بہار شریعت

حقوق الزوجین

حقوق الزوجین

آج کل عام شکایت ہے کہ زن و شوہر میں نااتفاقی ہے۔ مرد کوعورت کی شکایت ہے تو عورت کی مرد کی۔ ہر ایک دوسرے کے لئے بلائے جان ہے اور جب اتفاق نہ ہو تو زندگی تلخ اور نتائج نہایت خراب۔ آپس کی نااتفاقی علاوہ دنیا کی خرابی کے دین بھی برباد کرنے والی ہوتی ہے اور اس نااتفاقی کا اثر بد ا نہیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اولاد پر بھی ا ثر پڑتا ہے اولاد کے دل میں نہ باپ کا ادب رہتا ہے نہ ماں کی عزت اس نا اتفاقی کا بڑا سبب یہ ہے کہ طرفین میں ہر ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ نہیں رکھتے اور باہم رواداری سے کام نہیں لیتے مرد چاہتا ہے کہ عورت کو باندی سے بدتر کر کے رکھے اور عورت چاہتی ہے کہ مرد میرا غلام رہے جومیں چاہوں وہ ہو،چائے کچھ ہو جائے مگر بات میں فرق نہ آئے ، جب ایسے خیالات فاسدہ طرفین میں پیدا ہوں گے تو کیونکر نبھ سکے گی۔ دن رات کی لڑائی اور ہر ایک کے اخلاق و عادات میں برائی اور گھر کی بربادی اسی کا نتیجہ ہے۔ قرآن مجید میں جس طرح یہ حکم آیا کہ الرجال قوامون علی النسآئ جس سے مردوں کی بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا کہ و عاشروھن بالمعروف ط جس کا صاف یہ مطلب ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھی معاشرت کرو۔ اس موقع پر ہم بعض حدیثیں ذکر کریں گے جن سے ہر ایک کے حقوق کی معرفت حاصل ہو۔ مگر مرد کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس کے ذمہ عورت کے کیا حقوق ہیں انہیں ادا کرے اور عورت شوہر کے حقوق دیکھے اور پورے کرے یہ نہ ہو کہ ہر ایک اپنے حقوق کا مطالبہ کرے اور دوسرے کے حقوق سے سروکار نہ رکھے اور یہی فساد کی جڑہے۔ اور یہ بہت ضروری ہے کہ ہر ایک دوسرے کی بیجا باتوں کا تحمل کرے۔ اور اگر کسی موقع پر دوسری طرف سے زیادتی ہو تو آمادہ بفساد نہ ہو کہ ایسی جگہ ضد پیدا ہو جاتی ہے اور سلجھی ہوئی بات الجھ جاتی ہے۔

حدیث ۱: حاکم نے امیر المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت پر سب آدمیوں سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر اس کی ماں کا۔

حدیث ۲تا۵: نسائی ابوہریرہ سے اور امام احمد معاذ سے اور حاکم بریدہ رضی اللہ تعالی عنہم سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ اگر میں کسی شخص کوکسی مخلوق کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ اسی کے مثل ابودائود اور حاکم کی روایت قیس بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے۔ اس میں سجدہ کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اللہ تعالی نے مردوں کا حق عورتوں کے ذمہ کر دیا ہے۔

حدیث ۶: امام احمد و ابن ماجہ و ابن حبان عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں ﷺ اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ غیر خدا کے لئے سجدہ کرے تو حکم دیتا کہ عورت اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں محمد (ﷺ) کی جان ہے عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہ کر ے گی جب تک شوہر کے کل حق ادا نہ کرے۔

حدیث ۷: امام احمد انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی فرماتے ہیں ﷺ اگر آدمی کا آدمی کے لئے سجدہ کرنا درست ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کہ اس کے ذمہ اس کا بہت بڑا حق ہے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں جان ہے اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں جن سے پیب اور کچ لہو بہتا ہو پھر عورت اسے چاٹے تو حق شوہر ادانہ کیا۔

حدیث ۸: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ۔ شوہر نے عورت کو بلایااس نے انکار کر دیا اور غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے رہتے ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ جب تک شوہر اس سے راضی نہ ہو اللہ عزوجل اس عورت سے ناراض رہتا ہے۔

حدیث ۹: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورعین کہتی ہیں خدا تجھے قتل کرے اسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔

حدیث ۱۰: طبرانی معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت ایمان کا مزہ نہ پائے گی جب تک حق شوہر ادا نہ کرے۔

حدیث ۱۱: طبرانی میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی کہ فرمایا جو عورت خدا کی اطاعت کرے اور شوہر کا حق ادا کرے اور اسے نیک کام کی یاد دلائے اور اپنی عصمت اور اس کے مال میں خیانت نہ کرے تو اس کے اور شہیدوں کے درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہو گا پھر اس شوہر باایمان نیک خو ہے تو جنت میں وہ اس کی بی بی ہے ورنہ شہداء میں سے کوئی اس کا شوہر ہو گا۔

