بہار شریعت

خلع کے متعلق مسائل

خلع کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ۔

ولایحل لکم ان تا خذو ا ممآ ا تیتموھن شیئاً الآ ان یخا فاالا یقیما حدوداللہ ط فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جنا ح علیھما فیما افتدت بہٖ ط تلک حدوداللہ فلا تعتدو ھا ج ومن یتعد حد وداللہ فاولئک ھم الظلمون۵

متعلقہ مضامین

( تمھیں حلال نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو۔ مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ رکھیں گے پھر اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں کہ بدلا دیکر عورت چھٹیلے ۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اورجو اللہ کی حدوں سے تجاوز کریں تو وہ لوگ ظالم ہیں )

حدیث۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہ ثا بت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ نے حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی نسبت مجھے کچھ کلام نہیں ( یعنی ان کے اخلاق بھی اچھے ہیں اور دیندار بھی ہیں ) مگر اسلام میں کفران نعمت کو میں پسند نہیں کرتی ( یعنی بوجہ خوبصورت نہ ہونے کے میر ی طبیعت ان کی طرف مائل نہیں ) ارشار فرمایا اس کا باغ ( جو مہر میں تجھ کو دیا ہے )تو واپس کر دیگی عرض کی ہاں حضور ﷺ نے ثابت بن قیس سے فرمایا باغ لے لو اور طلاق دیدو۔

مسئلہ۱: مال کے بدلے میں نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں عورت کا قبول کرنا شرط ہے بغیر اس کے قبول کیے خلع نہیں ہو سکتا اور اس کے الفاظ معین ہیں ان کے علاوہ اور لفظوں سے نہ ہو گا۔

مسئلہ۲: اگر زوج و زوجہ میں نا اتفاقی رہتی ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ احکام شرعیہ کی پابندی نہ کرسکیں گے تو خلع میں مضائقہ نہیں اور جب خلع کر لیں تو طلاق بائن واقع ہو جائے گیا اور جو مال ٹھہرا ہے عورت پر اس کا دینا لازم ہے ۔( ہدایہ)

مسئلہ۳: اگر شوہر کی طرف سے زیادتی ہو تو خلع پر مطلقاً عوض لینا مکروہ ہے اور اگر عورت کی طرف سے ہو تو جتنا مہر میں دیا ہے اس سے زیا دہ لینا مکروہ پھر بھی اگر زیادہ لے لے گا تو قضأً جائز ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴: جو چیز مہر ہو سکتی ہے وہ بدل خلع بھی ہو سکتی ہے اور جو چیز مہرنہیں ہو سکتی وہ بھی بدل خلع ہو سکتی ہے مثلاً دس درہم سے کم کو بدل خلع کر سکتے ہیں مگر مہر نہیں کر سکتے ۔( درمختار)

مسئلہ۵: خلع شوہر کے حق میں طلاق کو عورت کے قبول کرنے پر معلق کرنا ہے کہ عورت نے اگر مال دینا قبول کر لیا تو طلاق بائن ہو جائے گی لہذا اگر شوہر نے خلع کے الفاظ کہے اور عورت نے ابھی قبول نہیں کیا تو شوہر کو رجوع کا اختیار نہیں نہ شوہر کو شرط خیار حاصل اور نہ شوہر کی مجلس بدلنے سے خلع باطل ۔(خانیہ )

مسئلہ۶: خلع عورت کی جانب میں اپنے کو مال کے بدلے میں چھڑا نا ہے تو اگر عورت کی جانب سے ابتد ا ہوئی مگر ابھی شوہر نے قبول نہیں کیا تو عورت رجوع کر سکتی ہے اور اپنے لیئے اختیار بھی لے سکتی ہے اور یہاں تین دن سے زیادہ کا بھی لے سکتی ہے۔ بخلاف بیع میں تین دن سے زیادہ کا اختیار نہیں ۔اور دونوں میں سے ایک کی مجلس بدلنے کے بعد عورت کا کلام باطل ہو جائیگا ۔( خانیہ)

مسئلہ۷: خلع چونکہ معاوضہ ہے لہذا یہ شرط ہے کہ عورت کا قبول اس لفظ کے معنے سمجھ کر ہو بغیر معنے سمجھے اگر محض لفظ بول دے گی تو خلع نہ ہوگا۔( درمختار)

