ARTICLESشرعی سوالات

حلق کے وقت خوشبو والے صابن یا شیمپو کا استعمال

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عمرہ یا حج کے وقت حلق کراتے وقت بالوں کو نرم کرنے کی غرض سے خوشبو والا شیمپو وغیرہ استعمال کر سکتا ہے یا نہیں اور اگر کر لے تو کیا حکم ہے ؟

(السائل : محمد سلیم بن احمد عبدالکریم، لبیک حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : حلق سے قبل خوشبودار شیمپو یا خوشبودار صابن استعمال کرنا ممنوع ہے اگرچہ حلق کے لئے بالوں کو نرم کرنے کی غرض سے ہو اور اگر استعمال کر لیتا ہے تو فقہاء عظام نے لزومِ دَم کا حکم فرمایا ہے ، قدیم زمانے میں جب خطمی جس میں ہلکی خوشبو ہوتی ہے بال وغیرہ دھونے کے لئے استعمال کی جاتی تھی تو فقہاء کرام نے لکھا کہ اگر کوئی شخص حلق سے قبل خطمی سے سر کو دھو لے تو اس پر دَم لازم ہو گا کیونکہ حلق سے قبل وہ احرام میں ہے اور حالتِ احرام میں خوشبو کا استعمال ممنوع ہے ، چنانچہ مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

و فی ’’المحیط‘‘ أبیح لہ التحلّل فغسل رأسہ بالخطمی و قلم أظفارہ فعلیہ دَم لأن الإحرام باقٍ فی حقّہ لأنہ لا یتحلّل إلا بالحلق (204)

یعنی، ’’محیط‘‘ میں ہے اس کے لئے احرام سے نکلنا مباح ہو گیا تو اس نے اپنے سر کو خطمی کے ساتھ دھویا اور ناخن تراشے تو اس پر دَم لازم ہے کیونکہ اس کے حق میں اِحرام باقی ہے اس لئے کہ وہ حلق (یا تقصیر) سے ہی احرام سے نکلے گا۔ اور ’’’فتح القدیر‘‘ (205)سے نقل کرتے ہیں :

و لو غسل رأسہ بالخطمی بعد الرّمی قبل الحلق یلزمہ دَم علی قول أبی حنیفۃ علی الأصح، لأنہ إحرامہ باقٍ لا یزول إلا بالحلق

و الحاصل أن قول أبی حنیفۃ ہذا ہو الأصح، بل قال الجصاص لا أعرف فیہ خلافاً، و الصحیح أنہ یلزمہ الدّم لأن الحلق و التقصیر واجب فلا یقع التحلّل إلا بأحدہما، و لم یوجد فکان إحرامہ باقیاً، فإذا غسل رأسہ بالخطمی فقد أزال التّفث فی حال قیام الإحرام فیلزمہ الدّم و ممّا یؤیّدہ أن ہذا الأختلاف فی الحاجّ وأن المعتمر لا یحلّ لہ قبل الحلق شیٔ الخ (206)

یعنی، اگر رمی کے بعد حلق سے قبل اپنے سر کو خِطمی سے دھویا تو امام اعظم ابو حنیفہ کے اصح قول کے مطابق اُسے دَم لازم ہو جائے گا، کیونکہ اس کا احرام باقی ہے جو صرف حلق سے زائل ہو گا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ کا یہ قول ہی اصح ہے ، بلکہ امام ابو بکر جصّاص رازی حنفی نے فرمایا، میں اس مسئلہ میں کسی اختلاف کو نہیں جانتا، اور صحیح یہی ہے کہ اُسے دَم لازم ہو گا کیونکہ حلق او رتقصیر واجب ہے اور احرام سے تحلّل (یعنی باہر نکلنا) دونوں (یعنی حلق و تقصیر) میں سے ایک کے ساتھ ہی واقع ہوتا ہے اور وہ (یعنی تحلُّل) پایا نہیں گیا تو اس کا احرام (ابھی) باقی ہے ، پس جب اس نے خِطمی سے اپنے سر کو دھویا تو اس نے احرام کی حالت میں میل کُچیل کو دُور کیا، پس اس پر دَم لازم ہو گا (یاد رہے اگر وہ بغیر خوشبو کے کسی چیز سے سر کو دھو کر میل کُچیل کو زائل کرتا تو صرف مکروہ تنزیہی ہوتا کہ جس پر دَم لازم نہ آتا کُتُبِ فقہ میں اسی طرح ہے )۔ اور جس سے اس کی تائید ہوتی ہے وہ یہ کہ اختلاف حاجی میں ہے کیونکہ معتمر کو حلق (یا تقصیر) سے قبل کوئی چیز حلال نہیں (عبارت کا ترجمہ مکمل ہوا)۔ چنانچہ مفتی عبدالواحد (مصنّف فتاویٰ یورپ) لکھتے ہیں : حلق یا تقصیر کے وقت خوشبود ار صابن سر پر لگانا جائز نہیں (207) خِطمی سے سر دھونے پر دَم کا حکم خِطمی میں موجود خوشبو کی وجہ سے ہے ورنہ اگر ایسی خطمی سے سر دھویا ہو کہ جس میں خوشبو نہیں ہوتی تو لزوم دَم کا حکم نہیں لگایا جائے گا جیسے عراقی خطمی خوشبودار ہوتی ہے اور شامی خطمی بے خوشبو تو عراقی خطمی سر دھونے میں امام اعظم نے دَم کا حکم صادر فرمایا اور شامی خطمی سے سر دھونے میں امام ابو یوسف اور امام محمد نے دَم کا حکم نہیں لگایا چنانچہ امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن الھمام حنفی متوفی 861ھ نے امام اعظم اور صاحبین علیہم الرحمہ کے اس میں بظاہر اختلاف کو اس طرح بیان فرمایا :

