اسللامی کتبمضامین

حدیث مسلسل بالحلف کی تخریج و تحقیق

حدیث مسلسل بالحلف کا ثبوت اور اشکالات کا علمی جائزہ

حدیث مسلسل بالحلف

متن حدیث:

” قال عمار بن موسى البرمكي:بالله العظيم لقد حدثني أنس بن مالك رضي الله عنه، وقال: بالله العظيم لقد حدثني علي بن أبي طالب، رضي الله عنه، وقال: بالله العظيم لقد، حدثني أبو بكر الصديق، رضي الله عنه، وقال: بالله العظيم لقد حدثني محمد المصطفى تسلیما، وقال: بالله العظيم لقد حدثني جبريل، عليه السلام، وقال: بالله العظيم لقد حدثني ميكائيل، عليه السلام، وقال: بالله العظيم لقد حدثني إسرافيل، عليه السلام، وقال: قال الله تعالى لی: يا إسرافيل، بعزتي، وجلالي، وجودي، وكرمي، من قرأ:  بسم الله الرحمن الرحيم متصلة بفاتحة الكتاب مرة واحدة، اشهدوا على أني قد غفرت له، وقبلت منه الحسنات، وتجاوزت عنه السيئات، ولا أحرق لسانه في النار، وأجيره من عذاب القبر، وعذاب النار، وعذاب يوم القيامة، والفزع الأكبر، ويلقاني قبل الأنبياء، والأولياء اجمعین۔

 ترجمہ:

عمار بن موسی البرمکی کہتے ہیں اللہ رب العزت کی قسم !مجھ سے حضرت انس بن ملک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، فرمایا:اللہ رب العزت کی قسم!  مجھے علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،فرمایا:اللہ رب العزت کی قسم! مجھے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،فرمایا:اللہ رب العزت کی قسم! مجھے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:اللہ رب العزت کی قسم! مجھےجبریل علیہ السلام نے بیان کیا ،فرمایا:اللہ رب العزت کی قسم! مجھےمیکائیل علیہ السلام نے بیان کیا ،فرمایا:اللہ رب العزت کی قسم! مجھےاسرافیل علیہ السلام نے بیان کیا ،فرمایا:اللہ رب العزت کی قسم! اللہ تعالی نے مجھ سے فرمایا:اے اسرافیل ! مجھے میری عزت و جلال اور جود و کرم کی قسم ! جو کوئی ایک مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ سورۃ الفاتحہ کو ملا کر پڑھے گا، گواہ ہو جاؤ کہ بے شک میں اسے بخش دوں گا، اس کی نیکیاں قبول فرما لوں گا ، اس کے گناہوں سے درگزر کروں گا،اس کی زبان کو آگ میں نہیں ڈالوں گا،اسے قبر،آگ،قیامت  کے عذاب اورسب سے بڑی گھبراہٹ سے بچا وں گا،اور وہ انبیاء و اولیاء سے پہلےمجھ سے ملے گا۔“

تخریج حدیث:

یہ حدیث فتوحات مکیہ میں شیخ اکبرابن عربی رضی اللہ عنہ نے اپنی وصایا میں بیان فرمائی ہے۔

(فتوحات مکیہ،باب ستین وخمس مائۃ،جلد 8،صفحہ 305،دار الکتب العلمیہ،بیروت)

اسی طرح زين العابدين المناوي(متوفی:1031ھ) نے فیض القدیر میں شیخ اکبر ابن عربی رحمہ اللہ سے اس روایت کو بیان کیا۔ (فیض القدیر،حرف الفاء،جلد4، صفحہ 419، المكتبة التجارية الكبرى ، مصر)

اسی طرح ابن جوزی  رحمہ اللہ (متوفى: 597ھ) نے اپنی  کتاب المسلسلات میں شیخ اکبر ابن عربی رحمہ اللہ سےہی  اس روایت کو ذکر کیا۔     (المسلسلات،صفحہ 8)

اسی طرح علامہ  ابو بکربابن زهرء(متوفى: 497ھ) نے اپنی کتاب احاديث مسلسلات میں شیخ اکبرابن عربی رحمہ اللہ سےہی  اس روایت کو ذکر کیا۔    (احاديث مسلسلات، صفحہ 7)