مسئلہ۸: چونکہ شوہر کی جانب سے خلع طلاق ہے لہذا شوہر کا عاقل بالغ ہونا شرط ہے نا بالغ یامجنون خلع نہیں کر سکتا کہ اہل طلاق نہیں ۔اور یہ بھی شرط ہے کہ عورت محل طلاق ہو لہذا اگر عورت کو طلاق بائن دیدی ہے تو اگر چہ عدت میں ہو اس سے خلع نہیں ہوسکتا یونہی اگر نکاح فاسد ہواہے یا عورت مرتدہ ہوگئی جب بھی خلع نہیں ہو سکتا کہ نکاح ہی نہیں ہے خلع کس چیز کا ہو گا ۔اور رجعی کی عدت میں ہے تو خلع ہو سکتا ہے ۔( درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ۹: شوہر نے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا اور مال کا ذکر نہ کیا تو خلع نہیں بلکہ طلاق ہے اور عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں ۔ ( بدائع)

مسئلہ ۱۰: شوہر نے کہامیں نے تجھ سے اتنے پر خلع کیا عورت نے جواب میں کہا ہاں تو اس سے کچھ نہیں ہوگا جب تک یہ نہ کہے کہ میں راضی ہوئی یا جائز کیا یہ کہا تو صحیح ہوگیایونہی اگر عورت نے کہا مجھے ہزار روپیہ کے بدلے میں طلاق دیدے شوہر نے کہا ہاں تو یہ بھی کچھ نہیں اور اگر عورت نے کہا مجھ کو ہزار روپیہ کے بدلے میں طلاق ہے شوہر نے کہا ہاں تو ہوگئی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۱: نکاح کی وجہ سے جتنے حقوق ایک کے دوسرے پر تھے وہ خلع سے ساقط ہو جاتے ہیں اور جو حقوق کہ نکاح سے علاوہ ہیں وہ ساقط نہ ہوں گے۔ عدت کا نفقہ اگر چہ نکاح کے حقوق سے ہے مگر یہ ساقط نہ ہوگا ہاں اگر اس کے ساقط ہونے کی شرط کر دی گئی تو یہ بھی ساقط ہو جائیگا ۔ یونہی عورت کے بچہ ہو تو اس کا نفقہ اور دودھ پلانے کے مصارف ساقط نہ ہوں گے اور اگر ان کے ساقط ہونے کی بھی شرط ہے اور اس کے لیئے کوئی وقت معین کر دیا گیا ہے تو ساقط ہو جائیں گے ورنہ نہیں اور بصورت وقت معین کرنے کے اگر اس وقت سے پیشتر بچہ کا انتقال ہو گیا تو باقی مدت میں جو صرف ہوتا وہ عورت سے شوہر لے سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ عورت اپنے مال سے دس(۱۰)برس تک بچہ کی پرورش کریگی تو بچہ کے کپڑے کا عورت مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور اگر بچہ کا کھانا کپڑا دونوں ٹھہرا ہے تو کپڑے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی اگر چہ معین نہ کیا ہو کہ کس قسم کا کپڑا پہنائے گی اور بچہ کو چھوڑ کر عورت بھاگ گئی تو باقی نفقہ کی قیمت شوہر وصول کر سکتا ہے ۔اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ بلوغ تک اپنے پاس رکھے گی تو لڑکی میں ایسی شرط ہو سکتی ہے لڑکے میں نہیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۲: خلع کسی مقدار معین پر ہوا اور عورت مدخولہ ہے اور مہر پر عورت نے قبضہ کر لیا ہے تو جو ٹھہرا ہے شوہر کو دے اور اس کے علاوہ شوہر کچھ نہیں لے سکتا ہے۔ اور مہرعورت کو نہیں ملا ہے تو اب عورت مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتی اورجو ٹھہرا ہے شوہر کو دے ۔اور اگر غیر مدخولہ ہے اور پورا مہر لے چکی ہے تو شوہر نصف مہر کا دعوی نہیں کر سکتا اور مہرعورت کو نہیں ملاہے تو عورت نصف مہر کا شوہر پر دعوی نہیں کرسکتی اور دونوں صورتوں میں جو ٹھہرا ہے دینا ہوگا اور اگر مہر پر خلع ہوااور مہر لے چکی ہے تو مہر واپس کرے اور مہر نہیں لیا ہے تو شوہر سے مہر ساقط ہو گیا اور عورت سے کچھ نہیں لے سکتا ۔اور اگر مثلاً مہر کے دسویں حصہ پر خلع ہوا اور مہر مثلاً ہزار روپے کا ہے اور عورت مدخولہ ہے اور کل مہر لے چکی ہے تو شوہر اس سے سوروپے لے گا اور مہر بالکل نہیں لیا ہے تو شوہر سے کل مہر ساقط ہوگیا ۔اور اگر عورت غیر مدخولہ ہے اور مہر لے چکی ہے تو شوہر اس سے پچاس روپے لے سکتا ہے اور عورت کو کچھ مہر نہیں ملا ہے تو کل ساقط ہو گیا۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۳: عورت کا جو مہر شوہر پر ہے اسکے بدلے میں خلع ہوا پھر معلوم ہوا کہ عورت کا کچھ مہر شوہر پر نہیں تو عورت کو مہر واپس کرنا ہوگا یونہی اگر اس اسباب کے بدلے خلع ہوا جو عورت کا مرد کے پاس ہے پھر معلوم ہواکہ اس کا اسباب اسکے پاس کچھ نہیں ہے تو مہر کے بدلے میں خلع قرار پائیگا مہر لے چکی ہے تو واپس کرے اور شوہر پر باقی ہے تو ساقط ۔( خانیہ)

