگیری)

مسئلہ۲۸: یہ دعوی کیا یہ مکان جو مدعی علیہ کے قبضہ میں ہے یہ میرے باپ کا ہے جو مرگیا اور اس کو ترکہ میں چھوڑا اور میرے باپ نے اس مکان کے علاوہ دوسری اشیا جانور وغیرہ بھی ترکہ میں چھوڑیں اور میں اور میری ایک بہن کل دو وارث چھوڑے ہم نے ترکہ کو باہم تقسیم کر لیا اوریہ مکان تنہا میرے حصہ میں پڑا میری بہن نے اپنا کل حصہ ان اشیا سے وصول کرلیا ۔یہ مکان خاص میری ملک ہے یہ دعوی مسموع ہے (عالمگیری)

مسئلہ۲۹: یہ دعوی کیا کہ یہ مکان مجھے اپنے باپ یا ماں سے میراث میں ملا ہے اور مورث کا نام ونسب کچھ نہیں بیان کیا یہ دعوی مسموع نہیں (عالمگیری)

مسئلہ۳۰: یوں دعوی کیا کہ اس کے پاس جوفلاں چیز ہے وہ میری ہے کیونکہ اس نے میرے لیے اقرار کیا ہے یا اس پر میرے ہزار روپے ہیں اس لیے کہ اس نے ایسا اقرار کیا ہے یعنی اقرار کو دعوے کی بناء قرار دیتا ہے یہ دعوی مسموع نہیں ہاں اگر ملک کا دعوی کرتا اور اقرار کو ثبوت میں پیش کرتا تو دعوی مسموع ہوتا (عالمگیری)

مسئلہ۳۱: مدعی علیہ نے اقرار کو دفع دعوی میں پیش کیا یعنی مدعی کو مجھ پردعوی کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ اس نے خود میرے لیے اقرار کیا ہے یہ مسموع ہے یعنی اس کی وجہ سے دعوئے مدعی دفع ہوجائے گا (عالمگیری)

مسئلہ۳۲: دین کا دعوی ہو تو وہ مکیل ہو یا موزوں نقد ہو یا غیرنقد اس کا وصف بیان کرنا ہوگا اور مثلی چیزوں میں جنس نوع صفت مقدار سبب وجوب سب ہی کو بیان کرنا ہوگا مثلاً یہ دعوی کیا کہ فلاں کے ذمہ میرے اتنے گیہوں ہیں اور سبب وجوب نہیں بیان کرتا کہ اس نے قرض لیا ہے یا اس سے میں نے سلم کیا ہے یا اس نے غصب کیا ہے ایسا دعوی مسموع نہیں اور سبب بیان کردے گا تومسموع ہوگا اور قرض کی صورت میں جہاں قرض لیا ہے وہاں دینا ہوگا اور غصب کیا ہے تو جہاں سے غصب کیا سے وہاں اور سلم ہے تو جو جگہ تسلیم کی قرار پائی ہے وہاں (درمختار)

مسئلہ۳۳: سلم کا دعوی ہو تو شرائط صحت کے متعلق مسائل کرنا بھی ضروری ہے اگر یہ کہہ دیا کہ اتنے من گیہوں مسلم صحیح کی رو سے واجب ہیں اسکو بعض شیخ کافی بتاتے ہیں اسے شرائط صحت کے قائم مقام کہتے ہیں ۔ اور بیع کے دعوے میں بیع صحیح کہلانا کافی ہے۔ شرائط صحت بیان کرنا ضروری نہیں (عالمگیری)

مسئلہ۳۴: یہ دعوی کیا کہ میرا اس کے ذمہ اتنا چاہیے ہمارے مابین جو حساب تھا اس کے سبب سے یہ صحیح نہیں کہ حساب سبب وجوب نہیں (عالمگیری)

مسئلہ۳۵: یہ دعوی ہے کہ میت کے ذمہ اتنا دین ہے اور یہ بیان کردیا کہ وہ بغیر دین ادا کئے مرگیا اور اس نے اتنا ترکہ چھوڑا جس سے میرا دین ادا ہو سکتا ہے اور ترکہ ان وارثوں کے قبضہ میں ہے یہ دعوی مسموع ہے مگر وارث کو دین ادا کرنے کا اس وقت حکم ہوگا جب اسے ترکہ ملا ہو اور اگر وارث ترکہ ملنے سے انکار کرتا ہوتو مدعی کو ثابت کرنا ہو گا اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ ترکہ کی فلاں فلاں چیزیں اسے ملی ہیں (عالمگیری)

