بہار شریعت

خیار عیب کے متعلق مسائل

خیار عیب کے متعلق مسائل

احادیث:۔

حدیث ۱: ابن ماجہ نے واثلہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے عیب والی چیزبیع کی اور اس کو ظاہر نہ کیاوہ ہمیشہ اللہ تعالی کی ناراضی میں ہے یا فرمایا کہ ہمیشہ فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۔

حدیث۲: امام احمد و ابن ماجہ وحاکم نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور جب مسلمان اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی چیز بیچے جس میں عیب ہو تو جب تک بیان نہ کرے اسے بیچنا حلال نہیں ۔

حدیث۳: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور اقدسﷺ غلہ کی ڈھیری کے پاس گزرے اس میں ہاتھ ڈالدیا حضور کو انگلیوں میں تری محسوس ہوئی ارشاد فرمایا اے غلہ والے یہ کیا ہے اس نے عرض کی یارسول اللہ ﷺاس پر بارش کا پانی پڑگیا تھا ارشادفرمایا تونے بھیگے ہوئے کو اوپر کیوں نہیں کردیا کہ لوگ دیکھتے جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ۔

حدیث۴: شرح سنہ میں مخلدبن خفاف سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے ایک غلام خریدا تھا اور اس کو کسی کام میں لگادیا تھا پھر مجھے اس کے عیب پر اطلاع ہوئی اس کا مقدمہ میں نے عمر بن عبدالعزیر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پیش کیا انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ غلام کو میں واپس کردوں اور جوکچھ آمدنی ہوئی ہے وہ بھی واپس کردوں پھر میں عروہ سے ملا اور انکو واقعہ سنایا انھوں نے کہا شام کو میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس جاؤں گا ان سے جاکر یہ کہا کہ مجھ کوعائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ خبر دی ہے کہ ایسے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ آمدنی ضمان کے ساتھ ہے یعنی جس کے ضمان میں چیز ہووہی آمدنی کا مستحق ہے یہ سن کر عمر بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ کیا کہ آمدنی مجھے واپس ملے ۔

حدیث۵: دارقطنی و حاکم وبیہقی ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس ﷺنے فرمایا نہ خود کو ضرر پہنچنے دے نہ دوسرے کو ضرر پہنچائے جو دوسرے کو ضرر پہنچائے گااللہ تعالی اس کو ضرر دے گااور جو دوسرے پر مشقت ڈالے گا اللہ تعالی اس پر مشقت ڈالے گا۔

حدیث۶: بیہقی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ ارشاد فرمایا بیچنے کے لئے جو دودھ ہو اس میں پانی نہ ملاؤایک شخص (امم سابقہ میں سے جبکہ شراب حرام نہ تھی) ایک بستی میں شراب لے گیا پانی ملاکر اسے دوچند کردیا پھر اس نے ایک بندر خریدااور دریا کا سفر کیا جب پانی کی گہرائی میں پہنچا بندر اشرفیوں کی تھیلی اٹھا کر مستول پر چڑھ گیا۔اور تھیلی کھول کر ایک اشرفی پانی میں پھینکتا اور ایک کشتی میں اس طرح اس نے اشرفیوں کے نصف نصف تقسیم کردی ۔

مسائل فقہیہ:

عرف شرع میں عیب جس کی وجہ سے بیع کو واپس کرسکتے ہیں وہ ہے جس سے تاجر وں کی نظر میں چیز کی قیمت کم ہوجائے ۔

مسئلہ۱: مبیع میں عیب ہوتواس کا ظاہرکردینا بائع پر واجب ہے چھپانا حرام و گناہ کبیرہ ہے یونہی ثمن کا عیب مشتری پر ظاہر کر دینا واجب ہے اگر بغیر عیب ظاہر کئے چیز بیع کردی تو معلوم ہونے کے بعدواپس کرسکتے ہیں اس کو خیار عیب کہتے ہیں خیار عیب کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وقت عقد یہ کہہ دے کہ عیب ہوگاتو پھیر دینگے کہا ہو یا نہ ہوبہر حال عیب معلوم ہونے پر مشتری کوواپس کرنے کا حق حاصل ہوگالہذا اگرمشتری کو نہ خریدنے سے پہلے عیب پر اطلاع تھی نہ وقت خریداری ا کے علم میں یہ بات آئی بعد میں معلوم ہواکہ اس میں عیب ہے تھوڑا عیب ہو یا زیادہ خیار عیب حاصل ہے کہ مبیع کو لینا چاہے تو پورے دام پرلے لے واپس کرنا چاہے واپس کردے یہ نہیں ہوسکتاکہ واپس نہ کرے بلکہ دام کم کردے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲: عیب پر مشتری کو اطلاع قبضہ سے پہلے ہی ہوگئی تومشتری بطور خود عقد کوفسخ کرسکتا ہے اس کی ضرورت نہیں کہ قاضی فسخ کاحکم دے تو فسخ ہوسکے بائع کے سامنے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے عقد کو فسخ کردیا یا رد کردیایا باطل کردیا بائع راضی ہویا نہ ہو عقد فسخ ہوجائے گااور اگر مبیع پر قبضہ کرچکا ہے تو بائع کی رضا مندی یا قضائے قاضی کے بغیر عقد فسخ نہیں ہوسکتا ۔( ہدایہ ، عالمگیری)

مسئلہ۳: مشتری نے مبیع پر قبضہ کرلیا تھاپھر عیب معلوم ہوااور بائع کی رضا مندی سے عقد فسخ ہواتوان دونوں کے حق میں فسخ ہے مگر تیسرے کے حق میں یہ فسخ نہیں بلکہ بیع جدید ہے کہ اس فسخ کے بعد اگر مبیع مکان یازمین ہے تو شفعہ کرنے والا شفعہ کرسکتا ہے اور اگر قضائے قاضی سے فسخ ہوا توسب کے حق میں فسخ ہی ہے شفعہ کا حق نہیں پہنچے گا۔( ہدایہ )

