بہار شریعت

حلال و حرام جانوروں کے متعلق مسائل

حلال و حرام جانوروں کے متعلق مسائل

حدیث ۱ :۔ ترمذی نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن کیلے والے درندہ سے اور پنجہ والے پرند سے اور گھریلو گدھے اور مجثمہ اور خلیسہ سے ممانعت فرمائی اور حاملہ عورت جب تک وضع حمل نہ کر لے اس کی وطی سے ممانعت فرمائی یعنی حاملہ لونڈی کا مالک ہوا یا زانیہ عورت حاملہ سے نکاح کیا تو جب تک وضع حمل نہ ہو اس سے وطی نہ کرے۔ مجثمہ یہ ہے کہ پرند یا کسی جانور کو باندھ کر اس پر تیر مارا جائے۔ خلیسہ یہ ہے کہ بھیڑیے یا کسی درندہ نے جانور پکڑا اس سے کسی نے چھین لیا اور ذبح سے پہلے وہ مرگیا۔

حدیث ۲ :۔ ابودائود و دارمی جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنین (پیٹ کے بچہ) کا ذبح اس کی ماں کے ذبح کی مثل ہے۔

متعلقہ مضامین

حدیث ۳ :۔ احمد و نسائی و دارمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قتل کیا اس سے اللہ تعالی قیامت کے دن سوال کرے گا عرض کیا گیا یارسول اللہ اس کا حق کیا ہے فرمایا کہ اس کا حق یہ ہے کہ ذبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سر کاٹے اور پھینک دے۔

حدیث ۴ :۔ ترمذی و ابودائود ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہتے ہیں جب نبی کریم ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اس زمانہ میں یہاں کے لوگ زندہ اونٹ کا کوہان کاٹ لیتے اور زندہ دنبہ کی چکی کاٹ لیتے حضور نے فرمایا زندہ جانور کا جو ٹکڑا کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے کھایا نہ جائے۔

حدیث ۵ :۔ دارقطنی جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دریا کے جانور (مچھلی) کو خدا نے حلال کر دیا ہے۔

حدیث ۶ :۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی انھوں نے حمار وحشی (گورخر) دیکھا اس کا شکار کیا حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں کا کچھ ہے عرض کی ہاں اس کی ران ہے اس کو حضور نے قبول فرمایا اور کھایا۔

حدیث ۷ :۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہتے ہیں ہم نے مرالظہران میں خرگوش بھگا کر پکڑا میں اس کو ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس لایا انھوں نے ذبح کیا اور اس کی پٹھ اور رانیں حضور کی خدمت میں بھیجیں حضور نے قبول فرمائیں ۔

حدیث ۸ :۔ صحیحین میں ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔

حدیث ۹ :۔ صحیحیں میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوے میں تھے ہم حضور کی موجودگی میں ٹڈی کھاتے تھے۔

حدیث ۱۰ :۔ صحیحین میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہتے ہیں میں جیش الخبط (٭ اس لشکر میں جب توشہ کی کمی ہوئی تو سب کے پاس جو کچھ تھا اکٹھا کر لیا گیا روزانہ فی کس ایک مٹھی کھجور ملتی جب اور کمی ہوئی تو روزانہ ایک کھجور ملتی جس کو صحاب کرام منہ میں رکھ کر کچھ چوس کر نکال لیتے اور رکھ لیتے پھر اوپر سے پانی پی لیتے اسی ایک کھجور کو چوس چوس کر ایک دن رات گزارتے اور شدت گرسنگی سے درختوں کے پتے جھاڑ کر کھاتے جس سے ان کے منہ چھل گئے اور زخمی ہوگئے اسی وجہ سے اس کا نام جیش الخبط ہے کہ خبط درختوں کے پتوں کو کہتے ہیں جو جھاڑ لئے جاتے ہیں ۔ اور پتوں کے کھانے کی وجہ سے اونٹ اور بکری کی مینگنی کی طرح ان کو اجابت ہوتی ۔خدا نے اپنا کرم کیا کہ ساحل پر ٹیلے برابر کی یہ عنبر مچھلی ان کو ملی جس کی آنکھوں کے حلقے سے مٹکے برابر چربی نکلی اس کو پندرہ دن تک یا ایک ماہ تک جیسا کہ دوسری روایت میں ہے ان حضرات نے کھایا۔ اس واقعہ کو مختصر طور پر بیان کرنے کا یہ مقصد بھی ہے کہ مسلمان دیکھیں اور غور کریں کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کیسی کیسی تکالیف برداشت کیں انھیں حضرات کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام اپنی کمال تابانی سے تمام عالم کو منور کر رہا ہے۔ ۱۲ منہ) میں گیا تھا اور امیر لشکر ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ تھے ہمیں بہت سخت بھوک لگی تھی دریا نے مری ہوئی ایک مچھلی پھینکی کہ ویسی مچھلی ہم نے نہیں دیکھی اس کا نام عنبر ہے ہم نے آدھے مہینے تک اسے کھایا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی ایک ہڈی کھڑی کی بعض روایت میں ہے پسلی کی ہڈی تھی اس کی کجی اتنی تھی کہ اس کے نیچے سے اونٹ مع سوار گزر گیا جب ہم واپس آئے تو حضور سے ذکر کیا فرمایا کھائو اللہ نے تمہارے لئے رزق بھیجا ہے اور تمہارے پاس ہو تو ہمیں بھی کھلائو ہم نے اس میں سے حضور کے پاس بھیجا حضور نے تناول فرمایا۔

