بہار شریعت

حج کی صحت ادا کی شرائط

حج کی صحت ادا کی شرائط

صحت اداکے لئے نو شرطیں ہیں کہ وہ نہ پائی جایئں تو حج صحیح نہیں : ۔

(۱) اسلام ، کافر نے حج کیا تو نہ ہوا،

(۲) احرام ، بغیر احرام حج نہیں ہوسکتا،

(۳) زمان ، یعنی حج کے لئے جوزمانہ مقرر ہے اس سے قبل افعال حج نہیں ہو سکتے ۔مثلاً طواف قدوم و سعی کہ حج کے مہینوں سے قبل نہیں ہوسکتے اور وقوف عرفہ نویں کے زوال سے قبل یا دسویں کی صبح ہونے کے بعد نہیں ہو سکتا ،

(۴) مکان، طواف کی جگہ مسجدالحرام شریف ہے اور وقوف کے لئے عرفات و مزدلفہ ۔ کنکری مارنے کے لئے منی ، قربانی کے لئے حرم ۔ یعنی جس فعل کے لئے جو جگہ مقرر ہو وہ وہیں ہو گا ،

(۵)تمیز،

(۶) عقل، جس میں تمیز نہ ہو جیسے نا سمجھ بچہ یا جس میں عقل نہ ہو جیسے مجنون ۔ یہ خودوہ افعال نہیں کرسکتے جن میں نیت کی ضرورت ہے ۔ مثلاًاحرام یا طواف، بلکہ ان کی طرف سے کوئی اور کرے اور جس فعل میں نیت شرط نہیں جیسے وقوف عرفہ وہ یہ خود کرسکتے ہیں ،

(۷)فرائض حج کا بجا لانا مگر جب کہ عذر ہو،

(۸) احرام کے بعد اور وقوف سے پہلے جماع نہ ہونا ۔ اگر ہوگا حج باطل ہوجائے گا

(۹) جس سال احرام باندھا اسی سال حج کرنا لہذا اگر اس سال حج فوت ہو گیا تو عمرہ کرکے احرم کھول دے اور سال آئندہ جدید احرام سے حج کرے اور اگر احرام نہ کھولا بلکہ اسی احرام سے حج کیا تو حج نہ ہو ا(ردالمحتار ص ۱۹۳ ج ۲)

حج فرض ادا ہونے کے لیے نو شرطیں ہیں :۔

(۱) اسلام۔(۲)مرتے وقت تک اسلام پر ہی قائم رہنا،(۳) عقل،(۴) بالغ ہونا،(۵)آزاد ہونا،(۶) اگر قادر ہو تو خود ادا کرنا ،(۷) نفل کی نیت نہ ہونا ،(۸) دوسرے کی طرف سے حج کرنے کی نیت نہ ہونا، (۹) فاسد نہ کرنا۔ان میں بہت باتوں کی تفصیل مذکور ہو چکی ہے بعض کی آئندہ آئے گی۔(ردالمحتار ص۱۹۳ج۲)

حج کے فرائض

مسئلہ ۴۱: حج میں یہ چیزیں فرض ہیں ۔ (۱)احرام کہ یہ شرط ہے(۲) وقوف عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کے آفتاب ڈھلنے سے دسویں کی صبح صادق سے پیشتر تک کسی وقت عرفات میں ٹھہرنا، (۳)طواف زیارت کا اکثر حصہ یعنی چارپھیرے پچھلی دونوں چیزیں یعنی وقوف اور طواف رکن ہیں ۔(۴) نیت، (۵)تربیت یعنی پہلے احرام باندھنا پھر و قوف پھر طواف (۶)ہر فرض کا اپنے وقت پر ہونا، یعنی وقوف اس وقت ہونا جومذکورہوا اس کے بعد طواف اس کا وقت وقوف کے بعد سے آخر عمر تک ہے ، (۷) مکان۔ یعنی وقوف زمین عرفات میں ہونا سوا بطن عرفہ کے اور طواف کا مکان مسجدالحرام شریف ہے (درمختار ص ۲۰۲ ج ۲، رداالمحتار ص۲۰۲ ج۲، عالمگیری ص۲۱۹ ج۱،بحر ص۳۰۸ ج۲)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button