ARTICLESشرعی سوالات

حلق یا تقصیر کے بغیر احرام کھولنے والے کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص عمرہ کر کے حلق یا بال کٹوائے بغیر احرام کھول دے اب کافی مہینوں بعد اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے ، ا س کے لئے کیا کوئی کفّارہ ہے ؟ (صرف دَم دینا ہے یا کوئی اور کفّارہ) بال کٹوائے بغیر احرام کھول دینے سے کیا وہ احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوگیا؟

(السائل : محمد شاہد قادری رضوی، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اگر ممنوعاتِ احرام کا ارتکاب جیسے سِلے ہوئے کپڑے پہننا، سر اور منہ کوڈھکنا اور خوشبو لگانا وغیرہا کا ارتکاب احرام سے نکلنے کے لئے اپنی جہالت کی بنا پر کیا ہے تو صرف ایک دَم لازم ہو گا۔ اور اگر اُس نے اِن ممنوعاتِ احرام کا ارتکاب احرام سے باہر نکلنے کے لئے نہ کیا ہو تو حلق کروانے تک جتنے جُرم اُس نے کئے اتنی ہی جزائیں اُس پر لازم آئیں گی، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبد الغفور ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

شرط خروج از احرام حج و عمرہ حلق رُبُع سر یا قصر رُبُع او ست در وقتِ حلق، پس اگر حلق و قصر ننمود بیرون نیاید از احرام اگرچہ بگذرند بروئے سالہائے بسیار، و ہر بارے کہ ارتکاب کند محظورے را لازم می شود بروے جزائے علیحدہ مگر آنکہ ارتکابِ محظورات متعدد بنیتِ ترکِ احرام بودہ باشد کہ آنگاہ جزاء واحد لازم آید کما سیأتی قریباً (145)

یعنی، حج و عمرہ سے نکلنے کی شرط حلق کے (مقررہ) وقت میں چوتھائی سر کا منڈوانا یا چوتھائی سر کا قصر کروانا ہے ، اگر کسی نے نہ سرمنڈوایا اور نہ قصر کروایا تو احرام سے باہر نہیں نکلے گا، چاہے اُسے بے شمار سال گزر جائیں ۔ اِس دوران ہر بار جب وہ ممنوعِ احرام کا ارتکاب کرے گا اُسے علیحدہ جزاء لازم ہو گی جیسا کہ عنقریب مذکور ہو گا۔ اور لکھتے ہیں :

آنچہ گفتیم کہ شرط است وقوع حلق یا قصر در وقت او پس بدانکہ ابتدائِ وقت حلق در حج از طلوعِ فجر روز،نحر ست و در عمرہ بعد از اتیان اکثر طواف است، و لیکن آخر ندارد در حق صحت بلک جمیع عمر وقت اوست ہر وقتی کہ حلق نماید از احرام بیرون آید اگرچہ واجب است وقوعِ حلقِ حج در ایامِ نحر بعد از رمی جمرہ عقبہ ، وواجب است وقوعِ حلقِ عمرہ بعد از سعی بین الصفا و المروۃ در عمرہ (146)

یعنی، ہم نے حلق یا قصر کے وقت مقررہ میں ہونے کی جو شرط بیان کی ہے تو جاننا چاہیے حج میں حلق کا وقت کی ابتداء یومِ نحر کے طلوعِ فجر سے اور عمرہ میں طواف کے اکثر (یعنی چار)چکروں کے اداکرنے کے بعد سے ہے لیکن حلق و قصر صحیح ہونے کا آخری کوئی وقت مقرر نہیں ، ساری عمر اُس کا وقت ہے جب بھی سر منڈائے گا یا قصر کرائے گا احرام سے باہر ہو جائے گا۔ اگرچہ حج کاحلق ایامِ نحر میں جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد اور عمرہ کا حلق صفا ومروہ کے مابین سعی کے بعد واجب ہے ۔(147) اور وہ احرام توڑنے کی نیت کر لے تب بھی مُحرِم ہی رہے گا احرام سے باہر نہیں نکلے گا اُس پر ممنوعاتِ احرام کا ا رتکاب حرام رہے گا اگرچہ اُس کی رفضِ احرام کی نیت نے اُس پر سے ضمان کو اٹھا دیا کہ متعدد جزائیں اُس پر لازم نہ آئیں ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

پس چنین خارج نگردد بہ نیت رفض و احلال و واجب آید بر این شخص دم واحد برائے جمیع آنچہ ارتکاب کرد ہر چند کہ ارتکاب کرد جمیع محظورات راد و متعدد نشود بروے جزاء بہ تعدد جنایات چون نیت کردہ است رفض احرام رازیر انکہ او ارتکاب نمودہ است محظورات را بتاویل اگرچہ فاسد است، معتبر باشد در رفع ضمانات دینویہ، پس گویا کہ موجود شدند این ہمہ محظورات از جہۃواحدہ بسبی واحد، پس متعدد نگردد جزاء بروی این مذہب ماست، و امام نزد شافعی پس لازم آید بروی برائے ہر محظورے علیحدہ جزا (148)

