بہار شریعت

حج و عمرے میں خوشبو اور تیل لگانا

حج و عمرے میں خوشبو اور تیل لگانا

مسئلہ ۶: خوشبو اگر بہت سی لگائی جسے دیکھ کر لوگ بہت بتائیں اگر چہ عضو کے تھوڑے حصہ پریا کسی بڑے عضو جیسے سر ، منہ ، ران ، پنڈلی کو پورا سان دیا اگر چہ خوشبو تھوڑی ہے تو ان دونوں صورتوں میں دم ہے اور اگر تھوڑی سی خوشبو عضو کے تھوڑے سے حصہ میں لگائے تو صدقہ ہے(عالمگیریص۲۴۰۔۲۴۱ج۱‘درمختار و ردالمحتار ص۲۷۵ج۲‘ جوہرہ ص ۲۱۷‘ منسک ص۲۰۹)

مسئلہ ۷: کپڑے یا بچھونے پر خوشبوملی تو خود خوشبو کی مقدار دیکھی جائے گی زیادہ ہے تو دم اور کم ہے تو صدقہ (عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘بحر ص۳ ‘ منسک ص۲۱۵۔۲۱۶)

مسئلہ ۸ : خوشبو سونگھی پھل ہو پھول جیسے لیمو، نارنگی، گلاب، چنبیلی، بیلے جوہی وغیرہ کے پھول تو کچھ کفارہ نہیں اگرچہ محرم کو خوشبو سونگھنا مکروہ ہے۔ (ردالمحتار ص ۲۷۵ ج ۲، عالمگیری ص ۲۴۲ ج ۱، جوہرہ ص ۱۱۷، تبیین ص ۵۲ ج ۲، بحر ص ۳ ج ۳ ، منسک ص ۲۰۸، ۲۰۹ ، ۲۱۶)

مسئلہ ۹: احرام سے پہلے بدن پر خوشبو لگائی تھی احرام کے بعد پھیل کر اور اعضا کو لگی تو کفارہ نہیں (ردالمحتار ص۲۷۵ج۲‘ عالمگیری ص ۲۴۲ج۱‘ بحر ص۳ ج۳ ‘ منسک ص۲۱۶‘جوہرہ ص ۲۱۸)

مسئلہ ۱۰: محرم نے دوسرے کے بدن پر خوشبولگائی مگر اس طرح کہ ہاتھ وغیرہ کسی عضومیں خوشبو نہ لگی یا اس کو سلا ہو ا کپڑا پہنا یا تو کچھ کفارہ نہیں مگر جب کہ محرم کو خوشبو لگائی یا سلا ہو کپڑا پہنا یا تو گنہگار ہوااور جس کو لگائی یا پہنایا اس پر کفارہ واجب ہے (ردالمحتار ص ۲۷۵ج۲‘ عالمگیری ص۲۴۲ج۱‘بحر ص۴ ج۳ ‘ منسک ص۲۱۸۔۲۲۵)

مسئلہ ۱۱: تھوڑی خوشبو بدن کے متفرق حصوں میں لگائی اگر سب جمع کرنے سے پورے بڑے عضو کی مقدار کو پہنچ جائے تو دم ہے ورنہ صدقہ اور زیادہ خوشبو متفرق جگہ لگائی تو بہر حال دم ہے (ردالمحتار ص ۲۷۶ج۲‘ عالمگیری ص۲۴۱‘ ج۱‘بحر ص۴ج۳‘ تبیین ص۵۲ج۲ ‘ جوہرہ ص۱۱۷‘منسک ص۲۱۴۔۲۱۵)

مسئلہ ۱۲: ایک جلسہ میں کتنے ہی اعضا پر خوشبو لگائے بلکہ سارے بدن پر لگائے تو ایک ہی جرم ہے اور ایک کفارہ واجب اور کئی جلسوں میں لگائی تو ہر بار کے لئے الگ الگ کفارہ ہے خواہ پہلی بار کا کفارہ دے کر دوسری بار لگائی یا ابھی کسی کا کفارہ نہ دیا ہو (درمختار و ردالمحتار ص۲۷۶ج۲‘جوہرہ ص۱۱۷‘ عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘ تبیین ص۵۲ج۲‘ بحر ص۴ج۳‘ منسک ص۲۱۰)

مسئلہ ۱۳: کسی شے میں خوشبو لگی تھی اسے چھوا اگر اس سے خوشبو چھوٹ کر بڑے عضو کامل کی قدر بدن کو لگی تو دم دے اور کم ہو تو صدقہ۔ اورکچھ نہیں تو کچھ نہیں مثلاً سنگ اسود شریف پر خوشبو ملی جاتی ہے اور اگر بحالت احرام بوسہ لینے میں بہت سی لگی تو دم دے اور تھوڑی سی تو صدقہ (عالمگیری ص ۲۴۱ج۱‘ جوہرہ ص۱۱۷‘ تبیین ص۵۲ج۲‘ بحر ص۳ج۳)