مسئلہ۳۶: دائن نے دین کا دعوی کیا مدیون کہتا ہے کہ میں نے اتنے روپے تمھارے پاس بھیج دیئے تھے یا فلاں شخص نے بغیر میرے کہنے کے دین ادا کردیا مدیون کی یہ بات مسموع ہوگی اور دائن پرحلف دیا جائیگا اور اگر مدیون قرض کا دعوی کرتا ہے کہتا ہے کہ فلاں شخص نے جو تمہیں اتنے روپے قرض دئیے تھے وہ میرے روپے تھے یہ بات مسموع نہ ہوگی(عالمگیری)

مسئلہ۳۷: یہ دعوی کیا کہ مبیع کا ثمن اسکے ذمہ ہے اور مبیع پر قبضہ کر چکا ہے تو مبیع کیا چیزتھی صحت دعوی کے لئے اس کے متعلق مسائل ضرورنہیں اسی طرح مکان بیچا تھا اس سے ثمن کا دعوی ہے تو اس دعوے میں اس کے حدود بیان کرنا ضروری نہیں اوراگر بیع پر مشتری کا قبضہ نہیں ہوا ہے تومبیع کے متعلق مسائل کرنا ضرور ہے بلکہ ممکن ہو تو حاضر لانا ہو گا تا کہ اسکی مبیع ثابت کی جا سکے (عالمگیری)

مسئلہ۳۸: دعوی صحیح ہو گیا تو قاضی مدعی علیہ سے اس دعوے کے متعلق دریافت کرے گا کہ اس دعوے کے متعلق تم کیا کہتے ہو اور دعوی اگر صحیح نہ ہو تو مدعی علیہ سے کچھ نہیں دریافت کرے گاکیونکہ اس پر جواب دینا واجب نہیں ۔ اب مدعی علیہ اقرار کرے گا یا انکار اگر اقرار کرلیا بات ختم ہو گئی مدعی کے موافق فیصلہ ہو گا اور مدعی علیہ کے انکار کی صورت میں مدعی کے ذمہ یہ ہے کہ وہ اپنے دعوے کو گواہوں سے ثابت کرے اگر ثابت کردیا مدعی کے موافق فیصلہ کیا جائے گا اور گواہ پیش کرنے سے مدعی عاجز ہے اور مدعی علیہ پر حلف دینے کو کہتا ہے تو اس پر حلف دیا جائے گا بغیر طلب مدعی حلف نہیں دیا جائے گا کیونکہ حلف دینا مدعی کا حق ہے اس کا طلب ضروری ہے اگر مدعی علیہ نے قسم کھالی مدعی کا دعوی خارج ا ور قسم سے انکار کرتا ہے تو مدعی کا دعوی دلا یا جائے گا(ہدایہ، درمختار،وغیرہما)

مسئلہ ۳۹: مدعی علیہ یہ کہتا ہے کہ نہ میں اقرار کرتا ہوں نہ انکار تو قاضی حلف نہیں دے گا بلکہ دونوں باتوں میں سے ایک پر مجبور کرے گا اسے قید کردیگا یہاں تک کہ اقرار کرے یا انکار۔ یوہیں اگر مدعی علیہ خاموش ہے کچھ بولتا ہی نہیں اور کسی مرض کی وجہ سے بولنے سے عاجز بھی نہیں تو اسے مجبور کیا جائے گا مگر امام ابو یو سف یہ فرماتے ہیں سکوت بمنزلہ انکار کے ہے۔ اور اس باب میں انھیں کے قول پر بیشتر فتوی دیا جاتاہے (درمختار)

مسئلہ۴۰: مدعی علیہ نے مدعی سے کہا اگر تم قسم کھا جا ئو تو میں مال کا ضامن ہوں ۔ مدعی نے قسم کھالی مدعی علیہ مال کا ضامن نہ ہوگاکہ یہ تغیر شرع ہے شرع میں مدعی پر حلف نہیں ہے۔یو ہیں زید نے عمرو پر ہزار روپے کا دعوی کیا عمرو نے کہا اگر تم قسم کھا جا ئو کہ میرے ذمہ تمہاے ہزار روپے ہیں تو ہزار روپے دے دوں گا زید نے قسم کھالی اور عمرو نے اس وجہ سے کہ قسم کھانے پر دینے کو کہا تھا۔ یہ دینا با طل ہے جو کچھ دیا ہے اس سے واپس لے سکتا ہے (بحر، درمختار)

