بہار شریعت

خرید و فروخت کے متعلق اقرار

خرید و فروخت کے متعلق اقرار

مسئلہ ۱ : ایک نے دوسرے سے کہا یہ چیز میں نے کل تمہارے ہاتھ بیع کی تم نے قبول نہیں کی اس نے کہا میں نے قبول کر لی تھی تو قول اسی مشتری کامعتبر ہے اور اگر مشتری نے کہا میں نے یہ چیز تم سے خریدی تھی تم نے قبول نہ کی بائع نے کہا میں نے قبول کی تھی تو قول بائع کا معتبر ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲ : یہ اقرار کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ بیچی اور ثمن وصول پا لیا یہ اقرار صحیح ہے اگرچہ ثمن کی مقدار نہ بیان کی ہو اور اگر ثمن کی مقدار بتاتا ہے اورکہتا ہے ثمن نہیں وصول کیا اور مشتری کہتا ہے ثمن لے چکے ہو تو قسم کے ساتھ بائع کا قول معتبر ہو گا اور گواہ مشتری کے معتبر ہوں گے۔ (عالمگیری)

متعلقہ مضامین

مسئلہ ۳ : یہ اقرار کیا کہ میں نے فلاں شخص کے ہاتھ مکان بیچا ہے مگر اس مکان کو متعین نہیں کیا پھر انکار کر دیا وہ اقرار باطل ہے اور اگر مکان کو متعین کر دیا مگر ثمن نہیں ذکر کیا یہ اقرار بھی انکار کرنے سے باطل ہو جائے گا اور اگر مکان کے حدود بیان کر دیئے اور ثمن بھی ذکر کر دیا تو بائع پر بیع لازم ہے اگرچہ انکار کرتا ہو اگرچہ گواہان اقرار کو مکان کے حدود معلوم نہ ہوں ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ گواہوں سے ثابت ہو کہ وہ مکان جس کے حدود بائع نے بتائے فلاں مکان ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۴ : یہ کہا کہ میرے ذمہ فلاں کے ہزار روپے فلاں چیز کے ثمن کے ہیں ا س نے کہا ثمن تو کسی چیز کا اسکے ذمہ نہیں البتہ قرض ہے مقرلہ ہزار لے سکتا ہے اور اگر اتنا کہہ کر کہ ثمن تو بالکل نہیں چاہیئے خاموشی ہو گیا پھر کہنے لگا اس کے ذمہ میرے ہزار روپے قرض ہیں تو کچھ نہیں ملے گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۵ : یہ اقرار کیا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ بیع کی اور ثمن کا ذکر نہیں کیا مشتری کہتا ہے کہ میں نے وہ چیز پانچ سو میں خریدی ہے بائع کسی شے کے بدلے میں بیچنے سے انکار کرتاہے تو بائع کو مشتری کے دعوے پر حلف دیا جائے گا محض اقرار اول کی وجہ سے بیع لازم نہیں ہو گی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۶ : یہ اقرار کیا کہ یہ چیزیں میں نے فلاں کے ہاتھ ایک ہزار میں بیچی ہے اس نے کہا میں نے تو کسی دام میں بھی نہیں خریدی ہے پھر کہا ہاں ہزار روپے میں خریدی ہے اب بائع کہتا ہے میں نے تمہارے ہاتھ بیچی ہی نہیں اس صورت میں مشتری کا قول معتبر ہے ان داموں میں چیز کو لے سکتا ہے اور اگر جس وقت مشتری نے خریدنے سے انکار کیا تھا بائع کہہ دیتا کہ سچ کہتے ہو تم نے نہیں خریدی اس کے بعد مشتری کہے کہ میں نے

