ARTICLESشرعی سوالات

حرم یا حِل میں رہنے والے کا آفاق سے قِران کی نیت کرنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حرم یا حِل کا رہنے والا اگر کسی کام کی غرض سے میقات سے باہر مثلاً مدینہ منوّرہ چلا جاتا ہے وہاں سے حج و عُمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھ کر آ جائے اور اَشہُرِ حج میں عُمرہ ادا کرے تو اس کا قِران بلاکراہت درست ہو جائے گا یا نہیں ؟

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں مکی یا جو مکی کے حکم میں ہے اگر کسی کام کی غرض سے آفاق چلا جائے اور وہاں سے حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھ کر آ جائے تو وہ قارن ہو جائے گا کیونکہ جب وہ کسی کام سے آفاق گیا تو حکماً آفاقی ہو گیا اور آفاقی ہونا قِران کی شرائِط صحت میں سے ایک شرط ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و السادس أن یکون آفاقیاً و لو حکماً (11)

یعنی، قِران کی چھٹی شرط یہ ہے کہ وہ آفاقی ہو اگرچہ حکماً آفاقی ہو۔ اور آفاق کی یہ شرط قِران مسنون کی ہی شرط ہے چنانچہ مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

أن اشتراط الآفاق إنما ہو للقران المسنون لا لصحۃ عقد الحج و العمرۃ (12)

یعنی، آفاق کی شرط صرف قِران مسنون کے لئے ہے نہ کہ صحتِ عقد حج و عمرہ کے لئے ۔ اور امام شمس الدین محمد سرخسی حنفی لکھتے ہیں :

و قد بینّا أنّ المکِّی إذا خرج من المیقاتِ ثمّ قَرَنَ حَجۃً و عمرۃً کان قارناً(13)

یعنی، ہم نے بیان کر دیا کہ مکی جب میقات سے نکلا پھر اس نے حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تو وہ قارِن ہو جائے گا۔ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

ثمّ رأیتُ مثلَ ذلک أیضاً فی ’’کافی الحاکم‘‘ الذی ہو جمعُ کتبٍ ظاہر الرِّوایۃ، نصُّہُ : و إذا خرج المکِّیُّ إلی الکوفۃِ لحَاجۃٍ فاعتَمَر فیہا من عامِہِ وحجَّ لم یکن متمتِّعاً، و إن قَرَنَ من الکوفۃ کان قارناً اھ و نقلہ فی ’’الجوہرۃ‘‘ معلَّلاً مُوْضَحاً فراجعہا (14)

یعنی، پھر میں نے اس کی مثل امام حاکم شہید کی کتاب ’’کافی‘‘ (15)میں بھی دیکھا کہ جس میں آپ نے کُتُبِ ظاہر الروایت کو جمع فرمایا ہے اور اس کی تصریح فرمائی کہ جب مکی کوفہ کو کسی کام سے نکلا پھر اس نے اسی سال کوفہ سے عمرہ (کا احرام باندھ کر عمرہ) کیا اور (اسی سال) حج کیا تو وہ مُتمتّع نہ ہو گا اور اگر کوفہ سے قِران کیا تو قارن ہو جائے گا اور اسے (علامہ ابو بکر بن علی حدادی حنفی متوفی 800ھ نے اپنی کتاب) ’’جوہرۃ النیرۃ‘‘ (16) میں عِلّت بیان کرتے اور واضح کرتے ہوئے نقل کیا پس چاہیے کہ وہاں مراجعت کی جائے ۔ اور علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

فلا قران للمکی (أی الحقیقی) إلا إذا خرج إلی الآفاق قبل أشہر الحج، قیل : و لو فیہا فیصح منہ القران لصیرورتہ آفاقیاً حکماً (17)

یعنی، مکی حقیقی کے لئے قران نہیں مگر جب وہ اشہر حج سے قبل آفاق کو گیا، کہا گیا کہ اگرچہ اَشہُرِ حج میں نکلا تو اس کے حکماً آفاقی ہونے کی وجہ سے اس کا قِران درست ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ آفاق جانے کی وجہ سے آفاقی کے حکم میں ہو گیا تو اس کا قران درست ہو گیا یہ اسی طرح ہے جیسے آفاقی مکہ آیا اور حکماً اہل مکہ سے ہو گیا چنانچہ مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

کما أنہ لا یجوز القران للآفاقی إذا دخل مکۃ و صار من أھلہا حکماً (18)

یعنی، جیسا کہ آفاقی کے لئے قران جائز نہیں جب مکہ داخل ہو کر حکماً اہلِ مکہ میں سے ہو گیا۔ تو اُسے قران کے لئے آفاق جانا ضروری ہے ورنہ حکماً مکی ہونے کی وجہ سے حقیقی مکی کی طرح وہ بھی قِران نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو اس کا قِران مسنون نہ ہو گا اور سنّت کی مخالفت کی وجہ سے اسائت (بُرا) کرنے والا ہو گا اور قِران منعقد ہونے کی وجہ سے اُسے دَم دینا ہو گا اور وہ دَم شکر نہ ہو گا بلکہ دَم جبر ہو گا کہ جس سے وہ نہیں کھا سکتا جیسا کہ اس کی تفصیل کُتُبِ مناسک میں اور ہمارے ’’فتاویٰ‘‘ میں مذکور ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء،3ذیالحجۃ 1428ھ، 12دیسمبر 2007 م (New 12-F)

حوالہ جات

11۔ لُباب المناسک ، باب القران، فصل فی شرائط صحۃ القران، ص173

12۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب القران، فصل فی شرائط صحۃ القران، تحت قولہ : السادس : أن یکون آفاقیاً….الخ، ص364

13۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب الجمع بین الإحرامین، 2/4/170

14۔ فی ضمن ’’کتاب الأصل‘‘ کتاب المناسک، باب المواقیت، 4/169

رد المحتار،کتاب الحج، باب التمتع، تحت قولہ : ولو قرن أو تمتع الخ، 3/647۔648

15۔ الکافی للحاکم

16۔ الجوہرۃ النیرۃ، کتاب الحج، باب التّمتّع، تحت قولہ : وانما لھم الافراد خاصۃ، 1/398

17۔ لُباب المناسک ، باب القران، فصل فی شرائط صحۃ القران، ص 173

18۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب القران، فصل فی شرائط صحۃ القران، تحت قولہ : السادس : أن یکون آفاقیاً….الخ، ص364

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button