مسئلہ۴۱: مدعی نے مدعی علیہ سے قسم کھانے کو کہا اس نے قاضی کے سامنے بغیر حکم قاضی قسم کھالی یہ قسم معتبر نہیں کہ اگر چہ قسم کا مطالبہ مدعی کا کام ہے مگر حلف دینا قاضی کا کام ہے جب تک قاضی اس پر حلف نہ دے اس کا قسم کھنا بے سود ہے (عالمگیری)

مسئلہ۴۲: شوہر غائب ہے عورت نے قاضی کے یہاں درخواست کی کہ میرے لئے نفقہ مقررکردیا جائے قاضی عورت پر حلف دے گا کہ قسم کھا کہ تیرا شوہر جب گیا تجھے نفقہ نہیں دے گیا یہ حلف بغیر طلب مدعی ہے (عالمگیری)

مسئلہ۴۳: میت پر دین کا دعوی کیا اور ثبوت کے گواہ بھی رکھتا ہے مگر باوجود گواہ قاضی خود بغیر وارث یا وصی کی طلب کے اس پر یہ قسم دے گا کہ نہ تونے میت سے دین وصول پایانہ کسی دوسرے نے اس کی طرف سے تجھے دین ادا کیا نہ کسی دوسرے نے تیرے حکم سے دین پر قبضہ کیا نہ تو نے کل دین یا اس کا کوئی جز معاف کیا نہ کل دین یا جز کا کسی پر حوالہ تو نے قبول کیا نہ دین کے بدلہ میں کوئی چیز تیرے پاس رہن ہے ۔ یہاں بھی بغیر طلب خود قاضی یہ حلف دیگا بغیر حلف لئے قاضی نے دین ادا کرنیکا حکم دیدیا یہ حکم نافذ نہیں (درمختار،ردالمختار، عالمگیری)

مسئلہ۴۴: گواہ سے ثبوت ہونے کے بعد قسم نہیں دی جاتی مگر ان مسائل ذیل میں (۱) میت پر دین کا دعوی کیا اور گواہوں سے ثابت کردیا یا ترکہ میں حق کا دعوی کیا اور گواہوں سے ثابت کردیا قاضی حلف دے گا کہ قسم کھا کر مدعی یہ کہے کہ میں نے اپنا دین یا حق وصول نہیں پایاہے۔ یہاں بغیر دعوی حلف دیا جائے گا جس طرح حقوق اللہ میں حلف دیا جاتا ہے۔(۲) کسی نے بیع میں اپنا حق ثابت کیا کہ یہ چیز میری ہے اور گواہوں سے اپنی ملک ثابت کردی۔ مشتری مستحق پر یہ حلف دے گا کہ نہ تو نے یہ چیز بیع کی نہ صدقہ کی نہ یہ چیزتیری ملک سے خارج ہوئی۔(۳) کسی نے دعوی کیا کہ یہ میرا غلام ہے بھاگ گیا ہے اور گواہوں سے ثابت کیا اس کو قسم کھا کر بتانا ہوگا کہ وہ اب تک اسی کی ملک میں ہے نہ اسے بیچا ہے نہ ہبہ کیا ہے (بحر)

مسئلہ۴۵: مدعی نے دعوے کو گواہوں سے ثابت کردیا مدعی علیہ قاضی سے یہ کہتا ہے کہ مدعی پر یہ قسم دی جائے کہ وہ اپنے دعوے میں سچا ہے یا اس کے گواہ پر قسم دی جائے کہ وہ سچے ہیں یا شہادت میں حق پر ہیں ۔ قاضی اسکی بات تسلیم نہ کرے بلکہ اگر گواہوں کو معلوم ہو کہ قاضی ان پر حلف دیگا اور منسوخ پر عمل کرے گا تو گواہی سے باز رہ سکتے ہیں کہ ایسی حالت میں گواہی دینا ان پر لازم نہیں (درمختار)