مسئلہ ۴: خیار عیب کی صورت میں مشتری مبیع کا مالک ہوجاتا ہے مگر ملک لازم نہیں ہوتی اور اس میں وراثت بھی جاری ہوتی ہے یعنی اگر مشتری کو عیب کا علم نہ ہوااورمرگیااور وارث کو عیب پر اطلاع ہوئی تو اسے عیب کی وجہ سے فسخ کا حق حاصل ہوگا۔خیار عیب کے لئے کسی وقت کی تحدید نہیں جب تک موانع رد نہ پائے جائیں (جن کے متعلق مسائل آئے گا) یہ حق باقی رہتا ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۵: خیار عیب کے لئے یہ شرط ہے کہ (۱) مبیع میں وہ عیب عقد بیع کے وقت موجود ہویا بعد عقد‘ مشتری کے قبضہ سے پہلے پیدا ہولہذا مشتری کے قبضہ کرنے کے بعد جو عیب پیدا ہوااس کی وجہ سے خیار حاصل نہ ہوگا۔(۲) مشتری نے قبضہ کرلیا ہوتو اس کے پاس بھی وہ عیب باقی رہے اگر یہاں وہ عیب نہ رہا تو خیار بھی نہیں (۳)مشتری کو عقد یا قبضہ کے وقت عیب پر اطلاع نہ ہوعیب دار جانکرلیا یا قبضہ کیا خیار نہ رہا(۴)بائع نے عیب سے برأت نہ کی ہو اگر اس نے کہہ دیاکہ میں اس کے کسی عیب کا ذمہ دار نہیں خیار ثابت نہیں (عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ۶: لونڈی غلام کا مالک کے پاس سے بھاگنا عیب ہے اور اگر بھاگنا اس وجہ سے ہے کہ مالک اس پر ظلم کرتا ہے تو عیب نہیں ۔ مالک نے اسے امانت رکھ دیا ہے یا عاریت دیدیا ہے یا اجرت پر دیا ہے امین یا مستعیر یا مستاجر کے پاس سے بھاگنابھی عیب ہے مگر جبکہ یہ ظلم کرتے ہوں ۔ بھاگنے کے لئے یہ ضرور نہیں کہ شہر سے نکل جائے بلکہ اسی شہر میں رہے جب بھی عیب ہے اور بھاگنا اس وقت عیب ہے جب مشتری کے یہاں سے بھی بھاگا ہو۔( درمختار وغیرہ)

مسئلہ۷: مشتری کے یہاں سے بھاگ کر بائع کے یہاں آیا اور چھپا نہیں جب کہ بائع اسی شہر میں ہوتو عیب نہیں اور یہاں آکر پوشیدہ ہوگیا تو عیب ہے ۔ غاصب کے یہاں سے بھاگ کر مالک کے پاس آیا یہ عیب نہیں ۔(درمختار ردالمحتار)

مسئلہ ۸: بیل وغیرہ جانور دو تین دفعہ بھاگیں تو عیب نہیں اس سے زیادہ بھاگنا عیب ہے ۔(ردالمحتار)

مسئلہ ۹: بچھو نے پر پیشاب کرنا عیب ہے چوری کرنا عیب ہے چاہے اتنا چرایا جس سے ہاتھ کا ٹا جائے یا اس سے کم یونہی کفن چرانا جیب کاٹنا بھی عیب ہے بلکہ نقب لگانا بھی عیب ہے ۔کھانے کی چیز کھانے کے لئے مالک کی چرائی تو عیب نہیں اور بیچنے کے لئے چرائی یا دوسرے کی چیز چرائی تو عیب ہے بعض فقہانے فرمایا کہ مالک کا پیسہ دوپیسے چرانا عیب نہیں ۔( عالمگیری،درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ۱۰: بھاگنا ۔چوری کرنا۔بچھونے پر پیشاب کرنا ان تینوں کے اسباب بچپن میں اور بڑے ہونے پر مختلف ہیں ۔بچپن سے مراد پانچ سال کی عمر ہے اس سے کم عمر میں یہ چیزیں پائی جائیں تو عیب نہیں ۔بچپن میں ان کا سبب کم عقلی اور ضعف مثانہ ہے اور بڑے ہونے کے بعد ان کا سبب سوء اختیار اور باطنی بیماری ہے لہذااگر یہ عیوب مشتری وبائع دونوں کے یہاں بچپن میں پائے گئے یا دونوں کے یہاں جوانی کے بعد پائے گئے تو مشتری رد کرسکتا ہے کہ یہ وہی عیب ہے جوبائع کے یہاں تھا اور اگر بائع کے یہاں یہ عیب بچپن میں تھا اور مشتری کے یہاں بلوغ کے بعد تو رد نہیں کرسکتا کہ یہ وہ عیب نہیں بلکہ دوسرا عیب ہے جو مشتری کے یہاں پیدا ہوا جس طرح بائع کے یہاں اسے بخار آتا تھا اگر مشتری کے یہاں بھی وہی بخار اسی وقت آتا تو واپس کرسکتا ہے اور مشتری کے یہاں دوسری قسم کا بخار آیا تو واپس نہیں کرسکتا ۔( درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۱: نا بالغ غلام کے خریدا جو بچھونے پر پیشاب کرتا تھا مشتری کے یہاں بھی یہ عیب موجود تھا مگر کوئی دوسرا عیب اس کے علاوہ بھی پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے واپس نہ کرسکااور بائع سے اس عیب کانقصان لے لیا بالغ ہونے پر پیشاب کرنا جاتارہا تو جو معاوضہ ٔ عیب بائع نے ادا کیا ہے چونکہ وہ عیب جاتا رہا وہ رقم واپس لے سکتا ہے ۔(فتح)

مسئلہ۱۲: جنون بھی عیب ہے اور بچپن اور جوانی دونوں میں اس کا سبب ایک ہی ہے یعنی اگر بائع کے یہاں بچپن میں پاگل ہواتھا اورمشتری کے یہاں جوانی میں تو واپس کرنے کا حق ہے کیونکہ یہ وہی عیب ہے دوسرا نہیں ۔جنون کی مقدار یہ ہے کہ ایک دن رات سے زیادہ پاگل رہے اس سے کم میں عیب نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۳: کنیز کا ولدالزنا ہونا عیب ہے یونہی اس کا زنا کرنا بھی عیب ہے لونڈی سے بچہ پیدا ہوجانا بھی عیب ہے جبکہ وہ بچہ مولی کے علاوہ دوسرے سے ہو اور اگرا س کا بچہ مولی سے ہو تو وہ ام ولد ہے اس کا بیچنا ہی جائز نہیں ۔ زنا اور ولادت میں مشتری کے یہاں اس عیب کا پایاجانا ضرور نہیں ۔ولدالزنا ہونا‘ زنا کرنا‘ غلام میں عیب نہیں اگرچہ زنا کرنا گناہ کبیرہ ہے اس پر توبہ واستغفار واجب ہے اور شرعاًسخت عیب ہے ۔اور اگر زنا کرنا اس کی عادت ہو یعنی دومرتبہ سے زیادہ ایساکیا تو یہ بیع میں عیب شمار کیا جائے گا۔لونڈی اور غلام میں فرق اس وجہ سے ہے کہ لونڈی سے اکثر یہ مقصود ہوتا ہے کہ اس سے وطی کرے اگر وہ ایسی ہے تو طبیعت کو کراہت آئے گی نیز اگر اولاد پیدا ہوئی تو زانیہ کی اولاد کہلائے گی اور یہ سخت عار ہے اور غلام سے مقصود خدمت لینا ہوتا ے اوران باتوں سے خدمت میں کوئی فرق نہیں آتا جب تک زنا کی عادت نہ ہو۔( عالمگیری)

