ARTICLES

حج واجب ہونے کی کتنی اورکون سی شرائط ہیں ؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حج واجب ہونے کی کتنی اورکون سی شرائط ہیں ؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حج واجب ہونے کی اٹھ شرائط ہیں ، جوکہ درج ذیل ہیں ۔

(1)مسلمان ہونا :

قران کریم میں ہے :

(و للٰہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا) ([8])

ترجمہ،اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (کنز الایمان) اس ایت میں حج کی فرضیت کابیان ہے ۔چنانچہ صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مرادابادی حنفی متوفی١٣٦٧ھ لکھتے ہیں : اس ایت میں حج کی فرضیت کابیان ہے (خزائن العرفان) چنانچہ امام علاء الدین ابوبکربن مسعودکاسانی حنفی متوفی٥٨٧ھ لکھتے ہیں :

لان المراد منہ المؤمنون بدلیل سیاق الایۃ ،وھو قولہ : (ومن کفر فان اللہ غنی عن العالمین) ([9])

یعنی،کیونکہ ایت کے سیاق کی دلیل کے سبب اس سے مراد مومنین ہیں ،اوروہ سیاق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’اورجو منکرہوتواللہ سارے جہاں سے بے پروا ہے ‘‘(کنز الایمان) علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی١١٣٧ھ لکھتے ہیں :

(و للٰہ علی الناس) وھم المؤمنون دون الکفار([10])

یعنی،(و للٰہ علی الناس)میں "الناس”سے مرادمومنین ہیں نہ کہ کفار۔ اورمفتی احمدیارخان نعیمی حنفی متوفی١٣٩١ھ/١٩٧١م لکھتے ہیں : یہاں ناس سے مراد مسلمان ہیں کیونکہ کافر پر کوئی عبادت فرض نہیں سوا ایمان کے ۔(نورالعرفان) لہٰذاحج فرض ہونے کی شرائط سے مسلمان ہوناہے ،اور یہی فقہاء کرام کی عبارات سے واضح ہے ۔ چنانچہ علامہ ابو الحسن علاء الدین علی بن بلبان حنفی متوفی٧٣٩ھ لکھتے ہیں :

شرط الوجوب، وھو : الاسلام([11])

یعنی،وجوب حج(یعنی فرضیت حج) کی شرط مسلمان ہوناہے ۔ اورعلامہ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم حلبی حنفی متوفی٩٥٦ھ لکھتے ہیں :

فرض فی العمرمرۃً علی الفور،خلافا لمحمدٍ بشرط اسلامٍ([12])

یعنی،عمر میں ایک بارعلی الفورحج اداکرنا شرط اسلام کے ساتھ فرض کیاگیاہے ،بخلاف امام محمد کے (یعنی امام محمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک فوری طورپر حج کرنافرض نہیں )۔ اورعلامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی٩٩٣ھ لکھتے ہیں :

الاول منھا : الاسلام([13])

یعنی،فرضیت حج کی شرائط میں سے پہلی شرط مسلمان ہوناہے ۔ اورعلامہ مصطفی بن احمد اسقاطی حنفی متوفی بعدسنۃ١١٦٣ھ لکھتے ہیں :

الحج فرض فی العمر مرۃً بشرط الاسلام([14])

یعنی،حج عمرمیں ایک ہی بارشرط اسلام کے ساتھ فرض ہے ۔

(2)دارالحرب میں رہنے والے کوحج کی فرضیت معلوم ہو۔

علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں :

الثانی : العلم بکون الحج فرضا ، لمن فی دار الحرب بخبر عدلٍ([15])

یعنی،حج فرض ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ دارالحرب میں رہنے والے کوایک عادل کی خبرکے ساتھ حج کی فرضیت کا علم ہو۔

(3)بالغ ہونا۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

عن ابن عباسٍ قال : قال رسول اللٰہ صلی اللہ علیہ وسلم : ایما صبی حج ثم بلغ الحنث علیہ ان یحج حجۃً اخری([16])

یعنی،حضرت ابن عباس  سے روایت ہے : انہوں نے کہاکہ اللہ کے رسول ﷺنے ارشادفرمایاہے : کوئی بچہ جب حج کرنے کے بعد بالغ ہوجائے تو اس پر دوبارہ حج کرنالازم ہوگا۔ ایک اورحدیث شریف میں ایاہے جسے امام برہان الدین ابوالحسن علی بن ابی بکرمرغینانی حنفی متوفی٥٩٣ھ نے نقل کیاہے کہ :