مسئلہ۱۴: جو مہر عورت کا شوہر پر ہے اس کے بدلے میں خلع ہوا یا طلاق اور شوہر کو معلوم ہے کہ اس کا کچھ مجھ پر نہیں چاہیے تو اس سے کچھ نہیں لے سکتا ہے خلع کی صورت میں طلاق بائن ہوگی اور طلاق کی صورت میں رجعی ۔( خانیہ)

مسئلہ۱۵: یوں خلع ہوا کہ جو کچھ شوہر سے لیا ہے واپس کرے اور عورت نے جو کچھ لیا تھا فروخت کر ڈالا یاہبہ کر کے قبضہ دلا دیا کہ وہ چیز شوہر کو واپس نہیں کر سکتی تو اگر وہ چیز قیمتی ہے تو اس کی قیمت دے اور مثلی ہے تو اس کی مثل ۔( خانیہ)

مسئلہ۱۶: عورت کو طلاق بائن دیکر پھر اس سے نکاح کیا پھر مہر پر خلع ہوا تو دوسرا مہر ساقط ہو گیا پہلا نہیں ۔(جوہرہ ‘ نیرہ)

مسئلہ۱۷: بغیر مہرنکاح ہوا تھا اور دخول سے پہلے خلع ہوا تو متعہ ساقط اور اگر عورت نے مال معین پر خلع کیا اس کے بعد بدل خلع میں زیادتی کی تو یہ زیا دتی باطل ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۱۸: خلع اس پر ہوا کہ کسی عورت سے زوجہ اپنی طرف نکاح کرادے اور اسکا مہر زوجہ دے تو زوجہ پر صرف وہ مہر واپس کرنا ہوگا جو زوج سے لے چکی ہے اور کچھ نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۹: شراب وخنزیر و مردار وغیرہ ایسی چیز پر خلع ہوا جو مال نہیں تو طلاق بائن پڑگئی اور عورت پر کچھ واجب نہیں اور اگر ان چیزوں کے بدلے میں طلاق دی تو رجعی واقع ہوئی یونہی اگر عورت نے یہ کہا میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس کے بدلے میں خلع کر اور ہا تھ مں کچھ نہ تھا تو کچھ واجب نہیں اور اگر یوں کہا کہ اس مال کے بدلے میں جو میرے ہاتھ میں ہے اور ہاتھ میں کچھ نہ ہو تو اگر مہر لے چکی ہے تو واپس کرے ورنہ مہر ساقط ہو جائیگا اور اس کے علاوہ کچھ دینا نہیں پڑیگا یونہی اگر شوہر نے کہا میں نے خلع کیا اس کے بدلے میں جو میرے ہاتھ میں ہے اور ہاتھ میں کچھ نہ ہوتو کچھ نہیں اور ہاتھ میں جواہرات ہوں تو عورت پر دینا لازم ہو گااگر چہ عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس کے ہاتھ میں کیا ہے ۔( درمختار جوہرہ)

مسئلہ۲۰: میرے ہاتھ میں جو روپے ہیں ان کے بدلے میں خلع کر اور ہاتھ میں کچھ نہیں تو تین روپے دینے ہوں گے ۔( درمختاروغیرہ) اردو میں چونکہ جمع دوپر بھی بولتے ہیں لہذا دوہی روپے لازم ہوں گے اور صورت مذکور ہ میں اگر ہاتھ میں ایک ہی روپیہ ہے جب بھی دو دے ۔