مسئلہ ۱۴: غلام اگر ایسا ہوکہ مفت اغلام کراتا ہو یہ اس میں عیب ہے ۔ غلام مخنث ہے بایں معنے کہ آوازمیں نرمی ہے اور رفتار میں لچک اگر یہ بات کمی کے ساتھ ہے تو عیب نہیں اور زیادتی کے ساتھ ہے تو عیب ہے واپس کردیا جائے گا اور اگر مخنث بایں معنی ہو کہ برے افعال کرتاہے تو عیب ہے ۔( عالمگیری، درمختار)

مسئلہ۱۵: لونڈی کا حاملہ ہونا یا شوہر والی ہونا عیب ہے کیونکہ اس کو فراش نہیں بنایا جاسکتا یونہی غلام کا شادی شدہ ہونا عیب ہے ۔مگر غلام نے واپسی سے پہلے اپنی زوجہ کو طلاق دیدی ہے واپس نہیں کیا جاسکتا اور لونڈی کو اس کے شوہر نے طلاق دیدی اگر رجعی طلاق ہے واپس کی جاسکتی ہے اور بائن ہے تو نہیں اور شوہروالی لونڈی اگرمشتری کے محرمات میں سے ہو مثلاًاس کی رضاعی بہن یا ماں ہے یا اس کی عورت کی ماں ہے توشوہر والی ہونا عیب نہیں ۔( عالمگیری، درمختار،ردالمحتار)

مسئلہ۱۶: جذام ۔برض ۔اندھاہونا۔ کاناہونا۔ بھینگا ہونا۔گونگا ہونا۔ بہراہونا۔ انگلی زیادہ یاکم ہونا۔کبڑہونا۔ پھوڑے ۔ بیماری۔خصیہ کا بڑاہونا۔ نامردی۔ خصی ہونا یہ سب چیزیں عیب ہیں اگر خصی کہہ کر خریدا اور خصی نہ تھا تو واپس کرنے کا حق نہیں ہے ۔(عالمگیری، درمختار) جو غلام دارالاسلام میں پید ا ہوا ہے اور بالغ ہوگیا مگر اس کا ختنہ نہیں ہوا ہے یہ عیب ہے اور ابھی نا بالغ ہے یا دارالحرب سے اسے لائے اس میں یہ عیب نہیں (فتح)

مسئلہ۱۷: غلام امرد خریدا پھر معلوم ہواکہ اس نے داڑھی منڈائی تھی یا داڑھی کے بال نوچ ڈالے تھے یہ عیب ہے واپس کردیا جائے گا۔(خانیہ)

مسئلہ۱۸: گندہ دہنی ۔ یا بغل میں بوہونالونڈی میں عیب ہے غلام میں نہیں مگر جب بہت زیادہ ہو تو غلام میں بھی عیب ہے اوراگر دانت مانجھے نہیں اس وجہ سے مونھ سے بو آتی ہے منجن مسواک سے بوزائل ہوجائے گی یہ عیب نہیں ۔(عالمگیری، ردالمحتار)

مسئلہ۱۹: ناف کے نیچے پیڑو کا پھولا ہونا لونڈی غلام دونوں میں عیب ہے (عالمگیری)

مسئلہ۲۰: لونڈی کی شرمگاہ میں گوشت یا ہڈی کا پیدا ہوجاناجس کی وجہ سے وطی نہ ہوسکے عیب ہے یونہی آگے کے مقام بند ہونا بھی عیب ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۱: کافر ہونا لونڈی غلام دونوں میں عیب ہے یونہی بدمذہب ہونا بھی عیب ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۲۲: لونڈی کی عمر پندرہ سال کی ہواور حیض نہ آئے یہ عیب ہے اور اگر صغر سنی یا کبر سنی کی وجہ سے حیض نہ آتاہوتو عیب نہیں ۔ یہ بات کہ حیض نہیں آتا یہ خود اسی لونڈی کے کہنے سے معلوم ہوگی اور اگر بائع کہتا ہے کہ اسے حیض آتا ہے تو اسے قسم دیں گے اگر قسم کھالے بائع کا قول معتبر ہے اور قسم سے انکار کرے تو عیب ثابت ہے ۔ استحاضہ بھی عیب۔(درمختار)

مسئلہ۲۳: پرانی کھانسی عیب ہے معمولی کھانسی عیب نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۲۴: مدیون ہونا بھی عیب ہے جبکہ اس دین کا مطالبہ فی الحال ہوسکتا ہو اور اگرایسا دین ہے جو آزاد ہونے کے بعد واجب الادا ہوگا تو عیب نہیں ۔( درمختار)

مسئلہ۲۵: شراب خوری کی عادت ۔ جواکھیلنا ۔ جھوٹ بولنا ۔ چغلی کھانا۔نماز چھوڑدینا۔بائیں ہاتھ سے کام کرنا۔ آنکھ میں پر بال ہونا ۔ پانی بہنا ۔رتوند ہونا یہ سب عیوب ہیں ۔(عالمگیری، درمختار)

مسئلہ۲۶: گائے بھینس بکری دودھ نہیں دیتی یا اپنا دودھ خو دپی جاتی ہے یہ عیب ہے ۔ اور جانور کا کم کھانا بھی عیب ہے بیل کام کے وقت سو جاتا ہے یہ عیب ہے ۔گدھا خردیداوہ سست چلتا ہے واپس نہیں کرسکتامگر جب کہ تیز رفتاری کی شرط کرلی ہو۔ گدھے کا نہ بولنا عیب ہے ۔ مرغ خریداجونا وقت بولتا ہے واپس کرسکتا ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۲۷: بکری خریدی دیکھا تو اس کے کان کٹے ہوئے ہیں یہ عیب ہے یونہی قربانی کے لئے کوئی جانور خریدا جس کے کان کٹے ہوئے ہیں یا اس میں کوئی عیب ایسا ہے جس کی وجہ سے قربانی نہیں ہوسکتی اسے واپس کرسکتا ہے اور اگر قربانی کے لئے نہ ہو تو واپس نہیں کرسکتا مگر جبکہ عرف میں وہ عیب قرار دیا جائے ۔ اگر بائع ومشتری میں اختلاف ہوا مشتری کہتا ے میں نے قربانی کے لئے خریدا ہے بائع انکار کرتا ہے اگروہ زمانہ قر بانی کا ہواور مشتری اہل قربانی سے ہو تو مشتری کا قول معتبر ہے ۔( خانیہ )

