شرعی سوالات

خون کی تجارت کا شرعی حکم

 سوال:

کیا جانوروں کا خون تجارت کے لیے فروخت ہو سکتا ہے، اس کی کھاد بنائی جاتی ہے، جو زمین کی زرخیزی کے لیے اچھی مانی جاتی ہے۔ نیز برائلر مرغی کھانا جائز ہے یا ناجائز بعض لوگ اس کو حرام قرار دیتے ہیں کہ اس کی خوراک میں دم مسفوح (یعنی ذبح کے وقت بہنے والا خون) اور دیگر ناپاک اشیاء شامل ہوتی ہیں ۔

جواب:

دم مسفوح ( یعنی حلال جانور کے ذبح کے وقت بہنے والے خون) کی حرمت قرآن کریم سے ثابت ہے۔

ہمارے فقہائے کرام نے دم مسفوح کی بیع کی حرمت کا قول اس بنا پر کیا تھا کہ یہ مال نہیں ہے، لیکن اب دم مسفوح مال بن چکا ہے ہے اور جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ یہ کھاد بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس کے علاوہ مرغیوں کی خوراک میں استعمال ہوتا ہے اور ان سے وابستہ لوگ اسے خریدتے ہیں، تو مذبح والوں کے لیے اسے فروخت کرنا اور اس کی قیمت لینا جائز ہے ،البتہ انسان کے کھانے یا پینے کے حوالے سے اس کی حرمت قطعی ابدی اور دائمی ہے۔

 اسی طرح حرام چیز کسی مخلوط میں مل جائے اس کی ماہیت بدل جائے تو اس کی خرید و فروخت جائز ہے ۔مرغیوں کی خوراک کا شر عا طیب و طاہر ہونا ضروری نہیں ہے، دیہاتوں میں دیسی مرغیاں چل پھر کر غلاظت بھی کھاتی ہیں، اس لئے فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ ایسی مرغیوں کو ذبح کرنے سے پہلے تین دن تک بند کرکے خوراک دی جائے تاکہ بدبو زائل ہو جائے، جبکہ مرغیوں کی تیار خوراک (یعنی پولٹری فیڈ ) میں دم مسفوح کی ماہیت بدل جاتی ہے ۔ دم مسفوح کی بیع قیاس  کی بنا پر فقہائے کرام نے ممنوع قرار دی ہے، لیکن اس کی  بیع کی حرمت پر کوئی نص صریح نہیں ہے۔ اب چونکہ اس کی ایک منفعت ثابت ہے لہذا یہ مال ہے اور استحسانا اس کی بیع جائز  ہے۔

دم مفسوح  کی اس بیع کی اباحت کا قول اسی اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت ہمارے فقہائے کرام نے نجس العین اشیاء کی بیع کو منفعت کی بنا پر مباح قرار دیا ہے۔

                                                                                                                                                                                                (تفہیم المسائل، جلد 11، صفحہ 387، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button