مسئلہ۲۱: اگر یہ کہا کہ اس گھر میں یا اس صندوق میں جو مال یا روپے ہیں ان کے بدلے میں خلع کر اور حقیقتہً ان میں کچھ نہ تھا تو یہ بھی اسی کے مثل ہے کہ ہاتھ میں کچھ نہ تھا یونہی اگر یہ کہا کہ اس جاریہ یا بکری کے پیٹ میں جو ہے اس کے بدلے میں اور کمتر مدت حمل میں نہ جنی تو مفت طلاق واقع ہوگئی اور کمتر مدت حمل میں جنی تو وہ بچہ خلع کے بدلے ملے گا ۔کمتر مدت حمل عورت میں چھ مہینے ہے اور بکری میں چار مہینے اور دوسرے چو پایوں میں بھی وہی چھ (۶) مہینے یونہی اگر کہا اس درخت میں جو پھل ہیں ان کے بدلے اور درخت میں پھل نہیں تو مہر واپس کرنا ہوگا۔( درمختار)

مسئلہ۲۲: کوئی جانور گھوڑا خچر بیل وغیرہ بدل خلع قرار دیا اور اس کی صفت بھی بیان کر دی تو اوسط درجہ کا دینا واجب آئیگا اور عورت کو یہ بھی اختیار ہے کہ اس کی قیمت دیدے اور جانور کی صفت نہ بیان کی ہو تو جو کچھ مہر میں لے چکی ہے وہ واپس کرے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۲۳: عورت سے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا عورت نے کہا میں نے قبول کیا تو اگر وہ لفظ شوہر نے بہ نیت طلاق کہا تھا طلاق بائن واقع ہوگئی اور مہر ساقط نہ ہوگابلکہ اگر عورت نے قبول نہ کیا ہو جب بھی یہی حکم ہے اور اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہ کہا تھا تو طلاق واقع نہ ہوگی جب تک عورت قبول نہ کرے۔ اور اگر یہ کہا تھا کہ فلاں چیز کے بدلے میں نے تجھ سے خلع کیا تو جب تک عورت قبول نہ کرے گی طلاق واقع نہ ہوگی اور عورت کے قبول کرنے کے بعد اگر شوہر کہے کہ میری مراد طلاق نہ تھی تو اس کی بات نہ مانی جائے۔(خانیہ وغیرہ)

مسئلہ۲۴: بھاگے ہوئے غلام کے بدلے میں خلع کیا اور عورت نے یہ شرط لگادی کہ میں اس کی ضامن نہیں یعنی اگر مل گیا تو دیدوں گی اور نہ ملا تو اس کا تاوان میرے ذمہ نہیں تو خلع صحیح ہے اور شرط باطل یعنی اگر نہ ملا تو عورت اس کی قیمت دے اور اگر یہ شرط لگائی کہ اگر اس میں کوئی عیب ہو تو میں بری ہوں تو شرط صحیح ہے ۔( درمختار ردالمحتار) جانور گم شدہ کے بدلے میں ہو جب بھی یہی حکم ہے ۔

مسئلہ۲۵: عورت نے شوہر سے کہا ہزارروپے پر مجھ سے خلع کر شوہر نے کہا تجھ کو طلاق ہے تو یہ اس کا جواب سمجھا جائیگا۔ ہاں اگر شوہر کہے کہ میں نے جواب کی نیت سے نہ کہا تھا تو اس کا قول مان لیا جا ئیگا اور طلاق مفت واقع ہوگی ۔اور بہتر یہ ہے کہ پہلے ہی شوہر سے دریافت کر لیا جائے یونہی اگر عورت کہتی ہے میں نے خلع طلب کیا تھا اور شوہر کہتا ہے میں نے تجھے طلاق دی تھی تو شوہرسے دریافت کریں اگر اس نے جواب میں کہا تھا تو خلع ہے ورنہ طلاق۔( خانیہ)

مسئلہ۲۶: خرید وفروخت کے لفظ سے بھی خلع ہوتا ہے مثلاً مرد نے کہا میں نے تیرا امر یا تیری طلاق تیرے ہاتھ اتنے کو بیچی عورت نے اسی مجلس میں کہا میں نے قبول کی طلاق واقع ہو گئی یونہی اگر مہر کے بدلے میں بیچی اور اس نے قبول کی ہاں اگر اس کا مہر شوہر پر باقی نہ تھا اور یہ بات شوہر کو معلوم تھی پھر مہر کے بدلے بیچی تو طلاق رجعی ہوگی۔( خانیہ)