علامہ شمس الدین عقیلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الفوائد الجليلۃ في مسلسلات ابن عقيلۃ میں اس روایت کو نقل کیا۔ (الفوائد الجليلۃفی مسلسلات ابن عقيلۃ،صفحہ147، دار البشائر الإسلامية، بيروت)

اسی کتاب میں ہی اس روایت کو شیخ اکبر ابن عربی  رضی اللہ عنہ کی سند سے علاوہ  اپنے شیخ کی سندسے روایت کیا ۔    (الفوائد الجليلۃفی مسلسلات ابن عقيلۃ،صفحہ147، دار البشائر الإسلامية، بيروت)

حدیث کا حکم:

اصول حدیث کی روشنی میں یہ حدیث ضعیف ہے کہ اس کی سند میں بعض راوی مجہول ہیں  اور اس کو بیان کرنا درست ہے کہ ضعیف حدیث  فضائل میں مقبول ہوتی ہے۔

علامہ عینی رحمہ اللہ (متوفى: 855ھ) نےعمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں اس روایت کو ضعیف فرمایا۔

آپ رحمہ اللہ  لکھتے ہیں:”أما حديث أبي بكر الصديق رضي الله تعالى عنه فأخرجه الحافظ أبو القاسم الغافقي الأندلسي في كتابه المسلسل بسند فيه مجاهيل أنه قال” عن النبي  صلى الله عليه وسلم   عن جبريل عليه الصلاة والسلام عن إسرافيل عليه الصلاة والسلام عن رب العزة عز وجل فقال من قرأ بسم الله الرحمن الرحيم متصلة بفاتحة الكتاب في صلاته غفرت ذنوبه “ (قلت) ضعيف“

ترجمہ:حدیث ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو حافظ ابو قاسم الغافقی اندلسی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”المسلسل“میں ایسی سند کے ساتھ روایت کیا جس میں بعض راوی مجہول ہیں کہ وہ(ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم حضرت جبریل علیہ السلام سے ،آپ علیہ السلام حضرت اسرافیل علیہ السلام سے اور آپ علیہ السلام اللہ رب العزت جل جلالہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:جس نے نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ سورۃ الفاتحہ ملا کر پڑھی اس کے گناہ بخش دئے جائیں گے۔میں (علامہ عینی رحمہ اللہ )کہتا ہوں:یہ حدیث ضعیف ہے۔

(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری،باب ما یقول بعد التکبیر،جلد 5، صفحہ 290، دار إحياء التراث العربي ،بيروت)

المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ میں ہے:”قلت:في السندين مجاهيل. قال الكوراني: لا يلزم من كون الراوي مجهولاً أن يكون الحديث موضوعاً، بل ضعيفاً لأن المجهول داخل فيمن لم يتهم بالكذب، والعلماء جوزوا العمل بالحديث الضعيف في الفضائل والترغيب والترهيب“

ترجمہ: میں کہتا ہوں: ان دونوں سندوں میں مجہول راوی ہیں اور علامہ کورانی نے فرمایا:کسی راوی کے مجہول ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حدیث مو ضوع ہو بلکہ وہ ضعیف ہوتی ہے ،کیونکہ مجاہیل میں وہ راوی بھی آتے ہیں جو متہم بالکذب نہیں ہوتے اور علماء فضائل اور ترغیب و ترہیب میں حدیث ضعیف پر عمل کے جواز کے قائل ہیں۔   (المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ،صفحہ 191، دار الكتب العلميۃ، بیروت)

ملا علی قاری رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:”جھالۃ بعض الرواۃ لاتقتضی کون الحدیث موضوعاً وکذا نکارہ الالفاظ، فینبغی ان یحکم علیہ بانہ ضعیف، ثم یعمل بالضعیف فی فضائل الاعمال“

ترجمہ: بعض راویوں کا مجہول یا الفاظ کا بے قاعدہ ہونا یہ تقاضا نہیں کرتا کہ وہ حدیث موضوع ہو، مناسب یہی ہے کہ اسے ضعیف کہا جائے، پھر فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل کیاجاتا ہے۔

(رسائل علامہ ملا علی قاری، التبیان فی بیان ما فی لیلۃ النصف من الشعبان، جلد3، صفحہ 50،    المکتبۃ المعروفیۃ،لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے:” کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجہول ہونا اگر اثر کرتا ہے تو صرف اس قدر کہ اُسے ضعیف کہاجائے نہ کہ باطل وموضوع بلکہ علما کو اس میں اختلاف ہے کہ جہالت قادح صحت ومانع حجیت بھی ہے یا نہیں۔“