مسئلہ۲۸: گائے یا بکری نجاست خور ہے اگر یہ ا س کی عادت ہے عیب ہے اور گرہفتہ میں ایک دو بار ایسا ہو تو عیب نہیں ۔ کوئی جانور مکھی کھاتا ہے اگر احیاناًایسا ہوتو عیب نہیں اور اکثر کھاتا ہو توعیب ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۲۹: جانور کے دونوں پاؤں قریب قریب ہیں مگر رانوں میں زیادہ فاصلہ ہے یہ عیب ہے ۔ رسی توڑانا یا کسی ترکیب سے گلے سے پگھا نکال لینا عیب ہے ۔ گھوڑا سرکش ہے کھڑا ہوجاتا ہے اڑجاتا ہے لگام لگاتے وقت شوخی کرتا ہے لگانے نہیں دیتا چلنے میں دونوں پنڈلیاں یا پاؤں رگڑکھاتے ہوں یہ سب عیب ہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۰: گھوڑا خریدا دیکھا کہ اس کی عمر زیادہ ہے خیار عیب کی وجہ سے اسے واپس نہیں کرسکتا ہاں اگر کم عمر کی شرط کرلی ہے تو واپس کرسکتا ہے ۔گائے خریدی وہ مشتری کے یہاں سے بھاگ کر بائع کے یہاں چلی جاتی ہے یہ عیب نہیں ۔(عالمگیری)یعنی جب کہ زیادہ نہ بھاگتی ہو۔

مسئلہ۳۱: موزے یا جوتے خریدے وہ اس کے پاؤں میں نہیں آتے واپس کرسکتا ہے اگرچہ خریدتے وقت یہ نہ کہا ہو کہ پہننے کے لئے خریدتاہوں کیونکہ عادۃً ایک جوڑا جوتایاموزہ پہننے ہی کے لئے خریداجاتا ہے ۔جو تاخریدا جو تنگ تھا بائع نے کہہ دیا پہنو ٹھیک ہو جائے گاایک دن پہنا مگر ٹھیک نہ ہوا اب واپس نہیں کرسکتا ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۲: نجس کپڑا خریدا مگر مشتری کو ناپاک ہونا معلوم نہ تھا اب معلوم ہوااگراس قسم کا کپڑا ہے کہ دھونے سے خراب نہیں ہوگا تو واپس نہیں کرسکتا اور خراب ہوجائے گاتو واپس کرسکتا ہے ۔ اس میں تیل کی چکنائی لگی ہے تو بہر حال واپس کرسکتا ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۳: مکان خریدااس کے دروازہ پر لکھا ہوا پایا یہ فلاں مسجد پر وقف ہے محض اتنی بات سے واپس نہیں کرسکتاجب تک وقف کا ثبوت نہ ہو۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۴: مکان یا زمین خریدی لوگ اسے منحوس کہتے ہیں واپس کرسکتا ہے کیونکہ اگر چہ اس قسم کے خیالات کا اعتبار نہیں مگر بیچناچاہے گا تو اس کے لینے والے نہیں ملیں گے اور یہ ایک عیب ہے ۔( عالمگیری، درمختار)

مسئلہ۳۵: گیہوں خریدے بائع نے اشارہ کرکے بتادیاتھا کہ یہ ہیں اس کے دانے پتلے یا چھوٹے ہیں تو خیار عیب سے واپس نہیں کرسکتا اور اگر گھنے ہوئے ہیں یابو دار ہیں تو واپس کرسکتا ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۶: پھل یا ترکاری کی ٹوکری خریدی اس میں نیچے گھاس بھر ی ہوئی نکلی واپس کرسکتا ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۷: مکان خریدا جس کا پرنالہ دوسرے کے مکان میں گرتا ہے یا اس کی نالی دوسرے کے مکان میں جاتی ہے اور معلوم ہوا کہ اس کا حق نہیں ہے مگر خریداری کے وقت اس کا علم نہیں تھاتو واپس کرسکتا ہے یا اس کی وجہ سے جو کچھ قیمت میں کمی پیدا ہووہ بائع سے واپس لے سکتاہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۸: قرآن مجید یا کتاب خریدی اور اس کے اندر بعض بعض جگہ الفاظ لکھنے سے رہ گئے ہیں واپس کرسکتا ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۳۹: عیب پر اطلاع پانے کے بعد مشتری نے اگر مبیع میں مالکانہ تصرف کیا تو واپس کرنے کا حق جاتا رہا۔جانور خریدا تھا وہ بیمار تھا اس کا علاج کیا یا اپنے کام کے لئے ا س پرسوارہواواپس نہیں کر سکتااور اگر ایک بیماری تھی جس کی بائع نے ذمہ داری نہیں کی تھی اس کا علاج کیا اور دوسری بیماری جس کا ذکر نہیں آیا تھا وہ ظاہر ہوئی تو اس کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۰: جانور پر اس کو واپس کرنے کی غرض سے سوار ہوا یا سوار ہو کر اسے پانی پلانے لے گیا یا چارہ خریدنے گیااگر مجبور تھا تو عیب پر رضا مندی نہیں ورنہ ہے ۔عیب پر مطلع ہونے کے بعدمکان خریدکردہ میں سکونت کی یا اس کی مرمت کی یا اس کو ڈھادیا اب واپس نہیں کرسکتا ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ ۴۱: مبیع کو مشتری نے بیع کردیایا آزاد کردیا یا ہبہ کرکے قبضہ دیدیا اس کے بعد عیب پر مطلع ہوا تونہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۴۲: بکری یا گائے خریدی ا سکا دودھ دوہ کر استعمال کیا پھر عیب پر اطلاع ہوئی واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے ۔ اور گائے بکری کو مع بچہ کے خریدا ہے اور عیب پر مطلع ہوااس کے بعد بچہ نے دودھ پی لیا واپس کرسکتا ہے چاہے بچہ نے خود ہی پی لیا ہو یا اس نے اسے چھوڑاتھا کہ پی لے۔ اور اگر مشتری نے دودھ دوہا تو واپس نہیں کرسکتا چاہے خود پی لے یا اس کے بچہ کو پلادے کہ عیب پر مطلع ہو کر دوہنا دلیل رضامندی ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۳: کنیز خرید کر اس سے وطی کی اس کے بعد عیب پر مطلع ہواواپس نہیں کرسکتا عیب کا نقصان لے سکتا ہے ۔ اور اگربائع نقصان دینا نہیں چاہتا کنیز واپس لینے کے لئے راضی ہے تو واپسی ہوسکتی ہے ۔ یونہی شہوت کے ساتھ چھونایا بوسہ دینا بھی مانع رد ہے ۔اور عیب پر مطلع ہونے کے بعدیہ افعال کئے تونقصان بھی نہیں لے سکتا ۔ اور اگراس کے ساتھ کسی نے زنا کیا جب بھی واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے مگر جب کہ بائع واپس لینے پرتیار ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۴۴: غلہ خریدا اس میں سے کچھ کھالیا یا بیچ دیا پھر عیب پر مطلع ہوا جو کھا چکا ہے اس کا نقصان لے لے اور باقی کو واپس کرسکتا ہے جو بیج چکا ہے ا س کانقصا ن نہیں لے سکتا ۔ آٹا خریدااس میں سے کچھ گوندھ کر روٹی پکائی معلوم ہوا کہ کڑوا ہے جوپکا چکا ہے اس کا نقصان لے سکتا ہے اور باقی کو واپس کرسکتا ہے ۔( خانیہ وغیرہ)