مسئلہ۲۷: لوگوں نے عورت سے کہا تو نے اپنے نفس کو مہر ونفقۂ عدت کے بدلے خریدا عورت نے کہا ہاں خریدا پھر شوہر سے کہا تو نے بیچا اس نے کہا ہاں تو خلع ہو گیا اور شوہر تما م حقوق سے بری ہو گیا۔ اور اگر خلع کرانے کیلئے لوگ جمع ہوئے اور الفاظ مذکورہ دونوں سے کہلائے اب شوہر کہتا ہے میرے خیال میں یہ تھا کہ کسی مال کی خرید و فروخت ہورہی ہے جب بھی طلاق کا حکم دیں گے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۸: لفظ بیع سے خلع ہو تو اس سے عورت کے حقوق ساقط نہ ہوں گے جب تک یہ ذکر نہ ہو کہ ان حقوق کے بدلے بیچا۔( خانیہ)

مسئلہ۲۹: شوہر نے عورت سے کہا تو نے اپنے مہر کے بدلے مجھ سے تین طلاقیں خریدیں عورت نے کہا خریدیں تو طلاق واقع نہ ہوگی جب تک مرد اس کے بعد یہ نہ کہے کہ میں نے بیچیں اور اگر شوہر نے پہلے یہ لفظ کہے کہ مہر کے بدلے مجھ سے تین طلاقیں خریداور عورت نے کہا خریدیں تو واقع ہوگئیں اوراگر چہ شوہر نے بعد میں بیچنے کا لفظ نہ کہا ۔( خانیہ)

مسئلہ ۳۰: عورت نے شوہر سے کہا میں نے اپنا مہر اور نفقۂ عدت تیرے ہاتھ بیچا تونے خریدا شوہر نے کہا میں نے خریدا اٹھ جا۔ وہ چلی گئی تو طلاق واقع نہ ہوئی مگر احتیاط یہ ہے کہ اگر پہلے دوطلاقیں نہ دے چکا ہو تو تجدید نکاح کرے ۔( خانیہ)

مسئلہ۳۱: عورت سے کہا میں نے تیرے ہاتھ ایک طلاق بیچی اور عوض کا ذکر نہ کیا عورت نے کہا میں نے خریدی تو رجعی پڑے گی اور اگر یہ کہا کہ میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اور عورت نے کہا خریدا تو بائن پڑیگی ۔( خانیہ)

مسئلہ۳۲: عورت سے کہا میں نے تیرے ہاتھ تین ہزار کو طلا ق بیچی اس کو تین بار کہا آخر میں عورت نے کہا میں نے خریدی پھر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے تکرار کے ارادہ سے تین بار کہا تھا تو قضائً اس کا قول معتبر نہیں اور تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت کو صرف تین ہزار دینے ہونگے نو (۹) ہزار نہیں کہ پہلی طلاق تین ہزار کے عوض ہوئی اور اب دوسری اور تیسری پر مال واجب نہیں ہوسکتا اور چونکہ صریح ہیں لہذا بائن کو لاحق ہونگی۔ ( خانیہ)

مسئلہ۳۳: مال کے بدلے میں طلاق دی اور عورت نے قبول کر لیا تو مال واجب ہوگا اور طلاق بائن واقع ہوگی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۴ــ: عورت نے کہا ہزار روپے کے عوض مجھے تین طلاقیں دیدے شوہر نے اسی مجلس میں ایک طلاق دی تو بائن واقع ہوئی اور ہزار کی تہائی کا مستحق ہے اور مجلس سے اٹھ گیا پھر طلاق دی تو بلا معاوضہ واقع ہوگی۔ اوراگر عورت کے اس کہنے سے پہلے دوطلاقیں دے چکا تھا اور اب ایک دی تو پورے ہزار پائیگا۔ اور اگر عورت نے کہا تھا کہ ہزار روپے پر تین طلاقیں دے اور ایک دی تو رجعی ہوئی اور اگر اس صورت میں مجلس میں تین طلاقیں متفرق کرکے دیں تو ہزار پائے گا اور تین مجلسوں میں دیں تو کچھ نہیں پائیگا ۔( درمختار ‘ ردالمحتار)

مسئلہ۳۵: شوہر نے عورت سے کہا ہزار کے عوض یا ہزار روپے پر تو اپنے کو تین طلاقیں دیدے عورت نے ایک طلاق دی تو واقع نہ ہوئی ۔( درمختار)