 (فتاوی رضویہ،کتاب الطہارۃ،جلد5،صفحہ444،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

اہل کشف کے نزدیک اس حدیث کی حیثیت:

اہل کشف کے نزدیک بھی یہ حدیث ثابت ہے  جو کہ اس حدیث کی تقویت کا باعث ہے۔

علامہ ابو المحاسن محمد بن خليل القاوقجی(متوفى: 1305ھ) اپنی کتاب اللؤلؤ المرصوع فيما لا أصل له أو باصلہ موضوعمیں فرماتے ہیں:”فالحديث وإن لم يصح بطريق النّقل، فقد صح من طريق الكشف“

ترجمہ:یہ حدیث اگرچہ راویوں کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے لیکن بطور کشف یہ حدیث صحیح ہے۔

(اللؤلؤ المرصوع فيما لا أصل له أو بأصله موضوع، صفحہ 132، دار البشائر الإسلامية،  بيروت)

علامہ شمس الدین عقیلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الفوائد الجليلۃ في مسلسلات ابن عقيلۃ میں فرمایا: ”قال شيخنا الشيخ حسن في مسلسلاته: قد أثبته أهل الكشف“

ترجمہ:ہمارے شیخ حسن نے اپنی مسلسلات میں فرمایا: اہل کشف کے نزدیک یہ حدیث ثابت ہے۔

(الفوائد الجليلۃفی مسلسلات ابن عقيلۃ،صفحہ147، دار البشائر الإسلامية، بيروت)

محمد بن أحمد بن سعيد الحنفی(متوفى: 1150ھ)الزيادة والإحسان في علوم القرآن میں اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:”وهذا حديث عظيم، وقد احتوى على فضل جسيم، وسنده جلل، قد اجتمع على جمع من العلماء والأولياء وثلاثة من الصحابة، وسيدنا محمد عليه السلام وثلاثة من المقربين، عن ذي الجلال والإكرام، والحمد لله على هذا الفضل العظيم والشرف الفخيم“

ترجمہ:یہ حدیثِ عظیم بہت بڑے فضل پر مشتمل ہے اور اس کی سند بھی نہایت مرتبے والی ہے کہ اس حدیث پر کثیر علما و اولیا، تین جلیل القدر صحابہ ، سیدنامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور تین جلیل القدر مقربین فرشتے اللہ ذوالجلال والاکرام سے روایت کرتے ہیں۔ اس عظیم فضل و شرف پر تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں۔

(الزيادة والإحسان في علوم القرآن،جلد 2، صفحہ 132 مركز البحوث والدراسات جامعة الشارقة، الإمارات)

فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”بہت احادیث جنہیں محدثین کرام اپنے طور پر ضعیف ونامعتبر ٹھہرا چکے علمائے قلب، عرفائے رب، ائمہ عارفین، سادات مکاشفین قدسنا اللہ تعالٰی باسرارہم الجلیلہ ونور قلوبنا بانوارہم الجمیلہ انہیں مقبول ومعتمد بناتے اور بصیغ جزم وقطع حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت فرماتے اور ان کے علاوہ بہت وہ احادیث تازہ لاتے جنہیں علما اپنے زبر ودفاتر میں کہیں نہ پاتے۔۔۔بالجملہ اولیا کے لئے سوا اس سند ظاہری کے دوسرا طریقہ ارفع وعلٰی ہے ولہذا حضرت سیدی ابویزید بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ وقدس سرہ السامی اپنے زمانہ کے منکرین سے فرماتے:

”قداخذتم علمکم میتا عن میت واخذنا علمنا عن الحی الذی لایموت“

ترجمہ:تم نے اپنا علم سلسلہ اموات سے حاصل کیا ہے اور ہم نے اپنا علم حی لایموت سے لیا ہے۔

حضرت سیدی امام المکاشفین محی الملۃ والدین شیخ اکبر ابن عربی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کچھ احادیث کی تصحیح فرمائی کہ طور علم پر ضعیف مانی گئی تھیں،کماذکرہ فی باب الثالث والسبعین من الفتوحات المکیۃ الشریفۃ الالھٰیۃ الملکیۃ ونقلہ فی الیواقیت ھنا۔“

