بہار شریعت

حد قذف کے متعلق مسائل

حد قذف کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے:۔

والذین یؤذون المومنین والمؤمنت بغیر ماکتسبوا فقد احتملوا بھتانًا و اثمًامبینًا

متعلقہ مضامین

(اور جو لوگ مسلمان مرد اور عورتوں کو ناکردہ باتوں سے ایذا دیتے ہیں انھوں نے بہتان اورکھلا ہو گناہ اٹھایا)

ٍٍ اورفرماتا ہے :۔

والذین یرمون المحصنت ثم لم یاتوا باربعۃٍ شھدائ فاجلدو ھم ثمنین جلدۃً ولا تقبلوا لھم شھادۃً ابدًا o واولئک ھم الفسقون o الا الذین تابوا من م بعد ذلک و اصلحوا فان اللہ غفور ٗ رحیم ٗ o

(اور جو لوگ پارسا عورتوں کو تہمت لگاتے ہیں پھر چارگواہ نہ لائیں ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور وہ لوگ فاسق ہیں مگر وہ کہ اس کے بعد توبہ کریں اور اپنی حالت درست کرلیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے )

احادیث

حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے مملوک پر زنا کی تہمت لگائے قیامت کے دن اس پر حد لگائی جائے گی مگر جبکہ واقع میں وہ غلام ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا۔

حدیث ۲ : عبدالرزاق عکرمہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک عورت نے اپنی باندی کو زانیہ کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا تو نے زنا کرتے دیکھا ہے اس نے کہا نہیں ۔ فرمایا قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں جان ہے قیامت کے دن اس کی وجہ سے لوہے کے اسی (۸۰) کوڑے تجھے مارے جائیں گے۔

مسائل فقہیہ

مسئلہ۱: کسی کو زنا کی تہمت لگانے کو قذف کہتے ہیں اوریہ کبیرہ گناہ ہے۔ یونہی لواطت کی تہمت بھی کبیرہ گناہ ہے مگر لواطت کی تہمت لگائی تو حد نہیں بلکہ تعزیر ہے اور زنا کی تہمت لگانے والے پر حد ہے ۔ حد قذف آزاد پر اسی (۸۰) کوڑے ہے اور غلام پر چالیس (۴۰)۔ (درمختار ردالمحتار)

مسئلہ۲: زنا کے علاوہ اورکسی گناہ کے اتہام کو قذف نہ کہیں گے نہ اس پر حدہے البتہ بعض صورتوں میں تعزیر ہے جس کے متعلق مسائل ان شاء اللہ تعالی آئے گا (بحر)

مسئلہ۳: قذف کا ثبوت دومردوں کی گواہی سے ہوگا یا اس تہمت لگانے والے کے اقرار سے۔ اور اس جگہ عورتوں کی گواہی یا شہادۃ علی شہادۃ کافی نہیں بلکہ ایک قاضی نے اگر دوسرے قاضی کے پاس لکھ بھیجا کہ میرے نزدیک قذف کاثبوت ہوچکا ہے اورکتاب القاضی کے شرائط بھی پائے جائیں جب بھی یہ دوسرا قاضی حد قذف قائم نہیں کرسکتا۔ یونہی اگر قذف سے انکار کیا اور گواہوں سے ثبوت نہ ہوا تو اس سے حلف نہ لیں گے اور اگر اس پر حلف رکھا گیا اور اس نے قسم کھانے سے انکار کردیا تو حد قائم نہ کرینگے۔ اور گواہوں میں باہم اختلاف ہوا ایک گواہ قذف کا کچھ وقت بتاتا ہے اوردوسرا گواہ دوسرا وقت کہتا ہے تو اختلاف معتبر نہیں یعنی حد جاری کرینگے۔ اوراگر ایک نے قذف کی شہادت دی اور دوسرے نے اقرار کی یا ایک کہتا ہے مثلاً فارسی زبان میں تہمت لگائی اوردوسرا یہ بیان کرتا ہے کہ اردو میں تو حد نہیں (ردالمحتار)

