بہار شریعت

حیض کے مسائل کا بیان

 حیض کے متعلق مسائل کا تفصیلی مطالعہ

حیض کے مسائل

مسئلہ ۱ :   بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری،  بچہ پیدا ہونے کے سبب سے نہ ہوا اُسے حیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو استحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نفاس کہتے ہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۶)۔

مسئلہ ۲ :  حیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں یعنی پورے ۷۲ گھنٹے۔ ایک منٹ بھی اگر کم ہے تو حیض نہیں اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس راتیں ہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۶)۔

متعلقہ مضامین

مسئلہ ۳ :   ۷۲ گھنٹے سے ذرا بھی پہلے ختم ہو جائے تو حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے ہاں اگر کرن چمکی تھی کہ شروع ہوا اور تین دن تین راتیں ہو کر کرن چمکنے ہی کے وقت ختم ہوا تو حیض ہے اگرچہ دن بڑھنے کے زمانہ میں طلوع روز بروز پہلے اور غروب بعد کو ہوتا رہے گا اور دن چھوٹے ہونے کے زمانہ میں آفتاب کا نکلنا بعد کو اور ڈوبنا پہلے ہوتا رہے گا جس کی وجہ سے ان تین دن رات کی مقدار ۷۲ بہتّر گھنٹے ہونا ضرور نہیں مگر عین طلوع سے طلوع اور غروب سے غروب تک ضرر ایک دن رات ہے۔ ان کے سوا اگر اور کسی وقت شروع ہوا تو وہی چوبیس ۲۴ گھنٹے پورے ایک دن رات لیا جائے گا۔ مثلاً آج صبح کو ٹھیک ۹ بجے شروع ہوا اور اس وقت پورا پہرون چڑھا تھا تو کل ٹھیک ۹ بجے ایک دن رات ہو گا اگرچہ ابھی پورا پہرون نہ آیا جب کہ آج کا طلوع کل کے طلوع سے بعد کو ہو یا پہر بھر سے زیادہ دن آگیا ہو جب کہ آج کا طلوع کل کے طلوع سے پہلے ہو۔

مسئلہ ۴ :  دس دن رات سے کچھ بھی زیادہ خون آیا تو اگر یہ حیض پہلی مرتبہ اسے آیا تو دس دن تک حیض ہے بعد کا استحاضہ اور اگر پہلے اُسے حیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زیادہ ہوا استحاضہ ہے اور اگر اسے یوں سمجھو کہ اس کو پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حیض کے باقی سات دن استحاضہ کے اور ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن کبھی پانچ دن تو پچھلی بار جتنے دن وہی اب بھی حیض کے ہیں باقی استحاضہ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۵ :  یہ ضروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے جبھی حیض ہو بلکہ اگر بعض بعض وقت بھی آئے گا جب بھی حیض ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۶)۔

مسئلہ ۶ :   کم سے کم نو (۹) برس کی عمر سے حیض شروع ہو گا اور انتہائی عمر حیض آنے کی پچپن (۵۵) سال ہے ۔ اس عمر والی عورت کو آئسہ  اور اس عمر کو سن ایاس کہتے ہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۶)۔

مسئلہ ۷ :  نو برس کی عمر سے پیش تر جو خون آئے استحاضہ ہے یونہی پچپن (۵۵) سال کی عمر کے بعد جو خون آئے ہاں پچھلی صورت اگر خالص خون آئے یا جیسا پہلے آتا تھا اسی رنگ کا آیا تو حیض ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۶)۔

مسئلہ ۸ :  حمل والی کو جو خون آیا استحاضہ ہے یونہی بچہ ہوتے وقت جو خون آیا اور ابھی آدھے سے زیادہ بچہ باہر نہیں نکلا وہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ ۹ :   دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے یونہی نفاس و حیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آیا تو یہ استحاضہ ہے۔

مسئلہ۱۰ : حیض اس وقت سے شمار کیا جائے گا کہ خون فرج خارج میں آگیا تو اگر کوئی کپڑا رکھ لیا ہے جس کی وجہ سے فرج خارج میں نہیں آیا داخل ہی میں رُکا ہوا ہے تو جب تک کپڑا نہ نکالے گی حیض والی نہ ہو گی۔ نماز پڑھے گی، روزہ رکھے گی۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۶)۔

