ARTICLES

حلق کے دوران کریم استعمال کرنے کا شرعی حکم

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرہ کے بعد حلق کے لئے نائی نے کریم استعمال کی تو اس صورت میں کیا لازم ائیگا؟ (c/oمفتی عبد الرحمن،عزیزیہ،مکہ مکرمہ)

جواب

متعلقہ مضامین

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں دیکھا جائے گاکہ اس کریم میں خوشبو تھی یا کراہت والی بوتھی یا نہ خوشبو تھی اور نہ ہی کراہت والی بو،اور اس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ خوشبو کسے کہتے ہیں تو خوشبو ایسی مہک کو کہتے ہیں کہ جوکراہت سے خالی ہونے کے ساتھ رغبت دلانے والی ہواورعقل والے اسے خوشبو میں شمار کرتے ہوں ۔ چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161ھ اور علماء ہند کی جماعت نے ’’سراج الوھاج ‘‘کے حوالے سے لکھا : الطیب کل شیء لہ رائحۃ مستلذۃ ویعدہ العقلاء طیبا کذا فی ’’السراج الوہاج‘‘۔(144) یعنی،خوشبو ہر وہ شے ہے جس کی مہک لذت دلانے والی ہو اور عقلاء اسے خوشبو شمار کرتے ہوں اسی طرح’’ سراج الوھاج‘‘ میں ہے ۔ اس لئے کریم میں اگرکراہت والی بو تھی یاکچھ نہ تھا تو لگانے والے پرکچھ لازم نہ ہوگا کیونکہ خوشبو کا استعمال نہیں پایا گیا ہاں اگر اس میں خوشبو موجودتھی تو پھر یہ خوشبودو حال سے خالی نہ ہوگی یا تو وہ اگ میں پکائی ہوئی ہوگی یا نہیں پہلی صورت میں اس پرکچھ لازم نہ ہوگا کیونکہ جب کسی شے کو اگ میں ڈال کر پکا لیا جائے تو اس پر خوشبو کا حکم نہیں لگے گا اوردوسری صورت میں اگر خوشبو ملنے والی چیز سے زائد ہو تو غلبہ کا حکم ہوگا اگر چہ خوشبو ظاہر نہ ہو اور اگر خوشبوملنے والی چیز سے زائد نہ ہو تو پھر غلبہ کا حکم نہ ہوگا اور یہ بات واضح رہے کہ غلبہ ہونے کی صورت میں دم لازم ہوگا ورنہ دم لازم نہ ہوگابلکہ صدقہ کی ادائیگی واجب ہوگی۔ چنانچہ علامہ سید محمد ابن عابدین شامی متوفی1252ھ لکھتے ہیں : اعلم ان خلط الطیب بغیرہ علی وجوہٍ؛ لانہ اما ان یخلط بطعامٍ مطبوخٍ او لا ففی الاول لا حکم للطیب سواء کان غالبا ام مغلوبا، وفی الثانی الحکم للغلبۃ : ان غلب الطیب وجب الدم، وان لم تظہر رائحتہ کما فی ’’الفتح‘‘، والا فلا شیء علیہ غیر انہ اذا وجدت معہ الرائحۃ کرہ، وان خلط بمشروب فالحکم فیہ للطیب سواء غلب غیرہ ام لا غیر انہ فی غلبۃ الطیب یجب الدم، وفی غلبۃ الغیر تجب الصدقۃ الا ان یشرب مرارا فیجب الدم۔(145) یعنی، جان لو کہ بے شک خوشبو کا ملنااس کے غیر کے ساتھ چند وجوہات پر ہے کیونکہ یا تو اسے پکے ہوئے کھانے کے ساتھ ملایا گیا ہوگا(یعنی اسے کھانے میں ڈال کر پکایا گیا ہوگا) یا نہیں پس پہلی صورت میں خوشبو کاحکم نہیں ہے چاہے خوشبو غالب ہویا مغلوب اور دوسری صورت میں (یعنی اگر کھانے میں ڈال کر پکایا نہ گیا ہو)اگر خوشبو غالب ہو تو غلبہ کا حکم ہے اور (اس صورت میں )دم واجب ہوگااگر چہ اس کی خوشبو ظاہرنہ ہوجیسا کہ’’ فتح القدیر‘‘میں ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس پر کچھ لازم نہیں علاوہ اس کے کہ جب اس کے ساتھ خوشبو پائی جائے تو مکروہ ہے اور اگر کسی نے پینے والی چیزوں میں خوشبو ملائی تو اس میں خوشبو کا حکم ہے چاہے اس کا غیر غالب ہویا نہیں سوائے اس کے کہ خوشبو کے غالب ہونے میں دم واجب ہوگا اور غلبہ نہ ہونے میں صدقہ واجب ہوگا مگریہ کہ وہ بار بار پیئے (تین بار یا اس سے زائد)تو دم واجب ہوگا۔ بہرحال معتمریا حاجی کو چاہیے کہ وہ نائی کو پہلے سے پوچھ لے ، اگرکریم یا صابن میں خوشبو کی امیزش ہوتواس پر لازم ہے کہ وہ نائی کو اس فعل سے باز رکھے بشرطیکہ اس میں موجود خوشبو پر شرعی اعتبار سے خوشبو کا اطلاق ہوتا ہو،باقی نائی حضرات کو بھی اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں ان کے ہاتھوں سے ایک ممنوع کام نہ ہوجائے ۔اور عا م طورپرمکہ مکرمہ میں نائی حضرات جو صابن یا شیمپو یا کریم استعمال کرتے ہیں ان میں خوشبو نہیں ہوتی۔ واللٰہ تعالیٰ ااعلم بالصواب یوم الجمعۃ،19رمضان1440ھ۔24مئی 2019م FU-86

حوالہ جات

(144) الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک ،الباب الثامن فی الجنایات،الفصل الاول : فیما یجب بالتطیب والتدھن،1/240

(145) رد المحتار،کتاب الحج،باب الجنایات،تحت قولہ : ولوجعلہ،3/656

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button