حدیث ۱۱ ، ۱۲ :۔صحیح بخاری و مسلم میں ام شریک رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے وزغ (چھپکلی اور گرگٹ) کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے کافروں نے جو آگ جلائی تھی اسے یہ پھونکتا تھا اور صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے جو روایت ہے اس میں یہ بھی ہے کہ اس کا نام حضور نے فوسیق رکھا یعنی چھوٹا فاسق یا بڑا فاسق اس لفظ میں دونوں معنی کا احتمال ہے۔

حدیث ۱۳ :۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو چھپکلی یا گرگٹ کو پہلی ضرب میں مارے اس کے لئے سو نیکیاں اور دوسری میں اس سے کم اور تیسری میں اس سے بھی کم۔

حدیث ۱۴ :۔ ترمذی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے جلالہ اور اس کا دودھ کھانے سے منع فرمایا۔

حدیث ۱۵ :۔ ابودائود نے عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

حدیث ۱۶ :۔ ابودائود و ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ نے بلی کھانے سے اور اس کے ثمن کھانے سے منع فرمایا۔

حدیث ۱۷ :۔ امام احمد و ابن ماجہ و دارقطنی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دو مرے ہوئے جانور اور دو خون حلال ہیں ۔ دو مردے مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں ۔

حدیث ۱۸ :۔ ابودائود و ترمذی جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دریا نے جس مچھلی کو پھینک دیا ہو اور وہاں سے پانی جاتا رہا اسے کھائو اور جو پانی میں مر کر تیر جائے اسے نہ کھائو۔

حدیث ۱۹ :۔ شرح السنہ میں زید بن خالد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا۔ کیوں کہ وہ نماز کے لئے اذان کہتا ہے یا خبردار کرتا ہے اور ابودائود کی روایت میں ہے کہ وہ نماز کے لئے جگاتا ہے۔

تنبیہہ :۔ گوشت یا جو کچھ غذا کھائی جاتی ہے وہ جزو بدن ہو جاتی ہے اور اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور چونکہ بعض جانوروں میں مذموم صفات پائے جاتے ہیں ان جانوروں کے کھانے میں اندیشہ ہے کہ انسان بھی ان بری صفتوں کے ساتھ متصف ہو جائے لہذا انسان کو ان کے کھانے سے منع کیا گیا حلال و حرام جانوروں کی تفصیل دشوار ہے یہاں چند کلیات بیان کئے جاتے ہیں جن کے ذریعہ سے جزئیات جانے جاسکتے ہیں ۔

مسئلہ ۱ :۔ کیلے والا جانور جو کیلے سے شکار کرتا ہو حرام ہے جیسے شیر، گیدڑ، لومڑی، بجو، کتا وغیرہا کہ ان سب میں کیلے ہوتے ہیں اور شکار بھی کرتے ہیں ۔ اونٹ کے کیلا ہوتا ہے مگر وہ شکار نہیں کرتا لہذا وہ اس حکم میں داخل نہیں (درمختار)

مسئلہ ۲ :۔ پنجہ والا پرند جو پنجہ سے شکار کرتا ہے حرام ہے جیسے شکرا، باز، بہری، چیل۔ حشرات الارض حرام ہیں جیسے چوہا، چھپکلی، گرگٹ، گھونس، سانپ، بچھو، بر، مچھر، پسو، کٹھمل، مکھی، کلی، مینڈک وغیرہا (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۳ :۔ گھریلو گدھا اور خچر حرام ہے اور جنگلی گدھا جسے گورخر کہتے ہیں حلال ہے گھوڑے کے متعلق روایتیں مختلف ہیں یہ آلہ جہاد ہے اس کے کھانے میں تقلیل آلہ جہاد ہوتی ہے لہذا نہ کھایا جائے (درمختار وغیرہا)