حدیث ۱۲: ابودائود طیالسی و ابن عساکر ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شوہر کا حق عورت پر یہ ہے کہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اور سوا فرض کے کسی دن بغیر اس کی اجازت کے روزہ نہ رکھے۔ اگر ایساکیا یعنی بغیر اجازت روزہ رکھ لیا تو گنہگار ہوئی اور بدون اجازت اس کا کوئی عمل مقبول نہیں اگر عورت نے کر لیا تو شوہر کو ثواب ہے اور عورت پر گناہ۔ اور بغیر اجازت اس کے گھر سے نہ جائے۔ اگر ایسا کیا تو جب تک توبہ نہ کرے اللہ اور فرشے اس پر لعنت کرتے ہیں عرض کی گئی اگرچہ شوہر ظالم ہو فرمایا اگرچہ ظالم ہو۔

حدیث ۱۳: طبرانی تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت پر شوہر کا حق ہے کہ اس کے بچھونے کو نہ چھوڑے اور اسکی قسم کو سچا کرے اور بغیر اجازت کے باہر نہ جائے اور ایسے شخص کو مکان میں نہ آنے دے جس کا آنا شوہر کو پسند نہ ہو۔

حدیث ۱۴: ابونعیم علی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرمایا اے عورتو ! خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی میں خوش رہو اس لئے عورت کو اگر معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو جب تک اس کے پاس کھانا حاضر رہتا یہ کھڑی رہتی۔

حدیث ۱۵: ابونعیم حلیہ میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے۔ اور ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفت کی محافظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔

حدیث ۱۶: ترمذی ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت اس حال میں مری کہ شوہر راضی تھا وہ جنت میں داخل ہو گئی۔

حدیث ۱۷: بیہقی شعب الایمان میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین شخص ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی نیکی بلند نہیں ہوتی۔ (۱) بھاگا ہوا غلام جب تک اپنے آقائوں کے پاس لوٹ نہ آئے اور اپنے کو ان کے قابو میں نہ دے دے۔ (۲) وہ عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہے اور (۳) نشہ والا جب تک ہوش میں نہ آئے ۔

یہ چند حدیثیں حقوق شوہر کی ذکر کی گئیں عورتوں پر لازم ہے کہ حقوق شوہر کا تحفظ کریں اور شوہر کو ناراض کر کے اللہ تعالی کی ناراضگی کا وبال اپنے سر نہ لیں کہ اس میں دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے نہ دنیا میں چین نہ آخرت میں راحت۔

اب بعض وہ احادیث ذکر کی جاتی ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیئے ، مردوں پر ضرور ہے کہ ان کا لحاظ کریں اور ان ارشادات عالیہ کی پابندی کریں ۔

حدیث ۱۸: بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے بارے میں بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں تم میری اس وصیت کو قبول کرو ۔ وہ پسلی سے پیدا کی گئیں اور پسلیوں میں سے سے زیادہ ٹیڑھی اوپر والی ہے اگر تو اسے سیدھا کرنے چلے تو توڑ دے گا اور اگر ویسی ہی رہنے دے تو ٹیڑھی باقی رہے گی اور مسلم شریف کی دوسری روایت میں ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی وہ تیرے لئے کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی اگر تو اسے برتنا چاہے تو اسی حالت میں برت سکتا ہے اور سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ دے گا اور توڑنا طلاق دینا ہے۔

حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں انھیں سے مروی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان مرد عورت مومنہ کو مبغوض نہ رکھے اگر اس کی ایک عادت بری معلوم ہوتی ہے دوسری پسند ہو گی یعنی تمام عادتیں خراب نہیں ہوں گی جب کہ اچھی بری ہر قسم کی باتیں ہو ں گی تو مرد کو یہ نہ چاہئئے کہ خراب ہی عادت کو دیکھتا رہے بلکہ بری عادت سے چشم پوشی کرے اور اچھی عادت کی طرف نظر کرے۔

حدیث ۰ ۲: حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تم میں اچھے وہ لوگ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح پیش آئیں ۔

حدیث۲۱: صحیحین میں عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنی عورت کو نہ مارے جیسے غلام کو مارتا ہے پھر دوسرے وقت اس سے مجامعت کرے گا دوسری روایت میں ہے عورت کو غلام کی طرح مارنے کا قصد کرتا ہے (یعنی ایسا نہ کرے) کہ شاید دوسرے وقت اسے اپنا ہم خواب کرے یعنی زوجیت کے تعلقات اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک کو دوسرے کی حاجت اور باہم ایسے مراسم کہ ان کو چھوڑنا دشوار لہذا جوان باتوں کا خیال کرے گا مارنے کا ہرگز قصد نہ کرے گا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button