مسئلہ ۱۱:  حیض کے چھ (۶) رنگ ہیں۔

(۱)         سیاہ          (۲)        سرخ    (۳)      سبز    (۴)      زرد        (۵)      گدلا       (۶)       مٹیلا

 سفید رنگ کی رطوبت حیض نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۶)۔

مسئلہ ۱۲: دس دن کے اندر رطوبت میں ذرہ بھی میلا پن ہے تو حیض ہے دس دن رات کے بعد بھی میلا پن باقی ہے تو عادت والی کے لئے جو دن عادت کے ہیں حیض ہو اور عادت سے بعد والے استحاضہ اور کچھ عادت نہیں تو دس دن رات تک حیض باقی استحاضہ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۷)۔

مسئلہ ۱۳: گدّی جب تر تھی تو اس میں زردی یا میلا پن تھا بعد سوکھ جانے کے سفید ہو گئی تو مدت حیض میں حیض ہی ہے اور اگر جب دیکھ تھا سفید تھی سوکھ کر زرد ہو گئی تو یہ حیض نہیں۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۶)۔

مسئلہ ۱۴ : جس عورت کو پہلی مرتبہ خون آیا اور اس کا سلسلہ مہینوں یا برسوں برابر جاری کہ بیچ میں پندرہ دن کے لئے بھی نہ رُکا تو جس دن سے خون آنا شروع ہوا اس روز سے دس (۱۰) دن تک حیض اور بیس (۲۰) دن استحاضہ کے سمجھے اور جب تک خون جاری رہے یہی قاعدہ برتے۔

 مسئلہ ۱۵ : اور اگر اس سے پیشتر حیض آچکا تو اس سے پہلے جتنے دن حیض کے تھے ہر تیس (۳۰) دن میں اتنے دن حیض کے سمجھے باقی جو دن بچیں استحاضہ۔

مسئلہ ۱۶ : جس عورت کو عمر بھر میں خون آیا ہی نہیں یا آیا مگر تین دن سے کم آیا تو عمر بھر وہ پاک ہی رہی اور ایک ہی بار تین دن رات خون آیا پھر کبھی نہ آیا وہ تو فقط تین دن رات حیض کے ہیں باقی ہمیشہ کے لئے پاک۔

مسئلہ ۱۷ : جس عورت کو دس دن خون آیا اس کے بعد سال بھر پاک رہی پھر برابر خون جاری رہا تو اس زمانہ میں نماز، روزے کے لئے ہر مہینہ میں دس دن حیض کے سمجھے بیس دن استحاضہ۔