مسئلہ۴: جب اس قسم کا دعوی قاضی کے یہاں ہوا اورگواہ ابھی نہیں لایا ہے تو تین دن تک قاذف کو محبوس رکھیں گے اوراس شخص سے گواہوں کا مطالبہ ہوگا اگر تین دن کے اندر گواہ لایا فبہا ورنہ اسے رہا کردینگے(درمختار)

مسئلہ۵: تہمت لگانے والے پر حد واجب ہونے کے لئے چند شرطیں ہیں جس پر تہمت لگائی وہ (۱)مسلمان (۲) عاقل (۳)بالغ (۴) آزاد (۵)پارسا ہو اور (۶)تہمت لگانے والے کا نہ وہ لڑکا ہو نہ پوتا اور(۷)نہ گونگا ہو(۸) نہ خصی (۹) نہ اس کا عضوتناسل جڑسے کٹا ہو(۱۰) نہ اس نے نکاح فاسد کے ساتھ وطی کی اور(۱۱)اگر عورت کو تہمت لگائی تو وہ ایسی نہ ہو جس سے وطی نہ کی جاسکے اور (۱۲) وقت حدتک وہ شخص محصن ہو لہذا معاذاللہ قذف کے بعد مرتد ہوگیا یا مجنون یا بوہرا ہوگیا یا وطی حرام کی یا گونگا ہوگیا تو حد نہیں (درمختار ، ردالمحتار، عالمگیری)

مسئلہ۶: جس عورت کو اس نے تین طلاقیں یا طلاق بائن دی اور زمانۂ عدت میں اس سے وطی کی۔ یا کسی لونڈی سے وطی کی پھر اس کے خریدنے یا اس سے نکاح کرنے کا دعوی کیا۔ یا مشترک لونڈی تھی اس سے وطی کی یاکسی عورت سے جبراً زنا کیا یا غلطی سے زوجہ کے بدلے دوسری عورت اس کے یہاں رخصت کردی گئی اوراس نے اس سے وطی کی۔ یا زمانہ کفر میں زنا کیا تھا پھر مسلمان ہوا۔ یا حالت جنون میں زنا کیا۔ یا جو باندی اس پر ہمیشہ کے لئے حرام تھی اس سے وطی کی۔ یا جو باندی اس کے باپ کی موطوہ تھی اسے اس نے خریدا اور وطی کی۔ یا اس کی ماں سے اس نے وطی کی تھی اب اس لڑکی کو خریدا اوروطی کی۔ ان سب صورتوں میں اگر کسی نے اس شخص پر زنا کی تہمت لگائی تو اس پر حد نہیں (عالمگیری)

مسئلہ۷: حرہ اس کے نکاح میں ہے اسکے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کیا۔ یا ایسی دوعورتوں کو نکاح میں جمع کیا جن کا جمع کرنا حرام تھا جیسے دوبہنیں یاپھوپھی بھتیجی اوروطی کی۔ یا اس کے نکاح میں چار عورتیں موجود ہیں اور پانچویں سے نکاح کرکے جماع کیا۔ یا کسی عورت سے نکاح کرکے وطی کی بعد کو معلوم ہواکہ یہ عورت مصاہرت کی وجہ سے اس پر حرام تھی۔ پھر کسی نے زنا کی تہمت لگائی تو تہمت لگانے والے پر حد نہیں (عالمگیری)

مسئلہ۸: کسی عورت سے بغیر گواہوں کے نکاح کیا۔ یا شوہر والی عورت سے جان بوجھ کر نکاح کیا۔ یا جان بوجھ کر عدت کے اندر یا اس عورت سے نکاح کیا جس سے نکاح حرام ہے اور ان سب صورتوں میں وطی بھی کی تو تہمت لگانے والے پر حد نہیں (عالمگیری)

مسئلہ۹: جس عورت پر حد زنا قائم ہوچکی ہے اس کو کسی نے تہمت لگائی۔ یا ایسی عورت پر تہمت لگائی جس میں زنا کی علامت موجود ہے مثلاً میاں بی بی میں قاضی نے لعان کرایا اور بچہ کا نسب باپ سے منقطع کرکے عورت کی طرف منسوب کردیا۔ یا عورت کے بچہ ہے جس کا باپ معلوم نہیں تو ان سب صورتوں میں تہمت لگانے والے پر حد نہیں ۔ اوراگر لعان بغیر بچہ کے ہوا۔ یا بچہ موجود تھا مگر اس کا نسب باپ سے منقطع نہ کیا یا نسب بھی منقطع نہ کیا یا نسب بھی منقطع کردیا مگر بعد میں شوہر نے اپنا جھوٹا ہونا بیان کیا اور بچہ باپ کی طرف منسوب کردیا گیا تو ان صورتوں میں عورت پر تہمت لگانے سے حد ہے (عالمگیری)

