ARTICLES

حرمِ مکہ کی حدود اور اُن کے فاصلے

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ کے بارے میں کہ حرمِ مکہ کی حُدود کون کون سی ہیں اور مسجد الحرام سے اُن کا فاصلہ کتنا کتنا ہے ؟

(السائل : گل احمد، نور مسجد)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حُدودِ حرم کے بارے میں علامہ ابو الولید محمد بن عبداللہ بن احمد ازرقی لکھتے ہیں :

من طریق المدینۃ دونَ التَّنعیم عند بیوت غفار علی ثلاثۃ أمیال، و من طریق الیمن طرف إضاء ۃ لبن فی ثنیۃ لبن، علی سبعۃ أمیال، و من طریق جدۃ منقطع الأعشاش علی عشرۃ أمیال، و من طریق الطائف علی طریق عرفۃ من بطن نمرۃ، علی أحد عشر میلاً، و من طریق العراق علی ثنیۃ جبل بالمقطع، علی سبعۃ أمیال، و من طریق الجعرانۃ فی شعب آل عبداللہ بن خالد بن أسید علی تسعۃ أمیال (230)

یعنی، تنعیم کے قریب مدینے کے راستے بنو غفار کے گھروں کے قریب تین میل کے فاصلے پر ہے ، اور یمن کے راستے سے ……… سات میل کے فاصلے پر ہے ، اور جدّہ کے راستے پر …… دس میل کے فاصلے پر ہے ، اور طائف کے راستے سے عرفہ نمرہ کے بطن سے گیارہ میل کے فاصلے پر ہے ، اور عراق کے راستے پر …… سات میل کے فاصلے پر ہے ،اور جعرانہ کے راستے سے آل عبداللہ بن خالد بن اسید کی گھاٹی میں نو میل کے فاصلے پر ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور حارثی ٹھٹھوی متوفی 1174 ھ لکھتے ہیں :

پس حد آں از طریق مدینہ منورہ بقرب تنعیم است بر سہ میل از مکہ معظمہ، و از طریق جعرانہ حدِ حرم در شعب عبداللہ بن خالد است بر نہ میل از مکہ ، و از طریق جدہ بردہ میل است، و از طریق طائف حدِ حرم بر عرفات است در بطن عُرنَہ بر ہفت میل از مکہ، و از طریق عراق حدِ حرم بر ثنیہ جبلی است کہ در مقطع ست بر مسافت ہفت میل نیز

یعنی، اُس کی حدّ مدینہ منوّرہ کے راستے کی طرف سے تنعیم کے قریب مکہ مکرمہ سے تین (شرعی) میل کے فاصلہ پر ہے او رجعرانہ کے راستے سے شعبِ خالدبن عبداللہ (یعنی خالد بن عبداللہ کی گھاٹی) تک ہے جو مکہ مکرمہ سے نو (شرعی) میل کے فاصلے پر ہے ۔ جدّہ کی طرف سے مکہ مکرمہ سے دس (شرعی) میل پر اور طائف کی طرف سے عرفات پر بطنِ عُرنہ تک ہے ، یہ فاصلہ مکہ مکرمہ سے سات (شرعی) میل کی مسافت پر ہے ۔او رعراق کی طرف سے ثنیہ پہاڑ پر ہے اور یہ فاصلہ مکہ مکرمہ سے سات شرعی میل کی مسافت پر ہے ۔ اور لکھتے ہیں :

کما نظم القاضی أبو الفضل النووی (231)بقولہ شعر و للحرم التحدید من أرض طیبۃ ثلاثۃ أمیال إذا رمت اتقانہ و سبعۃ أمیال عراق و طائف وجدۃ عشر ثم تسع جعرانۃ و من یمن سبع بتقدیم سینہا و قد کملت فاشکر لربک إحسانہ

یعنی، قاضی ابو الفضل نووی (یانویری) نے حدودِ حرم کو اشعار میں نظم کیا جن کا مفہوم یہ ہے : حدِّ حرم مدینہ منورہ کی جانب تین (شرعی) میل تک ہے اور طائف و عراق کی جانب سات (شرعی) میل اور جدّہ کی طرف سے دس (شرعی) میل اور جعرانہ کی طرف سے نو (شرعی) میل اور یمن کی طرف سے سات (شرعی) میل۔ (231) اورابراہیم رفعت پاشا متوفی 1353 ھ لکھتے ہیں :

قد ذکر المسافات بینہا (حدّ الحرم) و بین المسجد الحرام التقی الفاسی فی کتابہ ’’شفاء الغرام‘‘ و نحن نذکرہا نقلاً عنہ مبینین مقدارھا بالأمتار، فحدّ الحرم من جہۃ الطَّائِفِ علی طریقہ عرفۃ من بطن عُرَنَۃ 7/2، 3721 ذراع بذراعِ الیدِ، …………متر و ذلک من جُدُر باب بنی شیبۃ إلی العَلَمَینِ اللَّذَین ہما علامۃ لحدّ الحرم من جہۃعرفۃ، و حدّہ من جہۃ العراق و اللذین ہما بجادۃ وادی نخلۃ 27252 ذراع بذراع الید،
………………..، و حدّہ من جہۃ التنعیم و ھی طریق المدینۃ و ما یلیہا 124220 ذراع بذراع الید، ………… و ذلک من بدل باب العمرۃ إلی أعلام الحرم التی فی الأرض من ہذہ الجہۃ لا التی علی الجبل، و حدّہ من جہۃ الیمن من جدر باب إبراہیم إلی علامۃ حدّ الحرم فی ہذہ الجہۃ 7/4، 24509 ذراع بذراع الید، …………، و علی حدّ الحرم من جہۃ الجنوب مکان یقال لہ : أضاء ۃ، ومن المغرب بمیل قلیل إلی الشمال قربۃ الحدیبیۃ و ہی التی تمت بہا بیعۃ الرضوان، ومن الشرق علی طریق الطائف مکان یقال لہ : ’’الجعرَّانۃ‘‘ أحرم النَّبِیُّ ﷺ مرجعَہُ من الطَّائفِ بعدَ فتحِ مکۃ (انظر الرسم82) و ہذہ الدائرۃ جعلہا اللہ مثابۃ للناس و أمنا بل أمن فیہا الحیوان و النبات محرم التعرض لصیدھا و منع أن یختلی خلاہا (حشیشہا) أو یعضد شوکہا (232)

