ARTICLESشرعی سوالات

حدودِ حرم میں جوئیں مارنے کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک خاتون نے غیر حالت احرا م میں جُوئیں ماریں جب کہ وہ حُدودِ حرم میں ہیں اب شرع مطہرہ میں اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

(السائل : ایک خاتون از لبیک حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں مذکورہ خاتون پر کچھ بھی لازم نہ ہو گا کیونکہ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ حُدودِ حرم میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں جب کہ مارنے والا حالتِ احرام میں نہ ہو جیسا کہ ’’حیاۃ القلوب‘‘ (280) میں ہے ۔ اور علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و لا شیٔ علی الحلال بقتلہا فی الحرم (281)

یعنی، غیر مُحرِم کو حرم میں جووں کو مارنے پر کچھ لازم نہیں ۔ اس کے تحت ملا علی القاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

و کذا لو قتل المحرم قملۃ فی غیر بدنہ بأن کانت علی الأرض أو نحوہا فلا شیٔ علیہ (282)

یعنی، اسی طرح اگر مُحرِم نے اپنے بدن کے علاوہ کسی اور جگہ سے جوؤں کو مارا جیسے زمین پر یا اس کی مثل (کسی اور چیز ) پر تو اس پر کچھ نہیں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأحد، 4ذوالحجۃ 1427ھ، 24دیسمبر 2006 م (323-F)

حوالہ جات

280۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب باب سیزدہم دربعضے مسائل متفرقہ، فصل دہم، ص286

281۔ لباب المناسک ،باب الجنایات، فصل فی قتل القمل، ص 234

282۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب الجنایات، فصل فی قتل القمل، ص535

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button