خریدی ہے تونہ بیع لازم ہو گی نہ مشتری کے گواہ مقبول ہوں گے۔ ہاں اگر بائع مشتری کے خریدنے کی تصدیق کرے تو یہ تصدیق بمنزلہ بیع مانی جائے گی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۷ : یہ کہا کہ میں نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ بیع کی ہے نہیں بلکہ فلاں کے ہاتھ یہ اقرار باطل ہے البتہ اگر وہ دونوں دعوی کرتے ہوں تو اس کو ہر ایک کے مقابل میں حلف اٹھانا پڑیگا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۸ : وکیل بالبیع نے اقرار کر لیا یہ اقرار حق مؤکل میں بھی صحیح ہے یعنی مؤکل چیز دینے سے انکار نہیں کر سکتا ثمن موجود ہو یا ہلاک ہو چکا ہو دونوں کا ایک حکم ہے۔ مؤکل نے اقرار کیا کہ وکیل نے یہ چیز فلاں کے ہاتھ اتنے میں بیع کر دی ہے اور وہ مشتری بھی تصدیق کرتا ہے مگر وکیل بیع سے انکار کرتا ہے تو چیز اتنے ہی دام میں مشتری کی ہو گئی مگر اس کی ذمہ داری مؤکل پر ہے وکیل سے اس بیع کو کوئی تعلق نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۹ : ایک شخص نے اپنی چیز دوسرے شخص کو بیچنے کے لئے دی مؤکل مر گیا وکیل کہتا ہے میں نے وہ چیز ہزار روپے میں بیچ ڈالی اور ثمن پر قبضہ بھی کر لیا اگروہ چیز موجود ہے وکیل کی بات معتبر نہیں اور ہلاک ہو چکی ہے تو معتبر ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۰ : ایک معین چیز کے خریدنے کا وکیل ہے وکیل اقرار کرتا ہے کہ میں نے وہ چیز سو روپے میں خرید لی بائع بھی یہی کہتا ہے مگر مؤکل انکار کرتا ہے اس صورت میں وکیل کی بات معتبر ہے اور اگر غیرمعین چیز کے خریدنے کا وکیل تھا اور اسکی جنس و صفت و ثمن کی تعیین کر دی تھی وکیل کہتا ہے میں نے یہ چیز مؤکل کے حکم کے موافق خریدی ہے اور مؤکل انکار کرتا ہے اگر مؤکل نے ثمن دے دیا تھاوکیل کی بات معتبر ہے اور نہیں دیا تھا تو مؤکل کی ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۱ : دو شخص بائع ہیں ان میں ایک نے عیب کا اقرار کر لیا دوسرا منکر ہے تو جس نے اقرار کیا ہے اس پر واپسی ہو سکتی ہے دوسرے پرنہیں ہو سکتی اور اگر بائع ایک ہے مگر اس میں اور دوسرے شخص کے مابین شرکت مفاوضہ ہے بائع نے عیب سے انکار کیا اور شریک اقرار کرتا ہے تو چیز واپس ہو جائے گی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۲ : مسلم الیہ نے کہا تم نے دس روپے سے دو من گیہوں میں سلم کیا تھا مگر میں نے وہ روپے نہیں لئے تھے رب السلم کہتا ہے روپے لے لئے تھے اگر فوراً کہا اسکی بات مان لی جائے گی اور کچھ دیر کے بعد کہا مسلم نہیں ۔ یونہی اگر ایک شخص نے کہا تم نے مجھے ہزار روپے قرض دینے کہے تھے مگر دیئے نہیں وہ کہتا ہے دے دیئے تھے اگر یہ بات فوراً کہی مسلم ہے اور فاصلہ کے بعد کہی معتبر نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۳ : مضارب نے مال مضاربت میں دین کا اقرار کیا اگر مال مضاربت مضارب کے ہاتھ میں ہے مضارب کا اقرار رب المال پرلازم ہو گا اور مضارب کے ہاتھ میں نہیں ہے تو رب المال پر اقرار لازم نہیں ہو گا۔ مزدور کی اجرت ، جانور کا کرایہ ، دوکان کا کرایہ ان سب چیزوں کا مضارب نے اقرار کیا وہ اقرار رب المال پر لازم ہو گا

جبکہ مال مضاربت ابھی تک مضارب کے پاس ہو اور اگر مال دے دیا اور کہہ دیا کہ یہ اپنا راس المال لو اس کے بعد اس قسم کے اقرار بیکار ہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۴ : مضارب نے ایک ہزار روپے نفع کا اقرار کیا پھر کہتا ہے مجھ سے غلطی ہو گئی پانچ سو روپے نفع کے ہیں اسکی بات نامعتبر ہے جو کچھ پہلے کہہ چکا ہے اس کا ضامن ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۵ : مضارب نے بیع کی ہے مبیع کے عیب کا رب المال نے اقرار کیا مشتری مبیع کو مضارب پر واپس نہیں کر سکتا اور بائع نے اقرار کیا تو دونوں پر لازم ہو گا۔ (عالمگیری)