وایما صبی حج عشر حجج ثم بلغ فعلیہ حجۃ الاسلام([17])

یعنی،اورکوئی بچہ دس بارحج کرچکاہو پھروہ بالغ ہوتواس پرفرض حج لازم ہوگا۔ اس سے معلوم ہواکہ فرضیت حج کے لئے بالغ ہوناشرط ہے ورنہ جوبچہ بلوغت سے قبل حج کرچکاہو،اس پربالغ ہونے کے بعددیگرشرائط پائے جانے کی صورت میں حج کرنالازم نہ اتا۔

(4)عاقل ہونا۔

حدیث شریف میں ہے :

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ” رفع القلم عن ثلاثۃٍ : عن النائم حتی یستیقظ،وعن المبتلی حتی یبرا، وعن الصبی حتی یکبر([18])

یعنی،ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ  سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺنے ارشادفرمایا : کہ تین ادمیوں سے قلم اٹھالیا گیاہے (١)سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے (٢)پاگل پن میں مبتلاادمی سے یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہوجائے (٣)بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے ۔

(5)ازاد ہونا۔

حدیث شریف میں ہے :

وایما عبدٍ حج ثم عتق فعلیہ ان یحج حجۃً اخری([19])

یعنی،اورجب کوئی غلام حج کرنے کے بعدازادہوجائے تواس پردوبارہ حج کرنالازم ہوگا۔ اورایک حدیث شریف میں یہ کلمات ہیں جیساکہ امام برہان الدین ابوالحسن علی بن ابی بکرمرغینانی حنفی متوفی٥٩٣ھ نقل کرتے ہیں :

ایما عبدٍ حج عشر حجج ثم اعتق فعلیہ حجۃ الاسلام([20])

یعنی،کوئی غلام دس بارحج کرچکاہوپھروہ ازادکردیاجائے تواس پرفرض حج لازم ہوگا۔ واضح رہے کہ حدیث شریف میں بچے اورغلام کے لئے دس کاعددبیان کثرت کے لئے ہے ،نہ اس لئے کہ حکم کاانحصار اسی پر ہے ۔ چنانچہ علامہ بدرالدین عینی حنفی متوفی٨٥٥ھ لکھتے ہیں :

وذکر هذا فیہ لبیان الکثرۃ ؛ لان العشر منتہی الاحاد، لا لبیان انحصار الحکم علیہا([21])

یعنی،بچے اورغلام کے لئے دس کاعددبیان کثرت کے لئے ہے کیونکہ دس احادکی انتہاء ہے ،دس کاعدداس لئے نہیں کہ حکم کاانحصار اسی پر ہے ۔ لہذاحج فرض ہونے کی شرائط سے عاقل ،بالغ اورازادہونا بھی ہے اوریہی عبارات فقہاء سے واضح ہے ۔ چنانچہ امام برہان الدین ابواسحاق ابراہیم بن موسی طرابلسی حنفی متوفی٩٢٢ھ/١٥١٦م لکھتے ہیں :

فرض فی العمر مرۃ…..بشرط حریۃ،وعقل ،وبلوغ([22])

یعنی،حج عمر میں ایک بارازادی،عقل،اوربلوغت کی شرط کے ساتھ فرض کیاگیاہے ۔ نیزعلامہ رحمت اللہ سندھی نے "لباب المناسک وعباب المسالک” ([23])میں اورعلامہ حسن بن عماربن علی شرنبلالی حنفی متوفی١٠٦٩ھ نب”مراقی الفلاح "([24])میں ان تینوں کووجوب حج کی شرائط ہی میں لکھاہے ۔

اعتراض : ۔

اگرکوئی یہ کہے کہ غلام پر حج کیوں فرض نہیں حالانکہ اس پرنمازاور روزہ واجب ہوتے ہیں تواس کاکیاجواب ہوگا؟ چنانچہ علامہ ابو بکربن علی بن محمدزبیدی حنفی متوفی٨٠٠ھ لکھتے ہیں :

فان قیل ما الفرق بین الصلاۃ والصوم وبین الحج فی حق العبد ،حتی وجبا علیہ دون الحج؟([25])