مسئلہ ۱۴: خوشبو دارسرمہ ایک یا دو بار لگا یا تو صدقہ دے اس سے زیادہ میں دم اور جس سرمہ میں خوشبو نہ ہو اس کے استعمال میں حرج نہیں جب کہ بضرورت ہو اور بلا ضرورت مکروہ (منسک ص۲۱۰‘ عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘ تبیین ص۵۲ج۲‘بحر ص۴ج۳)

مسئلہ ۱۵: اگر خالص خوشبو جیسے مشک زعفران ‘ لونگ ‘ الائچی ‘ دار چینی اتنی کھائی کہ منہ کے اکثرحصہ میں لگ گئی تو دم ہے ورنہ صدقہ (درمختار و ردالمحتار ص۲۷۶ج۲‘ عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘ تبیین ص۵۳ج۲‘ جوہرہ ص۱۱۷‘بحر ص۵ج۳)

مسئلہ ۱۶: کھانے میں پکتے وقت خوشبو پڑی یا فنا ہو گئی تو کچھ نہیں ورنہ اگر خوشبو کے اجزا زیادہ ہوں تو وہ خالص خوشبو کے حکم میں ہے اورکھانا زیادہ ہو تو کفارہ کچھ نہیں مگر خوشبو آتی ہو تو مکروہ ہے ( عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۲۷۷ج۱‘ تبیین ص۵۳ج۲‘ بحر ص۴ج۳‘منسک ص۲۱۰تا۲۱۳)

مسئلہ ۱۷: پینے کی چیز میں خوشبوملائی۔ اگرخوشبو غالب ہے یا تین بار یا زیادہ پیا تو دم ہے ورنہ صدقہ ( درالمحتار ص۲۷۷ج۲‘عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘ تبیین ص۵۳ج۲‘ بحر ص۵ج۳، منسک ص۲۱۳)

مسئلہ ۱۸: تمباکو کھانے والے اس کا خیال رکھیں کہ احرام میں خوشبو دار تمباکو نہ کھائیں کہ پتیوں میں ویسے ہی کچی خوشبو ملائی جاتی ہے اور قوام میں بھی اکثر پکانے کے بعد مشک وغیرہ ملاتے ہیں ۔

مسئلہ ۱۹: خمیرہ تمباکو نہ پینا بہتر ہے کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے مگر پیا تو کفارہ نہیں ۔

مسئلہ ۲۰: اگر ایسی جگہ گیا جہاں خوشبو سلگ رہی ہے اور اس کے کپڑے بھی بس گئے تو کچھ نہیں اور سلگا کر اس نے خود بسائے تو قلیل میں صدقہ اور کثیر میں دم اور نہ بسے تو کچھ نہیں اور احرام سے پہلے بسایا تھا اور احرام میں پہنا تو مکروہ ہے مگرکفارہ نہیں (عالمگیری ، منسک ص۲۱۶بحر ص۳ج۳)

مسئلہ ۲۱: سر پر مہندی کا پتلا خضاب کیا کہ بال نہ چھپے تو ایک دم ‘اور گاڑی تھوپی کہ بال چھپ گئے اور چار پہر گزرے تو مرد پر دو دم اور چار پہر سے کم میں ایک دم اور ایک صدقہ ‘ اور عورت پر بہر حال ایک دم‘ چوتھائی سر چھپنے کا بھی یہی حکم ہے اور چوتھائی سے کم میں صدقہ ہے ‘اور سر پر وسمہ پتلا پتلا لگایا تو کچھ نہیں اور گاڑھا ہوتو مردکو کفارہ دینا ہوگا(جوہرہ ص۱۱۷‘ درمختار و ردالمحتار ص۲۷۷ج۲‘ عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘تبیین ص ۵۲ج۲‘ بحر ۴۔۵ ج۳ منسک ص۲۱۶۔۲۱۷)

مسئلہ ۲۲: داڑھی میں مہندی لگائی جب بھی دم واجب ہے پوری ہتھیلی یا تلوے میں لگائی تو دم دے مرد ہویا عورت اور چاروں ہاتھ پاوں میں ایک ہی جلسہ میں لگائی جب بھی ایک ہی دم ہے ورنہ ہر جلسہ پر ایک دم اور ہاتھ پاوں کے کسی حصہ میں لگائی تو صدقہ (درمختار و ردالمحتار ص۲۷۶ج۲‘تبیین ص ۵۲ج۲‘ بحر ص۵ج۲‘ منسک ص۲۱۷‘ جوہرہ )