مسئلہ۳۶: عورت سے کہا ہزار کے عوض یا ہزار روپے پر تجھ کو طلاق ہے عورت نے اسی مجلس میں قبول کر لیا تو ہزار روپے واجب ہوگئے اور طلاق ہو گئی ۔ہاں اگر عورت سفیہہ ہے یا قبول کرنے پر مجبور کی گئی تو بغیر مال طلاق پڑجائے گی اور اگر مریضہ ہے تو تہائی سے یہ رقم ادا کی جائے گی۔( درمختار)

مسئلہ۳۷: اپنی دو عورتوں سے کہا تم میں ایک کو ہزار روپے کے عوض طلاق ہے اور دوسری کو سو(۱۰۰)اشرفیوں کے بدلے اور دونوں نے قبول کرلیاتو دونوں مطلقہ ہوگئیں اور کسی پر کچھ واجب نہیں ہاں اگر شوہر دونوں سے روپے لینے پر راضی ہو تو روپے لازم ہوں گے اور راضی نہ ہو تو مفت مگر اس صورت میں رجعی ہوگی۔(درمختار ‘ ردالمحتار) اور اگر یوں کہا کہ ایک کو ہزار روپے پر طلاق اور دوسری کو پانچ سوروپے پر تو دونوں مطلقہ ہوگئیں اور ہر ایک پر پانچ پانچ سو لازم۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۳۸: عورت غیر مدخولہ کو ہزار روپے پر طلاق دی اور اس کامہر تین ہزار کا تھا جو سب ابھی شوہر کے ذمہ ہے تو ڈیڑھ ہزار تو یوں ساقط ہوگئے کہ قبل دخول طلاق دی ہے باقی رہے ڈیڑھ ہزار ان میں ہزار طلاق کے بدلے وضع ہوئے اور پانچ سو شوہر سے واپس لے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۹: مہر کی ایک تہائی کے بدلے ایک طلاق دی اور دوسری تہائی کے بدلے دوسری اور تیسری کے بدلے تیسری تو صرف پہلی طلاق کے عوض ایک تہائی ساقط ہو جائے گی اور دو تہائیاں شوہر پر واجب ہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۰: عورت کو چار طلاقیں ہزار روپے کے عوض دیں اس نے قبول کر لیں تو ہزار کے بدلے میں تین ہی واقع ہونگی اور اگر ہزار کے بدلے میں تین قبول کیں تو کوئی واقع نہ ہوگی ۔اور اگر عورت نے شوہر سے ہزار کے بدلے میں چار طلاقیں دینے کو کہا اور شوہر نے تین دیں تو یہ تین طلاقیں ہزار کے بدلے میں ہو گئیں اور ایک دی تو ایک ہزارکی تہائی کے بدلے میں ۔( فتح)