مسئلہ۴۶: مغصوب منہ(جس کی چیز کسی نے غصب کی) کہتا ہے میرے کپڑے کی قیمت سو روپے ہے اور غاصب یہ کہتا ہے مجھے معلوم نہیں کیا قیمت ہے مگر سو روپے نہیں غاصب کو قیمت بیان کرنے پر مجبور کیا جائے گا اگر وہ نہ بیان کرے تو اس کو یہ قسم کھانی ہوگی کہ سو روپے اس کی قیمت نہیں ہے اس کے بعدپھر مغصوب منہ کو حلف دیا جائے کا کہ وہ قسم کھائے سو روپے قیمت ہے اگر یہ بھی قسم کھا جائے تو سو روپے دلوادئیے جائیں گے اس کے بعد اگر وہ کپڑا مل گیا تو غاصب کو اختیار ہے کہ کپڑا لے لے یا کپڑا مغصوب منہ کو دے کر اپنے سو روپے واپس لے لے (بحرالرائق)

مسئلہ۴۷: مدعی یہ کہتا ہے میرے گواہ شہر میں موجود ہیں کچہری میں حاضر نہیں ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ مدعی علیہ پر حلف دے دیا جائے قاضی حلف نہیں دے گا بلکہ کہے گا تم اپنے گواہ پیش کرو(ہدایہ)

مسئلہ۴۸: مدعی کہتا ہے میرے گواہ شہر سے غائب ہو گئے ہیں یا بیمار ہیں کہ کچہری تک نہیں آسکتے تو مدعی علیہ پر حلف دیا جائے گا مگر قاضی اپنا آدمی بھیجکر تحقیق کر لے کہ وا قعی وہ نہیں ہیں یا بیمار ہیں بغیر اس کے حلف نہ دے (عالمگیری)

مسئلہ۴۹: ملک مطلق کا دعوی کیا یعنی مدعی نے اپنی ملک کا کوئی سبب نہیں بیان کیا اور اپنی ملک پر گواہ پیش کرتا ہے ذی الید یعنی مدعی علیہ بھی اپنی ملک کے گواہ پیش کرتا ہے کیونکہ یہ اپنی ملک کا مدعی ہے اس صورت میں ذی الید (قابض) کے گواہ سے خارج (جسکے قبضہ میں وہ چیزیں نہیں ہے) ا س کے گواہ زیادہ ترجیح رکھتے ہیں یعنی خارج کے گواہ مقبول ہیں یہ اس صورت میں ہے کہ دونوں نے ملک کی کو ئی تاریخ نہیں بیا ن کی یا دونوں کی ایک تاریخ ہے یا خارج کی تاریخ پہلے کی ہے (ہدایہ وغیرہا) ۔

مسئلہ ۵۰: مدعی علیہ نے انکار کیا اس پر حلف دیاگیا ۔حلف سے بھی انکار کر دیا خواہ یوں کہ اس نے کہہ دیا میں حلف نہیں اٹھائونگا یا سکوت کیا ا ور معلوم ہے کہ یہ سکوت کسی آفت کی وجہ سے نہیں ہے مثلاًبہرا نہیں ہے کہ سنا ہی نہیں ا ور یہ انکار یا سکوت مجلس قاضی میں ہے تو قاضی فیصلہ کردے گا ا ور بہتر یہ ہے کہ اس صورت میں تین مرتبہ اس پر حلف پیش کیا جائے بلکہ قاضی کو چاہئے کہ اس سے پہلے ہی کہہ دے میں تجھ پر تین مرتبہ قسم پیش کروں گا اگر تو نے قسم کھالی تو تیرے موافق فیصلہ کروں گا ورنہ تیرے خلاف فیصلہ کر دو ں گا ۔(درمختار )

مسئلہ ۵۱: حلف سے انکار پر فیصلہ کردیا گیا ا ب کہتا ہے میں قسم کھائوں گا اس کی طرف ا لتفات نہیں کیا جائے گا ۔ فیصلہ جو ہو چکا ہو چکا مگر جس کے خلاف فیصلہ ہوا ہے وہ اگر ایسی بات پر شہادت پیش کرنا چاہتا ہو جس سے فیصلہ باطل ہو جائے تو گواہ لیے جا سکتے ہیں ۔( بحر،درمختار )

مسئلہ ۵۲: قاضی نے دو مرتبہ قسم پیش کی اس نے کہا مجھے تین دن کی مہلت دی جائے تین دن کے بعد آکر کہتا ہے میں قسم نہیں کھائوں گا اس کے خلاف فیصلہ نہ کیا جائے جب تک پھر قاضی اس پرقسم پیش نہ کرے اور وہ انکار نہ کرے ا ور اس وقت بھی تین مرتبہ قسم پیش کرنا ا ور انکار کرنا ہو (عا لمگیری )