مسئلہ۱۰: جس عورت کو اس نے شہوت کے ساتھ چھوا یا شرمگاہ کی طرف شہوت کے ساتھ نظر کی اب اس کی ماں یا بیٹی کو خرید کر یا نکاح کرکے وطی کی۔ یا جس عورت کو اس کے باپ یا بیٹے نے اسی طرح چھوا یا نظر کی تھی اس کو اس نے خرید کر یا نکاح کرکے وطی کی اور کسی نے زنا کی تہمت لگائی تو اس پر حد ہے (عالمگیری)

مسئلہ۱۱: اپنی عورت سے حیض میں جماع کیا۔ یا عورت سے ظہار کیا تھا اور بغیر کفارہ دیئے جماع کیا یا عورت روزہ دارتھی اور شوہر کو معلوم بھی تھا اورجماع کیا تو ان صورتوں میں تہمت لگانے والے پر حد ہے (عالمگیری)

مسئلہ۱۲: زنا کی تہمت لگائی اورحد قائم ہونے سے پہلے اس شخص نے زنا کیا جس پر تہمت لگائی۔ یا کسی ایسی عورت سے وطی کی جس سے وطی حرام تھی۔ یا معاذاللہ مرتد ہوگیا اگر چہ پھر مسلمان ہوگیا تو ان سب صورتوں میں حد ساقط ہوگئی (بحر)

مسئلہ۱۳: حدقذف اس وقت قائم ہوگی جب صریح لفظ زنا سے تہمت لگائی مثلاً تو زانی ہے یا تونے زنا کیا یا تو زنا کار ہے اور اگر صریح لفظ نہ ہو مثلاً یہ کہ تو نے وطی حرام کی یا تونے حرام طور پر جماع کیا تو حد نہیں ۔ اوراگر یہ کہا مجھے خبر ملی ہے کہ تو زانی ہے یا مجھے فلاں نے اپنی شہادت پر گواہ بنایا ہے کہ تو زانی ہے۔ یا کہا تو فلاں کے پاس جاکر اس سے کہہ کہ تو زانی ہے اور قاصد نے یونہی جاکر کہہ دیا تو حد نہیں (درمختار ردالمحتار)

مسئلہ۱۴: اگر کہا تو اپنے باپ کا نہیں یا اس کے باپ کا نام لے کر کہا کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں حالانکہ ا س کی ماں پاک دامن عورت ہے اگر چہ یہ شخص جس کو کہا گیا کیسا ہی ہو تو حد ہے جبکہ یہ الفاظ غصہ میں کہے ہوں اور اگر رضا مندی میں کہے تو حد نہیں کیونکہ اس کے یہ معنی بن سکتے ہیں کہ تو اپنے باپ سے مشابہ نہیں مگر پہلی صورت میں شرط یہ ہے کہ جس پر تہمت لگائی وہ حد کا طالب ہو اگرچہ تہمت لگانے کے وقت وہاں موجود نہ تھا۔ اوراگر کہا کہ تو اپنے باپ ماں کا نہیں یا تو اپنی ماں کا نہیں تو حد نہیں (درمختار)

مسئلہ۱۵: اگر دادا یا چچا یا ماموں یا مربی کا نام لیکر کہا کہ تواس کا بیٹا ہے تو حد نہیں کیونکہ ان لوگوں کو بھی مجازاً باپ کہہ دیا کرتے ہیں (دمختار)