وصی کا اقرار

مسئلہ ۱ : وصی نے یہ اقرار کیا کہ میت کا جو کچھ فلاں کے ذمہ تھا میں نے سب وصول کر لیا اور یہ نہیں بتایا کہ کتنا تھا پھر یہ کہا کہ میں نے سو روپے اس سے وصول کئے ہیں مدیون کہتا ہے کہ میرے ذمہ میت کے ہزار روپے تھے اور وصی نے سب وصول کر لئے اگر میت نے مدیون سے دین کا معاملہ کیا تھا پھر وصی نے اس طرح اقرار کیا تومدیون بری ہو گیا یعنی وصی اب اس سے کچھ نہیں وصول کر سکتا اور وصی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے یعنی وصی سے بھی ورثہ نو سو کا مطالبہ نہیں کر سکتے اور اگر ورثہ نے مدیون کے مقابل میں گواہوں سے اس کا مدیون ہونا ثابت کیا جب بھی وصی کے اقرار کی وجہ سے مدیون بری ہو گیا مگر وصی پر نو سو روپے تاوان کے واجب ہیں جو ورثہ اس سے وصول کریں گے۔ اور اگر مدیون نے پہلے ہی دین کا اقرار کیا ہے اور یہ کہ وہ ہزار روپے ہے اس کے بعد وصی نے اقرار کیا کہ جو کچھ اس کے ذمہ تھا میں نے سب وصول کر لیا پھر بعد میں یہ کہا کہ میں نے اس سے سو روپے وصول کئے ہیں تومدیون بری ہو گیا مگر وصی نو سو اپنے پاس سے ورثہ کو دے۔ یہ تمام باتیں اس صورت میں ہیں کہ ایک سو وصول کرنے کا ا قرار وصی نے فصل کے ساتھ کیا اور اگر یہ اقرار موصول ہو یعنی یوں کہا کہ جو کچھ میت کا اس کے ذمہ تھا میں نے سب وصول کر لیا اور وہ سو روپے تھے اور مدیون کہتا ہے کہ سو نہیں بلکہ ہزار تھے اور تم نے سب لے لئے تو وصی کے اس بیان کی تصدیق کی جائے گی اور مدیون سے نو سو کا مطالبہ ہو گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲ : وصی نے ورثہ کامال بیع کیا اور گواہوں سے ثابت کیا کہ پورا ثمن میں نے وصول کیا اور ثمن سو روپے تھا مشتری کہتا ہے ڈیڑھ سو ثمن تھا وصی کا قول معتبر ہو گا مگر مشتری سے بھی پچاس کا مطالبہ نہ ہو گا اور اگر وصی نے اقرار کیا کہ میں نے سو روپے وصول کئے اور یہی پورا ثمن تھا مشتری کہتا ہے ڈیڑھ سو ثمن تھا تو مشتری پچاس روپے اور دے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۳ : وصی نے اقرار کیا کہ جو کچھ میت کا فلاں کے ذمہ تھا میں نے سب وصول کر لیا اور کل سو روپے تھے مگر