مسئلہ۴۱: عورت نے کہا ہزار روپے پر یا ہزار کے بدلے میں مجھے ایک طلاق دے شوہر نے کہا تجھ پر تین طلاقیں اور بدلے کو ذکر نہ کیا تو بلا معاوضہ تین ہوگئیں ۔اور اگر شوہر نے ہزار کے بدلے میں تین دیں تو عورت کے قبول کرنے پر موقوف ہے قبول نہ کیا تو کچھ نہیں اور قبول کیا تو تین طلاقیں ہزار کے بدلے میں ہوئیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۲: عورت سے کہا تجھ پر تین طلاقیں ہیں جب تو مجھے ہزار روپے دے تو فقط اس کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی بلکہ جب عورت ہزار روپے دے گی یعنی شوہر کے سامنے لاکر رکھ دیگی اس وقت طلاقیں واقع ہونگی اگر چہ شوہر لینے سے انکار کرے اور شوہر روپے لینے پر مجبور نہیں کیا جائیگا ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۳: دونوں راہ چل رہے ہیں اور خلع کیا اگر ہر ایک کا کلام دوسرے کے کلام سے متصل ہے تو خلع صحیح ہے ورنہ نہیں اور اس صورت میں طلاق بھی واقع نہیں ہوگی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۴: عورت کہتی ہے میں نے ہزار کے بدلے تین طلاقوں کو کہا تھا اور تونے ایک دی اور شوہر کہتا ہے تو نے ایک ہی کو کہا تھا تو اگر شوہر گواہ پیش کرے فبہا ورنہ عورت کا قول معتبر ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۵: شوہر کہتا ہے میں نے ہزارروپے پر تجھے طلاق دی تو نے قبول نہ کیا عورت کہتی ہے میں نے قبول کیا تھا تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہے اور اگر شوہر کہتا ہے میں نے ہزار روپے پر تیرے ہاتھ طلاق بیچی تو نے قبول نہ کی عورت کہتی ہے میں نے قبول کی تھی تو عورت کا قول معتبر ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۴۶: عورت کہتی ہے میں نے سوروپے میں طلاق دینے کو کہا تھا شوہر کہتا ہے نہیں بلکہ ہزار کے بدلے تو عورت کا قول معتبر ہے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تو شوہر کے گواہ قبول کیے جائیں ۔ یونہی اگر عورت کہتی ہے بغیر کسی بدلے کے خلع ہوا اور شوہر کہتا ہے نہیں بلکہ ہزار روپے کے بدلے میں تو عورت کا قول معتبر ہے اور گواہ شوہر کے مقبول ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۷: عورت کہتی ہے میں نے ہزار کے بدلے میں تین طلاق کو کہا تھا تونے ایک دی شوہر کہتا ہے میں نے تین دیں اگر اسی مجلس کی بات ہے تو شوہر کا قول معتبر ہے اور وہ مجلس نہ ہو تو عورت کا اور عورت پر ہزار کی تہائی واجب مگر عدت پوری نہیں ہوئی ہے تو تین طلاقیں ہو گئیں ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۸: عورت نے خلع چاہا پھر یہ دعوی کیا کہ خلع سے پہلے بائن طلاق دے چکا تھا اور اس کے گواہ پیش کیے تو گواہ مقبول ہیں اور بدل خلع واپس کیا جائے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۹: شوہر دعوی کرتا ہے کہ اتنے پر خلع ہوا عورت کہتی ہے خلع ہوا ہی نہیں تو طلاق بائن واقع ہوگئی رہا مال اس میں عورت کا قول معتبر ہے کہ وہ منکر ہے اور اگر عورت خلع کا دعوی کرتی ہے اور شوہر منکر ہے تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔(درمختار)