مسئلہ۱۶: کسی شخص کو اس کی قوم کے سوا دوسری قوم کی طرف نسبت کرنا یا کہنا کہ تو اس قوم کا نہیں ہے سبب حد نہیں ۔ پھر اگر کسی ذلیل قوم کی طرف نسبت کیا تو مستحق تعزیرہے جبکہ حالت غصہ میں کہا ہو کہ یہ گالی ہے اورگالی میں سزا ہے (درمختار ردالمحتار) اگر کسی شخص نے بہادری کا کام کیا اس پر کہا یہ پٹھان ہے تو اس میں کچھ نہیں کہ یہ نہ تہمت ہے نہ گالی۔

مسئلہ۱۷: کسی عفیفہ عورت کو رنڈی یا کسبی کہا تو یہ قذف ہے اورحد کا مستحق ہے کہ یہ لفظ انھیں کے لئے ہیں جنھوں نے زنا کو پیشہ کرلیا ہے۔

مسئلہ۱۸: ولد الزنا یا زناکا بچہ کہا یا عورت کو زانی کہا تو حدہے اوراگر کسی کو حرام زادہ کہا تو حد نہیں کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وطی حرام سے پیدا ہوا اور وطی حرام کے لئے زنا ہونا ضرور نہیں اس لئے کہ حیض میں وطی حرام ہے اورجب اپنی عورت سے ہے تو زنا نہیں (درمختار وغیرہ) اور حرام زادہ میں حدنہ ہونے کی یہ وجہ بھی ہے کہ عرف میں بعض لوگ شریر کے لئے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ یونہی حرامی یا حیضی بچہ یا ولدالحرام کہنے پر بھی حد نہیں ۔

مسئلہ۱۸: عورت کو اگرجانور بیل۔ گھوڑے۔گدھے سے فعل کرانے کی گالی دی تو اس میں سزا دی جائے گی۔

مسئلہ۱۹: جس کو تہمت لگائی وہ اگر مطالبہ کرے تو حد قائم ہوگی ورنہ نہیں یعنی اس کی زندگی میں دوسرے کو مطالبہ کا حق نہیں اگرچہ وہ موجود نہ ہو کہیں چلاگیا ہو یا تہمت کے بعد مرگیا بلکہ مطالبہ کے بعد بلکہ چند کوڑے مارنے کے بعد انتقال ہوا تو باقی ساقط ہے۔ ہاں اگر اس کا انتقال ہوگیا اوراس کے ورثہ میں وہ شخص مطالبہ کرے جس کے نسب پر اس تہمت کی وجہ سے حرف آتا ہے تو اس کے مطالبہ پر بھی حد قائم کردی جائے گی مثلاً اس کے دادا یا دادی یا باپ یا ماں یا بیٹا یا بیٹی پر تہمت لگائی اورجسے تہمت لگائی مرچکا ہے تو اس کو مطالبہ کا حق ہے۔ وارث سے مراد وہی نہیں جسے ترکہ پہنچتاہے بلکہ محجوب یا محروم بھی مطالبہ کرسکتاہے مثلاً میت کا بیٹا اگر مطالبہ نہ کرے تو پوتا مطالبہ کرسکتا ہے اگرچہ محجوب ہے یا اس وارث نے اپنی مورث کو مارڈالا ہے یا غلام یا کافر ہے تو ان کو مطالبہ کا استحقاق ہے اگرچہ محروم ہیں ۔ یونہی نواسہ اورنواسی کو بھی مطالبہ کاحق ہے (درمختار عالمگیری)

مسئلہ۲۰: قریبی رشتہ دار نے مطالبہ نہ کیا یا معاف کردیا تو دور کے رشتہ والے کا حق ساقط نہ ہوگا بلکہ یہ مطالبہ کرسکتا ہے (درمختار)

مسئلہ۲۱: کسی کے باپ اور ماں دونوں پر تہمت لگائی اور دونوں مرچکے ہیں تو اس کے مطالبہ پر حد قائم ہوگی مگر ایک ہی حد ہوگی دونہیں ۔ یونہی اگر وہ دونوں زندہ ہیں جب بھی دونوں کے مطالبہ پرایک ہی حد ہوگی کہ جب چند حدیں جمع ہوں تو ایک ہی قائم کی جائے گی۔(درمختار ردالمحتار)

مسئلہ۲۲: کسی پر ایک نے تہمت لگائی اور حد قائم ہوئی پھر دوسرے نے تہمت لگائی تو دوسرے پر بھی حد قائم کریں گے (عالمگیری)