یعنی،پس اگرکہاجائے کہ نمازوروزہ اورحج کے درمیان غلام کے حق میں کیافرق ہے یہاں تک کہ اس پردونوں یعنی نمازاور روزہ واجب ہوتے ہیں نہ کہ حج؟ جواب : ۔حج کرنے کے لئے اکثرمال کی ضرورت ہوتی ہے ،اور غلام کسی شے کی ملکیت نہیں رکھتا۔

چنانچہ قران کریم میں ہے : عبدًا مملوکًا لا یقدر علٰی شیئٍ([26])

ترجمہ،ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک اپ کچھ مقدور (طاقت) نہیں رکھتا (کنز الایمان) لہذاغلام پر حج فرض نہیں ۔ چنانچہ علامہ زبیدی لکھتے ہیں :

قیل ؛ لان الحج لا یتاتی الا بالمال غالبًا، والعبد لا یملک شیئًا قال اللہ تعالی : (عبدًا مملوکًا لا یقدر علٰی شیئٍ) ([27])

یعنی،کہاجائے گااس لئے کہ حج غالبامال کے بغیرادانہیں ہوتاہے اور غلام کسی شے کی ملکیت نہیں رکھتا،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’ایک بندہ ہے دوسرے کی ملک اپ کچھ مقدورنہیں رکھتا‘‘ ۔ اور اس لئے کہ حج کرنے کی صورت میں اقاکاطویل عرصے تک کے لئے حق فوت ہوگا،پس بندہ چونکہ محتاج ہے ،جبکہ اللہ تعالیٰ توبے نیازہے ،لہذابندے کا حق پہلے ہوگابخلاف نمازاور روزہ کے ،کیونکہ یہ دونوں مال کے بغیراداہوتے ہیں ،نیز ان دونوں کی ادائیگی کے سبب مولیٰ کی خدمت منقطع بھی نہ ہوگی۔ چنانچہ اگے لکھتے ہیں :

ولان حق المولی فی الحج یفوت فی مدۃٍ طویلۃٍ ، فقدم حق العبد علی حق اللہ لافتقار العبد ، وغنی اللہ بخلاف الصلاۃ والصوم، فانہما یتادیان بغیر المال ولا ینقطع خدمۃ المولی بہما([28])

یعنی،اور اس لئے کہ حج کرنے کی صورت میں اقاکاطویل عرصے تک کے لئے حق فوت ہوگا،پس بندہ چونکہ محتاج ہے ،جبکہ اللہ تعالیٰ توبے نیازہے ،لہذابندے کا حق پہلے ہوگابخلاف نمازاور روزہ کے ،کیونکہ یہ دونوں مال کے بغیراداہوتے ہیں ،نیز ان دونوں کی ادائیگی کے سبب مولیٰ کی خدمت منقطع بھی نہ ہوگی۔

(6)تندرست ہونا : ۔

تندرست ہونا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے وجوب حج کے لئے استطاعت کو شرط قراردیاہے ،نیز حدیث شریف میں "سبیلا "کی تفسیرصحیح البدن سے بھی کی گئی ہے ۔ چنانچہ علاء الدین کاسانی حنفی متوفی٥٨٧ھ لکھتے ہیں :

ومنہا : صحۃ البدن….لان اللہ تعالی شرط الاستطاعۃ لوجوب الحج، والمراد منہا استطاعۃ التکلیف، وهی سلامۃ الاسباب، والالات، ومن جملۃ الاسباب سلامۃ البدن عن الافات المانعۃ عن القیام بما لا بد منہ فی سفر الحج ؛ لان الحج عبادۃ بدنیۃ، فلا بد من سلامۃ البدن، ولا سلامۃ مع المانع . وعن ابن عباسٍ- رضی اللہ عنھما – فی قولہ -عز وجل – : (من استطاع الیہ سبیلا)[اٰل عمرٰن : ٩٧]ان السبیل ان یصح بدن العبد، ویکون لہ ثمن زادٍ، وراحلۃٍ من غیر ان یحجب ، ولان القرب والعبادات وجبت بحق الشکر ؛ لما انعم اللہ علی المکلف ، فاذا منع السبب الذی ھو النعمۃ – وھو سلامۃ البدن او المال کیف یکلف بالشکر، ولا نعمۃ. ([29])

