شرعی سوالات

خالص کافروں کے بینک میں روپیہ جمع کرواکے زائد رقم لینا سو د نہیں۔

سوال:

بینک میں دس سال کے لیے ماہوار دس روپے جمع کروانا اور دس سال پورے ہونے پر 1200 کی بجائے 1600 لینا کیسا ہے؟یہ رقم سود ہوگی یا نہیں؟

جواب:

یہ کھلا ہوا سود اور حرام ہے۔ہاں!اگر بینک والے سب نرے کافر ہوں،ان میں کوئی مسلم نہ ہو اور اس مدت مذکورہ کے بعد وہ اتنے روپے زائد دیں تو یہ شخص مال مباح سمجھ کر لے سکتا ہے کہ کافر نے اپنا مال اپنی خوشی سے دیا ۔لے لے اور سود کی نیت ہرگز نہ ہو۔

(فتاوی امجدیہ، کتاب البیوع،جلد3،صفحہ152،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button