ARTICLES

حج قران یا تمتع میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے کیا اس سے قربانی ادا ہو جاتی ہے ؟

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حج میں تمتع یا قران کی ہدی سے قربانی کا وجوب ادا ہو جاتا ہے جیسا کہ عوم الناس بھی تمتع اور قران کے دم شکر کو قربانی کا ہی نام دیتے ہیں ؟

(السائل : محمد عرفان المانی)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : اس سوال کے جواب میں امام ابو بکر جصاص رازی حنفی متوفی 370ھ لکھتے ہیں :

لیس ھدی القران ھو الاضحیۃ، و الدلیل علیہ : ان مضی ایام النحر یمنع صحۃ الاضحیۃ، ولا یمنع صحۃ ھدی التمتع، و لو کانت ھی الاضحیۃ، لتعلقت بالوقت لان الاضحیۃ مخصوصۃ بوقتٍ لا یصح فعلہا فی غیرہ (99)

یعنی، ہدی قران وہ قربانی نہیں ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ بے شک ایام نحر کا گزر جانا صحت قربانی کومانع ہے اور صحت ہدی تمتع کو مانع نہیں ہے ، اگر یہ (یعنی ہدی قران یا ہدی تمتع) قربانی ہوتی تو وقت سے متعلق ہوتی، کیونکہ قربانی وقت کے ساتھ مخصوص ہے جس کا اس وقت کے غیر میں کرنا درست نہیں ہے ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ حاجی متمتع یاقارن جو جانور دم شکر کے طور پر ذبح کرتا ہے وہ قربانی نہیں ہے اور اس سے قربانی کا وجوب ادا نہیں ہوگا۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 15 شوال المکرم 1434ھ، 23 اغسطس 2013 م 859-F

حوالہ جات

99۔ شرح مختصر الطحاوی، کتاب الضحایا، الادلۃ علی وجوب الاضحیۃ، 7/319

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button