ARTICLES

حدود حرم میں متعددبارانے والے افاقی کے لیے احرام کاحکم؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حدود حرم میں باربارانے جانے والے افاقیوں کے لیے احرام کاکیاحکم ہے ؟ (جامعہ اشرفیہ،انڈیا)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں افاقیوں کے لئے
بلااحرام’’حدود حرم‘‘میں داخل ہوناجائزنہیں ،اگرچہ وہ متعدد بار ’’حرم‘‘میں اتے ہوں کیونکہ انہیں حرم میں داخل ہونے کے لئے دو مواقیت تجاوزکرنے پڑیں گے یعنی افاقی کی میقات اورحل والوں کی میقات، اورقاعدہ یہ ہے کہ ہروہ شخص جودومواقیت تجاوزکرنے کاارادہ کرے ، اس کے لئے بلااحرام میقات تجاوزکرناجائزنہیں ہے ۔ چنانچہ قاضی مکہ مکرمہ مفتی ابوالبقاءمحمدبن احمدمکی حنفی متوفی 854ھ لکھتے ہیں : واعلم ان الاصل ان کل من قصد مجاوزۃ بمیقاتین لایجوزلہ ان یجاوزہ الاباحرامٍ ومن قصد مجاوزۃ میقات واحدحل لہ ان یجاوزہ بغیر احرام، بیانہ : من اتی میقاتابنیۃ الحجاوالعمرۃاودخول مکۃ اودخول الحرم لایجوز لہ ان یجاوزہ الاباحرام لانہ قصد مجاوزۃ میقاتین : میقات الافاقی ومیقات اھل الحل۔ ( ) یعنی،توجان لے کہ بے شک قاعدہ یہ ہے کہ ہروہ شخص جو دو مواقیت تجاوزکرنے کاارادہ کرے ،اس کے لئے بلااحرام میقات تجاوزکرنا جائزنہیں ،اورجوایک میقات تجاوزکرنے کاارادہ کرے ،اس کے لئے بلااحرام میقات تجاوزکرناجائزہے .اس کی وضاحت یہ ہے کہ جوشخص حج یا عمرہ کی نیت سے میقات کوائے یاپھرمکہ یاحرم میں داخل ہونے کی نیت سے ،تواس کے لئے بلااحرام میقات تجاوزکرناجائزنہیں ،کیونکہ اس نے دو مواقیت(یعنی)افاقی کی میقات اورحل والوں کی میقات تجاوز کرنے کا ارادہ کیاہے ۔ اورعدم جوازکی ایک وجہ ترک واجب لازم اناہے ،کیونکہ میقات کے باہرسے انے والے شخص پرحرم میں داخل ہونے کے لئے احرام واجب ہوتاہے ،اگرچہ نسک کے بجائے تجارت یاکسی اور کام کاارادہ ہو۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اورملا علی قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں : (لمن اراد دخول مکۃ او الحرم وان کان لقصد التجارۃ او غیرھا)…(ولم یرد نسکا) ای عند دخولہ فیھا ، فعندنا یجب الاحرام مطلقا۔( ) یعنی،جومکہ یاحرم میں اگرچہ تجارت یااس کے علاوہ کسی کام کے لئے داخل ہونے کاارادہ کرے ،اوراس میں داخل ہوتے وقت اس نے نسک کاارادہ نہ بھی کیاہو ،پس ہمارے نزدیک مطلقا احرام واجب ہوگا۔ اورمفتی محمدوقارالدین حنفی قادری متوفی1413ھ لکھتے ہیں : ڈرائیور اورسرکاری ملازم وغیرہ یاجوبھی شخص میقات کے باہرسے مکہ میں داخلہ کا ارادہ رکھتاہو،وہ بھی بغیراحرام کے مکہ میں نہیں جاسکتا۔( ) اورجتنی باروہ حرم میں داخل ہوں گے ،ہربارحج یاعمرہ کرناواجب ہو گا۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اورملا علی قاری لکھتے ہیں : (من دخل) ای من اھل الافاق (مکۃ)اوالحرم (بغیر احرام فعلیہ احد النسکین)ای من الحج اوالعمرۃ وکذا علیہ دم المجاوزۃ او العود۔( ) یعنی،افاق والوں میں سے جواحرام کے بغیرمکہ یاحرم میں داخل ہوگا،تواس پردونسک میں سے ایک واجب ہوگایعنی حج یاعمرہ،اوراسی طرح اس پربلااحرام میقات تجاوزکرنے کادم یالوٹنا لازم ہوگا۔ علامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اورعلماءہندکی جماعت نے لکھا ہے : ولو جاوز الميقات قاصدًا مكة بغير احرامٍ مرارًا فانه يجب عليه لكل مرةٍ اما حجة او عمرة۔( ) یعنی،اگرکوئی شخص مکہ(یاحرم)کاارادہ کرتے ہوئے کئی بار بغیراحرام میقات تجاوزکرے ،تواس پرہربارحج یاعمرہ واجب ہوگا۔ اورمفتی محمدوقارالدین قادری لکھتے ہیں : جتنی مرتبہ مکہ میں داخل ہوں گے ہرمرتبہ ایک عمرہ واجب ہوگا۔( ) واللہ تعالیٰ اعلم جمعرات،18جمادی الاخری1441ھ۔12فروری2020م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button