                    (فتاوی رضویہ،جلد5،صفحہ491-493،رضا فاونڈیشن،لاہور)

المیزان الکبری میں ہے:کمایقال عن جمیع مارواہ المحدثون بالسند الصحیح المتصل ینتھی سندہ الی حضرت الحق جل وعلا فکذٰلک یقال فیما نقلہ اھل الکشف الصحیح من علم الحقیقۃ“

ترجمہ:جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ جو کچھ محدثین نے سند صحیح متصل سے روایت کیا اس کی سند حضرت الٰہی عزوجل تک پہنچتی ہے یونہی جو کچھ علم حقیقت سے صحیح کشف والوں نے نقل فرمایا اُس کے حق میں یہی کہا جائےگا۔

(المیزان الکبرٰی،  فصل فی استحالہ خروج شیئ من اقوال المجتہدین ، جلد 1،صفحہ 45، مطبوعہ مصطفی البابی مصر)

کیا یہ حدیث موضوع ہے؟

علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں لکھا:”هذا باطل متناً وتسلسلاً ولولا قصد بيانه ما استجزت حكايته قبح الله واضعه وقد قرأت بخط شيخنا يعني الحافظ ابن حجر عقب المسلسل، وقد أورده روايته من طريق عبد الله بن أحمد بن عبد القاهر الطوسي، عن أبيه عن المبارك بن أحمد بن محمد النيسابوري المقري، عن أبي بكر الكاتب بسنده المتقدم ما نصه: سقط بين عمار بن ياسر وبين أنس بن مالك، وقد ذكر الخطيب في المتفق والمفترق عمار بن ياسر هذا وأدخل بينه وبين أنس داود بن عفان بن حبيب وهما كذابان“

ترجمہ: یہ روایت متنا اور تسلسلا باطل ہے۔ اور اگر اس کے موضوع ہونے کو بیان کرنا مقصود نہ ہو تواس کو روایت کو بیان نہ کرتا، اللہ تعالی اس روایت کو گھڑنے والے کو تباہ و برباد کرے اور میں نے اپنے شیخ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس مسلسل روایت پر تعقب ملاحظہ کیا ہے، انہوں نے اس روایت کو عبد اللہ بن احمد بن عبد القاہر الطوسی سے انہوں نے اپنے والداحمد بن عبد القاہر الطوسی سے انہوں نے مبارک بن احمد نیسا بوری مقری سے، انہوں نے ابو بکر کاتب سے گزشتہ سند کے ساتھ بیان کیا جس میں درج ہے:عمار بن یاسر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے درمیان  کوئی راوی ساقط ہے اور المتفق والمتفرق میں خطیب بغدادی نے ان عمار بن یاسر کا ذکر کیا اوران (عمار بن یاسر) اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ  کے درمیان داؤد بن عفان بن حبیب کو ذکر کیا ہے اور وہ دونوں کذاب  ہیں۔

                                                                              (الجواهر المكللة في الأخبار المسلسلة، امام سخاوی، صفحہ58مخطوط)

تنزيہ الشريعۃ المرفوعۃ عن الأخبار الشنيعۃ الموضوعۃ میں علامہ نور الدين علي بن محمد الكناني (متوفى: 963ھ) لکھتےہیں:” إنه لكذب بين وبهتان عظيم“

ترجمہ:یہ روایت واضح جھوٹ اور بہتان عظیم ہے۔

(تنزيہ الشريعۃ المرفوعۃ عن الأخبار الشنيعۃ الموضوعۃ، جلد 2،صفحہ 115، دار الكتب العلمية، بيروت)

علامہ سخاوی رحمہ اللہ کا موضوع کہنا:

            علامہ سخاوی رحمہ اللہ کو اس حدیث کو ”عمار بن یاسر“ کی وجہ سے موضوع  کہنے میں تسامح ہوا ہے کہ اس روایت کی سند میں عمار بن یاسر کی بجائے عمار بن موسی البرمکی ہے جس کی صراحت تمام سندوں میں موجود ہے اور خود  شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اللہ عنہ کی سند میں بھی راوی عمار بن موسی البرمکی ہی ہے۔

            امام سخاوی رحمہ اللہ نے خود اپنی کتاب الجواهر المكللة في الأخبار المسلسلةمیں اس حدیث کی سند میں راوی کا نام عمار بن موسی البرمکی ذکر فرمایا ہے۔

