ARTICLESشرعی سوالات

حج میں دم شکر کی جگہ قربانی کرنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے جو حج سے بارہ روز قبل مکہ آیا اور اس نے عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیا پھر مکہ سے حج کا احرام باندھا اور دس تاریخ کو قربانی سمجھ کر جانور ذبح کیا یعنی وہ قربانی جو عید الضحیٰ میں کی جاتی ہے تو کیا اس پر حج تمتع یا قران کی وجہ سے جو جانور ذبح کرنا لازم آیا تھا وہ ساقط ہو جائے گا یا نہیں ؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : اگر کوئی شخص عید الضحیٰ کی قربانی کی نیت سے حج تمتع یا قران میں جانور ذبح کرتا ہے تو اس پر وہ دم جو حج تمتع یا قران کی وجہ سے واجب ہوا ساقط نہ ہو گا جسے دمِ شکر کہا جاتا ہے چنانچہ محرر مذہب نعمانی امام محمد بن حسن شیبانی متوفی 189ھ لکھتے ہیں :

امرأۃٌ تمتَّعتْ فضحَّتْ بشاہٍ لم تجُزْئہا من المتعۃِ (228)

یعنی، ایک عورت نے حج تمتع کیا پس اس نے ایک بکری کی قربانی دی تو وہ بکری کا ذبح کرنا اُسے (دم) تمتع سے جائز نہ ہو گا۔ ’’جامع صغیر‘‘‘ کے اس مسئلہ کو علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ نے ان الفاظ سے نقل کیا ہے :

و إذا تمتَّعتِ المرأۃُ فضحَّتْ بشاۃٍ لم یَجُزْہا عن دم المتعۃِ(229)

یعنی، جب عورت نے حج تمتع کیا پس اس نے ایک بکری کی قربانی دی تو یہ قربانی اُسے دم تمتع سے جائز نہ ہو گی۔ کیونکہ عید الضحیٰ کی قربانی الگ ہے اور حج تمتع کا دم الگ ہے چنانچہ اس قربانی سے دم تمتع ادا نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے صدر الشہید عبد العزیز ابن مازہ بخاری حنفی متوفی 356ھ لکھتے ہیں :

لأنَّ دمَ المُتعۃِ مع دم الأُضحیۃِ غیرانِ، فلا یسقُطُ بہا عنہا ہذا الدَّمُ (230)

یعنی، کیونکہ حجِ تمتع کا دَم اُضحیہ کے دَم (یعنی عید الضحیٰ کی قربانی) کے ساتھ الگ ہے پس اِس سے اُس پر سے یہ دَم ساقط نہ ہو گا۔ اور علامہ مرغینانی حنفی نے لکھا ہے کہ

لأنّہا أتتْ بغیرِ واجبٍ (231)

یعنی، کیونکہ وہ عورت غیر واجب کو لائی (یعنی قربانی واجب نہ تھی اس پر تو حج تمتع کا دم واجب تھا اس نے جو واجب تھا اُسے ادا نہ کیا)۔ اِس کے تحت شارح صحیح بخاری علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی 855ھ لکھتے ہیں :

لأنَّ دَم المُتعۃِ واجبٌ، و الأُضحیۃُ غیرُ واجبٍ علیہا، لأنَّہا مسافرۃٌ، و لا أُضحیۃَ علی المسافرۃِ (232)

یعنی، کیونکہ دم تمتع واجب ہے اور (عید الضحیٰ کی) قربانی اُس پر واجب نہیں ، کیونکہ وہ مسافرہ ہے او رمسافرہ پر قربانی نہیں ہے ۔ فقہاء کرام نے عورت کا ذکر کیا ہے اور اگر مرد اس طرح کرے تو اُس کا بھی یہی حکم ہو گا، چنانچہ علامہ مرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

و کذا الجوابُ فی الرّجُلِ (233)

یعنی، اور اس طرح حکم ہے مرد میں ۔ اس کے تحت علامہ عینی حنفی لکھتے ہیں :

یعنی عن الرّجل إذا تمتّع فضحّی شاۃً لم یُجزئہ عن دم المتعۃِ (234)

یعنی، مرد جب حج تمتع کرے پس وہ بکری کی قربانی دے تو (یہ قربانی) اُسے حج تمتع کے دَم سے جائز نہ ہو گی۔ لیکن ہمارے بلاد کے حجاج کرام عام طور پر حج تمتّع یا حجِ قِران کے دَم کو قربانی ہی کہتے ہیں اور اُن کی مراد حج کی قربانی ہوتی ہے او رحج کی قربانی کی،یہی دَم شکر ہے ، ہاں اگر کوئی شخص اس میں قصداً عید الضحیٰ کی قربانی کی نیت کر لے تو اُس پر حج تمتّع یا قِران کا دَم ساقط نہ ہو گا، جب دَمِ شکر اس پر باقی رہا اور اس نے حلق کروا لیا تو رمی، ذبح اور حلق میں ترتیب باقی نہ رہی اور یہ ترتیب واجب ہے ، لہٰذا وہ اس واجب کے ترک کا بھی مرتکب ہو گیا اور اس پر ایک دَمِ جبر بھی لازم آ گیا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، ذوالحجۃ1429ھ، دیسمبر 2008 م 670-F

حوالہ جات

228۔ الجامع الصّغیر، کتاب الحجّ، باب فی التمتع، ص96

229۔ بدایۃ المبتدی مع شرحہ للمؤلِّف، کتاب الحجّ، باب التّمتع، 1۔2/193

230۔ شرح الجامع الصّغیر لابن مازۃ، کتاب الحجّ، باب التّمتّع، مسألۃ (6)، ص261

231۔ الہدایۃ، کتاب الحجّ، باب التّمتّع، 1۔2/193

232۔ البنایۃ، کتاب الحجّ، باب التّمتّع، 4/322

233۔ الہدایۃ، کتاب الحجّ، باب التّمتّع، 1۔2/193

234۔ البنایۃ، کتاب الحجّ، باب التمتّع، 4/322

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button