مسئلہ ۵۳ : مدعی علیہ کا جواب نہ دینا اس وجہ سے ہے کہ وہ گونگا ہے قاضی حکم دے گا کہ اشارہ سے جواب دے اگر اقرار کا اشارہ کیا اقرار صحیح ہے انکار کا اشارہ کیا اس پر قسم دی جائے گی ۔ قسم کھالینے کا اشارہ کیا قسم ہو گئی قسم سے انکار کا اشارہ کیا نکول ہوگا ا ور اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا (عا لمگیری )

مسئلہ ۵۴ : ایک صورت فیصلہ کی یہ بھی ہے کہ دعوی قطعی قرا ئن سے ثابت ہو جس میں شبہہ کی گنجائش نہ ہو مثلاًایک خالی مکان سے ایک شخص خون آلودہ چھری لیے ہوئے نکلا جس پر خوف کے آثار ظاہر ہیں اس مکان میں فوراًً گھسے ا ور ایک شخص کو پایا جو فوراًًذبح کیا گیا ہے ان کی شہادت پر وہ قاتل قرار پائے گا اگر چہ انھو ں نے قتل کرتے نہیں دیکھا ( در مختار ) ۔

مسئلہ ۵۵ : مدعی علیہ کو شبہہ پیدا ہوگیا کہ شاید مدعی جو کہتا ہے وہ ٹھیک ہو اس صورت میں مدعی سے مصالحت کرے ا ور قسم نہ کھائے ا وراگر مدعی راضی نہیں ہوتا وہ کہتا ہے میں تو حلف ہی دوں گا اگر غالب گمان یہ ہے کہ میں بر سرحق ہوں تو حلف کرے ورنہ انکار کر دے (بحر) ۔

مسئلہ ۵۶ : ایک شخص پر مال کا دعوی ہوا اس نے نہ انکار کیا نہ اقرار ا ور کہتا ہے مجھے مدعی نے اس دعوے سے ا ور حلف سے بری کردیا ہے ا ور مدعی کہتا ہے میں نے اسے بری نہیں کیا ہے دیکھا جائے گا اگر مدعی نے گواہوں سے دعوی ثابت کردیا ہے تو بری نہ کر نے پراسے قسم دی جائے گی ورنہ مدعی علیہ پر قسم دیں گے ( بحر )

مسئلہ ۵۷: بعض دعوے ایسے ہیں کہ ان میں منکر پر قسم نہیں ہے (۱) نکا ح میں مدعی مرد ہو یا عورت ۔(۲) رجعت میں مرد نے اس سے انکار کیا یا عورت نے مگرعورت اس صورت میں منکر اس وقت ہو سکتی ہے جب عدت گزرچکی ہو ۔(۳) ایلا میں نے عدت ایلا گزرنے کے بعد کوئی بھی اس سے منکر ہو عورت ہو یا مرد۔(۴) استیلا د یعنی ام ولد ہونے کا دعوی اس کی صورت یہ ہے کہ باندی ام ولد ہونے کا دعوی کرتی ہے ا ور مولے منکر ہے ۔(۵) رقیت وہ کہتا ہے میں فلاں کا غلام ہوں ا ور مولے منکر ہے یا اس کا عکس ۔(۶) نسب ایک نسب کا مدعی ہے دوسرا منکر ۔(۷) دلا ۔(۸)حد ۔(۹)لعان (ہدایہ غیرہا)

مسئلہ ۵۸ : عورت نے نکاح کا دعوی کیا مرد منکر ہے قسم اس صورت میں نہیں جیسا کہ مذکور ہوا ۔ لہذا قاضی فیصلہ بھی نہیں کر سکتا عورت قاضی سے کہتی ہے میں نکاح کر نہیں سکتی کہ میرا شوہر یہ موجود ہے اور یہ خود نکاح سے انکار کرتا ہے ا ب میں مجبور ہوں کیا کروں اسے یہ حکم دیا جائے کہ مجھے طلاق دیدے تاکہ میں دوسرے سے نکاح کرلوں ۔ زوج کہتا ہے اگر میں طلاق دیتا ہوں تو نکاح کا ا قرار ہوا جاتاہے۔ قاضی حکم دے گا کہ تو یہ کہہ دے کہ یہ اگر میری عورت ہے تو اسے طلاق اور اگر مرد مدعی نکاح ہے عورت منکر ہے شوہر کہتا ہے میں اسکی بہن سے یا اس کے علاوہ چوتھی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں قاضی اس کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ جب یہ شخص خود مدعی نکاح ہے تو اسکی بہن سے یا چوتھی عورت سے کیونکر نکاح کر سکتا ہے بلکہ قاضی یہ کہے گا اگر تو نکاح کرنا چاہتا ہے تو اسے طلاق دیدے(عالمگیری)