مسئلہ ۱۸ : کسی عورت کو ایک بار حیض آیا اس کے بعد کم سے کم پندرہ دن تک پاک رہی پھر خون برابر جاری رہا اور یہ یاد نہیں کہ پہلے کتنے دن حیض کے تھے اور کتنے طہر کے مگر یہ یاد ہے کہ مہینے میں ایک مرتبہ ہی حیض آیا تھا تو اس مرتبہ جب سے خون شروع ہوا تین دن تک نماز چھوڑ دے پھر سات دن تک ہر نماز کے وقت میں غسل کرے اور نماز پڑھے اور ان دسوں دن شوہر کے پاس نہ جائے پھر بیس (۲۰) دن ہر نمازکے وقت تازہ وضو کر کے نماز پڑھے اور دوسرے مہینہ انیس (۱۹) دن وضو کرکے نماز پڑھے اور ان بیس (۲۰) یا انیس (۱۹) دن میں شوہر اس کے پاس جا سکتا ہے اور جو یہ بھی یاد نہ ہو کہ مہینے میں ایک بار آیا تھا یا دو بار تو شروع کے تین دن میں نماز نہ پڑھے پھر سات دن تک ہر وقت غسل کر کے نماز پڑھے پھر آٹھ دن تک ہر وقت میں وضو کرکے نماز پڑھے اور صرف آٹھ دنوں میں شوہر اس کے پاس جاسکتا ہے اور ان آٹھ دن کے بعد بھی تین دن تک وضوکرکے نماز پڑھے اور یہی سلسلہ ہمیشہ جاری رکھے اگر طہارت کے دن یاد ہیں مثلاً پندرہ دن تھے اور باقی یاد نہیں تو شروع کے تین دن تک نمازنہ پڑھے پھر سات دن تک ہر وقت غسل کرکے نماز پڑھے پھر آٹھ دن وضو کرکے نماز پڑھے اس کے بعد پھر تین دن اور وضو کرکے نماز پڑھے پھر چودہ (۱۴) دن تک ہر وقت غسل کرکے نماز پڑھے پھر ایک دن وضو ہر وقت میں کرے اور نماز پڑھے پھر ہمیشہ کے لئے جب تک خون آتا رہے ہر وقت غسل کرے اور اگر حیض کے دن یاد ہیں مثلاً تین دن تھے اور طہارت کے دن یاد نہ ہوں تو شروع سے تین دنوں میں نماز چھوڑدے پھر اٹھارہ (۱۸) دن تک ہر وقت وضو کرکے نماز پڑھے جن میں پندرہ (۱۵) پہلے تو یقینی طُہر ہیں اور تین دن پچھلے مسشکوک پھر ہمیشہ ہر وقت غسل کرکے نماز پڑھے اور اگر یاد ہے کہ مہینے میں ایک بار حیض آیا تھا اور یہ کہ وہ تین دن تھا مگر یاد نہیں کہ وہ کیا تاریخیںتھیں تو ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں وضو کرکے نما پڑھے اور ستائیس (۲۷) دن تک ہر وقت غسل کرے یونہی چار دن یا پانچ دن حیض کے ہونا یاد ہوں تو ان چار پانچ دنوں میں وضو کرے باقی دنوں میں غسل اور اگر یہ معلوم ہو کہ آخر مہینے میں حیض آتا تھا اور تاریخیں بھول گئیں تو ستائیس (۲۷) دن وضو کرکے نماز پڑھے اور تین دن نہ پڑھے پھر مہینہ ختم ہونے پر ایک بار غسل کرے اور اگر یہ معلوم ہے کہ اکیس (۲۱) سے شروع ہوتا تھا اور یہ یاد نہیں کہ کتنے دن تک آتا تھا تو بیس دن کے بعد تین دن نماز چھوڑدے اس کے بعد سات دن جو رہ گئے ان میں ہر وقت غسل کرکے نماز پڑھے اور اگر یہ یاد رہے کہ فلاں پانچ تاریخوں میں تین دن آیا تھا مگر یہ یاد نہیں کہ ان پانچ میں وہ کون کون دن ہیں تو دو پہلے دنوں میں وضو کرکے نماز پڑھے اور ایک دن بیچ کا چھوڑدے اور اس کے بعد کے دو دنوں میں ہر وقت غسل کرکے پڑھے اور چار دن میں تین دن تو پہلے دن وضو کرکے پڑھے اور چوتھے دن ہر وقت غسل کرکے اور بیچ کے دو دنوں میںنہ پڑھے اور اگر چھ دنوں میں تین دن ہوں تو پہلے تین دنوں میں وضو کر کے پڑھے پچھلے تین دنوں میں ہر وقت غسل کرے اور اگر سات یا آٹھ یا نو اور دس دن میں تین دن ہوں تو پہلے تین دنوں میں ہر وقت غسل کرے۔ خلاصہ یہ کہ جن دنوں میں حیض کا یقین ہو اور ٹھیک طرح سے یہ یاد نہ ہو کہ ان میں وہ کون سے دن ہیں تو یہ دیکھنا چاہیئے کہ یہ دن حیض کے دنوں سے دونے ہیں یا دونے سے کم یا دونے سے زیادہ اگر دونے سے کم ہیں تو ان میں یقینی حیض ہونے کے ہوں تو ان میں وضو کرکے نماز پڑھے اور اگر دونے یا دونے سے زیادہ ہوں تو حیض کے دنوں کے برابر شروع کے دنوں میں وضو کرکے نماز پڑھے پھر ہر وقت غسل کرے اور اگر یاد نہ ہوں کہ کتنے دن حیض کے تھے اور کتنے طہارت کے نہ یہ کہ مہینے کے شروع کے دس دنوں مین تھا یا بیچ کے دس یا آخر کے دس دنوں میں تو جی میں سوچے جو پہلے جمے اس پر پابندی کرے اور اگر کسی بات پر طبعیت نہیں جمتی تو ہر نماز کے لئے غسل کرے اور فرض و واجب و سنت موکدہ پڑھے مستحب اور نفل نہ پڑھے اور فرض روزے رکھے نفل روزے نہ رکھے اور ان کے علادہ اور جتنی باتیں حیض والی کو جائز نہیں اس کو بھی ناجائز ہیں جیسے قرآن پڑھنا یا چھونا یا مسجد میں جانا، سجدہ تلاوت وغیرہا۔