مسئلہ۲۳: اگر چند حدیں مختلف قسم کی جمع ہوں مثلاً اس نے تہمت بھی لگائی ہے اورشراب بھی پی اورچوری بھی کی اورزنا بھی کیا تو سب حدیں قائم کی جائیں گی مگر ایک ساتھ سب قائم نہ کریں کہ اس میں ہلاک ہوجانے کا خوف ہے بلکہ ایک قائم کرنے کے بعد اتنے دنوں اسے قید میں رکھیں کہ اچھا ہو جائے پھر دوسری قائم کریں اورسب سے پہلے حد قذف جاری کریں اس کے بعد امام کو اختیار ہے کہ پہلے زنا کی حد قائم کرے یا چوری کی بنا پر ہاتھ پہلے کاٹے یعنی ان دونوں میں تقدیم و تاخیر کا اختیار ہے پھر سب کے بعد شراب پینے کی حد ماریں (درمختار)

مسئلہ۲۴: اگر ا س نے کسی کی آنکھ بھی پھوڑی ہے اور وہ چاروں چیزیں بھی کی ہیں تو پہلے آنکھ پھوڑنے کی سزادی جائے یعنی اس کی بھی آنکھ پھوڑدی جائے پھر حد قذف قائم کی جائے اس کے بعد رجم کردیا جائے اگرمحصن ہواور باقی حدیں ساقط اور محصن نہ ہوتو اسی طرح عمل کریں ۔ اوراگر ایک ہی قسم کی چند حدیں ہوں مثلاً چند شخصوں پر تہمت لگائی یا ایک شخص پر چند بار تو ایک حد ہے ہاں اگر پوری حد قائم کرنے کے بعد پھر دوسرے شخص پر تہمت لگائی تواب دوبارہ حد قائم ہوگی اور اگر اسی پر دوبارہ تہمت ہوتو نہیں (درمختار)

مسئلہ۲۵: باپ نے بیٹے پر زنا کی تہمت لگائی یا مولی نے غلام پر تو لڑکے یا غلام کو مطالبہ کا حق نہیں ۔ یونہی ماں یا دادا یا دادی نے تہمت لگائی یعنی اپنی اصل سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔ یونہی اگرمری زوجہ پر تہمت لگائی تو بیٹا مطالبہ نہیں کرسکتا ہاں اگر اس عورت کا دوسرا خاوند سے لڑکا ہے تو یہ لڑکا یا عورت کا باپ ہے تو یہ مطالبہ کرسکتا ہے (عالمگیری)

مسئلہ۲۶: تہمت لگانے والے نے پہلے اقرار کیا کہ ہاں تہمت لگائی ہے پھر اپنے اقرار سے رجوع کر گیا یعنی اب انکار کرتا ہے تو اب رجوع معتبر نہیں یعنی مطالبہ ہوتو حد قائم کریں گے۔ یونہی اگر باہم صلح کرلیں اور کچھ معاوضہ لیکر معاف کردے یا بلامعاوضہ معاف کردے تو حد معاف نہ ہوگی یعنی اگرپھر مطالبہ کرے تو کرسکتا ہے اور مطالبہ پر حد قائم ہوگی (فتح القدیر وغیرہ)

مسئلہ۲۷: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تو زانی ہے اس نے جواب میں کہا نہیں بلکہ تو ہے تو دونوں پر حدہے کہ ہر ایک نے دوسرے پر تہمت لگائی اوراگرایک نے دوسرے کو خبیث کہا دوسرے نے کہانہیں بلکہ تو ہے تو کسی پر سزا نہیں کہ اس میں دونوں برابر ہوگئے اور تہمت میں چونکہ حق اللہ غالب ہے لہذا حد ساقط نہ ہوگی کہ وہ اپنے حق کو ساقط کرسکتے ہیں حق اللہ کو ساقط کرنا ان کے اختیار میں نہیں (بحر وغیرہ)