یعنی،وجوب حج کی شرائط سے بدن کی صحت بھی ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وجوب حج کے لئے استطاعت کو شرط قراردیاہے ،اوراس سے مرادتکلیف اٹھانے کی استطاعت ہے ،اوروہ اسباب والات کاسلامت ہوناہے ،اورمن جملہ اسباب میں سے بدن کاافات سے سلامت ہوناکہ جوسفر حج میں رکاوٹ بنیں ،کیونکہ حج بدنی عبادت ہے لہذابدن کی سلامتی ضروری ہے ،اورمانع کے ساتھ سلامتی نہیں ،اورحضرت ابن عباسسے اللہ عزوجل کے فرمان(من استطاع الیہ سبیلا)کے بارے میں روایت ہے : بے شک سبیل سے مراد یہ ہے کہ بندے کا بدن صحیح ہو،اوراس کے پاس توشہ(یعنی راستے کاخرچ)ہو،اوربغیررکاوٹ کے
سواری(پرقادرہو)ہو([30])، اورصحیح البدن ہونااس لئے بھی وجوب حج کی شرائط سے ہے کہ مکلف(یعنی عاقل بالغ)پر نیکیاں اورتمام عبادتیں اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمت کے شکر میں واجب ہوتی ہیں ،توجب(وجوب عبادات کا)سبب ہی روک دیاجائے جوکہ سلامت بدن یامال کی نعمت ہے تواسے حصول نعمت کے بغیرشکرکی ادائیگی کاکیسے مکلف یعنی پابندبنایاجاسکتاہے ۔ لہذا مفلوج (یعنی فالج زدہ)،اپاہج(یعنی چلنے پھرنے سے معذور)،جس کے دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں اور بوڑھے پر کہ سواری پر خود نہ بیٹھ سکتا ہو حج فرض نہیں ، یوہیں اندھے پر بھی واجب نہیں اگرچہ ہاتھ پکڑکر لے چلنے والا اسے ملے ،نیزان سب پر یہ بھی واجب نہیں کہ کسی کوبھیج کر اپنی طرف سے حج کرا دیں یا وصیت کر جائیں ۔ چنانچہ امام کمال الدین محمدبن عبدالواحدابن ہمام حنفی متوفی٨٦١ھ لکھتے ہیں :

حتی ان المقعد والزمن والمفلوج، ومقطوع الرجلین لا یجب علیہم الاحجاج اذا ملکوا الزاد والراحلۃ ، ولا الایصاء بہ فی المرض، وکذا الشیخ الذی لا یثبت علی الراحلۃ([31])

یعنی،یہاں تک کہ لنگڑے ،اپاہج،اورمفلوج،اورجس کے دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں ،ان سب پرحج واجب نہیں ہے ،نیزان سب پر یہ بھی واجب نہیں کہ کسی کوبھیج کر اپنی طرف سے حج کروالیں اگرچہ توشہ اور سواری کے مالک ہوں اور حالت مرض میں اس کی وصیت کرجانا بھی واجب نہیں ،اور ایسے بوڑھے پر بھی حج لازم نہیں کہ جو( خود)سواری پرنہ بیٹھ سکتاہو۔ اورصدرالشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی١٣٦٧ھ لکھتے ہیں : تندرست ہوکہ حج کو جاسکے ، اعضاسلامت ہوں ، انکھیارا (انکھوں والا )ہو،اپاہج اور فالج والے اور جس کے پاؤں کٹے ہوں اور بوڑھے پر کہ سواری پر خود نہ بیٹھ سکتا ہو حج فرض نہیں ۔ یوہیں اندھے پر بھی واجب نہیں اگرچہ ہاتھ پکڑکر لے چلنے والااسے ملے ۔ ان سب پر یہ بھی واجب نہیں کہ کسی کوبھیج کر اپنی طرف سے حج کرا دیں یا وصیت کر جائیں ۔([32])

(7)زادراہ (یعنی راستے کے خرچ)کامالک ہو اور سواری پر قادر ہو۔

حدیث شریف میں ہے :

عن ابن عمر قال : جاء رجل الی النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم فقال : یا رسول اللہ، ما یوجب الحج؟ قال : الزاد والراحلۃقال ابو عیسی : ہذا حدیث حسن .والعمل علیہ عند اهل العلم : ان الرجل اذا ملک زادًا وراحلۃً وجب علیہ الحج([33])

