بہار شریعت

حج قران کے مسائل

حج قران کے مسائل

اللہ عزو جل فرماتا ہے:۔

واتمو االحج والعمرۃ للہ

متعلقہ مضامین

(اوراللہ کیلئے حج و عمرہ پورا کرو)

حدیث۱: ابو داؤد نسائی و ابن ماجہ صبی بن معبد تغلبی سے رادی ‘ کہتے ہیں میں نے حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا ، امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تو نے اپنے نبی ﷺ کی پیروی کی ۔

حدیث۲: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ‘ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا حج و عمرہ دونوں کو لبیک میں ذکر فرماتے ہیں ۔

حدیث ۳: امام احمد نے اابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے حج و عمرہ کو جمع فرمایا (مسلم ص۴۰۴ج۱)۔

مسئلہ ۱: قران کے معنی یہ ہیں کہ حج و عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے یا پہلے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور ابھی طواف کے چار پھیرے نہ کئے تھے کہ حج کو شامل کرلیا یا پہلے حج کا احرام باندھا تھا اس کے ساتھ عمرہ بھی شامل کرلیا، خواہ طواف قدوم سے پہلے عمرہ شامل کیا یا بعد میں ۔طواف قدوم سے پہلے اسائت ہے کہ خلاف ہے مگر دم واجب نہیں اور طواف قدوم کے بعد شامل کیا تو واجب ہے کہ عمرہ توڑدے اور دم دے اور عمرہ کی قضا کرے اور عمرہ نہ توڑا جب بھی دم دینا واجب ہے (درمختار و ردالمحتار ص۲۶۲ ج۲‘ جوہرہ ص ۲۰۹‘ تبیین ص۴۰ ج۲‘ عالمگیری ص۲۳۷ج۱‘بحر ص۲۵۶ج۲منسک ص ۱۷۳)

مسئلہ ۲: قران کے لئے شرط یہ ہے کہ عمرہ کے طواف کا اکثر حصہ عرفہ سے پہلے ہو لہذا جس نے طواف کے چار پھیروں سے پہلے وقوف کیا اس کا قران باطل ہو گیا(درمختارص ۲۶۶ج۲‘ منسک ص۱۷۱۔۱۷۲‘ بحر ص۳۶۲ج۲‘فتح القدیر)

مسئلہ ۳: سب سے افضل قران پھر تمتع پھر افراد( ردالمحتار ص ۲۶۱ج۲‘ جوہرہ ص ۲۱۰‘تبیین ص۴۰ج۲‘عالمگیری ص۲۳۹ج۱‘ بحر ص ۳۵۷ج۲‘ منسک ص۱۷۰) قران کے احرام کا طریقہ احرام کے بیان میں مذکور ہوا۔

مسئلہ ۴: قران کا احرام میقات سے پہلے بھی ہوسکتا ہے اور شوال سے پہلے بھی مگر اس کے افعال حج کے مہینوں میں کئے جائیں شوال سے پہلے افعال نہیں کرسکتے(درمختارو ردالمحتار ص۲۶۲ج۲‘ عالمگیری ص۲۳۷ج۱‘ منسک ص۱۷۳‘بحر ص۳۵۸ج۲)

مسئلہ ۵: قران میں واجب ہے کہ پہلے سات پھیرے طواف کرے اور ان میں پہلے تین پھیروں میں رمل سنت ہے پھر سعی کرے‘اب قران کا ایک جز یعنی عمرہ پورا ہوگیا ۔ مگر ابھی حلق نہیں کرسکتا اور کیا بھی تو احرام سے باہر نہ ہوگا اوراس کے جرمانہ میں دو دم لازم ہیں ۔ عمرہ پورا کرنے کے بعدطواف قدوم کرے اور چاہے تو ابھی سعی بھی کرلے ورنہ طواف افاضہ کے بعد سعی کرے ۔ اگر ابھی سعی کرے تو طواف قدوم کے تین پھیروں میں بھی رمل کرے اور دونوں طوافوں میں ا ضطباع بھی کرے(درمختار ع ردالمحتار ص۲۶۳ج۲‘ منسک ص۱۷۴‘بحر ص۳۵۰ج۲)

مسئلہ ۶: ایک ساتھ دو طواف کئے پھر دو سعی جب بھی جائز ہے مگرخلاف سنت ہے اور دم لازم نہیں خواہ پہلا طواف عمرہ کی نیت سے اور دوسرا قدوم کی نیت سے ہو یا دونوں میں سے کسی میں تعین نہ کی یا اس کے سوا کسی اور طرح کی نیت کی ۔ بہرحال پہلا عمرہ کا ہوگا اور دوسرا طواف قدوم کا (درمختار و ردالمحتار ص۲۶۳ج۲‘ عالمگیری ص۲۳۸ج۱‘ بحر ص۳۵۹ج۲‘ منسک ص۱۷۴)

مسئلہ ۷: پہلے طواف میں اگر طواف حج کی نیت کی جب بھی عمرہ ہی کا طواف ہے (جوہرہ) عمرہ سے فارغ ہو کر بدستور محرم رہے اور تمام افعال بجالائے دسویں کو حلق کے بعد پھر طواف افاضہ کے بعد جیسے حج کرنے والے کے لئے چیزیں حلال ہوتی ہیں اس کے لئے بھی حلال ہوں گی(درمختار ص۲۶۳ج۲‘ منسک ص۱۷۴‘ بحر ص۳۵۹ج۲)