یعنی، اِس طرح احرام توڑنے اور حلال ہونے کی نیت سے بھی احرام سے خارج نہ ہو گا اور ا ُس شخص پر تمام ممنوعات کے ارتکاب کا ایک ہی دم واجب ہو گا، چاہے تمام ممنوعات کا مرتکب ہوا ہو، اور جب اُ س نے احرام توڑنے کی نیت کر لی تو متعدد جنایات پر متعدد جزائیں اِس لئے واجب نہ ہوں گی کہ اِن ممنوعات کا ارتکاب اُس نے اِس تاویل سے کیا ہے (وہ تاویل یہ ہے کہ میں نے احرام توڑنے کی نیت کر لی تھی اِس لئے یہ ممنوعات میرے لئے ممنوع نہ رہے )۔ اور تاویل گو کہ فاسد ہے مگر وہ دینی ضمانتوں کے اٹھ جانے کے بارے میں معتبر ہو گی، پس گویا کہ یہ تمام ممنوعات ایک ہی جہت سے ایک ہی سبب کے باعث واقع ہوئے اس لئے جزائیں بھی اُس پر متعدد واجب نہ ہوں گی یہ ہمارا مذہب ہے ، مگر امام شافعی علیہ الرحمہ کے نزدیک ہر ممنوع پر جزاء علیحدہ ہو گی۔ اور ہمارے اور امام شافعی کے مابین یہ اختلاف تب ہے جب اس نے احرام توڑنے کے ارادے سے ایسا کیا اور جہالت کی بناء پر سمجھ لیا کہ اب میں احرام سے باہر ہو گیا ورنہ ہر جنایت پر الگ جزا لازم ہو گی چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

واین اختلاف وقتی ست کہ شخص مذکور کہ نیت رفض احرام کردہ است گمان می بُرد بسبب جہل خود کہ او خارج گشتہ است از احرام بسبب این قصد، امّا کسی کہ می داند کہ خارج نشدہ ام من از احرام بسبب این قصد معتبر نباشد ازوی قصد رفض و متعدد گردد جزاء بروی بہ تعدد جنایات اتفاقاً بیننا و بین الشافعی، چنانکہ متعدد می گردد اتفاقاً بر شخص کہ قصد نہ کردہ است رفض را اصلاً (149)

یعنی، یہ اختلاف بھی اُس وقت ہے جب اُس شخص نے (اِن ممنوعات کے ارتکاب میں ) احرام توڑنے کی نیت کی ہو اور اپنی جہالت سے سمجھ لیا ہو کہ اِس نیت سے وہ احرام سے نکل گیا، لیکن اگر کوئی یہ جانتا ہے کہ میں اِس نیت کر لینے سے احرام سے نہیں نکلا ہوں تو ایسے شخص سے احرام توڑنے کی نیت معتبر نہیں ہو گی۔ اِس پر ہمارے اور امام شافعی کے نزدیک بالاتفاق ہر جنایت پر علیحدہ جزاء واجب ہو گی جیسا کہ باتفاق احناف و شوافع اُس شخص پر (جزائیں ) متعدد ہوں گی جس نے احرام توڑنے کی سرے سے نیت ہی نہ کی ہو۔ لہٰذا مذکور شخص اگر یہ جانتا تھا کہ میں اِس طرح سے احرام سے نہیں نکلوں گا یا اُسے یہ بتایا گیا تھا تو دیکھنا ہو گا کہ سعی عمرہ کے بعد اُس نے کن کن ممنوعاتِ احرام کا ارتکاب کیا ہے تو جتنی اُس نے جنایتیں کی ہوں گی تو اُن جنایتوں کے مطابق اتنی ہی جزاؤں کا حکم دیا جائے گا۔ اور یاد رہے کہ مذکورہ مسئلہ میں اُسے حلق یا قصر بہر صورت کروانا ہو گا اگرچہ کتنا عرصہ کیوں نہ گزر گیا ہولیکن اگر حلق خارج حدودِ حرم کرائے گا توایک اور دم لازم ہوگا چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

اگر مُحرِم بعد از احرام قصد کرد رفضِ احرام را پس ارتکاب کردن گرفت محظوراتِ احرام را چنانکہ ارتکاب کند آنہا را شخص غیر مُحرِم از بس مخیط و تطیب و حلق و جماع و قتلِ صید و امثال آن، پس بیرون نمی آید این شخص بارتکاب این چیزہا از احرام بالاجماع (150)

یعنی، اگر محرم نے احرام توڑنے کا ارادہ کر لیا اور اُس نے اِس ارادے سے ایسے ممنوعات احرام کا ارتکاب کرنا شروع کر دیا جیسے غیر محرم کرتا ہے جیسا کہ سلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، سر منڈوانا، جماع کرنا اور شکار کو قتل کرنا وغیرہا، تو اِن افعال کے کرنے کے باوجود وہ باجماع علماء کرام احرام سے نہ نکلے گا۔ اِس صورت میں دَم تو ایک لازم آیا مگر ارتکابِ حرام کی بنا پر لازم آنے والے گُناہ سے توبہ بھی لازم ہو گی۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الخمیس، 15 ربیع الثانی1431ھ، 1 إبریل2010 م 593-F

حوالہ جات

145۔ حیات القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دہم درکیفیت خروج از احرام، ص102

146۔ حیات القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دہم درکیفیت خروج از احرام، ص102

147۔ حلق کاوقت افراد والے کے لئے رمی کے بعد اور متمتع وقارن کے لئے قربانی کے بعد ہے ۔قارن اور متمتع پر جمرہ عقبہ کی رمی اور دم شکر کے ذبح ہونے کے بعد او رمفردبالحج پر جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد حلق واجب ہے نیز حج میں حلق بالتقصیر کاایامِ نحر میں ہونا واجب ہے ۔

148۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دہم درکیفیت خروج از احرام، ص103

149۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل دہم درکیفیت خروج از احرام، ص103۔104

150۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول، فصل دہم در بیان کیفیت خروج از احرام، تنبیہ حسن، ص103

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button