                                                                              (الجواهر المكللة في الأخبار المسلسلة، امام سخاوی، صفحہ58مخطوط)

            المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ میں ہے” قال إبراهيم بن حسن الكوراني، حكمه على الحديث بالوضع لا يتم لأن الراوي عن أنس في هذا الحديث هو عمار بن موسى البرمكي لا عمار بن ياسر كما في كلام ابن حجر، فإنه كذا هو ابن موسى البرمكي فيما رأيته بخط الشيخ محي الدين بن العربي في فتوحاته، وكذلك هو في مسلسلات ابن أبي عصرون فيما رأيته في نسخة صحيحة، وهكذا هو في مسلسلات السخاوي في النسخة التي عليها خطه“

ترجمہ: ابراہیم بن حسن الکورانی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اس حدیث پر وضع کا حکم لگانا درست نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے عمار بن موسی البرمکی ہیں نہ کہ عمار بن یاسر جیسا کہ علامہ ابن حجر کے کلام میں (اس کی صراحت)ہے ، اسی طرح میں نے خود فتوحات مکیہ میں  شیخ محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ کے ہاتھ سے لکھا اس راوی کا نام ابن موسی البرمکی دیکھا ہے ،اسی کی صراحت میں نے مسلسلات ابن ابو عصرون  کے صحیح نسخے میں دیکھی ہے ، بلکہ مسلسلات سخاوی میں بھی (اس راوی کا نام عمار بن موسی البرمکی )ہے جو کہ انہی کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔

  (المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ،صفحہ 190، دار الكتب العلميۃ، بیروت)

            اسی میں راوی عمار بن موسی البرمکی کے حوالے سے ہے:” فغاية ما يقال أن عمار بن موسى البرمكي لا يعرف“

ترجمہ:زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عمار بن موسی البرمکی معروف نہیں ہے۔

  (المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ،صفحہ 190، دار الكتب العلميۃ، بیروت)

            اسی میں اگلے صفحے پر ہے:”أما قول السخاوي: قبح الله واضعه فالجزم بالوضع من غير ثبوته مشكل“

ترجمہ:اور رہا امام سخاوی کا یہ قول”اللہ تعالی اس حدیث کے گھڑنے والے کو تباہ و برباد کرے“(یہ بغیر کسی دلیل کے ہے اور) بغیر کسی دلیل کےموضوع ہونے کا یقینی حکم لگانا بہت مشکل ہے۔

   (المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ،صفحہ 191، دار الكتب العلميۃ، بیروت)

اس حدیث کی ایک اور سند:

            شیخ اکبر نے اپنی کتاب مشکاۃ الانوار میں اس حدیث کی عمار بن موسی کے علاوہ  ایک اور سندبھی بیان فرمائی ہے جو کہ اس کی تقویت کا باعث ہے:”أن الشيخ الأكبر روى هذا الحديث في كتابه مشكاة الأنوار بسند ليس فيه عمار ولا داود، رويناه عن شيخنا السناري من طريق الكوراني، بسنده المذكور إلى الشيخ الأكبر، قال في مشكاة الأنوار الحديث السادس: عن محمد بن قاسم، عن عمر بن عبد المجيد، عن محمد بن حامد المقدسي، عن محمد القلانسي، عن أبي سعيد بن أحمد السجزي، عن أبي سعيد محمد بن الحسن بن علي بن محمد بن الحسن، عن عمه إسحاق بن علي، عن محمد بن مسلم، عن محمد بن خالد، عن سوار بن عاصم، عن أبيه، عن طلحة، عن مالك، عن مكحول، عن أبي مكحول، عن أبي بكر الصديق قال: بالله العظيم. وساقه قال الكوراني في سنده: من لا يعرف“

  (المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ،صفحہ 191، دار الكتب العلميۃ، بیروت)

المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ میں اس روایت کی فنی حیثیت پر کلام کرتے ہوئے فرمایا:”قلت:في السندين مجاهيل. قال الكوراني: لا يلزم من كون الراوي مجهولاً أن يكون الحديث موضوعاً، بل ضعيفاً لأن المجهول داخل فيمن لم يتهم بالكذب، والعلماء جوزوا العمل بالحديث الضعيف في الفضائل والترغيب والترهيب“