مسئلہ ۲۳: خطمی سے سر یا داڑھی دھوئی تو دم ہے (عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘تبیین ص۵۳ج۲‘منسک ص۲۱۷)

مسئلہ ۲۴ : عطر فروش کی دوکان پر خوشبو سونگھنے کے لئے بیٹھا تو کراہت ہے ورنہ حرج نہیں ( عالمگیری ص۲۴۲ج۱‘ تبیین ص۵۲ج۲‘ بحر ص۳ج۳)

مسئلہ ۲۵: چادر یا تہبند کے کنارے میں مشک ‘عنبر ‘زعفران باندھا اگر زیادہ ہے اور چار پہر گزرے تو دم ہے اور کم ہے تو صدقہ (درمختار و ردالمحتار ج۲‘ بحر ص۳ج۳‘ منسک ص۲۱۶)

مسئلہ ۲۶: خوشبو استعمال کرنے میں بقصد یا بلا قصد ہونا‘ یاد کرکے یا بھولے سے ہونا مجبوراً یا خوشی سے ہونا مرد و عورت دونوں کے لئے سب کا یکساں حکم ہے (عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘ بحر ص۶ج۳‘درمختار و ردالمحتار ص۲۷۴ج۲ منسک ص۲۱۸)

مسئلہ ۲۷: خوشبو لگانا جب جرم قرار پایا تو بدن یا کپڑے سے دور کرنا واجب ہے اور کفارہ دینے کے بعد زائل نہ کیا تو پھردم

وغیرہ واجب ہوگا (عالمگیری ص۲۴۲ج۱‘بحر ص۳ج۳‘ درمختار ص۲۷۶ج۲)

مسئلہ ۲۸: خوشبو لگانے سے بہر حال کفارہ واجب ہے اگر چہ فوراً زائل کردی ہو اور اگر کوئی غیر محرم ملے تو اس سے دھلوائے اور اگر صرف پانی بہانے سے دھل جائے تو یونہی کرے ( بحر ص۳ج۳ ‘ ردالمحتار ص۲۷۶ج۲‘ منسک)

مسئلہ ۲۹ : روغن چنبیلی وغیرہ خوشبودار تیل لگا نے کا وہی حکم ہے جو خوشبو استعمال کرنے میں تھا (عالمگیری ص۲۴۰ج۱‘جوہرہ ص۱۱۷‘ردالمحتار ص۲۷۷ج۲‘منسک ص۲۱۷)

مسئلہ ۳۰: تل اور زیتون کا تیل خوشبو کے حکم میں ہے اگر چہ ان میں خوشبو نہ ہو البتہ ان کے کھانے اور ناک میں چڑھانے اور زخم پر لگانے اور کان میں ٹپکانے سے صدقہ واجب نہیں (ردالمحتار ص۲۷۷ج۲‘بحر ص۵ج۳‘ منسک ص۲۱۷)

مسئلہ ۳۱: مشک عنبر زعفران وغیرہ جو خود ہی خوشبو ہیں ۔ ان کے استعمال سے مطلقاًکفارہ لازم ہے اگر چہ دواء ًاستعمال ہو یہ اس صورت میں ہے جب کہ ان کو خالص استعمال کریں اور اگر دوسری چیز جو خوشبو دار نہ ہو اس کے ساتھ ملا کر استعمال کیا تو غالب کا اعتبار ہے اور دوسری چیز میں ملا کر پکا لیا ہو تو کچھ نہیں (درمختار ص۲۷۷ج۲‘ عالمگیری ص۲۴۰ج۱‘ بحر ص۵ج۳ ‘ منسک ص۲۱۴)

مسئلہ ۳۲: زخم کا علاج ایسی دوا سے کیا جس میں خوشبو ہے پھر دوسرا زخم ہوا اس کا علاج پہلے کے ساتھ کیا تو جب تک پہلا اچھا نہ ہو اس دوسرے کی وجہ سے کفارہ نہیں اور پہلے کے اچھے ہونے کے بعد بھی دوسرے میں خوشبو دار دوالگائی تو دو کفارے واجب ہیں (عالمگیری ص۲۴۱ج۱‘ تبیین ص۵۳ج۲‘ بحر ص۴ج۳ ‘ منسک ص۲۱۴)

مسئلہ ۳۳: کسم یا زعفران کا رنگا ہو کپڑا چارپہر پہنا تو دم دے اور اس سے کم تو صدقہ اگرچہ فوراً اتار ڈالا(منسک ص۲۱۵‘ عالمگیری )

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button