مسئلہ۵۹: یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ نکاح وغیرہ فلاں فلاں چیزوں میں منکر پر حلف نہیں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب محض انھیں چیزوں کا دعوی ہو اور اگر اس سے مقصود مال ہو تو منکر پر حلف ہے مثلاًعورت نے مرد پر دعوی کیا کہ اتنے مہر پر میرا نکاح اس سے ہوا اور اس نے قبل د خول طلاق دیدی لہذا نصف مہر مجھے دلایاجائے مرد کہتا ہے میرا نکاح ہی اس سے نہیں ہوا ۔ یا عورت دعوی کرتی ہے کہ اس سے میرا نکاح ہوا اس سے نفقہ مجھے دلایا جائے مرد کہتا ہے نکاح ہوا ہی نہیں نفقہ کیونکر دوں ان صورتوں میں منکر پر حلف ہے کہ یہاں مقصود مال کا دعوی ہے اگرچہ بظا ہر نکاح کا دعوی ہے (عالمگیری)

مسئلہ۶۰ چور چوری سے انکار کرتاہے اس پر حلف دیا جائے گا مگر حلف سے انکار کریگا تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مال لازم ہو جائے گا اور اقرار کرلے گا تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چوری کے سوا اور کسی حد کے معاملہ میں حلف نہیں ہے ۔اور اگر ایک نے دوسرے کو کافر منافق زندیق وغیرہ الفاظ کہے یا اس کو تھپڑ مارا یااسی قسم کی کوئی دوسری حرکت کی جس سے تعزیر واجب ہوتی ہے اور مدعی حلف دینا چاہتا ہے تو حلف دیا جائے گا(درمختار، عالمگیری)

مسئلہ ۶۱: حلف میں نیابت نہیں ہوسکتی کہ ایک شخص کی جگہ دوسرا شخص قسم کھا جائے استحلاف میں نیابت ہو سکتی ہے۔ یعنی دوسرا شخص مدعی کے قائم مقام ہو کر حلف طلب کرسکتا ہے مثلاً وکیل مدعی اور وصی اور ولی اور متولی کہ اگر یہ مدعی ہوں حلف کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور مدعی علیہ ہوں ان پر حلف عائد نہیں ہوتا ہاں اگر ان پر دعوی ایسے عقد کے متعلق ہو جو خود ان کاکیا ہو یا انھوں نے اصیل پر کوئی اقرار کیا ہے اور اب انکار کرتے ہیں تو حلف ہوگا مثلاً ایک شخص وکیل با لبیع ہے یہ موکل پر ا قرار کرے صحیح ہے اور قسم سے انکار کرے یہ بھی صحیح ہے یعنی اسے نکول قرار دیا جائے گا اور فیصلہ کیا جائے گا (درمختار)