مسئلہ۴۵: کپڑا خریدا اسے قطع کرایا اور ابھی سلانہیں اس میں عیب معلوم ہوااسے واپس نہیں کرسکتا بلکہ نقصان لے سکتا ہے ہاں اگر بائع قطع کئے ہوئے کو واپس لینے پر راضی ہے تو اب نقصان نہیں لے سکتا اور خریدکر بیع کردیا ہے توکچھ نہیں کرسکتا۔ اور اگر قطع کے بعد سل بھی گیا اور عیب معلوم ہواتو نقصان لے سکتا ہے بائع بجائے نقصان دینے کے واپس لینا چاہے تو واپس نہیں لے سکتا ۔( ہدایہ وغیرہ)

مسئلہ۴۶: کپڑا خریدکر اپنے نا بالغ بچہ کے لئے قطع کرایا اور عیب معلوم ہو اتو نہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے ۔اور اگر بالغ لڑکے لئے قطع کرایا تو نقصان لے سکتا ہے ۔( ہدایہ ، ردالمحتار)

مسئلہ۴۷: مبیع میں مشتری کے یہاں کوئی جدید عیب پیدا ہوگیا مشتری کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا یا آفت سماوی سے ہواواپس نہیں کرسکتانقصان کا معاوضہ لے سکتا ہے ۔ اور اگر بائع کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا ہے جب بھی واپس نہیں کرسکتا بلکہ دونوں عیبوں سے جونقصان ہے ان کا معاوضہ لے سکتا ہے ۔ اور اگر اجنبی کے فعل سے دوسرا عیب پیدا ہوا تو عیب اول کا نقصان بائع سے لے اور دوسرے عیب کا اس اجنبی سے ۔اوراگر بیع کے بعد مگر قبضہ سے پہلے بائع کے فعل سے یا خود مبیع کے فعل سے یا آفت سماوی سے عیب جدید پیدا ہوا تو مشتری کو اختیار ہے کہ بیع کو رد کردے یعنی نہ لے یا لے لے اور جو نقصان ہو اہے اس کے عوض میں ثمن سے کم کردے ۔اور اگر اجنبی کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا ہے جب بھی اختیارہے کے مبیع کو لے یا نہ لے اگر مبیع لیتا ہے تو تقصان کا معاوضہ اس اجنبی سے لے سکتا ہے ۔ اور اگرخود مشتری کے فعل سے عیب پیدا ہوا ہے تو پورے ثمن کے ساتھ لینا پڑے گااورنقصان کامطالبہ نہیں کرسکتا ۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۴۸: جو چیز ایسی ہو کہ اس کی واپسی میں مزدوری صرف کرنی پڑے تو جہاں عقد بیع ہوا ہے وہاں پہنچانا مشتری کے ذمہ ہے یعنی مزدوری وغیرہ مشتری کو دینی پڑے گی۔( درمختار)

مسئلہ۴۹: جانور خریدا اسے ذبح کردیا اب معلوم ہوا کہ اسکی آنتیں خراب ہوگئی تھیں تو نقصان نہیں لے سکتا اور اگر ذبح سے پہلے عیب پر مطلع ہوچکا تھا پھر ذبح کردیا جب بھی نقصان نہیں لے سکتا مگر جب کہ یہ معلوم ہو کہ ذبح نہ کیا جائے تو مرجائے گا اس صورت میں نقصان لے سکتا ہے ۔(درمختار وغیرہ)

مسئلہ۵۰: مبیع میں کچھ زیادتی کردی مثلاًکپڑے کو سی دیا یا رنگ دیا یا ستو میں گھی شکر وغیرہ ملا دیا یا زمین میں پیڑ نصب کردئے یا تعمیر کرائی یا اس کو بیع کردیا اگرچہ بیچنا عیب پر مطلع ہونے کے بعدہو یا مبیع ہلا ک ہوگئی ان سب صورتوں میں نقصان لے سکتا ہے واپس نہیں کرسکتا ہے اگر وہ دونوں واپسی پر رضا مند بھی ہو جائیں جب بھی قاضی حکم واپسی کا نہیں دے سکتا ۔(درمختار)

مسئلہ۵۱: انڈا خریداتوڑاتو گندہ نکلا کل دام واپس ہونگے کہ وہ بیکار چیز ہے بیع کے قابل نہیں ہاں شتر مرغ کا انڈا جس میں چھلکا مقصود ہوتا ہے اکثر لوگ اسے زینت کی غرض سے رکھتے ہیں اس کی بیع باطل نہیں عیب کا نقصان لے سکتا ہے ۔خربزہ ۔تر بز۔ کھیرا خریدااور کاٹا تو خراب نکلایا بادام ‘اخروٹ خریداتوڑنے پر معلوم ہوا کہ خراب ہے مگر باوجود خرابی کے کا م کے لائق ہے کم سے کم یہ کہ جانور ہی کے کھلانے میں کام آسکتا ہے تو واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے اور اگر بائع کٹے ہوئے یا ٹوٹے ہوئے کو واپس لینے پر تیار ہے تو واپس کردے نقصان نہیں لے سکتا۔ اور اگر عیب معلوم ہو جانے کے بعد کچھ بھی کھا لیا تو نقصان بھی لے سکتا ہے ۔اور اگر چکھا اور عیب معلوم ہونے کے بعد چھوڑدیا کچھ نہ کھایا تو نقصان لے سکتا ہے ۔ اور اگر کاٹنے توڑنے سے پہلے ہی مشتری کو عیب معلوم ہوگیا تو اسی حالت میں واپس کردے کاٹے توڑے گا تونہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے ۔ اور اگر کاٹنے توڑنے کے بعد معلوم ہواکہ یہ چیزیں بالکل بیکار ہیں مثلاًکھیرا کڑو اہے یا بادام ۔ اخروٹ میں گری نہیں ہے ۔تر بز یا خربزہ سٹرا ہوا ہے تو پورے دام واپس لے بیع باطل ہے ۔(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۵۲: گیہوں وغیرہ غلہ خریدا اس میں خاک ملی ہوئی نکلی اگر خاک اتنی ہی ہے جتنی عادۃًہواکر تی ہے واپس نہیں کرسکتا اور عادت سے زیادہ ہے توکل واپس کردے اور اگرگیہوں رکھناچاہتا ہے خاک کو الگ کرکے واپس کرنا چاہتاہے یہ نہیں کرسکتا ۔(عالمگیری، ردالمحتار)

مسئلہ۵۳: گیہوں میں کچھ خاک ملی تھی اڑگئی اور وزن کم ہوگیا یا گیہوؤں میں نمی تھی خشک ہو کر وزن کم ہوگیا واپس نہیں کرسکتا۔(خانیہ)