مسئلہ ۴ :۔ کچھوا خشکی کا ہو یا پانی کا حرام ہے۔ غراب القبع یعنی کوا جو مردار کھاتا ہے حرام ہے۔ اور مہو کا کہ یہ بھی کوے سے ملتا جلتا ایک جانور ہوتا ہے حلال ہے (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۵ :۔ پانی کے جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے جو مچھلی پانی میں مر کر تیر گئی یعنی جو بغیر مارے اپنے آپ مر کر پانی کی سطح پر الٹ گئی وہ حرام ہے مچھلی کو مارا اور وہ مر کر الٹی تیرنے لگی یہ حرام نہیں (درمختار) ٹڈی بھی حلال ہے۔ مچھلی اور ٹڈی یہ دونوں بغیر ذبح حلال ہیں جیسا کہ حدیث میں فرمایا کہ دو مردے حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی

مسئلہ ۶ :۔ پانی کی گرمی یا سردی سے مچھلی مرگئی یا مچھلی کو ڈورے میں باندھ کر پانی میں ڈال دیا اور مرگئی یا جال میں پھنس کر مرگئی یا پانی میں کوئی ایسی چیز ڈال دی جس سے مچھلیاں مرگئیں اور یہ معلوم ہے کہ اس چیز کے ڈالنے سے مریں یا گھڑے یا گڑھے میں مچھلی پکڑ کر ڈال دی اور اس میں پانی تھوڑا تھا اس وجہ سے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے مرگئی ان سب صورتوں میں وہ مری ہوئی مچھلی حلال ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۷ :۔ جھینگے کے متعلق اختلاف ہے کہ یہ مچھلی ہے یا نہیں اسی بنا پر اس کی حلت و حرمت میں بھی اختلاف ہے بظاہر اس کی صورت مچھلی کی سی نہیں معلوم ہوتی بلکہ ایک قسم کا کیڑا معلوم ہوتا ہے لہذا اس سے بچنا ہی چاہئے۔

مسئلہ ۸ :۔ چھوٹی مچھلیاں بغیر شکم چاک کئے بھون لی گئیں ان کا کھانا حلال ہے (ردالمحتار)

مسئلہ ۹ :۔ مچھلی کا پیٹ چاک کیا اس میں موتی نکلا اگر یہ سیپ کے اندر ہے تو مچھلی والا اس کا مالک ہے۔ شکاری نے مچھلی بیچ ڈالی ہے تو وہ موتی مشتری کا ہے اور اگر موتی سیپ میں نہیں ہے تو مشتری شکاری کو دے دے اور یہ لقطہ ہے۔ اور مچھلی کے شکم میں انگوٹھی یا روپیہ یا اشرفی یا کوئی زیور ملا تو لقطہ ہے اگر یہ شخص خود محتاج و فقیر ہے تو اپنے صرف میں لاسکتا ہے ورنہ تصدق کر دے (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۰ :۔ بعض گائیں بکریاں غلیظ کھانے لگتی ہیں ان کو جلالہ کہتے ہیں اس کے بدن اور گوشت وغیرہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اس کو کئی دن تک باندھ رکھیں کہ نجاست نہ کھانے پائے جب بدبو جاتی رہے ذبح کر کے کھائیں اسی طرح جو مرغی غلیظ کھانے کی عادی ہو اسے چند روز بند رکھیں جب اثر جاتا رہے ذبح کر کے کھائیں ۔ جو مرغیاں چھوٹی پھرتی ہیں ان کو بند کرنا ضروری نہیں جب کہ غلیظ کھانے کی عادی نہ ہوں اور ان میں بدبو نہ ہو ہاں بہتر ہے کہ ان کو بھی بند رکھ کر ذبح کریں (عالمگیری،ردالمحتار)

مسئلہ ۱۱ :۔ بکرا جو خصی نہیں ہوتا وہ اکثر پیشاب پینے کا عادی ہوتا ہے اور اس میں ایسی سخت بدبو پیدا ہو جاتی ہے کہ جس راستہ سے گزرتا ہے وہ راستہ کچھ دیر کے لئے بدبودار ہو جاتا ہے اس کا بھی حکم وہی ہے جو جلالہ کا ہے کہ اگر اس کے گوشت سے بدبو دفع ہوگئی تو کھا سکتے ہیں ورنہ مکروہ و ممنوع۔

مسئلہ ۱۲ :۔ بکری کے بچہ کو کتیا کا دودھ پلاتا رہا اس کا بھی حکم جلالہ کا ہے کہ چند روز تک اسے باندھ کر چارہ کھلائیں کہ وہ اثر جاتا رہے (عالمگیری)

