ARTICLESشرعی سوالات

حج میں مانع ماہواری گولیوں کا استعمال

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ایک خاتون حج کے لئے آئی ہیں اور وہ مانع ماہواری گولیاں استعمال کرتی ہے اِس لئے کہ وہ حرمین شریفین کی عبادات زیادہ سے زیادہ کر سکے اور پھر یہاں مخصوص ایام ٹھہرنے کے لئے ملتے ہیں وہ بھی ماہواری میں گزر جائیں تو ان مقامات پر عبادت کن ایام میں کرے گی، کیا اِس بنا پر وہ گولیاں استعمال کر سکتی ہے ؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ماہواری کا آنا یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اُسے روکنا نقصان سے خالی نہیں ہوتا اور جہاں تک اِن گولیوں کے استعمال کا تعلق ہے جو ماہواری روکنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں تو وہ اس شرط کے ساتھ جائز ہیں کہ اُن میں کوئی حرام شیٔ نہ ہو اور وہ طبّی وجسمانی لحاظ سے مُضرِ صحت نہ ہوں کہ کسی بڑے جسمانی عارضے کا سبب بنیں ، قرآن کریم میں ہے :

{وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ} (203)

ترجمہ : اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الثلاثاء، 4ذو الحجۃ 1429ھ، 2 دیسمبر 2008 م 487-F

حوالہ جات

203۔ البقرہ : 2/195

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button