مسئلہ۵۴: مشتری نے مبیع کو بیع کردیااور اسے عیب کی خبر نہ تھی مشتری ثانی نے عیب کی وجہ سے حکم قاضی سے واپس کیا تومشتری اول بائع اول کو وہ چیز واپس کرسکتا ہے ۔ یہ اس وقت ہے جب مشتری ثانی نے گواہوں سے یہ ثابت کیا ہو کہ اس چیز میں اس وقت سے عیب ہے جب بائع اول کے پاس تھی اور اگر گواہوں سے مشتری کے پاس عیب ثابت کیا ہوتو بائع اول پر رد نہیں کرسکتا اور اگر واپس کرنے کے بعدمشتری اول نے یہ کہدیا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے تو واپس نہیں کرسکتا ۔ یہ تمام باتیں اس وقت ہیں جب مبیع پر قبضہ ہوچکا ہواور قبضہ نہ ہوا ہوتو مطلقاًواپس کرسکتا ہے چاہے قضائے قاضی سے واپسی ہو یا اس کے بغیر کیونکہ بیع ثانی اس صورت میں صحیح ہی نہیں مگر جائداد وغیرہ منقولہ میں بغیر قبضہ بھی بیع ہوسکتی ہے اس میں قبضہ اور غیر قبضہ کا فرق نہیں ۔( درمختا،ردالمحتار)

مسئلہ۵۵: مشتری ثانی نے مشتری اول کو اس کی رضا مندی سے چیز واپس کردی تو یہ بائع اول کو واپس نہیں کرسکتا اگرچہ وہ عیب ایسا نہ ہو جومشتری اول کے یہاں پیدا ہوسکتا ہومثلاًغلام کے پانچ کی جگہ چھ انگلیاں ہیں کہ یہ واپسی حق ثالث میں بیع جدید قرار پائے گی ۔یونہی بائع کے وکیل نے اگر مبیع کی واپسی اپنی رضا مندی سے کرلی تو مؤکل کو واپس نہیں کرسکتا کہ مؤکل کے لحاظ سے یہ فسخ نہیں بلکہ بیع جدید ہے اور اگر قضائے قاضی سے واپسی ہوئی تو مؤکل پر بھی واپسی ہوگئی کہ جب بیع فسخ ہوگئی وہ چیز مؤکل کی ہوگی۔( درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۵۶: مشتری نے مبیع پر قبضہ کرنے کے بعد عیب کا دعوی کیا جو ثمن دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا بلکہ مشتری سے اثبات عیب کے گواہ طلب کئے جائیں گے اور گواہ نہ ہوں تو بائع پر حلف دیا جائے گا اور بائع قسم کھاجائے کہ عیب نہیں تھا تو ثمن دینے کا حکم ہوگا اور اگر مشتری نے پہلے یہ کہا کہ میرے گواہ نہیں ہیں پھر کہتا ہے گواہ پیش کروں گاتو گواہ قبول کرلئے جائیں گے۔ اور اگر مشتری کے پاس گواہ نہیں ہیں او ر بائع قسم سے انکار کرتا ہے تو عیب کا حکم ہوگا۔(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۵۷: گواہ مشتری یا حلف بائع کی اس وقت ضرورت ہے جب وہ عیب مخفی ہو مثلاًبھاگنا چوری کرنا اور اگر عیب ظاہر ہو مثلاً کانا‘ بہرا‘ گونگا ہے یا اس کی انگلیاں زائد یا کم ہیں تو نہ گواہ کی حاجت نہ قسم کی ضرورت ہاں اگر بائع یہ کہے کہ مشتری کو خریدنے کے وقت عیب کا علم تھا یا بعد خریدنے کے عیب پر راضی ہوگیا یا میں عیب سے بری الذمہ ہوچکا تھا تو بائع کو ان امور پر گواہ پیش کرنے پڑیں گے گواہ نہ لاسکے تو مشتری پر حلف دیا جائے گا قسم کھالے گاواپس کردیا جائے گا ورنہ واپس نہیں کرسکتا ۔( درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۵۸: وہ عیوب جن میں طبیب کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً ورم جگر‘ ورم طحال یا کوئی دوسری پوشیدہ بیماری ان میں ایک طبیب عادل نے اس بیماری کا ہونا بیان کردیا تو دعوی قابل سماعت ہے رہا یہ امر کہ یہ بیماری بائع کے یہاں موجود تھی اس کے لئے دو(۲) عادل طبیب کی شہادت درکا ر ہوگی ۔ اور جو عیوب ایسے ہیں جن پر عورتوں ہی کو اطلاع ہوتی ہے ان میں ایک عورت کے قول سے عیب کا ثبوت ہوگا مگر بیع فسخ کرنے کے لئے یہ ضرور ہے کہ بائع کو حلف دیں اگر وہ قسم کھالے کہ میرے یہاں یہ عیب نہ تھا تو واپس نہیں کرسکتا قسم سے انکار کرے تو واپس کردیگا۔( درمختار)

مسئلہ۵۹: جو عیب ظاہر ہے اور اتنی مدت میں پیدا نہیں ہوسکتا جب سے بیع ہوئی ہے تو یہاں بھی گواہ یا حلف کی حاجت نہیں ہاں اگر اس مدت میں پیدا ہوسکتاہے اور بائع یہ کہتا ہے کہ میرے یہاں یہ عیب نہ تھا تو گواہ یا حلف کی حاجت ہوگی۔( عالمگیری)

مسئلہ۶۰: مبیع کے کسی جز کے متعلق کسی نے دعوی کرکے اپنا حق ثابت کردیا اگر مشتری نے قبضہ نہیں کیا ہے تو اختیار ہے کہ باقی کو لے یا نہ لے اور قبضہ کرچکا ہے اور وہ چیز قیمتی ہے جب بھی اختیارہے کہ لے یا واپس کردے اور وہ چیزمثلی ہے تو باقی کو واپس نہیں کرسکتا بلکہ جوکچھ اسکا حصہ ہے یہ لے لے اور جو دوسرے حقدار کاہے وہ لے لے گا ۔ اور دو چیزیں خریدیں اور ایک پر قبضہ کرلیا یا اب تک کسی پر قبضہ نہیں کیا ہے اور ایک میں کسی نے اپنا حق ثابت کردیا تومشتری کو اختیار ہے کہ دوسری کو لے لے یا چھوڑ دے اور دونوں پر قبضہ کرچکا ہے تو اختیار نہیں یعنی دوسری کولینا ضروری ہے واپس نہیں کرسکتا ۔( درمختار)

