شرعی سوالات

خون اور جانور کے ممنوعہ اعضاء کی خرید و فروخت کرنے کا حکم

سوال :

کیا کسی مسلمان تاجر کے لئے حلال جانور کے وہ اجزاء جن کا کھانا جائز نہیں ہے، ان مذکورہ بالا اجزاء کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اور مسلمان صارف کے لئے اس کا خریدنا جائز ہے یا نہیں؟  کیا مسلمان تاجر یہ اشیاء کسی غیر مسلم کو بیچ سکتا ہے؟ مثلاً بعض مذبح خانے والے خون کو کھاد یا مرغی کی خوراک وغیرہ بنانے کے لئے فروخت کرتے ہیں۔

(2)  جو جانور بغیر ذبح کے مر جائے مثلاً مری ہوئی مرغی ،بھینس ،گائے وغیرہ ایسے مردار کا فروخت کرنا جائز ہے؟

(3) مرغیوں کے لئے جو غذا تیار کی جاتی ہے ،اس میں خون ملا یا جا تا ہے کیا مرغی خانے کے مالکان کو قصداً خون سے مرغیوں کی خوراک بنا ناجائز ہے؟ اگر اس غذا میں سور کا خون یا چر بی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟  اور اس غذا کے بنانے میں حلال مذبوحہ جانور کے خون اور حلال غیر مذبوحہ جانور کے خون میں کوئی فرق ہے؟

جواب:

(1)کسی بھی شے کی خرید و فروخت کے جائز ہونے کے لئے شرعی ضابطہ یہ ہے کہ وہ شے جس سے نفع حاصل کرنا مسلمان کے لئے جائز ہو، اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے ۔ نفع حاصل کرنا صرف اپنے کھانے کے استعمال میں لانے کا نام نہیں بلکہ جانوروں کو کھلانے کے لیے بھی ہو سکتا ہے، کھانے کے علاوہ اور کاموں میں استعمال کرنا بھی نفع ہی میں شامل ہے۔

ہمارے فقہا کرام نے ”دم مسفوح“ کی بیع کی حرمت کا قول اس بنا پر کیا تھا کہ یہ مال نہیں ہے لیکن اب ”دم مسفوح“ مال بن چکا ہے اور جیسا آپ نے لکھا ہے کہ یہ مرغیوں کی خوراک (Poultry Feed) اور کھاد(Fertilizer) میں استعمال ہوتا ہے اور ان صنعتوں سے وابستہ لوگ اسے خریدتے ہیں، تو مذبح خانہ(Butchery, Slaughter House) والوں کے لیے اسے فروخت کرنا اور اس کی قیمت پر لینا جائز ہے ، البتہ انسان کے کھا نے یا پینے کے حوالے سے اس کی حرمت قطعی، ابدی اور دائمی  ہے ۔

مرغیوں کی خوراک کا شرعاً طیب و طاہر ہونا ضروری نہیں ہے اور تیار خوراک میں اس کی ماہیت بھی بدل جاتی ہے، دم مسفوح میں بیع قیاس کی بنا پر فقہا کرام نے ممنوع قرار دیا ہے لیکن اس کی بیع کی حرمت پر کوئی صریح نص نہیں ہے۔ اب چونکہ اس کی ایک منفعت ثابت ہے لہذا یہ مال ہے اور استحساناً اس کی بیع جائز ہے۔

دم مسفوح کی اس بیع کی اباحت کا قول اسی اصول پر مبنی ہے جس کے تحت ہمارے فقہا کرام نے نجس العین اشیا کی بیع کو منفعت کی بنا پر مباح قرار دیا ہے۔ دم مسفوح کے علاوہ حلال جانور کے وہ اعضاء جس کو حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ناپسند فرمایا ہے، ان کا کھانا مکروہ تحریمی ہے، لیکن اگر وہ کسی مصنوع (Product) میں یا کسی بھی صنعت میں استعمال ہوتے ہیں، تو یہ شرعاً مال ہیں اور منفعت کی بنا پر اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔

(2) مردار جانور حرام ہیں(لیکن اس عموم سے بالاتفاق مچھلی اور  ٹڈی مستثنی ہیں۔)مردار یعنی ایسا حلال جانور جو ذبح کیے بغیر مر جائے، اس کا گوشت کھانا اور فروخت کرنا بالاتفاق جائز نہیں ہے۔ ہاں اس کی کھال کو دباغت کے بعد فروخت کر کے نفع حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فقہا احناف کے نزدیک اس کے بال اور ہڈیاں پاک ہیں اور ان کا استعمال جائز ہے ۔

(3) جیسا کہ پہلے سوال کے جواب میں ہم نے لکھا کہ مرغیوں کی خوراک کا شرعاً طیب  و طاہر اور حلال ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ وہ حلال و حرام کے مکلف نہیں ہیں اور تیار خوراک میں اس کی ماہیت بھی بدل جاتی ہے ۔ دم مسفوح کی بیع کو استحساناً جائز قرار دیا ہے۔ اگر مرغیوں کی خوراک (Poltry Feed) اور غذا کی تیاری میں ذبیحہ جانور کے خون کے ساتھ غیر مذبوحہ جانور کا خون یا مردار جانور کا گوشت یا سور کی چر بی شامل ہو تو اس کا حکم بھی یہی ہے ۔ جب یہ اشیا دیگر اجزاء ترکیبی (INGREDIANTS) کے ساتھ مل کر پولٹری فیڈ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں تو ان کی ماہیت بدل جاتی ہے اور سابق حکم باقی نہیں رہتا ،یہ حکم تیار شدہ پولٹری فیڈ خرید نے یا استعمال کر نے کا ہے ۔البتہ مسلمان کے لئے حلال ذبیحہ کے خون ،مر دار کے خون ،مر دار کے گوشت اور سور کی چر بی کا استعمال کرنا یا کھانا کسی بھی طور پر جائز نہیں ہے اور حرام ہے ۔ اسی طرح کسی مسلمان کو سور یا اس کے اجزاء کی خرید و فروخت کرنا جائز نہیں ہے، اگر چہ وہ اس کی ماہیت تبدیل کر نے کے لئے ہی خریدے ، جیسے کوئی شراب اس لئے خریدے کہ اس کو سرکہ میں تبدیل کرے گا ، ناجائز و گناہ ہے۔

(تفہیم المسائل، جلد7،صفحہ 288،ضیا القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button