ARTICLESشرعی سوالات

حلق میں سر کے کچھ بال رہ جانے کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے جو کہ متمتع ہے مسجد عائشہ جا کر عمرہ کا احرام باندھا اور آ کر عمرہ مکمل کیا پھر حلق کروایا بال چھوٹے اور سخت ہونے کی وجہ سے پورے سر کا حلق نہ کروا سکا کہ تین حصے سے زیادہ کا حلق ہو گیا اور چوتھائی سے کم کا رہ گیا اس طرح اس نے سلے ہوئے کپڑے پہن لئے ، پوچھنا یہ ہے کہ اس کا حلق درست ہوا یا نہیں ؟

(السائل : محمد ریحان بن ابو بکر، لبیک حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : حلق یا تقصیر حج و عمرہ کے واجبات سے ہے اور پورے سر کا حلق مسنون ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی لکھتے ہیں :

و السنّۃ حلق جمیع الرأس أو تقصیر جمیعہ و إن اقتصر علی الربع جاز مع الکراہۃ (210)

یعنی، سنّتِ حلق پورا سر ہے یا پورے سر کی تقصیر ہے اور اگر چوتھائی سر پر اکتفاء کیا تو کراہت کے ساتھ جائز ہے ۔ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

فإن السُّنَّۃ حلقُ جمیعِ الرَّأسِ أو تقصیرُ جمیعِہ کما فی ’’شرح اللباب‘‘ (کما مرّ آنفاً) و ’’القہستانی‘‘ (211)

یعنی، پس بے شک سنّت پورے سر کا حلق یا پورے سر کی تقصیر ہے جیسا کہ ’’شرح اللباب‘‘ اور ’’قہستانی‘‘ میں ہے ۔ اور علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

و حلْقُہُ الکُلَّ أفضلُ (212)

اور اس کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں :

أی : ہو مسنونٌ، ہذا فی حقِّ الرَّجُل (213)

یعنی، کل سر کا حلق افضل ہے یعنی مسنون ہے اور یہ مرد کے حق میں ہے ۔ اور لکھتے ہیں :

و أشار إلی أنّہ لو اقتصَرَ علی حلق الرُّبع جازَ کما فی التقصیر، لکن مع الکراہۃ لترکِہِ السُّنَّۃ (214)

یعنی، اور اس طرف اشارہ فرمایا کہ اگر چوتھائی سر کے حلق پر اکتفاء کیا تو جائز ہے لیکن ترکِ سنّت کی وجہ سے کراہت کے ساتھ (جائز ہے )۔ ثابت ہوا کہ پورے سر کا حلق سنّت ہے اور چوتھائی سر کا حلق واجب ہے اور اگر کسی نے چوتھائی سر کے حلق پر اکتفا کیا تو اس نے سنّت کو ترک کر دیا اور فقہاء کرام نے اسے مکروہات میں شمار کیا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں ہے اور علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبداللہ بن قاضی ابراہیم سندھی مکروہاتِ حج کے بیان میں لکھتے ہیں : و الاقتصار علی حلق الرُّبع عند التحلُّل اور اس کے تحت مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

أی عند خروجہ من إحرام الحجّ أو العمرۃ (215)

یعنی، احرام سے تحلّل کے وقت چوتھائی سر منڈوانے پر اکتفاء کرنا مکروہ ہے یعنی حج و عمرہ کے احرام سے باہر نکلتے وقت۔ اور یہاں کراہت سنّت کے مقابلے میں ہے اس لئے کراہت تنزیہیہ ہو گی جس کے بلا عُذر اِرتکاب پر اسائت لازم آئے گی اور بلا عذر ترکِ سنّت محرومیوں کا سبب ہے اس لئے ترکِ سنّت سے اجتناب ضروری ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

حکم مکروہات آن است کہ ناقص شود ثواب عملی کہ واقع گردد دروی فعل مکروہ و لازم آید خوفِ عتاب در ترکِ سنّت مؤکّدہ و خوف عذاب در ترکِ واجب و لازم نباشد چیزے از دم یا صدقہ در فعل امرے مکروہ مگر آنکہ لازم آید دروے ترکِ واجب آنگاہ جزاء لازم گردد (216)

یعنی، مکروہات کا حکم یہ ہے کہ جس عمل میں مکروہ فعل واقع ہو اس عمل کا ثواب ناقص ہو جاتا ہے ، اور سنّت مؤکّدہ کے ترک پر خوفِ عتاب لازم آتا ہے اور ترکِ واجب پر خوفِ عذاب، اور کسی مکروہ کام کے کرنے پر کوئی چیز دَم یا صدقہ لازم نہیں آتا مگر یہ کہ اس سے ترکِ واجب لازم آتا ہو تو اس وقت جزاء (دَم یا صدقہ) لازم ہو گا۔ لہٰذا صورت مسؤلہ میں حلق درست ہو گیا کہ اس پر کوئی جزاء لازم نہیں ہوئی۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت،7ذی الحجۃ 1428ھ، 15دیسمبر 2007 م (New 17-F)

حوالہ جات

210۔ لُباب المناسک، باب مناسک منی، فصل فی الحلق و التقصیر، ص153

211۔ جامع الرّموز، کتاب الحج، 1/249

212۔ الدّرّ المختار، کتاب الحج، مع قولہ : حلقہ أفصل، ص163

213۔ ردالمحتار، کتاب الحج، مطلب : فی رمی جمرۃ العقبۃ، تحت قول التنویر : وحلقہ أفضل، 3/612

214۔ ردالمحتار، کتاب الحج، مطلب : فی رمی جمرۃ العقبۃ، تحت قول التنویر : وحلقہ أفضل، 3/612

215۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب فرائض الحج، فصل فی مکروہاتہ، ص107

216۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالہ، فصل سیوم دربیان فرائض وواجبات الخ، اما مکروہات حج، ص50

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button