گواہوں سے ثابت کیا کہ اس کے ذمہ دو سو تھے مدیون سے سو روپے وصول کئے جائیں گے وصی اپنے اقرار سے ان کو باطل نہیں کر سکتا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۴ : وصی نے اقرار کیا کہ لوگوں کے ذمہ میت کے جو کچھ دیون تھے میں نے سب وصول کر لئے اس کے بعد ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے میں بھی میت کا مدیون تھا اورمجھ سے بھی وصی نے دین وصول کیا وصی کہتا ہے نہ میں نے تم سے کچھ لیا ہے اور نہ مجھے معلوم ہے کہ میت کا دین تمہارے ذمہ بھی ہے تو وصی کا قول معتبر ہے اور اس مدیون نے چونکہ دین کا اقرار کیا ہے اس سے دین وصول کیا جائے گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۵ : وصی نے اقرار کیا کہ فلاں شخص پرمیت کا جو کچھ دین تھا میں نے سب وصول کر لیا مدیون کہتا ہے کہ مجھ پر ہزار روپے تھے وصی کہتا ہے ہاں ہزار تھے مگر پانچ سو روپے تم نے میت کو اس کی زندگی میں خود اسے دیئے تھے اور پانچ سو مجھے دیئے مدیون کہتا ہے میں نے ہزار تمہیں کو دیئے ہیں وصی پر ہزار روپے لازم ہیں مگر ورثہ اس کو حلف دیں گے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۶ : وصی نے اقرار کیا کہ میت کے مکان میں جو کچھ نقد و اثاثہ تھا میں نے سب پر قبضہ کر لیا اس کے بعد پھر کہتا ہے کہ مکان میں سو روپے تھے اور پانچ کپڑے تھے ورثہ نے گواہوں سے ثابت کیا کہ جس دن مرا تھا بالکل مکان میں ہزار روپے اور سو کپڑے تھے وصی اتنے ہی کا ذمہ دار ہے جتنے پر اس نے قبضہ کیا جب تک گواہوں سے یہ ثابت نہ ہوکہ اس سے زائد پر قبضہ کیا تھا۔ (عالمگیری)

ودیعت و غصب وغیرہ کا اقرار

مسئلہ ۱ : یہ اقرار کیا کہ میں نے اس کا ایک کپڑا غصب کیا یا اس نے میرے پاس کپڑا امانت رکھا اور ایک عیب دارکپڑا لا کر کہتا ہے یہ وہی ہے مالک کہتا ہے یہ وہ نہیں ہے مگر اس کے پاس گواہ نہیں تو قسم کے ساتھ غاصب یا امین کا ہی قول معتبر ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲ : یہ کہا کہ میں نے تم سے ہزار روپے امانت کے طور پر لئے اور وہ ہلاک ہو گئے مقرلہ نے کہا نہیں بلکہ تم نے وہ روپے غصب کئے ہیں مقر کو تاوان دینا پڑے گا۔ اور اگر یوں اقرار کیا کہ تم نے مجھے ہزار روپے امانت کے طور پر دیئے وہ ضائع ہو گئے اور مقرلہ کہتا ہے نہیں بلکہ تم نے غصب کئے تو مقر پر تاوان نہیں اور اگر یوں اقرار کیا کہ میں نے تم سے ہزار روپے امانت کے طور پرلئے اس نے کہا نہیں بلکہ قرض لئے ہیں یہاں مقر کا قول معتبر ہو گا۔ یہ کہا کہ یہ ہزار روپے میرے فلاں کے پاس امانت رکھے تھے میں لے آیا وہ کہتا ہے نہیں بلکہ وہ میرے روپے تھے جس کو وہ لے گیا تو اسی کی بات معتبر ہو گی جس کے یہاں سے اس وقت روپے لایا ہے کیونکہ پہلا شخص استحقاق کا مدعی ہے اور یہ منکر ہے لہذا روپے موجود ہوں تو وہ واپس کرے ورنہ انکی قیمت ادا کرے۔

(ہدایہ ، درمختار)

مسئلہ ۳ : میں نے اپنا یہ گھوڑا فلاں کو کرایہ پر دیا تھا اس نے سواری لے کر واپس کر دیا یا یہ کپڑا میں نے اسے عاریت یا کرایہ پر دیا تھا اس نے پہن کر واپس دے دیا میں نے اپنا مکان اسے سکونت کے لئے دیا تھا اس نے کچھ دنوں رہ کر واپس کر دیا وہ شخص کہتا ہے نہیں بلکہ یہ چیزیں خود میری ہیں ان سب صورتوں میں مقر کا قول معتبر ہے۔ یونہی یہ کہتا ہے کہ فلاں سے میں نے اپنا یہ کپڑا اتنی اجرت پر سلوایا اور اس پر میں نے قبضہ کر لیا وہ کہتا ہے یہ کپڑا میرا ہی ہے یہاں بھی مقر ہی کا قول معتبر ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۴ : درزی کے پاس کپڑا ہے کہتاہے کہ کپڑا فلاں کا ہے اور مجھے فلاں شخص (دوسرے کا نام لے کر کہتا ہے) کہ اس نے دیا ہے اور وہ دونوں اس کپڑے کے مدعی ہیں تو جس کا نام درزی نے پہلے لیا اسی کو دیا جائے گا یہی حکم دھوبی اور سونار کا ہے اور یہ سب دوسرے کو تاوان بھی نہیں دیں گے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۵ : یہ ہزار روپے میرے پاس زید کی امانت ہیں نہیں بلکہ عمرو کی تو یہ ہزا ر جو موجود ہیں یہ تو زید کو دے اور اتنے ہی اپنے پاس سے عمرو کو دے کہ جب زید کے لئے اقرار کر چکا تو اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔ (درر ، غرر) یہ اس وقت ہے کہ زید بھی اپنے روپے اس کے پاس بتاتا ہو۔