مسئلہ ۱۳ :۔ بکری سے کتے کی شکل کا بچہ پیدا ہوا اگر وہ بھونکتا ہے تو نہ کھایا جائے اور اگر اس کی آواز بکری کی طرح ہے کھایا جاسکتا ہے اور اگر دونوں طرح آواز دیتا ہے تو اس کے سامنے پانی رکھا جائے اگر زبان سے چاٹے کتا ہے اور منہ سے پئے تو بکری ہے اور اگر دونوں طرح پانی پئے تو اس کے سامنے گھاس اور گوشت دونوں چیزیں رکھیں گھاس کھائے تو بکری مگر اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا جائے کھایا نہ جائے اور گوشت کھائے تو کتا ہے اور اگر دونوں چیزیں کھائے تو اسے ذبح کر کے دیکھیں اس کے پیٹ میں معدہ ہے تو کھا سکتے ہیں اور نہ ہو تو نہ کھائیں (عالمگیری، درمختار)

مسئلہ ۱۴ :۔ جانور کو ذبح کیا وہ اٹھ کر بھاگا اور پانی میں گر کر مرگیا یا اونچی جگہ سے گر کر مرگیا اس کے کھانے میں حرج نہیں کہ اس کی موت ذبح ہی سے ہوئی پانی میں گرنے یا لڑھکنے کا اعتبار نہیں (عالمگیری)

مسئلہ ۱۵ :۔ زندہ جانور سے اگر کوئی ٹکڑا کاٹ کر جدا کر لیا گیا مثلاً دنبہ کی چکی کاٹ لی یا اونٹ کا کوہان کاٹ لیا یا کسی جانور کا پیٹ پھاڑ کر اس کی کلیجی نکال لی یہ ٹکڑا حرام ہے۔ جدا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ گوشت سے جدا ہوگیا اگرچہ ابھی چمڑا لگا ہوا ہو اور اگر گوشت سے اس کا تعلق باقی ہے تو مردار نہیں یعنی اس کے بعد اگر جانور کو ذبح کر لیا تو یہ ٹکڑا بھی کھایا جاسکتا ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۶ :۔ جانور کو ذبح کر لیا ہے مگر ابھی اس میں حیاۃ باقی ہے اس کا کوئی ٹکڑا کاٹ لیا یہ حرام نہیں کہ ذبح کے بعد اس جانور کا زندوں میں شمار نہیں اگرچہ جب تک جانور ذبح کے بعد ٹھنڈا نہ ہو جائے اس کا کوئی عضو کاٹنا مکروہ ہے (درمختار)

مسئلہ ۱۷ :۔ شکار پر تیر چلایا اس کا کوئی ٹکڑا کٹ کر جدا ہوگیا اگر وہ ایسا عضو ہے کہ بغیر اس کے جانور زندہ رہ سکتا ہے تو اس کا کھانا حرام ہے اور اگر بغیر اس کے زندہ نہیں رہ سکتا مثلاً سر جدا ہوگیا تو سر بھی کھایا جائے گا اور وہ جانور بھی (عالمگیری)

مسئلہ ۱۸ :۔ زندہ مچھلی میں سے ایک ٹکڑا کاٹ لیا یہ حلال ہے اور اس کاٹنے سے اگر مچھلی پانی میں مرگئی تو وہ بھی حلال ہے (ہدایہ)

مسئلہ ۱۹ :۔ کسی نے دوسرے سے اپنے جانور کے متعلق کہا اسے ذبح کر دو اس نے اس وقت ذبح نہیں کیا مالک نے وہ جانور کسی کے ہاتھ بیچ ڈالا اب اس نے ذبح کر دیا اس کو تاوان دینا ہوگا اور جس نے اس سے ذبح کرنے کو کہا تھا تاوان کی رقم اس سے واپس نہیں لے سکتا ذبح کرنے والے کو بیع کا علم ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں کا ایک ہی حکم ہے (عالمگیری)

مسئلہ ۲۰ :۔ جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ذبح شرعی سے ان کا گوشت اور چربی اور چمڑا پاک ہو جاتا ہے مگر خنزیر کہ اس کا ہر جز نجس ہے اور آدمی اگرچہ طاہر ہے اس کا استعمال ناجائز ہے (درمختار) ان جانوروں میں چربی وغیرہ کو اگر کھانے کے سوا خارجی طور پر استعمال کرنا چاہیں تو ذبح کر لیں کہ اس صورت میں اس کے استعمال سے بدن یا کپڑا نجس نہیں ہوگا اور نجاست کے استعمال کی قباحت سے بھی بچنا ہوگا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button