مسئلہ ۸: قارن پر دسویں کی رمی کے بعد قربانی واجب ہے اور یہ قربانی کسی جرمانہ میں نہیں بلکہ اس کا شکریہ کہ اللہ عزوجل نے اسے دو عباتوں کی توفیق بخشی قارن کے لئے افضل یہ ہے کی اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے (عالمگیری ص ۲۳۸ج۱‘بحر ص۳۵۹ج۲‘ درمختار و ردالمحتار ص۲۶۴ ج۲‘تبیین ص۴۳ج۲)

مسئلہ ۹: اس قربانی کے لئے یہ ضروری ہے کہ حرم میں ہو بیرون حرم نہیں ہوسکتی اور سنت یہ ہے کہ منی میں ہو اور اس کا وقت دسویں ذی الحجہ کی فجر طلوع ہونے سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے مگر یہ ضروری ہے کہ رمی کے بعدہو ‘ رمی سے پہلے کرے گا تو دم لازم آئے گا اور اگر بارھویں تک نہ کی تو ساقط نہ ہوگی بلکہ جب تک زندہ ہے قربانی اس کے ذمہ ہے ( منسک ص۱۷۵)

مسئلہ ۱۰: اگر قربا نی پر قادر تھا اور ابھی نہ کی تھی کہ انتقال ہو گیا تو اس کی وصیت کر جانا واجب ہے اور اگر وصیت نہ کی مگر وارثوں نے خود کردی جب بھی صحیح ہے(منسک ص ۱۷۵)

مسئلہ ۱۱: قارن کو اگر قربانی میسر نہ آئے کہ اس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہیں ‘ نہ اتنا اسباب کہ اسے بیچ کر جانور خریدے تو دس روزے رکھے ۔ ان میں تین تو وہیں یعنی یکم شوال سے ذی الحجہ کی نویں تک احرام باندھنے کے بعد رکھے خواہ سات آٹھ نو کو رکھے یا اس کے پہلے اور بہتر یہ ہے کہ نویں سے پہلے ختم کردے ‘ اور یہ بھی اختیار ہے کہ متفرق طور پر رکھے،تینوں کا پے در پے رکھنا ضروری نہیں اور سات روز حج کا زمانہ گزر نے کے بعد یعنی ترھویں کے بعد رکھے ‘ تیر ھویں کو یا اس سے پہلے نہیں ہوسکتے ۔ان سات روزوں میں اختیار ہے کہ وہیں رکھے یا مکان واپس آکر ‘ اور بہتر مکان واپس ہو کر رکھناہے ان دسوں روزوں میں رات سے نیت ضروری ہے (عالمگیری ص۲۳۹ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۲۶۴ج۲‘ منسک ص۱۷۵‘ بحر ص ۳۶۰ج۲‘تبیین ص۴۳ج۲)

مسئلہ ۱۲: اگر پہلے کے تین روزے نویں تک نہیں رکھے تو اب روزے کافی نہیں بلکہ د م واجب ہوگا د م دے کر احرام سے باہر ہو جائے اور اگر دم دینے پر قادر نہیں تو سر منڈاکر یا بال کترواکر احرام سے جدا ہو جائے اور دو دم ہیں (عالمگیری ص۲۳۹ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۲۶۵ج۲‘ بحر ص۳۶۱ج۲‘ تبیین ص۴۴ج۲)

مسئلہ ۱۳: قادر نہ ہونے کی وجہ سے روزے رکھ لئے پھر حلق سے پہلے دسویں کو جانور مل گیا تو اب روزے کافی نہیں لہذا قربانی کرے اور حلق کے بعد جانور پر قدرت ہوئی تو وہ روزے کافی ہیں خواہ قربانی کے دنوں میں قدرت پائی گئی یا بعد میں یونہی اگر قربانی کے دنوں میں سر نہ منڈایا تو اگر چہ حلق سے پہلے جانور پر قادر ہو وہ روزے کافی ہیں (درمختار و ردالمحتار ص۲۶۵ج۲‘ عالمگیری ص۲۳۹ج۱‘ بحر ص۳۶۱ج۲‘ منسک ص۱۷۶۔۱۷۷‘ تبیین ص۴۴ج۲)

مسئلہ ۱۴: قارن نے طواف عمرہ کے تین پھیرے کرنے کے بعد وقوف عرفہ کیا تو وہ طواف جاتا رہا اور چار پھیرے کے بعد وقوف کیا تو باطل نہ ہوااگر چہ طواف قدوم یا نفل کی نیت سے کئے۔ لہذا یوم النحر میں طواف زیارت سے پہلے اس کی تکمیل کرے اور پہلی صورت میں چونکہ اس نے عمرہ توڑ ڈالا لہذا ایک دم واجب ہو ااوروہ قربانی کہ شکر کے لئے واجب تھی ساقط ہو گئی اور اب قارن نہ رہا اور ایام تشریق کے بعد اس عمرہ کی قضا دے (درمختار و ردالمحتار ص۲۶۶ج۲‘بحر ص۳۶۲ج۲)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button