مسئلہ ۶ : یہ کہا کہ ہزار روپے زید کے ہیں نہیں بلکہ عمرو کے ہیں اس میں امانت کا لفظ نہیں کہا تو وہ روپے زید کو دے عمرو کا اس پر کچھ واجب نہیں ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ معین کا اقرار ہو اور اگر غیر معین شے کا اقرار ہو مثلاً یہ کہا کہ میں نے فلاں کے سو روپے غصب کئے نہیں بلکہ فلاں کے اس صورت میں دونوں کو دینا ہو گا کہ دونوں کے حق میں اقرار صحیح ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۷ : ایک نے دوسرے سے کہا میں نے تم سے ایک ہزار بطور امانت لئے تھے اور ایک ہزار غصب کئے تھے امانت کے روپے ضائع ہو گئے اور غصب والے یہ موجود ہیں لے لو مقرلہ یہ کہتا ہے کہ یہ امانت والے روپے ہیں اور غصب والے ہلاک ہوئے اس میں مقرلہ کا قول معتبر ہو گا یعنی یہ ہزار بھی لے گا اور ایک ہزار تاوان لے گا۔ یونہی اگر مقرلہ یہ کہتا ہے کہ نہیں بلکہ تم نے دو ہزار غصب کئے تھے تو مقر سے دونوں ہزار وصول کرے گا۔ اور اگر مقر کے یہ الفاظ تھے کہ تم نے ایک ہزار مجھے بطور امانت دیئے تھے اور ایک ہزار میں نے تم سے غصب کئے تھے امانت والے ضائع ہو گئے اور غصب والے یہ موجود ہیں اورمقرلہ یہ کہتا ہے کہ غصب والے ضائع ہوئے تو اس صورت میں مقر کا قول معتبر ہو گا یعنی یہ ہزار جو موجود ہیں لے لے اور تاوان کچھ نہیں ۔ (خانیہ)

مسئلہ ۸ : ایک شخص نے کہا میں نے تم سے ہزار روپے بطور امانت لئے تھے وہ ہلاک ہو گئے دوسرے نے کہا بلکہ تم نے غصب کئے تھے مقر پر تاوان واجب ہے کہ لینے کا اقرار سبب ضمان کا اقرار ہے مگر اس کے ساتھ امانت کا دعوی ہے اور مقرلہ اس سے منکر ہے لہذا اسی کا قول معتبر اور اگر یہ کہا کہ تم نے مجھے ہزار روپے امانت کے طور پر

دیئے وہ ہلاک ہو گئے دوسرا یہ کہتا ہے کہ تم نے غصب کئے تھے تو تاوان نہیں کہ اس صورت میں اس نے سبب ضمان کا اقرار ہی نہیں کیا بلکہ دینے کا اقرار ہے اوردینا مقرلہ کا فعل ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ ۹ : یہ کہا کہ فلاں شخص پر میرے ہزار روپے تھے میں نے وصول پائے اس نے کہا تم نے یہ ہزار روپے مجھ سے لئے ہیں اور تمہارا میرے ذمہ کچھ نہیں تھا تم وہ روپے واپس کر دو اگر یہ قسم کھا جائے کہ اس کے ذمہ کچھ نہ تھا تو اسے واپس کرنے ہوں گے۔ یونہی اگر اس نے یہ اقرار کیا تھا کہ میری امانت اس کے پاس تھی میں نے لے لی یا میں نے ہبہ کیا تھا و اپس لے لیا دوسرا کہتا ہے کہ نہ امانت تھی نہ ہبہ تھا وہ میرا مال تھا جو تم نے لے لیاواپس کرنا ہو گا۔ (مبسوط)