قیل قول أبی حنیفۃ فی خطمی العراقی و لہ رائحۃ، و قولہما فی خطمی الشام و لا رائحۃ لہ فلا خلاف (208)

یعنی، کہا گیا کہ امام ابو حنیفہ کا قول عراقی خطمی کے بارے میں ہے کہ جو خوشبودار ہوتی ہے اور صاحبین کا قول شامی خطمی کے بارے میں ہے کہ جو بے خوشبو ہوتی ہے ، لہٰذا (امام اعظم اور صاحبین کے مابین اس مسئلہ میں ) کوئی اختلاف نہیں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ خوشبودار شیٔ یا سر یا جسم کے کسی اور حصے کو دھونے میں دَم لازم ہونے پر اتفاق ہے ، اسی سے علماء کرام اس صورت میں دَم کا حکم بتاتے ہیں ۔ اور خوشبو والے صابن یا شیمپو یا کسی اور خوشبودار چیز کا استعمال کہ اس سے سر، داڑھی وغیرھما کو دھوئے تو دَم لازم آتا ہے کیونکہ اس کا استعمال ممنوعاتِ احرام میں سے ہے یا یہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جس کا استعمال حالتِ احرام میں حرام ہے جیسا کہ صدر الشریعہ محمد امجد علی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : وہ باتیں جو احرام میں حرام ہیں (کئی اُمور ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں ) سر یا داڑھی کو خطمی یا کسی خوشبودار چیز سے دھونا الخ ملخصاً (209) اور مندرجہ بالا عبارت فقہاء سے یہ بھی واضح ہو تا ہے کہ حلق کے لئے بے خوشبو کے صابن یا شیمپو کے استعمال سے بھی بچا جائے کہ حالتِ احرام میں ہے اور صابن بے خوشبو وغیرہ میل کو دُور کرنے والی چیز ہے اور حالتِ احرام میں میل چھڑانا مکروہاتِ احرام سے ہے اگرچہ مکروہ تنزیہی ہے ۔ اور اگر کر بھی لے تو میل چھڑانے کی نیت ہرگز نہ کرے بلکہ حلق کے لئے بالوں کو نرم کرنے کی نیت کرے ، بہتر تو یہی ہے کہ بالوں کو نرم کرنے کی ضرورت نیم گرم پانی کے استعمال سے پوری کر لی جائے تاکہ کراہت تنزیہی کے ارتکاب سے بچ جائے کہ اس وقت صابن وغیرہ بے خوشبو کا استعمال حالتِ احرام میں استعمال کہلاتا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا تصریحات سے واضح ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، ذی الحجۃ 1428ھ، 14دیسمبر 2007 م (New 16-F)

حوالہ جات

204۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب مناسک منٰی، فصل فی الحلق و التقصیر، ص322

205۔ فتح القدیر،کتاب الحج، باب الإحرام، تحت قولہ : و لنا أن ما یکون الخ، 3/388

206۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب مناسک منیٰ، فصل فی الحلق و التقصیر، ص322

207۔ حج کے مسائل مع زیارات حرمین، حلق و تقصیر کے مسائل، ص88

208۔ فتح القدیر، باب الجنایات، تحت قولہ : ہذا إذا استعملہ،2/442

209۔ بہار شریعت، حج کابیان، احرام کا بیان، وہ باتیں جو احرام میں حرام ہیں ،1/1079

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button