یعنی،حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہاکہ ایک مرد نبی علیہ الصلوۃ و السلام ﷺ کے پاس ائے توعرض کی : اے اللہ کے رسول کیاچیزحج کوواجب کرتاہے ؟فرمایا : توشہ اور سواری۔ امام ابوعیسی ترمذی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے اوراسی پر اہل علم کے نزدیک عمل ہے : کہ بے شک جب کوئی شخص توشہ اورسواری کا مالک ہوتواس پر حج واجب ہوگا۔ لہذاوجوب حج کی شرائط سے یہ بھی ہے کہ سفر خرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہو۔ چنانچہ امام طرابلسی لکھتے ہیں :

وشرطوا ملک الزاد …. والراحلۃ([34])

یعنی،فقہاء کرام نے وجوب حج کے لئے ملکیت توشہ اورسواری کی شرط لگائی ہے ۔ اورسواری میں ضروری نہیں کہ وہ اس کامالک ہو،اگرکرایہ پرلینے پرقادرہوتوبھی یہ شرط پائی جائے گی۔چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی ١١٦١ھ اورعلماء ہندکی جماعت نے ’’سراج الوھاج‘‘کے حوالے سے لکھا ہے :

ومنہا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ بطریق الملک او الاجارۃ ….کذا فی السراج الوهاج([35])

یعنی،وجوب حج کی شرائط سے یہ بھی کہ توشہ کامالک ہواور سواری پر قادر ہوخواہ سواری اس کی ملک ہو یا اس کے پاس اتنا مال ہو کہ کرایہ پر لے سکے ۔ اورصدرالشریعہ لکھتے ہیں : سفرخرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہوخواہ سواری اس کی ملک ہو یا اس کے پاس اتنا مال ہو کہ کرایہ پر لے سکے ۔([36])

٭زادراہ اورسواری کی تفسیر : ۔

سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ چیزیں اس کی حاجت سے فاضل ہوں یعنی مکان ولباس و خادم اور سواری کا جانور اور پیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان اور دین سے اتنا زائد ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جائے اور وہاں سے سواری پر واپس ائے اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑجائے اور جانے انے میں اپنے نفقہ اور گھر اہل وعیال کے نفقہ میں قدر متوسط کا اعتبار ہے نہ کمی ہو نہ اسراف۔ عیال سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا نفقہ اس پر واجب ہے ، یہ ضروری نہیں کہ انے کے بعدبھی وہاں اور یہاں کے خرچ کے بعد کچھ باقی بچے ۔([37]) چنانچہ امام شمس الدین ابوبکرمحمدبن احمد سرخسی حنفی متوفی ٤٩٠ھ لکھتے ہیں :

وتفسیر ملک الزاد والراحلۃ ان یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ، وہو ما سوی مسکنہ ولبسہ وخدمہ، واثاث بیتہ قدر ما یبلغہ الی مکۃ ذاهبًا وجائیًا راکبًا لا ماشیًا وسوی ما یقضی بہ دیونہ ویمسک لنفقۃ عیالہ، ومرمۃ مسکنہ ونحوہا الی وقت انصرافہ([38])

یعنی،توشہ اورسواری کی وضاحت یہ ہے کہ اس کے پاس حاجت سے زائد مال ہواوروہ اس کے مکان ،لباس ، خادم،گھر کے سامان کے سواہو اتنا ہو جواسے سواری پر مکہ معظمہ پہنچائے اور وہاں سے سواری پر واپس لے ائے نہ کہ پیدل اوراس کے سواہوکہ جس سے اس کے قرض اداہوں اور جانے سے واپسی تک اس کے عیال کا نفقہ اور اس کے مکان کی مرمت کے لیے اوراس کی مثل کے لئے مال چھوڑجائے ۔ انہی کے حوالے سے علامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اورعلماء ہند کی جماعت نب’’الفتاوی الھندیۃ ‘‘([39])میں نقل کیاہے ۔ اورجس کی بسر اوقات تجارت پر ہے اور اتنی حیثیت ہوگئی کہ اس میں سے اپنے جانے انے کا خرچ اور واپسی تک بال بچوں کی خوراک نکال لے تو اتنا باقی رہے گا، جس سے اپنی تجارت بقدر اپنی گزر کے کرسکے تو حج فرض ہے ورنہ نہیں اور اگر وہ کاشتکار ہے تو ان سب اخراجات کے بعد اتنا بچے کہ کھیتی کے سامان ہل بیل وغیرہ کے لیے کافی ہو تو حج فرض ہے اور پیشہ والوں کے لیے ان کے پیشہ کے سامان کے لائق بچنا ضروری ہے ۔([40]) البتہ یہ واضح رہے ،مکہ مکرمہ اور اوراس کے گردونواح والوں پر حج واجب ہوگاجبکہ ان کے اورمکہ مکرمہ کے درمیان تین روزسے کم کافاصلہ ہو،بشرطیکہ وہ چلنے پر قدرت رکھتے ہوں ،اوراگرچہ وہ سواری پر قادرنہ ہوں ۔ چنانچہ علامہ نظام الدین اورعلماء ہند کی جماعت نے ‘‘الینابیع’’کے حوالے سے لکھاہے :