مسئلہ ۱۰ : اقرار کیا کہ یہ ہزار روپے میرے پاس تمہاری ودیعت ہیں ۔ مقرلہ نے جواب میں کہا کہ ودیعت نہیں ہیں بلکہ قرض ہیں یامبیع کے ثمن ہیں مقر نے کہا کہ نہ ودیعت ہیں نہ دین اب مقرلہ یہ چاہتا ہے کہ دین میں ان روپوں کو وصول کر لے نہیں کر سکتا کیونکہ ددیعت کا اقرار اس کے رد کرنے سے رد ہو گیا او ردین کااقرار تھا ہی نہیں لہذا معاملہ ختم ہو گیا۔ اور اگر صورت یہ ہے کہ مقر نے ودیعت کا اقرار کیا اور مقرلہ نے کہا کہ ودیعت نہیں بلکہ بعینہ یہی روپے میں نے تمہیں قرض دیئے ہیں اور مقر نے قرض سے انکار کر دیا تو مقرلہ بعینہ یہی روپے لے سکتا ہے اور اگر مقر نے بھی قرض کی تصدیق کر دی تو مقرلہ بعینہ یہی روپے نہیں لے سکتا۔ (خانیہ)

مسئلہ۱۱ : یہ کہا کہ زید کے گھر میں سے میں نے سو روپے لئے تھے پھر کہا کہ وہ میرے ہی تھے یا یہ کہا کہ وہ روپے عمرو کے تھے وہ روپے صاحب خانہ یعنی زید کو واپس دے اور عمرو کو اپنے پاس سے سو روپے دے۔ یونہی اگر یہ کہا کہ زید کے صندوق یا اس کی تھیلی میں سے میں نے سو روپے لئے پھر یہ کہا کہ وہ عمرو کے تھے وہ روپے زید کو دے اور عمرو کے لئے چونکہ اقرار کیا اسے تاوان دے۔ (خانیہ)

مسئلہ۱۲ : یہ کہا کہ فلاں کے گھر میں سے میں نے سو روپے لئے پھر کہا اس مکان میں رہتا تھا یا وہ میرے کرایہ میں تھا اس کی بات معتبر نہیں یعنی تاوان دینا ہو گا ہاں اگر گواہوں سے اس میں اپنی سکونت یا کرایہ پر ہونا ثابت کر دے تو ضمان سے بری ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ ۱۳ : یہ کہا کہ فلاں کے گھر میں میں نے اپنا کپڑا رکھا تھا پھر لے آیا تو اس کے ذمہ تاوان نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۴ : یہ کہا کہ فلاں شخص کی زمین کھود کر اس میں سے ہزار روپے نکال لایا مالک زمین کہتا ہے وہ روپے میرے تھے اور یہ کہتا ہے میرے مالک زمین کا قول معتبر ہے۔ مالک زمین نے گواہوں سے ثابت کیا کہ فلاں شخص نے اس کی زمین کھود کر ہزار روپے نکال لئے ہیں وہ کہتا ہے میں نے زمین کھودی ہی نہیں یا یہ کہتا ہے کہ وہ روپے میرے تھے وہ روپے مالک زمین کے قرار دیئے جائیں گے۔ (عالمگیری)