مسئلہ ۶۱: قبضہ کے بعد مبیع میں اختلاف ہوا کہ ایک ہے یا زیادہ تاکہ عیب کی صورت میں واپسی ہو تو یہ معلوم ہوسکے ثمن کتنا واپس کیا جائے گایا مبیع میں اختلاف نہیں مگر کتنے پر قبضہ ہوااس میں اختلاف ہے ان دونوں صورتوں میں مشتری کا قول معتبر ہے اور اگر خیار عیب میں مبیع کی واپسی کے وقت بائع کہتا ہے یہ وہ چیز نہیں ہے مشتری کہتا ہے وہی ہے تو بائع کا قول معتبر ہے اور خیار شرط یا خیار رویت میں مشتری کا قول معتبر ہے ۔(درمختار)

مسئلہ۶۲: مشتری جانور کو پھیرنے لایا کہ اس کے زخم ہے میں نہیں لوں گا بائع کہتا ہے کہ یہ وہ زخم نہیں ہے ‘ جو میرے یہاں تھا وہ اچھا ہوگیا یہ دوسرا ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۶۳: دوچیزیں ایک عقد میں خریدیں اگر ہر ایک تنہا کام میں آتی ہو جیسے دوغلام دو کپڑے اور ابھی دونوں پر قبضہ نہیں کیا ہے کہ ایک کے عیب پر مطلع ہوا تو اختیار ہے لینا ہے تو دونوں لے‘ پھیرنا ہو تو دونوں پھیرے مگر جب کہ بائع ایک کے پھیرنے پر راضی ہوتو فقط ایک کوبھی واپس کرسکتا ہے اور اگر دونوں پر قبضہ کرلیاہے توجس میں عیب ہے اسے واپس کردے دونوں کو واپس کرنا چاہے تو بائع کے رضا مندی درکار ہے ۔ اور اگر قبضہ سے پہلے ایک کا عیب دار ہونا معلوم ہوگیا اور اسی پر قبضہ کرلیا تو دوسری کو لینا بھی ضروری ہے اور دوسری پر قبضہ کیا تو اختیار ہے دونوں کو لے یا دونوں کو پھیر دے اگر دونوں ایک ساتھ کام میں لائی جاتی ہوں تنہا ایک کام کی نہ ہو جیسے موزے اورجوتے کے جوڑے ۔چوکھٹ بازو یا بیلوں کی جوڑی جبکہ وہ آپس میں ایسا اتحاد رکھتے ہوں کہ ایک کے بغیر دوسرا کام ہی نہ کرے تو دونوں پر قبضہ کیا ہویا ایک پر قبضہ کیا ہو دونوں حال میں ایک ہی حکم ہے کہ لینا چاہے تو دونوں لے اور پھیرے تو دونوں پھیرے ۔( درمختار، فتح ، خانیہ )

مسئلہ۶۴: مبیع میں نیا عیب پیدا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے بائع کو واپس نہیں کرسکا تھا اب یہ عیب جاتا رہا تو اس پرانے عیب کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے اور جونقصان لیا ہے اسے بھی واپس کرنا ہوگا۔( درمختار)

مسئلہ۶۵: غلام خریدا تھا اور اس پرقبضہ بھی کرلیا وہ کسی ایسے جرم کی وجہ سے قتل کیا گیا جو بائع کے یہاں اس نے کیا تھا تو پورا ثمن بائع سے واپس لے گا اور اگر اس کاہاتھ کاٹا گیا اور جرم بائع کے یہاں کیا تھا تومشتری کو اختیار ہے کہ اس کوواپس کردے یا رکھ لے اور آدھا ثمن واپس لے ۔( درمختار)

مسئلہ۶۶: کوئی چیز بیع کی اور بائع نے کہہ دیا کہ میں ہر عیب سے بری الذمہ یہ بیع صحیح ہے اور اس مبیع کے واپس کرنے کا حق باقی نہیں رہتا ۔ یونہی اگر بائع نے کہہ دیا کہ لینا ہوتو لو اس میں سو طرح کے عیب ہیں یا یہ مٹی ہے یا اسے خوب دیکھ لو کیسی بھی ہو میں واپس نہیں کروں گا یہ عیب سے براء ت ہے ۔ جب ہر عیب سے براء ت کرلے تو جو عیب وقت عقد موجود ہے یا عقد کے بعد قبضہ سے پہلے پیدا ہوا سب سے براء ت ہوگئی ۔(درمختار، ردالمحتاروغیرہما)

مسئلہ۶۷: کوئی چیز خریدی اس کا کوئی خریدار آیا اس سے کہا اسے لے لو اس میں کو ئی عیب نہیں ہے اور اتفاق سے اس نے نہیں خریدی پھر مشتری نے اس میں کوئی عیب دیکھا تو واپس کرسکتا ہے اور اس کا پہلے یہ کہنا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے مضر نہیں کہ اس سے مقصود تر غیب ہے اور اگر اس نے کسی عیب کا نام لے کر کہا کہ یہ عیب اس میں نہیں ہے اور بعد میں وہی عیب اس میں موجود ملا تو واپس نہیں کرسکتا ہاں اگر ایسے عیب کا نام لیا جو اس دوران میں پیدا نہیں ہوسکتا جیسے انگلی کا زائد ہونا تو واپس کرسکتا ہے ۔(درمختار)

مسئلہ۶۸: بکری یا گائے یا بھینس کا دودھ بائع نے دو ایک وقت نہیں دوہا اور اسے یہ کہہ کر بیچا کہ اس کے دودھ زیادہ ہے اور دودھ دوہ کر دکھا بھی دیا مشتری نے دھوکا کھا کر خریدلیا اب دوہتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اتنا دودھ نہیں ہے اس کو واپس نہیں کرسکتا ہاں جو نقصان ہے بائع سے لے سکتا ہے ۔(درمختار)

مسئلہ۶۹: مشتری نے واپس کرنا چاہا بائع نے کہا واپس نہ کرومجھ سے اتنا روپیہ لے لو اور اس پر مصالحت ہوگئی یہ جائز ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ بائع نے ثمن میں سے اتنا کم کردیا ۔ اور بائع اگر واپس کرنے سے انکار کرتا ہے مشتری نے یہ کہا کہ اتنے روپے مجھ سے لے لو اور مبیع کو واپس کرلویوں مصالحت نا جائز ہے اوریہ روپے جو بائع لے گاسود اور رشوت ہے مگر جب کہ مشتری کے یہاں کوئی جدید عیب پیدا ہوگیا ہو یا بائع اس سے منکر ہے کہ وہ عیب ا سکے یہاں مبیع میں تھا تویہ مصالحت بھی جائز ہے ۔( درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۷۰: ایک شخص نے دوسرے کو کسی چیز کے خریدنے کا وکیل کیا تھا وکیل نے مبیع میں عیب دیکھ کر رضامندی ظاہر کردی اگر ثمن اتنا ہے کہ اس عیب والی چیز کا اتنا ہی ہونا چاہئے تو مؤکل کو لینا پڑیگااور اگر ثمن زیادہ ہے تو موکل پر یہ بیع لازم نہیں ۔( درمختار)

