ARTICLESشرعی سوالات

حرمِ مکہ سے کوئی چیز بطور تبرک اُٹھا کر لانا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ حُدودِ حرم میں سے تبرک کے لئے پتھر یا خاک اٹھا کر لاتے ہیں کیا ان کا یہ فعل جائز ہے یا حرام؟ اور غلافِ کعبہ کا کوئی حصہ بطور تبرک لانا شرعاً کیسا ہے اور جو غلافِ کعبہ معظمہ پر چڑھا ہوا ہے کچھ لوگ اس کے دھاگے نکالتے ہیں او رکچھ تو اس سے کچھ حصہ کاٹ لیتے ان کا یہ فعل شرعاً کیسا ہے ؟

(السائل : محمد سلیم، موسیٰ لین، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : فقہاء کرام نے حرم ِ مکہ سے کوئی پتھر یا خاک بطورِ تبرک لانے کے بارے میں لکھا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، چنانچہ علامہ سراج الدین بن عثمان الاوسی متوفی 569 ھ لکھتے ہیں :

لا بأس بإخراج الحجر و التراب من الحرم (273)

یعنی، حرم سے پتھر او رمٹی نکال لانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں :

لا بأس بإخراج التراب و الأحجار التی فی الحرم

یعنی، وہ مٹی اور پتھر جو حرم میں ہیں انہیں نکال لانے میں کوئی حرج نہیں ۔ باقی رہا خاص بیت اللہ شریف تو اس کی خاک پاک سے قدرِ یسیر کو بعض نے جائز کہا لیکن صحیح یہ ہے کہ قدر ِیسیر بھی ممنوع ہے چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں :

و کذا قیل فی تراب البیت المعظم إذا کان قدراً یسیراً للتبرک بہ بحیث لا تفوت بہ عمارۃ المکان، کذا فی ’’الظہیریۃ‘‘، و صوّب ابن و ھبان المنع عن تراب البیت لئلا یتسلّط علیہ الجھال فیفضی إلی خراب البیت و العیاذ باللہ تعالیٰ، لأن القلیل من الکثیر کثیر، کذا فی ’’معین المفتی‘‘ للمصنّف (274)

یعنی، اور اسی طرح بیت اللہ شریف کی خاک پاک جب کہ بہت تھوڑی ہو تبرّک کے لئے لائے اس طرح کہ عمارت کو نقصان نہ ہو ۔ اسی طرح ’’ظہیریہ‘‘ میں ہے اور ابن وہبان نے بیت اللہ شریف کی خاک پاک کو اٹھانے سے منع کو حق قرار دیا ہے تاکہ جاہل لوگ اس پر مسلّط نہ ہو جائیں ، پھر معاذا للہ ان کا فعل بیت اللہ کے خراب تک پہنچ جائے ، کیونکہ کثیر سے قلیل بھی کثیر ہوتا ہے ، اسی طرح مصنّف کی ’’معین المفتی‘‘ میں ہے ۔ غلافِ کعبہ معظمہ کے بارے میں صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : غلافِ کعبہ معظمہ جو سال بھر بعد بدلا جاتا ہے اور جو اُتارا گیا فقراء پر تقسیم کر دیا جاتا ہے اس کو اُن فقراء سے خرید سکتے ہیں اور جو غلاف چڑھا ہوا ہے اس سے لینا جائز نہیں بلکہ اگر کوئی ٹکڑا جدا ہو کر گِر پڑے تو اُسے بھی نہ لے اور لے تو کسی فقیر کو دے دے ۔ اور کعبہ معظمہ کی خوشبو کے بارے میں لکھتے ہیں : کعبہ معظمہ میں خوشبو لگی ہو اُسے بھی لینا جائز نہیں اور لی تو واپس کر دے اور خواہش ہو تو اپنے پاس سے خوشبو لے جا کر مَس کر لائے ۔ (275) جب چڑھے ہوئے غلاف کا کوئی ٹکڑا گر جائے تو اُسے لینا بھی ممنوع ہے تو چڑھے ہوئے خلاف کا دھاگا نکالنا یا اس کا کوئی ٹکڑا کاٹ لانا کس طرح جائز ہو سکتا ہے بلکہ اشد حرام اور سخت گناہ ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 8شوال المکرم 1427ھ، 1نوفمبر 2006 م (230-F)

حوالہ جات

273۔ الفتاویٰ السراجیۃ، کتاب الحج، باب المتفرقات، ص36

274۔ رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، باب الھدی، مطلب : فی کراھیۃ الاستنجاء بماء زمزم، تحت قولہ : یکرہ الإستنجاء بماء زمزم، 4/61

275۔ بہار شریعت، حصہ ششم، حرمین شریفین کے تبرکات، 1/1151

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button