مسئلہ ۱۹ : جس عورت کو نہ پہلے حیض کے دن یاد نہ یہ یاد کہ کن تاریخوں میں آیا تھا اب تین دن یا زیادہ خون آکر بند ہو گیا پھر طہارت کے پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ پھر خون جاری ہوا اور ہمیشہ کو جاری ہو گیا تو اس کا وہی حکم ہے جیسے کسی کو پہلی پہل خون آیا اور ہمیشہ کو جاری ہو گیا کہ دس حیض کے شمار کرے پھر بیس دن طہارت کے۔

مسئلہ ۲۰ : جس کی ایک عادت مقرر نہ ہو بلکہ کبھی مثلاً چھ دن حیض کے ہوں اور کبھی سات اب جو خون آیا تو بند ہوتا ہی نہیں تو اس کے لئے نماز، روزے کے حق میں کم مدت یعنی چھ دن حیض کے قرار دیئے جائیں گے اور ساتویں روز نہا کر نماز پڑھے اور روزہ رکھے مگر سات دن پورے ہونے کے بعد پھر نہانے کا حکم ہے اور ساتویں دن جو فرض روزہ رکھا ہے اس کو قضا کرے اور عدت گزرنے یا شوہر کے پاس رہنے کے بارے میں زیادہ مدت یعنی سات دن حیض کے مانے جائیں گے یعنی ساتویں دن اس سے قربت جائز نہیں۔

مسئلہ ۲۱ : کسی کو ایک دن خون آکر بند ہو گیا اور دس دن پورے نہ ہوئے کہ پھر خون آیا دسویں دن بند ہو گیا تو یہ دسوں دن حیض کے ہیں اور اگر دس دن کے بعد جاری رہا تو اگر عادت پہلے کی معلوم ہے تو عادت کے دنوں میں حیض ہے باقی استحاضہ ورنہ دس دن حیض کے باقی استحاضہ۔

مسئلہ ۲۲ : کسی کی عادت تھی کہ فلاں تاریخ میں حیض ہو اب اس سے ایک دن پیشتر خون آکر بند ہو گیا پھر دس دن تک نہیں آیا اور گیارھویں دن پھر آگیا تو خون نہ آنے کے جو یہ دس دن ہیں ان میں سے اپنی عادت کے دنوں کے برابر حیض قرار دے اور اگر تاریخ تو مقرر تھی مگر حیض کے دن معین نہ تھے تو یہ دسوں دن خون کے  نہ آنے کے حیض ہیں۔

مسئلہ ۲۳ :            جس عورت کو تین دن سے کم خون آکر بند ہو گیا اور پندرہ دن پورے نہ ہوئے کہ پھر آگیا تو پہلی مرتبہ جب سے خون آنا شروع ہوا ہے اب اگر اس کو کوئی عادت ہے عادت کے برابر حیض کے دن شمار کرلے۔ ورنہ شروع سے دس دن تک حیض اور پچھلی مرتبہ کا خون استحاضہ۔

مسئلہ ۲۴ :            کسی کو پورے تین دن رات خون آکر بند ہو گیا اور اس کی عادت اس سے زیادہ کی تھی پھر تین دن رات کے بعد سفید رطوبت عادت کے دنوں تک آتی رہی تو اس کے لئے صرف وہی تین دن رات حیض کے ہیں اور عادت بدل گئی۔

مسئلہ ۲۵ :            تین دن رات خون آیا پھر پندرہ دن تک پاک رہی پھر تین رات سے کم آیا تو نہ پہلی مرتبہ کا حیض  ہے نہ یہ بلکہ دونوں استحاضہ ہیں۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button