مسئلہ ۶۲: کسی شخص پر حلف دیا جائے اس کی دو صورتیں ہیں حلف خود اسی کے فعل کے متعلق ہے یا دوسرے کے فعل کے متعلق اگر اسی کے فعل پر قسم دی جائے تو بالکل یقینی طور پر ہو اس سے یہ کہلوایاجائے کہ خدا کی قسم میں نے اس کام کو نہیں کیا ہے اور دوسرے کے فعل کے متعلق ہو تو علم پر قسم کھلائی جائے یعنی واللہ میرے علم میں یہ نہیں ہے کہ اس نے ایسا کیا ہے ۔ ہاں اگر دوسرے کا فعل ایسا ہو جس کا تعلق خود اسی سے ہے تو ا ب علم پرقسم نہیں ہوگی بلکہ قطعی طور پر انکار کرنا ہوگا ۔ مثلاً زید نے دعوی کیا کہ جو غلام میں نے خریدا ہے اس نے چوری کی ہے اور اس کو گواہوں سے ثابت کیا اور زید یہ بھی کہتا ہے کہ بائع کے یہاں اس نے چوری کی تھی لہذا اس عیب کی وجہ سے بائع پر واپس کیا جائے اور بائع منکر ہے زید بائع پر حلف دیتا ہے تو بائع کو یوں قسم کھانی ہوگی کہ واللہ اس نے میرے یہاں نہیں چوری کی ہے اس صورت میں اگر چہ چوری کرنا غلام کا فعل ہے مگر چونکہ اس کا تعلق بائع سے ہے لہذا فعل کی قسم کھانی ہوگی یوں نہیں کہ میرے علم میں اس نے چوری نہیں کی اور اگر دوسرے فعل سے اس کو تعلق نہ ہو تو فعل کی قسم نہیں کھلائی جائے گی بلکہ یہ قسم کھائے گا کہ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے مثلاًایک چیز کے متعلق زید بھی کہتا ہے میں نے خریدی ہے اور عمرو بھی کہتا ہے میں نے خریدی ہے زید یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ چیز میں نے عمرو کے پہلے خریدی ہے اور گواہ موجود نہیں ہیں تو عمرو پریہ قسم دی جائے گی خدا کی قسم میں نہیں جانتا ہوں کہ زید نے یہ چیزمجھ سے پہلے خریدی ہے ۔زید نے وارث پر ایک چیز کا دعوی کیا کہ یہ میری ہے وارث انکار کرتا ہے تو علم پر قسم کھائے گا اور اگروارث نے دوسرے پر دعوی کیا تو وہ قطعی طور پر قسم کھائے گا ۔ ایک شخص نے کوئی چیز خریدی یا کسی نے اسے ہبہ کیا اور دوسرا شخص اس چیز میں اپنی ملک کا دعوی کرتا ہے مگر اس کے پاس کوئی گواہ نہیں اس مشتری یا مو ہوب لہ پریمین ہے کہ منکر ہے اور یہ قطعی طور مدعی کی ملک سے انکار کرے گا کیونکہ جب یہ خرید چکا ہے یا اس کو ہبہ کیا گیا تو یقینًامالک ہوگیا (بحر ،درمختار)

مسئلہ۶۳: مدعی علیہ پر حلف آیا اس نے مدعی کو کچھ دے دیا کہ یہ چیز حلف کے بدلے میں لے لو اور مجھ پرحلف نہ دو یا کسی چیز پر دونوں نے صلح کرلی یہ صحیح ہے یعنی قسم کے معاو ضہ میں جو چیز لی گئی یا کوئی چیز دے کر مصالحت ہوئی جائز ہے اس کے بعد اب مدعی اس پر حلف نہیں رکھ سکتا اور مدعی نے یہ کہہ دیا کہ میں نے تجھے حلف ساقط کردیا یا تو حلف سے بری ہے یا میں نے تجھے حلف ہبہ کردیا یہ صحیح نہیں پھر اس کے بعد بھی حلف دے سکتا ہے (کنز)

مسئلہ ۶۴ : مدعی علیہ نے پہلے مدعی کے دعوے سے انکار کیا اس کے ذمہ حلف آیا تو حلف سے بھی انکار کیا اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مدعی علیہ انکار دعوے میں جھوٹا ہے کیونکہ سچا تھا تو حلف کیوں نہیں اٹھایا بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ آدمی کبھی سچی قسم سے بھی گریز کرتا ہے اپنا اتنا نقصان ہو گیا یہ گوارا مگر قسم کھانا منظور نہیں اگرچہ سچی ہوگی لہذا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نکول کو بذل قراردیتے ہیں کہ مال دے کر جھگڑا کاٹا یعنی تھا تو ہمارا ہم نے چھوڑا اور دین کا دعوی ہو تو مدعی کو لینا جائز اس وجہ سے ہے کہ اسے اپنا حق سمجھ کر لیتا ہے نہ یہ کہ حق مدعی علیہ جان کر لیتا ہے (ہدایہ وغیرہا) یہ اس صورت میں ہے کہ مدعی و مدعی علیہ دونوں اپنے اپنے خیال میں سچے ہوں ناجائز طور پر مال لینا نہ چاہتے ہوں ورنہ جو خود اپنا نا حق پر ہونا جانتا ہو اس کے گنہگار ہونے میں کیا شبہہ۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button