وفی الینابیع یجب الحج علی اہل مکۃ، ومن حولہا ممن کان بینہ وبین مکۃ اقل من ثلاثۃ ایامٍ اذا کانوا قادرین علی المشی، وان لم یقدروا علی الراحلۃ([41])

یعنی،اور’’الینابیع‘‘میں ہے : مکہ مکرمہ اور اوراس کے گردونواح والوں پر حج واجب ہوگاجبکہ ان کے اورمکہ مکرمہ کے درمیان تین روزسے کم کافاصلہ ہو،بشرطیکہ وہ چلنے پر قدرت رکھتے ہوں ،اوراگرچہ وہ سواری پر قادرنہ ہوں ۔

(8)وقت : ۔

چنانچہ قران کریم میں ہے :

الحج اشہر معلومٰت([42])

ترجمہ،حج کے کئی مہینے ہیں جانے ہوئے (کنز الایمان) ایت میں جانے ہوئے مہینوں سے مراد : شوال ،ذوالقعدہ اور ذی الحجہ کی (ابتدائی)دس تاریخیں ہیں ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

عن ابن عباسٍ، فی قول اللٰہ : (الحج اشہر معلومات)،قال : شوال،وذو القعدۃ، وعشر من ذی الحجۃ،لا یفرض الحج الا فیہن([43])

یعنی، اللہ تعالیٰ کے فرمان(الحج اشہر معلومٰت)کے بارے میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : (جانے ہوئے مہینوں سے
مراد)شوال،ذوالقعدہ اورذی الحجہ کے دس روزہیں ،اورحج نہیں فرض کیاجاتا مگرانہی ایام میں ۔ اور عندالاحناف بھی حج کے یہی مہینے ہیں ۔چنانچہ ملاعلی قاری حنفی متوفی١٠١٤ھ (اشہرمعلومٰت)کے تحت لکھتے ہیں :

ای : معروفات مشھورات وھی شوال وذی القعدۃ وعشر ذی الحجۃ عندنا وتسع عند الشافعی وذوالحجۃ کلہ عند مالک وثمرۃ الاختلاف مبینۃ فی کتب الخلاف وسمی شھران وبعض الشھر اشھرا اقامۃ للاکثر مقام الکل([44])

یعنی،ایت میں معلومات سے مرادجانے ہوئے مشہورمہینے ہیں اوروہ ہمارے یعنی احناف کے نزدیک شوال،ذوالقعدہ اورذی الحجہ کے دس روزہیں ،اورامام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک دس(10) روزکے بجائے ذی الحجہ کے
نو(9)روزہیں ،جبکہ امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک مکمل ذوالحجہ اشہرحج میں داخل ہے ،اوراختلاف کاثمرہ اختلاف کی کتب میں واضح ہے اورایت میں دومہینے اور ایک ماہ کے بعض کو’’اشہر‘‘(یعنی مہینوں )کانام دیاہے ،اکثرکوکل کے قائم مقام قائم کرتے ہوئے ۔ لہذاحج کے مہینوں میں بقیہ تمام شرائط بھی پائے جائیں توحج فرض ہوگاورنہ نہیں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

٢١ذوالحجہ١٤٤٠ھ۔٢٣،اغسطس٢٠١٩م

حوالہ جات

([8]) اٰل عمرٰن٣/٩٧

([9])بدائع الصنائع ، کتاب الحج ، فصل فی شرائط فرضیتہ ، ٣/٤٥

([10]) تفسیر روح البیان،سورۃ اٰل عمرٰن،تحت الایۃ٩٧،٢/٨٤

([11])عمدۃ السالک فی المناسک،الباب السادس فی ارکان الحج وواجباتہ وسننہ وادابہ وشرائطہ،ص٢١١