مسئلہ۵۰: زن و شوہر میں اختلاف ہوا عورت کہتی ہے تین بار خلع ہو چکا اور مرد کہتا ہے کہ دوبار اگر یہ اختلاف نکاح ہو جانے کے بعد ہوااور عورت کا مطلب یہ ہے کہ نکاح صحیح نہ ہوااس واسطے کہ تین طلاقیں ہو چکیں اب بغیر حلالہ نکاح نہیں ہو سکتا اور مرد کی غرض یہ ہے کہ نکاح صحیح ہو گیا اس واسطے کہ دوہی طلاقیں ہوئی ہیں تو اس صورت میں مرد کا قول معتبر ہے اور اگر نکاح سے پہلے عدت میں یا بعد عدت یہ اختلاف ہوا تو اس صورت میں نکاح کر نا جائز نہیں دوسرے لوگوں کو بھی یہ جائز نہیں کہ عورت کو نکاح پر آمادہ کریں نہ نکاح ہونے دیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۵۱: مرد نے کسی سے کہا کہ تو میری عورت سے خلع کر تو اس کو یہ اختیار نہیں کہ بغیر مال خلع کرے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۲: عورت نے کسی کو ہزار روپے پر خلع کے لیئے وکیل بنایا تو اگر وکیل نے بدل خلع مطلق رکھا مثلاً یہ کہا کہ ہزار روپے پر خلع کریا اس ہزار پر یا وکیل نے اپنی طرف اضافت کی مثلاً یہ کہا کہ میرے مال سے ہزار روپے پر یا کہا ہزار روپے پر اور میں ہزار روپے کا ضامن ہوں تو دونوں صورتوں میں وکیل کے قبول کرنے سے خلع ہو جائیگا پھر اگر روپے مطلق ہیں جب تو شوہر عورت سے لے گا ورنہ وکیل سے بدل خلع کا مطالبہ کرے گا عورت سے نہیں پھر وکیل عورت سے لے گا اور اگر وکیل کے اسباب کے بدلے خلع کیا اور اسباب ہلاک ہوگئے تو وکیل ان کی قیمت ضمان دے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۳: مرد نے کسی سے کہا کہ تو میری عورت کو طلاق دیدے اس نے مال پر خلع کیا یا مال پر طلاق دی اور عورت مدخولہ ہے تو جائز نہیں اور غیر مدخولہ ہے تو جائز ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۴: عورت نے کسی کو خلع کے لئے وکیل کیا پھر رجوع کر گئی اور وکیل کو رجوع کا حال معلوم نہ ہوا تو رجوع صحیح نہیں اور اگر قاصد بھیجا تھا اور اس کے پہنچنے سے قبل رجوع کر گئی تو رجوع صحیح ہے اگر چہ قاصد کو اس کی اطلاع نہ ہوئی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۵: لوگوں نے شوہر سے کہا تیری عورت نے خلع کا ہمیں وکیل بنایا شوہر نے دوہزار پر خلع کیا عورت وکیل بنانے سے انکار کرتی ہے تو اگر وہ لوگ مال کے ضامن ہوئے تھے تو طلاق ہوگئی اور بدل خلع انھیں دینا ہوگا اور اگر ضامن نہ ہوئے تھے اور زوج مدعی ہے کہ عورت نے انھیں وکیل کیا تھا تو طلاق ہو گئی مگر مال واجب نہیں اور اگر زوج مدعی وکالت نہ ہو تو طلاق نہ ہوگی۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۶: باپ نے لڑکی کا اس کے شوہر سے خلع کرایا اگر لڑکی بالغہ ہے اور باپ بدل خلع کا ضامن ہوا تو خلع صحیح ہے اور اگر مہر پر خلع ہوا اور لڑکی نے اذن دیا تھاجب بھی صحیح ہے اور اگر بغیر اذن ہوااور خبر پہنچنے پر جائز کر دیا جب بھی ہو گیا اور اگر جائز نہ کیا نہ باپ نے مہر کی ضمانت کی تو نہ ہوااور مہر کی ضمانت کی ہے تو ہوگیا ۔پھر جب لڑکی کو خبر پہنچی اس نے جائز کر دیا تو شوہر مہر سے بری ہے اور جائز نہ کیا تو عورت شوہر سے مہر لے گی اور شوہر اس کے باپ سے ۔اور اگر نا بالغہ لڑکی کا اس لڑکی کے مال پر خلع کرایا تو صحیح یہ ہے کہ طلاق ہو جائے گی مگر نہ تو مہر ساقط ہوگا نہ لڑکی پر مال واجب ہوگا اور اگر ہزار روپے پر نا بالغہ کا خلع ہوااور باپ نے ضمانت کی تو ہو گیا اور روپے باپ کو دینے ہوں گے اور اگر باپ نے یہ شرط کی کہ بدل خلع لڑکی دیگی تو اگر لڑکی سمجھ دار ہے یہ سمجھتی ہے کہ خلع نکاح سے جدا کر دیتا ہے تو اس کے قبول پر موقوف ہے قبول کرلے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی مگر مال واجب نہ ہو گا اور اگر نا بالغہ کی ماں نے اپنے مال سے خلع کرایا یا ضامن ہوئی تو خلع ہو جائیگا اور لڑکی کے مال سے کرایا تو طلاق نہ ہوگی یونہی اگر اجنبی نے خلع کر ایا تو یہی حکم ہے ۔( عالمگیری درمختار وغیرہما)

مسئلہ۵۷: نا بالغہ نے اپنا خلع خود کرایا اور سمجھ دار ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی مگر مال واجب نہ ہوگا اور اگر مال کے بدلے طلاق دلوائی تو طلاق رجعی ہوگی۔( عالمگیری ردالمحتار)

مسئلہ ۵۸: نا بالغ لڑکا نہ خود خلع کر سکتا ہے نہ اس کی طرف سے اس کا باپ ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۵۹: عورت نے اپنے مرض الموت میں خلع کرایا اور عدت میں مر گئی تو تہائی مال اور میراث اور بدل خلع ان تینوں میں جو کم ہے شوہر وہ پائیگا ۔اور اگر اس بدل خلع کے علاوہ کوئی مال ہی نہ ہو تو اس کی تہائی اور میراث میں جو کم ہے وہ پائیگا ۔اور اگر عدت کے بعد مری تو بدل خلع لے لیگا جبکہ تہائی مال کے اندر ہو۔اور عورت غیر مدخولہ ہے اور مرض الموت میں پور ے مہرکے بدلے خلع ہوا تو نصف مہر بوجہ طلاق کے ساقط ہے رہا نصف اب اگر عورت کے اور مال نہیں ہے تو اس نصف کی چوتہائی کا شوہر حقدار ہے ۔ ( عالمگیری ‘ ردالمحتار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button