ARTICLES

داہنی جانب سے ابتداء طواف کی حکمت

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بیت اللہ شریف کا طواف داہنی جانب سے شروع کرنے کا حکم ہے اس میں کیا حکمت ہے ؟

(السائل : محمد دانش، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : طواف میں حکم یہ ہے کہ طواف کرنے والا بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو تو جس طرف اس کا دایاں ہاتھ پڑتا ہے اس طرف کو چلے یا یوں سمجھئے کہ اس طرح چلے کہ اس کا بایاں کندھا بیت اللہ شریف کی طرف ہو اور دایاں کندھا بالائی جانب۔ اور اس طرح چلنے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کے بارے میں علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی 970ھ (34) لکھتے ہیں ، ان سے قاضی حسین بن محمد سعید مکی حنفی متوفی 1366ھ (35) نقل کرتے ہیں :

و الحکمۃ فیہ : ان الطائف بالبیت موتم بہ، و الوحد مع الامام یکون الامام عن یسارہ، و قیل : لان القلب فی الجانب الایسر، و قیل : لیکون الباب فی اول طوافہ لقولہ تعالی : {واتوا البیوت من ابوابہا} (36)

یعنی، طواف میں بیت اللہ شریف کو اپنی بائیں جانب کرنے میں حکمت یہ ہے کہ بیت اللہ شریف کا طواف کرنے والا، اس کی اقتداء کرنے والا ہے ، ایک مقتدی امام کے ساتھ ہو تو امام مقتدی کی بائیں جانب ہوتا ہے ، اور کہا گیا (بیت اللہ شریف کو اپنی بائیں جانب کرنے میں حکمت یہ ہے ) کہ دل بائیں جانب ہے ، اور کہا گیا (بیت اللہ شریف کو اپنی بائیں جانب کرنے میں حکمت یہ ہے ) کہ ہو جائے (بیت اللہ شریف کا) دروازہ اس کے طواف کی ابتداء میں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{واتوا البیوت من ابوابہا} (37)

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 20 ذوالحجۃ 1431ھ، 26 نوفمبر 2010 م 698-F

حوالہ جات

34۔ البحر الرائق، باب الاحرام، تحت قولہ : وطف مضطبعا وراء الحطیم الخ، 2/574

35۔ ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری، باب دخول مکۃ، فصل : فی صفۃ الشروع فی الطواف الخ، تحت قولہ : اخذ یمین نفسہ، ص187۔188

36۔ البقرۃ : 2/189

37۔ البقرۃ : 2/189، ترجمہ : اور گھر وں میں دروازوں سے او۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button