شرعی سوالات

حربی کو مردہ بھینس کا چمڑا بیچنا جائز ہے

حربی کو مردہ بھینس کا چمڑا بیچنا جائز ہے

مسلمان مردار چمڑے کی خریداری نہیں کرسکتا ہے

سوال:

(1) زیدنے بھینس پال رکھی تھی ،اتفاق سے وہ مرگئی۔زید نے ایک چمار کو پیسہ دے کراس کی کھال نکلوا لیا اور اس کو فروخت کر کے اس پیسہ کو اپنی ذاتی خرچ میں لیا،مسلمان کے لیے درست ہے؟

(2)بکر مردار چمڑے کی خریداری کرتا ہے ،کیا مسلمان کے لیے درست ہے؟

جواب:

(1)ہندوستان کے چمار کافرحربی ہیں اور کافر حربی کے ہاتھ مرداری چمڑہ بیچ کر پیسہ  اپنے خرچ میں لانا جائز ہے۔

(2)مسلمان کومردار چمڑے کی خریداری کرنا ناجائز ہے۔لہذا بکر پر لازم ہے کہ ناجائز کاروبار سے دور رہے اور جائز طریقہ پر روزی حاصل کرے۔

             (فتاوی فیض الرسول،کتاب البیوع،جلد2،صفحہ379،شبیر برادرز لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button