بہار شریعت

حصوں کے مخارج کے متعلق مسائل

حصوں کے مخارج کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱ : اصطلاح فرائض میں مخرج سے مراد وہ چھوٹے سے چھوٹا عددہے جس میں سے تمام ورثہ کو بلا کسر ان کے حصے تقسیم کئے جا سکیں ۔ (ردالمحتار ج ۵۴)

یہاں چھ اصطلاح میں مخرج المسئلہ ہے اگر چہ مسئلہ ۱۲ سے بھی بلا کسر درست تھا اور چوبیس سے سے بھی مگر چھ سب سے چھوٹا عدد ہے۔ لہذا یہی مخرج المسئلہ ہے۔

مسئلہ ۲: ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ مقررہ حصے چھ ہیں جن کو دو قسموں پر منقسم کیا گیا ہے۔

پہلی قسم : آدھا ، چوتھائی، آٹھواں

دوسری قسم : دو تہائی، تہائی، چھٹا

اب اگر کسی مسئلہ میں ایک ہی فرض حصہ ہو تو اس کا مخرج اس حصہ کا ہمنام عدد ہو گا۔ (شریفیہ ص ۶۱) مثلاً اگر چھٹا ہے تو مخرج مسئلہ ۶ قرار پائے گا۔ آٹھواں ہے تو آٹھ قرار پائے گا۔ اور آپ نے مثالوں میں دیکھ لیا کہ مخرج مسئلہ وارثوں کے اوپر کھینچے جانے والے خط پر دائیں جانب لکھا جاتا ہے ۔ آدھا حصہ اگر ہو تو اس کا مخرج دو ہے اور دو تہائی ہو تو اس کا مخرج تین ہے۔

مسئلہ ۳: اگر کسی مسئلہ میں ایک سے زیادہ حصے جمع ہو جائیں مگر وہ ایک ہی قسم کے ہوں (ان دو قسموں میں سے جو ہم نے بیان کی ہیں ) تو سب سے چھوٹے حصے کا مخرج ہو گا وہی تمام حصوں کا ہو گا۔

اس مثال میں ماں کا چھٹا حصہ ہے اور دو بہنوں کا دو تہائی ہے مگر چھٹا دو تہائی سے کم ہے لہذا ہم نے چھٹے کے ہمنام عدد کو مخرج مسئلہ قرار دیا ہے۔

اس مثال میں دوسری قسم کے تمام حصے جمع ہو گئے ہیں ۔ لہذا جو سب سے چھوٹے حصے کا مخرج تھا وہی تمام کا مخرج قرار پایا۔

مسئلہ ۴: اگر پہلی قسم کا نصف ۱ /۲ دوسری قسم کے کسی حصہ کے ساتھ آجائے یا سب کے ساتھ آجائے تو مسئلہ چھ ۶ سے ہو گا۔

اس مثال میں شوہر کا نصف ہے جو دوسری قسم کے تمام حصوں کے ساتھ آگیا ہے یعنی ۱/۶، ۱/۳، ۲/۳ کے ساتھ ، اس لئے مسئلہ ۱/۶ سے ہو گا پھر مؤل ہو کر ۱۰ سے ہو جائے گا۔

مسئلہ ۵: اگر چوتھائی دوسری قسم کے کسی حصے یا تمام حصوں کے ساتھ جمع ہو جائے تو مخرج مسئلہ ۱۲ بارہ ہو گا۔ (شریفیہ ج ۱۲ ص ۶۳)

اس مثال میں چوتھائی ۱/۴ کے ساتھ ۱/۶ ، ۲/۳، ۱/۳ سب ہی جمع ہیں اس لئے مخرج مسئلہ۱۲ ہے۔

مسئلہ ۶: اگر آٹھواں حصہ دوسری قسم کے تمام حصوں یا بعض حصوں کے ساتھ آجائے تو مخرج مسئلہ چوبیس ۲۴ ہو گا۔

اس مثال میں آٹھواں ، دو تہائی اور چھٹے کے ساتھ آیا ہے اس لئے مسئلہ چوبیس سے کیا گیا ہے۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button