ARTICLES

حلق /تقصیرکروائے بغیر30سے 40عمرہ کرنے کاحکم؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مختلف اوقات میں مدینہ منورہ سے مکہ شریف اکرعمرہ کرتاتھااورحلق و تقصیر کیے بغیرہی مدینہ شریف چلے اتاتھا،یہ عمل اس نے 30سے 40بار کیاہوگا پھر اسے معلوم ہواکہ احرام سے نکلنے کے لئے حلق یاتقصیرضروری ہے ،برائے کرم اپ اس بات کی وضاحت کردیں کہ ایسے شخص پرکیالازم ہوگا؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں مذکورشخص نے جتنی تعدادمیں احرام جمع کیے ہیں ،اتنی ہی تعدادکے مطابق اس پردم لازم ہوں گے ، کیونکہ جس شخص کااحرام عمرہ سے باہراناحلق یاتقصیرپرموقوف ہو،اوروہ اسی حالت میں دوسرا”احرام”باندھ لے تواس پردواحرام جمع کرنے کے سبب دم لازم ہوتا ہے ۔ چنانچہ علامہ برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکرمرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے : ومن فرغ من عمرته الا التقصير فاحرم باخرى فعليه دم لاحرامه قبل الوقت؛لانه جمع بين احرامي العمرة وهذا مكروه فيلزمه الدم وهو دم جبرٍ وكفارةٍ۔( ) یعنی،جواپنے عمرہ سے تقصیرکے علاوہ فارغ ہوجائے ،پھروہ دوسرا احرام باندھ لے تواس پروقت سے پہلے احرام باندھنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا،کیونکہ اس نے عمرہ کے دو احراموں کو جمع کیاہے اور یہ مکروہ ہے ،پس اس پردم لازم ہوگااوریہ جبرو کفارہ کادم ہے ۔ اورحلق یاتقصیرکے بغیرمتعدد”احرام”جمع کرنے کے درمیان ظاہر ہے اس نے ممنوعات احرام کابھی ارتکاب کیاہوگا،مثلا : خوشبو لگائی ہوگی، سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوں گے ،چہرہ یاسرچھپایاہوگاوغیرہ،یونہی اخری باراحرام جمع کرنے کے بعدسے لے کراب تک،لہذامذکورشخص سے حلق یاتقصیرکروالینے تک جتنے بھی جرم سرزدہوئے ہیں یاہوں گے ،اتنی ہی جزائیں اس پرلازم ہوں گی۔ چنانچہ شیخ الاسلام مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی1174ھ لکھتے ہیں : اگرحلق وقصرننمودبیرون نیایداز احرام اگرچہ بگذرندبروے سالہای بسیاروہرباری کہ ارتکاب کندمحظورے را لازم می شودبروے بروے جزای علیحدہ۔( ) یعنی،اگرکسی نے نہ حلق کیااورنہ ہی قصرکروایا،تواحرام سے باہرنہیں نکلے گا،اگرچہ بہت زیادہ سال گزرجائیں ،اوراس درمیان جب بھی وہ ممنوع احرام کا مرتکب ہوگاتواس پر علیحدہ جزا لازم ہوگی۔ اورحج اورعمرہ کے احرام سے نکلنے کے لئے حلق کے وقت میں چوتھائی سرکاحلق یاچوتھائی سرکی تقصیرشرط ہے ۔ چنانچہ مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی لکھتے ہیں : شرط خروج از احرام حج و عمرہ حلق ربع سریاقصرربع اوست دروقت حلق۔( ) یعنی،حج اورعمرہ کے احرام سے نکلنے کے لئے حلق کے وقت میں چوتھائی سرکاحلق یاچوتھائی سرکی تقصیرشرط ہے ۔ نیزعمرہ کی سعی کے بعدحلق یاتقصیرکے لئے بالاتفاق کوئی وقت خاص نہیں ہے ،بخلاف جگہ کے ،اوروہ سرزمین حرم ہے ۔ چنانچہ علامہ برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکرحنفی لکھتے ہیں : والتقصير والحلق في العمرة غير موقتٍ بالزمان بالاجماع… بخلاف المكان؛ لانه موقت به۔( ) یعنی،عمرہ میں حلق اورتقصیر زمانے کے ساتھ بالاجماع موقت نہیں ہے …. برخلاف مکان کے ،کیونکہ حلق وتقصیر جگہ کے ساتھ موقت ہے ۔ لہذامذکورشخص کواب بھی سرزمین حرم میں حلق
یاتقصیرکروانا لازم ہے ، اور جب وہ لوٹ کرحلق /تقصیرکروالے گایاخودہی کرلے گا،تواس پرحلق یا تقصیر کے اعتبار سے کچھ لازم نہ ہوگاکیونکہ حلق یاتقصیرکاوقوع”حرم” میں ہو جائے گا۔ چنانچہ علامہ برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر حنفی لکھتے ہیں : فان لم يقصر حتى رجع وقصر فلا شيء عليه في قولهم جميعًا معناه : اذا خرج المعتمر ثم عاد؛ لانه اتى به في مكان فلا يلزمه ضمانه۔( ) یعنی،پھراگراس نے تقصیرنہ کی تھی یہاں تک کہ لوٹ کراگیا اور قصرکیا، تواس پر کچھ لازم نہ ہوگا،تمام فقہاءکے قول کے مطابق،اس کامعنی یہ ہے کہ جب معتمرحرم سے نکل کرپھرلوٹ ایا،کیونکہ وہ اسے اپنی جگہ میں لے ایاہے (یعنی اس نے تقصیر وہاں کی جہاں کرنا اس پر لازم تھا)،پس اس پراس کاضمان لازم نہیں ہوگا۔ اگر مکہ شریف نہیں جاسکتا تو جہاں ہے وہیں حلق یا تقصیر کرا لے اس سے احرام کی پابندیاں تو ختم ہوجائیں گی لیکن خارج حرم حلق/تقصیر کا دم دینا لازم ائے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ مذکورشخص نے جتنی تعدادمیں احرام جمع کیے ہیں ،اتنی ہی تعدادکے مطابق اس پردم لازم ہوں گے ،نیزاب بھی اسے سرزمین حرم پر
حلق/تقصیرکروانالازم ہے ،اورحلق یاتقصیرکروالینے سے پہلے تک جتنے بھی جرم سرزد ہوئے ہیں یاہوں گے ،اتنی ہی جزائیں بھی اس پرلازم ہوں گی۔ اورتوبہ بہرصورت کرنی ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم جمعہ،جمادی
الاخری1441ھ۔7فروری2020م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button