متفرقات

مسئلہ ۱۵ : زید کے عمرو کے ذمہ دس روپے اور دس اشرفیاں ہیں زید نے کہا میں نے عمرو سے روپے وصول پائے نہیں بلکہ اشرفیاں وصول ہوئیں عمرو کہتا ہے دونوں چیزیں تم نے وصول پائیں تو دونوں کی وصولی کی قرار دی جائے گی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۶ : ایک شخص کے دوسرے پر ایک دستاویز کی رو سے دس روپے ہیں اور دس روپے دوسری دستاویز کی رو سے ہیں دائن نے کہا میں نے مدیون سے دس روپے اس دستاویز والے وصول پائے نہیں بلکہ اس دستاویز والے وصول پائے دس ہی روپے کی وصولی اقرار پائے گی اختیار ہے کہ جس دستاویز والے چاہے قرار دے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۷ : زید کے عمرو کے ذمہ سو روپے ہیں اور بکر کے ذمہ سو روپے ہیں اور عمرو و بکر ہر ایک دوسرے کا کفیل ہے۔ زید نے اقرار کیا میں نے عمرو سے دس روپے وصول پائے نہیں بلکہ بکر سے تو عمرو و بکر دونوں سے دس روپے وصول کرنے کا اقرار قرار پائے گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۸ : ایک شخص کے دوسرے پر ہزار روپے ہیں دائن نے کہا تم نے اس میں سے سو روپے مجھے اپنے ہاتھ سے دیئے نہیں بلکہ خادم کے ہاتھ بھیجے تو یہ سو ہی کا اقرار ہے اور اگر ان روپوں کا کوئی شخص کفیل ہے اور دائن نے یہ کہا کہ تم سے میں نے سو روپے وصول پائے نہیں بلکہ تمہارے کفیل سے تو ہر ایک سے سو سو روپے لینے کا اقرار ہے اور اگر دائن ان دونوں پر حلف دینا چاہے نہیں دے سکتا۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۱۹ : دائن نے مدیون سے کہا سو روپے تم سے وصول ہو چکے مدیون نے کہا اور دس روپے میں نے تمہارے پاس بھیجے تھے اور دس روپے کا کپڑا تمہارے ہاتھ فروخت کیا ہے دائن نے کہا تم سچ کہتے ہو یہ سب انھیں سو میں ہیں دائن کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۰ : ایک شخص نے دوسرے سے کوئی چیز خریدی بائع نے کہا میں نے مشتری سے ثمن لے لیا پھر بائع نے کہا مشتری کے میرے ذمہ روپے تھے اس سے میں نے مقاصہ (ادلا بدلا) کرلیا بائع کی بات نہیں مانی جائے گی۔ اور اگر بائع نے پہلے یہ کہا کہ مشتری کے روپے میرے ذمہ تھے اس سے میں نے مقاصہ کر لیا اور بعد میں یہ کہا کہ ثمن کے روپے مشتری سے لے لئے تو بائع کا قول معتبر ہے۔ یونہی اگر بائع نے یہ کہا کہ ثمن کے روپے وصول ہو گئے یا وہ ثمن کے روپے سے بری ہو گیا پھر کہتا ہے میں نے مقاصہ کر لیا تو اس کی بات مان لی جائے گی۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۱ : مقرلہ ایک شخص ہے اور مقر نے نفی و اثبات کے طور پر دو چیزوں کا اقرار کیا تو جو مقدار میں زیادہ ہو گی اور وصف میں بہتر ہو گی وہ واجب ہو گی مثلاً زید کے مجھ پر ایک ہزار روپے ہیں نہیں بلکہ دو ہزار یا یوں کہا اس کے

مجھ پر ایک ہزار روپے کھرے ہیں نہیں بلکہ کھوٹے یا اس کا عکس یعنی یوں کہا اس کے مجھ پر دو ہزار ہیں نہیں بلکہ ایک ہزار یا ایک ہزار کھوٹے ہیں نہیں بلکہ کھرے ان سب کا حکم یہ ہے کہ پہلی صورت میں دو ہزار واجب اور دوسری صورت میں کھرے روپے واجب اور اگر جنس مختلف ہوں مثلاً اس کے مجھ پر ایک ہزار روپے ہیں نہیں بلکہ ایک ہزار اشرفی دونوں چیزیں واجب ایک ہزار وہ ایک ہزاریہ۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۲ : یہ کہا کہ زید پر جو میرا دین ہے وہ عمرو کا ہے یا یہ کہا کہ زید کے پاس جو امانت ہے وہ عمرو کی ہے۔ یہ عمرو کیلئے اس دین و امانت کا اقرار ہے مگر اس دین یا امانت پر قبضہ مقر کا حق ہے مگر اس لفظ کو ہبہ قرار دینا گذشتہ بیان کے موافق ہو گا لہذا تسلیم واہب اور قبضۂ موہوب لہ ضروری ہو گا۔ (درمختار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button