یعنی ، علامہ تقی الفاسی نے اپنی کتاب ’’شفاء الغرام‘‘ میں حُدودِ حرم اور مسجد الحرام کی درمیانی مسافت ذکر کی ہے ہم اُن سے نقل کرتے ہوئے اُس کی مقدار کو میٹروں میں بیان کرتے ہیں ، پس حرم کی حدّ طائف کی جانب عرفات کی راہ پرَطَنِ عُرَنَہ سے 7/2، 3721 شرعی گز اور وہ بابِ بنی شیبہ کی دیواروں سے لے کر اُن دو نشانات تک جو عرفات کی جہت میں حد حرم کی علامت ہے ۔ اور حرم کی حدِّ عراق کی جہت سے ہے اور وہ ودونوں وادیٔ نخلہ میں ہے 27252 شرعی گز ہے اور حرم کی حدّ جہت تنعیم میں اور وہ مدینہ کا راستہ ہے او رجو علاقہ اس سے ملا ہوا ہے 124220 ہاتھ ہے اور یہ فاصلہ بابُ العُمرہ کی دیواروں سے لے کر حرم کی اُن علامات تک ہے اس جہت سے جو زمین میں ہیں نہ کہ جو پہاڑ پر ہیں او رحرم کی حدّ جہتِ یمن میں بابِ ابراہیم کی دیواروں سے لے کر اُس علامت تک جو اُس جہتِ میں حدِّ حرم کی علامت ہے 7/4، 24509 ہاتھ ہے جنوب کی طرف سے حرم کی حداُس جگہ پر ہے جسے ’’ أضاء ۃ ‘‘کہا جاتا ہے اور مغرب سے شمال کی طرف قلیل مائل قریۂ حدیبیہ ہے یہ وہی جگہ ہے جہاں بیعۃ الرضوان مکمل ہوئی اور مشرق کی جانب طائف کے راستے پر ایک جگہ ہے جسے ’’جعرانہ‘‘ کہا جاتا ہے یہیں سے نبی ا نے فتح مکہ کے بعد طائف سے لوٹتے ہوئے احرام باندھا، یہی وہ دائرہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے (لوگوں کے لئے مرجع اورامان) بنایا بلکہ اس میں حیوان و نباتات امن والے ہو گئے ، پس حرم کے شکار سے تعرض حرام ہے اُس کے گھاس کو اکھاڑنا یااُس کے کانٹے کو توڑنا ممنوع ہے ۔ اور شیخ الیاس عبد الغنی نے لکھا ہے کہ حرم کے رقبہ کا دائرہ 127 کلومیٹر ہے اور کل رقبہ ساڑھے پانچ سو مربع کلومیٹر ہے (233) اور مسجد حرام اور حُدودِ حرم کے مابین مسافت کا تقریبی اندازہ جدید پیمانے میں ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے : تنعیم (مسجد عائشہ رضی اللہ عنہا) سے 5،7 کلومیٹر نخلہ سے 13 کلومیٹر أضاء ۃ لبن سے 13 کلومیٹر جعرانہ سے 22 کلومیٹر حدیبیہ سے 22 کلومیٹر (شمیسیہ یا شمیسی اس گاؤں کا جدید نام ہے ) عرفات سے 22 کلومیٹر (234) بظاہر حدودِ حرم مختلف ادوار کے علماء نے جو بیان فرمائیں وہ مختلف ہیں لیکن حقیقت میں مختلف ادوار میں کعبہ معظمہ سے حدّ حرم تک موجود راہ میں گھاٹیوں اور پہاڑیوں کی موجودگی و عدم موجودگی کے سبب اور جدید راستوں کے ملنے یا بننے پر راہ کی مسافتیں کم یا زیادہ ہونے کے سبب مختلف نظر آتی ہیں ، حقیقت میں حدودِ حرم وہی ہیں جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں ، اور وہ ہر سمت پر نشان زدہ ہیں ، جسے مختلف اَدوار کے علماء نے اپنے دَور کے اندر پیمانہ ناپ کر بیان فرمائیں ، جو ہمیں مختلف نظر آتی ہیں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعۃ، 8شوال المکرم 1427ھ، 1نوفمبر 2006 م (236-F)

حوالہ جات

230۔ أخبار مکۃ، باب ذرع طواف سبع بالکعبۃ، ذکر حدود الحرم الشریف،2/131۔132

231۔ علّامہ شامی نے النّووی کی جگہ النّویری لکھا ہے ۔(ردالمحتار ، : قبل فصل فی الاحرام ، مطلب : فی المواقیت ، تحت قولہ : ونظم حدود الحرم الخ، 3/555)

232۔ مرآۃ الحرمین، مواقیت وأعلام الحرم، 1/225

233۔ تاریخ مکہ مکرمہ ،حرمِ مکہ کی حدود، ص15

234۔ تاریخ مکہ مکرمہ، ص16

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button