([12])ملتقی الابحر،کتاب الحج،ص١٩٣

([13])(لباب المناسک وعباب المسالک ، باب شرائط الحج ، النوع الاول : شرائط الوجوب ، ص٦١)

([14])کفایۃ المبتدی وتذکرۃ المنتھی مع شرحہ ،کتاب الحج،ص١٢٩

([15])لباب المناسک وعباب المسالک ، باب شرائط الحج ، النوع الاول : شرائط الوجوب ، ص٦٢

([16]) المعجم الاوسط للطبرانی،باب من اسمہ ابراہیم،برقم٢٧٣١،٢/١٢١

([17])الھدایۃ ،کتاب الحج،١۔٢/١٦١

([18])سنن ابی داود،کتاب الحدود،باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا، برقم٤٣٩٨،٤/٣٦٣

([19])المعجم الاوسط للطبرانی،باب من اسمہ ابراہیم،برقم٢٧٣١،٢/١٢١

([20])الھدایۃ ،کتاب الحج،١۔٢/١٦١

([21])البنایۃ شرح الھدایۃ،کتاب الحج،تحت قولہ : ایما عبدحج ولوعشر۔۔۔الخ، ٤/١٤٢

([22])مواھب الرحمٰن فی مذھب ابی حنیفۃ النعمان،کتاب الحج،ص٣٣٧۔٣٣٨

([23])لباب المناسک وعباب المسالک ،باب شرائط الحج ، النوع الاول : شرائط الوجوب،ص٦٢

([24])مراقی الفلاح ،کتاب الحج ،ص٢٦٥

([25])الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصرالقدوری،کتاب الحج ،تحت قولہ : علی الاحرار،١ /٣٥٩

([26])النحل١٦/٧٥

([27])الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصرالقدوری،کتاب الحج ،تحت قولہ : علی الاحرار،١/٣٦٠

([28])الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصرالقدوری،کتاب الحج ،تحت قولہ : علی الاحرار،١/٣٦٠

([29])بدائع الصنائع ، کتاب الحج ، فصل فی شرائط فرضیتہ ، ٣/٤٧

([30])یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ "تفسیرالطبری” (تفسیرالطبری، سورۃاٰلعمرٰن، تحت الایۃ٩٧،٣/٣٦٣،وفیہ : عن ابن عباسٍ قولہ : [وللٰہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلًا] ، والسبیل، ان یصح بدن العبد ، ویکون لہ ثمن زادٍ وراحلۃٍ من غیر ان یجحف بہ)میں موجودہے )

([31])فتح القدیر شرح الھدایۃ،کتاب الحج،مقدمۃ یکرہ الخروج الی الحج۔۔۔الخ، تحت قولہ : وکذا صحۃ الجوارح،٢/٣٢٦

([32])بہارشریعت،حج کابیان،حج واجب ہونے کے شرائط،١/١٠٣٩

([33])سنن الترمذی،کتاب الحج،باب : ماجاء فی ایجاب الحج بالزاد والراحلۃ، برقم٨١٣،٢/٦

([34])مواھب الرحمٰن فی مذھب ابی حنیفۃ النعمان،کتاب الحج،ص٣٣٨

([35])الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک،الباب الاول فی تفسیر الحج وفرضیتہ ووقتہ۔۔۔ الخ،١/٢١٧

([36])بہارشریعت،حج کابیان،حج واجب ہونے کے شرائط،١/١٠٣٩

([37])بہارشریعت،حج کابیان،حج واجب ہونے کے شرائط،١/١٠٣٩۔١٠٤٠

([38])محیط للسرخسی،کتاب الحج،ق٢١٥

([39])الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک،الباب الاول فی تفسیر الحج وفرضیتہ ووقتہ…. الخ،١/٢١٧

([40])بہارشریعت،حج کابیان،حج واجب ہونے کے شرائط،١/١٠٤٠

([41])الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک،الباب الاول فی تفسیر الحج وفرضیتہ ووقتہ۔۔۔ الخ،١/٢١٧

([42])اٰلبقرۃ ٢/١٩٧

([43])المعجم الاوسط للطبرانی،باب من اسمہ محمد،برقم٥٠٤٣،4/١٣

([44])تفسیر الملا علی القاری،سورۃ اٰلبقرۃ،تحت الایۃ١٩٧،1/١٧٤

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button