مسئلہ۲۸: شوہرنے عورت کو زانیہ کہا عورت نے جواب میں کہا کہ نہیں بلکہ تو ، تو عورت پر حد ہے مرد پر نہیں اورلعان بھی نہ ہوگا کہ حد قذف کے بعد عورت لعان کے قابل نہ رہی۔ اور اگر عورت نے جواب میں کہا کہ میں نے تیرے ساتھ زنا کیا ہے تو حدو لعان کچھ نہیں کہ کلام کے دواحتمال ہیں ایک یہ کہ نکاح کے پہلے تیرے ساتھ زنا کیا دوسرا یہ کہ نکاح کے بعد تیرے ساتھ ہم بستری ہوئی اور اس کو زنا سے تعبیر کیا توجب کلام محتمل ہے تو حد ساقط ۔ ہاں اگر جواب میں عورت نے تصریح کردی کہ نکاح سے پہلے میں نے تیرے ساتھ زنا کیا تو عورت پر حد ہے۔ اور اگر اجنبی عورت سے مرد نے یہ بات کی اور اس عورت نے یہی جواب دیا تو عورت پر حد ہے کہ وہ زنا کا اقرار کرتی ہے اور مرد پر کچھ نہیں (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ۲۹: زنا کی تہمت لگائی اورچار گواہ زنا کے پیش کردئیے یا مقذوف نے زناکاچار بار اقرار کرلیا تو جس پر تہمت لگائی ہے اس پر زنا کی حد قائم کی جائے گی اور تہمت لگانے والا بری ہے۔ اور اگرفی الحال گواہ لانے سے عاجز ہے اورمہلت مانگتا ہے کہ وقت دیا جائے تو شہر سے گواہ تلاش کرلائوں تو اسے کچہری کے وقت تک مہلت دی جائے گی اور خود اسے جانے نہ دینگے بلکہ کہا جائیگا کہ کسی کو بھیج کرگواہوں کو بلالے۔ اور اگر چارفاسق گواہ پیش کردئیے تو سب سے حد ساقط ہے نہ قاذف پر حد ہے نہ مقذوف پر نہ گواہوں پر (درمختار)

مسئلہ ۳۰: کسی نے دعوی کیا کہ مجھ پر فلاں نے زنا کی تہمت لگائی اورثبوت میں دوگواہ پیش کیئے مگر گواہوں کے مختلف بیان ہوئے ایک کہتا ہے فلاں جگہ تہمت لگائی دوسرا دوسری جگہ کانام لیتا ہے تو حد قذف قائم کریں گے (عالمگیری)

مسئلہ۳۱: حد قذف میں سوا پوستین اور اور روئی بھرے ہوئے کپڑے کے کچھ نہ اتاریں (بحر)

مسئلہ۳۲: جس شخـص پر حد قذف قائم کی گئی اس کی گواہی کسی معاملہ میں مقبول نہیں ہاں عبادات میں قبول کرلیں گے۔ یونہی اگر کافر پر حد قذف جاری ہوئی تو کافروں کے خلاف بھی اس کی گواہی مقبول نہیں ۔ ہاں اگر اسلام لائے تواس کی گواہی مقبول ہے اور اگر کفر کے زمانہ میں تہمت لگائی اور مسلمان ہونے کے بعد حد قائم ہوئی تو اسکی گواہی بھی کبھی کسی معاملہ میں مقبول نہیں ۔ یونہی غلام پر حد قذف جاری ہوئی پھر آزاد ہوگیا تو گواہی مقبول نہیں ۔ اور اگر کسی پر حد قائم کی جاری تھی اور درمیان میں بھاگ گیا تو اگر بعد میں باقی حد پوری کرلی گئی تو اب گواہی مقبول نہیں اور پوری نہیں کی گئی تو مقبول ہے ۔ حد قائم ہونے کے بعد سچائی پر چار گواہ پیش کئے جنھوں نے زنا کی شہادت دی تو اب اس تہمت لگانے والے کی گواہی آئندہ مقبول ہوگی (عالمگیری)

مسئلہ۳۳: بہتر یہ ہے کہ جس پر تہمت لگائی گئی مطالبہ نہ کرے اور اگر دعوی کردیا تو قاضی کے لئے مستحب یہ ہے کہ جب تک ثبوت نہ پیش ہومدعی کو درگزر کرنے کی طرف تو جہ دلائے (عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button