ARTICLES

حِل کے رہنے والے کا حرم سے حج کا احرام باندھنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ جدّہ میں مقیم شخص حج کے لئے آئے تو احرام کہاں سے باندھے اگر وہ وہاں سے احرام باندھ کر آتا ہے تو حکومت اُسے آنے نہیں دے گی اور جدّہ کا رہنے والا مکہ کسی کام سے آئے تو اُسے بغیر احرام باندھے آنا جائز ہے یا نہیں اور اگر وہ شخص اپنے کسی کام سے مکہ مکرمہ آیا جیسے حج پر آنے والے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے آ گیا یا اُن کی خدمت کے لئے آیا پھر یہیں سے حج کا ارادہ کر لے اور مکہ سے احرام باندھ لے تو جائز ہے یا نہیں ؟اور اگر حج کے لئے ہی آیا مگر حکومت کی طرف سے دھر لئے جانے کے خوف سے بلا احرام آیا اور مکہ مکرمہ آ کر وہ مسجد عائشہ یا کسی اور جگہ حدِ حرم سے باہر گیا اور احرام باندھ کر آ گیا تو اس کا احرام دُرست ہو گا یا نہیں اور اُس پر کوئی دَم لازم ہو گا یا نہیں اور اُس پر اُسے توبہ کرنی لازم ہو گی یا نہیں ؟

(السائل : ایک حاجی، از جدہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : جدّہ میقات کے اندر اور حُدودِ حرم سے باہر ہے لہٰذا جدّہ کا رہنے والا جب حج و عمرہ کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو بغیر احرام مکہ مکرمہ آ سکتا ہے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

و جائز است مرایشان را دخولِ مکہ و دخولِ ارض حرم بغیر احرام چون ارادہ نداشتہ باشد حج و عمرہ را (196)

یعنی، اُن لوگوں کو (جو میقات پر یا میقات اور حرم کے مابین رہتے ہیں ) مکہ یا حرم کی سرزمین میں بغیر احرام کے داخل ہونا جائز ہے جب کہ وہ حج اور عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں ۔ اور میقات یا حِل(یعنی میقات اور حرم کے درمیان) میں رہنے والوں کے احرام کی جگہ حِل ہے چاہے عمرہ کا احرام ہو یا حج کا، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

بدانکہ کسے کہ در نفس میقاتے از مواقیت متقدمہ یا در ما بین مواقیت و حرم سکونت داشتہ باشد مکانِ احرام در حق او جمیع ارض حِل ست اعنی ما بین مواقیت و حرم برابر ست کہ احرام حج بندد یا احرام عمرہ و افضل در حق ایشان آنست کہ از دوازہ خانہ خود احرام بندد (197)

یعنی، جاننا چاہئے کہ جو شخص مواقیت متقدمہ میں سے کسی میقات پر یا میقات اور حرم کے مابین سکونت رکھتا ہو اس کے حق میں احرام کی جگہ تمام زمینِ حِل ہے (حِل سے ) میری مراد مواقیت اور حرم کا مابین ہے ۔ برابر ہے کہ حج کا احرام باندھے یا عمرہ کا ، اور ان لوگوں کے حق میں افضل یہ ہے کہ اپنے گھر کے دروازے سے احرام باندھیں ۔ او ریہ لوگ جب حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں تو اُن پر احرام باندھ کر حرم میں داخل ہونا لازم ہے اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو گنہگار ہوں گے اور اُن پر لازم ہو گا کہ دوبارہ حدودِ حرم سے باہر جاکر احرام باندھیں اور اگر نہ لوٹے اور حدودِ حرم کے اندر سے عمرہ کا احرام باندھا تو احرام ہو جائے گا لیکن اس پر دم لازم ہوگا کیونکہ اہلِ مواقیت، اہلِ حِل اور اہلِ مکہ کے لئے عمرہ کے احرام کی جگہ ہی حِل ہے اورمواقیت پر یا مواقیت وحرم کے مابین رہنے والوں نے حج کا احرام اگر حُدودِ حرم کے اندر سے ہی باندھ لیا تو دم لازم ہو گا چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

امّا چون ارادہ داشتہ باشند آنہارا واجب ست احرام برایشان برائے دخولِ حرم، پس اگر ترک کردند آثم گردند و لازم باشد برایشان کہ عود نمایند بسوی حِل و احرام بندند از انجا، و اگر عود نہ کردند واجب گردد دم برایشان (198)

یعنی، مگر جب اِن(یعنی حج و عمرہ ) کا ارادہ رکھتے ہوں تو اُن پر حرم میں داخل ہونے کے لئے احرام واجب ہے پس اگر ترک کریں گے تو گنہگار ہوں گے اور ان پر لازم ہو گا کہ حِل کی جانب لوٹ کر جائیں اور وہاں سے احرام باندھیں اور اگر نہ لوٹیں تو اُن پر دم واجب ہو گا۔ لہٰذا مذکور شخص کو چاہیے کہ اگر وہ جدّہ سے احرام نہیں باندھ سکتا تو حُدودِ حرم شروع ہونے سے قبل احرام باندھ لے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور حج کے ارادے سے حرم میں بغیر احرام کے آ جاتا ہے تو گنہگار بھی ہو گا اور اُس پر لازم ہو گا کہ حرم میں آ جانے کے بعد واپس حِل (یعنی حُدودِ حرم سے باہر) جا کر احرام باندھے چونکہ عمرہ یا حج کے ارادے سے حرمِ مکہ بلا احرام آنا گناہ ہے اس لئے وہ شخص حُدودِ حرم سے باہر جا کر احرام باندھ کر دَم سے تو بچ گیا مگر اُسے توبہ ضرور کرنی ہو گی۔ ہاں اگر وہ عمرہ یا حج کے ارادے سے مکہ نہیں آیا کسی اور کام سے آیاپھر یہاں سے اس نے حج کا ارادہ کر لیا تو حرم سے حج کا احرام باندھے اور حج کر لے تو اُس پر کچھ لازم نہ ہو گا نہ دم اور نہ گناہ۔کیونکہ اُس وقت وہ مکی کے حکم میں ہے اور مکی اور جو مکی کے حکم میں ہے اُس کے لئے حج کے احرام کی جگہ حرم ہے جیسا کہ یہ مناسکِ حج و عمرہ کا علم رکھنے والوں پر مخفی نہیں ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الخمیس، 23ذی القعدۃ1427ھ، 14دیسمبر 2006 م (289-F)

حوالہ جات

196۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول دربیان احرام، فصل دویم دربیان مواقیت احرام حج و عمرہ ، بیان مکان احرام در حق میقاتی الخ، ص60

197۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول دربیان احرام، فصل دویم دربیان مواقیت احرام حج و عمرہ ، بیان مکان احرام در حق میقاتی الخ، ص60

198۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دویم در بیان مواقیت احرام حج و عمرہ، بیان مکان احرام در حق میقاتی، ص60

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button