شرعی سوالات

حربی کافر کو قرض دے کر نفع لینا جائز ہے جبکہ کاغذات میں سود نہ لکھا جائے

سوال:

 ہندو سے کاغذات میں سود لکھ کر منافع لینا کیسا؟

جواب:

سوال میں جو لفظ قلم زد کر دیے ہیں ان سے رجوع فرمائیے اور آئندہ احتیاط رکھیے۔ جب وہ معاملہ کافر حربی سے کیا گیا شرعا سود نہیں ۔ تو اسے کافر یا کچہری کے کہے سے حقیقۃ سود نہیں ہو سکتا تو کاغذ میں اگر وہ کافر اسے سود لکھے کچہری اسے سود کہہ کر ڈگری دے اس سے وہ حلال حرام نہ ہو جائے گا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بکری کا گوشت دے اور کہے لو سور کھا لو تو اگرچہ وہ مسلمان جانتا ہے کہ وہ گوشت بکری کا ہے اور حلال طیب ہے مگر برا نام لے کر جو کہا گیا ہے اس نام سے کراہت کرتا ہے ۔ یوں ہی سود کا نام مکروہ ہے اور اس سے جہاں تک بچنے کی کوشش ہو سکے کی جائے۔ اعلی حضرت  قدس سرہ کے الفاظ شریفہ بھی یہی ہیں کہ برے نام سے بچنا مناسب ۔ مسلمان کا روپیہ اگر سوا اس کے نہیں  ملتا ہے اور کافر کے پاس رہا جاتا ہے تو یہ اس نام کی کراہت سے کہیں زیادہ اشد ہے ، لہذا وہ اپنا مطالبہ کافر سے وصول کر لے اور اس نام کی کراہت کا لحاظ نہ کرے ، یہاں تو کچھ ایسا ابتلا بھی نہیں ، جہاں واقعی دو بلاؤں میں معاذ اللہ مبتلا ہو رہا ہے ۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ واصحابہ اجمعین کی شریعت نے اختیار اہون کا امر فرمایا ہے۔ رہا نیا معاملہ کرنا تو اگر موقع ایسا ہو کہ تہمت کا اندیشہ نہیں کہ عوام مسلمین کو اس معاملہ کی خبر ہی نہ ہو گی ۔ یا ہو گی مگر وہ مسئلہ سے واقف کر دیے گئے ہیں تو کچھ بھی حرج نہیں کہ برے نام سے انہی کی خاطر بچنا تھا کہ انہیں نفرت ہو۔ اگر موضع موضع تہمت و نفرت ہو تو بچنا چاہئے۔ حربی کا مال معصوم نہیں اور وہ مسلمان کے ہاتھ جس طرح بھی آئے مال مباح ہی ہے۔ مگر اس کا لحاظ کرنا چاہئے کہ اپنی جان کی ہلاکت اپنی عزت کی ہتک نہ ہو۔ عزت و آبرو گنوا کر کچھ مال حاصل کرنا عاقل کا کام نہیں ۔ اگر کوئی یوں بھی حاصل کرے گا تو وہ مال مباح ہو گا، حرام نہ ہو گا۔

(فتاوی مفتی اعظم، جلد 5 ، صفحہ 63 تا 66، شبیر برادرز لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button