ترجمہ: میں کہتا ہوں: ان دونوں سندوں میں مجہول راوی ہیں اور علامہ کورانی نے فرمایا:کسی راوی کے مجہول ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حدیث مو ضوع ہو بلکہ وہ ضعیف ہوتی ہے ،کیونکہ مجاہیل میں وہ راوی بھی آتے ہیں جو متہم بالکذب نہیں ہوتے اور علماء فضائل اور ترغیب و ترہیب میں حدیث ضعیف پر عمل کے جواز کے قائل ہیں۔

  (المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ،صفحہ 191، دار الكتب العلميۃ، بیروت)

تھوڑے عمل پر زیادہ ثواب:

امام سخاوی رحمہ اللہ کا اس حدیث کو متناً باطل کہنا بھی قابل غور ہے کہ  تھوڑے عمل پر زیادہ اجر کا ہونا بھی حدیث کے قطعاموضوع و باطل  ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ تھوڑے عمل پر زیادہ اجر کا ثبوت تو قرآن پاک سے ہے۔ اللہ تعالی نے ایک رات کی عبادت کاہزار رات پر افضل ہونا خود بیان فرمایا، اسی طرح حدیث بطاقہ وغیرہ میں بھی عمل قلیل پر اجر کثیر کی بشارت موجود ہے۔

المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃمیں خاص اسی حدیث کے بارے میں ہے:”هذا الإنكار إنما يتم إذا كان بناء الأمر على مقتضى حديث أجرك على قدر نصبك، وأما إذا كان من باب الجود والفضل على مقتضى حديث ذكر فيه عند قول أهل الكتاب أي ربنا أعطيت هؤلاء قيراطين قيراطين وأعطيتنا قيراطاً، ونحن أكثر عملاً جواب الحق قال لهم، هل ظلمتكم من أجركم من شيء، قالوا: لا، قال: فهو فضلي أوتيه من أشاء فلا يتم الإنكار على الحديث، فالله بفضله العظيم يعطي من يشاء ما يشاء“

ترجمہ: اس حدیث کا انکار اس وقت درست ہوتا جب معاملہ  اس حدیث کے مطابق ہوتا کہ”تیرا اجر تیرے عمل کے برابر ہے“ لیکن جب  معاملہ  اس حدیث کے مطابق ہے کہ ”جب اہل کتاب نے اللہ تعالی سے عرض کیا، اے ہمارے رب!تو نے ان کو دو د و قیراط عطا فرمائے اور ہمیں ایک ایک قیراط ،(ایسا کیوں؟)جبکہ زیادہ عمل ہم نے کیا ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: کیا میں نے  تمہارے اجر میں کمی کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں ۔ اس پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: یہ میرا فضل ہے  میں جس کو چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں“ تو  اس حدیث کا انکار ممکن نہیں کیونکہ اللہ تعالی سب سے زیادہ فضل فرمانے والا ہے ، جسے چاہتا ہے جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔

   (المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ،صفحہ 191، دار الكتب العلميۃ، بیروت)

مصادر و مراجع

  • فتوحات مکیہ،شيخ اكبر ابن العربي،دار الکتب العلمیہ،بیروت
  • فیض القدیر،امام مناوي، المكتبة التجارية الكبرى ، مصر
  • الفوائد الجليلۃفی مسلسلات ابن عقيلۃ، دار البشائر الإسلامية، بيروت
  • المسلسلات،ابن الجوزي
  • احاديث مسلسلات، ابو بکربابن زهرء
  • عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری،علامه عيني، دار إحياء التراث العربي ،بيروت
  • المناهل السلسلۃ فی الأحاديث المسلسلۃ ، دار الكتب العلميۃ، بیروت
  • رسائل علامہ ملا علی قاری،  المکتبۃ المعروفیۃ،لاہور
  • اللؤلؤ المرصوع فيما لا أصل له أو بأصله موضوع، دار البشائر الإسلامية،  بيروت
  • الزيادة والإحسان في علوم القرآن، مركز البحوث والدراسات جامعة الشارقة، الإمارات
  • المیزان الکبرٰی، مطبوعہ مصطفی البابی مصر
  • الجواهر المكللة في الأخبار المسلسلة، امام سخاوی،مخطوط
  • تنزيہ الشريعۃ المرفوعۃ عن الأخبار الشنيعۃ الموضوعۃ، دار الكتب العلمية، بيروت

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button