ARTICLESشرعی سوالات

حج یا عمرہ کا ارادہ رکھنے والا مُحرِم کب کہلائے گا؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے احرام کی چادریں پہن لیں احرام کی نیت بھی کر لی مگر تلبیہ نہیں پڑھی کیا اس کا احرام ہو گیا یا نہیں ؟

(السائل : محمد رضوان)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : یاد رہے کہ صرف دو چادروں کے پہن لینے کا نام احرام نہیں ہے اور پھر صرف نیت کر لینا مُحرِم ہونے کو کافی نہیں اگرچہ نیت زبان سے کر لے بلکہ نیت کے ساتھ تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی ایسا کام کرنا فرض ہے کہ جسے شریعت نے معتبر رکھا ہے ، چنانچہ صاحب بدائع الصنائع کے استاد علامہ علاؤ الدین ابو منصور محمد بن احمد سمرقندی متوفی 539ھ/ 540ھ لکھتے ہیں :

فأما نوی عند الإحرام و لم یذکر التلبیۃ، و لم یوجد منہ تقلید البدنۃ و السوق، لا یصیر محرماً عندنا (61)

یعنی، پس اگر احرام کے وقت نیت کی اور (کلمات) تلبیہ کو ذکر نہ کیا اور اس سے قربانی کے جانور کو ہار پہنانا اور اسے ہانکنا نہ پایا گیا تو وہ ہمارے نزدیک مُحرِم نہ ہو گا۔(62) ہاں اگر اس نے نیت کے بعد تلبیہ کی جگہ تسبیح یا تہلیل یا تحمید کی تو وہ احرام والا ہو جائے گا، چنانچہ علامہ علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی متوفی 587ھ لکھتے ہیں :

و لو ذکر مکان التلبیۃ التہلیل أو التسبیح أو التحمید أو غیر ذلک مما یقصد بہ تعظیم اللہ تعالیٰ مقروناً بالنیۃ یصیر محرماً و ہذا علی أصل أبی حنیفۃ و محمد فی باب الصلاۃ الخ (63)

یعنی، تلبیہ کی جگہ نیت کے ساتھ تہلیل یا تسبیح یا تحمید یا اس کے علاوہ ایسی چیز ذکر کی جس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے تو مُحرِم ہو جائے گا اور یہ حکم امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے باب الصلوٰۃ میں (مذکور) قاعدے کی بنا پر ہے ۔ اور علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

شرائط صحتہ الإسلام و النّیۃ و الذکر (64)

یعنی، صحتِ احرام کی شرائط اسلام ہے اور نیت ہے اور ذکر ہے ۔ اس کے تحت مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

و الأولیٰ أن یقول : و التلبیۃ و ما یقوم مقامہ من الذکر (65)

یعنی، بہتر یہ ہے کہ مصنّف فرماتے تلبیہ اور وہ ذکر جو اس کے قائم مقام ہے ۔ اور اس کے تحت علامہ حسین بن محمد سعید عبدالغنی مکی حنفی لکھتے ہیں :

إنما قال : الأولٰی دون الصواب لأن قول المصنّف : و الذکر شامل للتلبیۃ و غیرہا ووجہ الأولویۃ أن الکلام یکون مشعراً بإصالۃ التلبیۃ اھ دا مُلّا أخون جان (66)

یعنی، مُلّا علی قاری نے صواب کی بجائے اَولیٰ فرمایا کیونکہ مصنّف کا قول ذکر تلبیہ وغیرہا کو شامل ہے اور اَولَویت کی وجہ یہ ہے کہ کلام اصالۃً تلبیہ کی خبر دیتا ہے ۔ 1ھ

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأحد ، 5 محرم الحرام1429ھ، 13 ینایر2008 م (New 40-F)

حوالہ جات

61۔ تحفۃ الفقہاء، کتاب المناسک، باب الإحرام، ص196

62۔ علّامہ علاؤ الدین سمرقندی لکھتے ہیں کہ : امام شافعی کے نزدیک صرف نیت کرنے سے محرم ہوجائے گا اور کہتے ہیں کہ صحیح ہمارا قول ہے کیونکہ صرف نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف فرمادیا ہے جو اُن کے دلوں نے بات کی (یعنی دلوں میں خیال آیا) جب تک زبان سے نہ کہیں یا (عمل)نہ کریں ۔

تحفۃ الفقہاء، کتاب المناسک، باب الإحرام، ص196

63۔ بدائع الصنائع، کتاب الحج، فصل فی بیان ما یصیر بہ محرماً، 3/153

64۔ لُباب المناسک، باب الإحرام، شرائط صحتہ، ص83

65۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب الإحرام، 125

66۔ إرشاد الساری إلی مناسک الملا علی القاری، باب الإحرام، ص125

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button