مسئلہ ۷۱: کوئی چیز خریدی پھر ا سکی بیع کے لئے دوسرے کو وکیل کردیا ا س کے بعد اس کے عیب پر اطلاع ہوئی اگرمؤکل کے سامنے وکیل نے بیچنا چاہا ا س کو خبر دی گئی کہ وکیل اسکا دام کررہا ہے اورمؤکل نے منع نہ کیا تو عیب پر رضا مندی ہوگئی فرض کیا جائے کہ نہ بکی تو واپس نہیں کرسکتا ۔( عالمگیری)

مسئلہ۷۲: یہ جا بجا کہا گیا ہے کہ عیب سے جو نقصان ہے وہ لے گا اس کی صورت یہ ہے کہ اس چیز کوجانچنے والوں کے پاس پیش کیا جائے اس کی قیمت کا وہ اندازہ کریں کہ اگر عیب نہ ہوتا تویہ قیمت تھی اور عیب کے ہوتے ہوئے یہ قیمت ہے دونوں میں جوفرق ہے وہ مشتری بائع سے لے گا مثلاًعیب ہے تو آٹھ روپے قیمت ہے نہ ہوتا تو دس روپے تھی دوروپے بائع سے لے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۷۳: جانور خریداتھا قبضہ کے بعد عیب پر مطلع ہوا اسے واپس کرنے بائع کے پاس لے جارہاتھاراستہ میں مرگیاتومشتری کا جانور مرا البتہ اگر گواہوں سے عیب ثابت کردے گاتو عیب کا نقصان لے سکتا ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۷۴: ایک شخص نے گابھن گائے کے بدلے میں بیل خریدا اور ہر ایک نے قبضہ بھی کرلیا گائے کے بچہ پیدا ہوا اور دوسرے نے دیکھا کہ بیل میں عیب ہے بیل کو اس نے واپس کردیا تو گائے میں چونکہ بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے زیادتی ہوچکی ہے وہ واپس نہیں کی جاسکتی گائے کی قیمت جو ہو وہ واپس دلائی جائے گی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۷۵: زمین خرید کر اس کو مسجد کردیا پھر عیب پر مطلع ہواتو واپس نہیں کرسکتا نقصان جوکچھ ہے لے لے ۔ زمین کو وقف کیا ہے جب بھی یہی حکم ہے کہ واپس نہیں کرسکتا ہے نقصان لے لے (خانیہ )

مسئلہ۷۶: کپڑا خرید کر مردہ کاکفن کیا اس کے بعد عیب پر مطلع ہوا اگر وارث نے ترکہ سے کفن خریدا ہے تو نقصان لے سکتا ہے اور اگر کسی اجنبی نے اپنی طرف سے خرید کر دیا تو نہیں لے سکتا۔( عالمگیری)

مسئلہ۷۷: درخت خریدا تھا کہ اس کی لکڑی کی چیزیں بنائے گامثلاًچوکھٹ‘ کیواڑ‘ تخت وغیرہ مگر کاٹنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایندھن ہی کے کام آسکتا ہے تو نقصان لے سکتا ہے اور اگر ایندھن ہی کے لئے خریدا تھا تو نقصان نہیں لے سکتا۔( عالمگیری)

مسئلہ۷۸: روٹی خریدی اور جو نرخ اس کا معروف ومشہور ہے اس سے کم دی ہے توجو کمی(۱)

حاشیہ : یہ حکم اس وقت ہے کہ بائع نے مشتری پر یہ ظاہر نہ کیا ہو کہ مثلاًایک آنے کی اتنی روٹیاں دوں گا بلکہ اس نے کہا اتنے کی روٹی دو اس نے دیدی ۔اور اگر بائع نے ظاہر کردیاکہ اتنی دوں گا اور مشتری راضی ہوگیا تو اب کمی پوری کرنے کا حق نہیں ہے ۔

ہے بائع سے وصول کرے اسی طرح ہر وہ چیز جس کا نرخ مشہور ہے اس سے کم ہوتو بائع سے کمی پوری کرائے ۔(عالمگیری)

مسئلہ ۷۹: کوئی چیز غبن فاحش کے ساتھ خریدی ہے اس کی دوصورتیں ہیں دھوکا دیکر نقصان پہنچایا ہے یانہیں اگر غبن فاحش کے ساتھ دھوکا بھی ہے تو واپس کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔ غبن فاحش کا یہ مطلب ہے کہ اتنا ٹوٹا ہے جو مقوبین کے اندازہ سے باہر ہو مثلاًایک چیز دس روپے میں خریدی کوئی اس کی قیمت پانچ بتاتا ہے کوئی چھ کوئی سات تو یہ غبن فاحش ہے اور اگر اس کی قیمت کوئی آٹھ بتاتا کوئی نو کوئی دس تو غبن یسسیر ہوتا ۔دھوکے کی تین صورتیں ہیں کبھی بائع مشتری کو دھوکادیتا ہے پانچ کی چیز دس میں بیچ دیتا ہے اور کبھی مشتری بائع کو کہ دس کی چیز پانچ میں خریدلیتا ہے کبھی دلال دھوکا دیتا ہے ان تینوں صورتوں میں جس کو غبن فاحش کے ساتھ نقصان پہنچاہے واپس کرسکتا ہے اور اگر اجنبی شخص نے دھوکا دیا ہو تو واپس نہیں کرسکتا ۔(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۸۰: ایک شخص نے زمین یا مکان خریدا اور بائع کو دھوکادیکر نقصان پہنچادیا مثلاًہزار روپے کی چیز کو پانچ سو میں خریدا مگر شفیع نے شفعہ کرکے وہ چیز مشتری سے لے لی تو بائع شفیع سے واپس نہیں لے سکتا کیونکہ شفیع نے اس کو دھوکا نہیں دیا ہے دھوکا دینے والا مشتری ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۸۱: جس چیز کو غبن فاحش کے ساتھ خریدا ہے اور اسے دھوکا دیا گیا ہے اس چیزکو کچھ صرف کر ڈالنے کے بعد اس کا علم ہوا تو اب بھی واپس کرسکتا ہے یعنی جو کچھ وہ چیز بچی وہ اور جو خرچ کرلی ہے اس کی مثل واپس کرے اور پورا ثمن واپس لے ۔(درمختار)

مسئلہ۸۲: ایک شخص نے لوگوں سے کہہ دیا کہ یہ میرا غلام یا لڑکا ہے اس سے خرید فروخت کرو میں نے اس کواجازت دیدی ہے اس کی نسبت بعد میں معلوم ہواکہ غلام نہیں بلکہ حر ہے یا اس کا لڑکا نہیں ہے دوسرے شخص کا ہے تو جوکچھ لوگوں کے مطالبے ہیں اس کہنے والے سے وصول کرسکتے ہیں کہ اس نے دھوکا دیا ہے ۔( درمختار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button