شرعی سوالات

دارالاسلام میں کافر حربی سے سود نہیں بلکہ نفع لینا جائز ہے اگرچہ عقد فاسد کے ذریعہ ہو ۔

سوال:

دارالاسلام میں کافر حربی سے سود لینا کیسا ہے ؟

جواب:

 سود کسی سے بھی لینا جائز نہیں۔ جیساکہ ارشاد ربی ہے : وحرم الربوا۔ نہ اس میں مسلم کی قید ہے، نہ حربی کی اور نہ دارالاسلام کی۔ البتہ کافر حربی سے کوئی مال ہاتھ آئے اگرچہ عقد فاسد کے ذریعے ہو تو مال حلت اصلیہ کی بنیاد پر حلال ہوگا اور سود نہ ہو گا۔ یہ نہیں کہ سود ہے اور حلال ہے۔ بلکہ یہ سود نہیں ہے اس لئے حلال ہے۔ حدیث شریف میں ہے: لا ربا بین المسلم و الحربی۔ اور کیوں کر سود ہو جب کہ سود کے لئے عصمت بدلین شرط ہے۔ اور کافر حربی کا مال معصوم نہیں لہذا وہ سود نہیں۔ اور ہندوستان کے کفار حربی ہیں۔ لہذا ان سے جو رقم ان کی خوشی سے دستیاب ہو جب کہ غدر نہ ہو اگرچہ وہ سود کہہ کر دیں مگر جب لینے والا سود سمجھ کر نہ لے تو جائز ہے۔ اور سود سمجھ کر لینا جائز نہیں۔

(فتاوی فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 208، شبیر برادرز لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button