ARTICLES

حج قران کا احرام باندھنے پر کب دودم لازم اتے ہیں ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ وہ کونسی صورت ہے کہ جس میں میقات سے گزرنے کے بعد حج قران کا احرام باندھنے پر دو دم لازم اتے ہیں ؟

(السائل : ایک حاجی از مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں ایک شخص بغیر احرام کے میقات سے گزرا پھر اس نے حج کا احرام باندھا اور حرم میں داخل ہو گیا اور پھر اس نے عمرہ کے احرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لی تو اس صورت میں اس پر دو دم لازم ائیں گے یعنی اگر وہ میقات کو واپس نہیں لوٹتا تو دو دم دے گا چنانچہ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014 ھ کہتے ہیں :

و امالو جاوز المیقات و احرم بحج ثم دخل الحرم فاحرم بعمرۃ، یلزمہ دمان بالاتفاق۔ (1)

یعنی، اگر میقات سے بغیر احرام کے گزر گیا پھر حج کا احرام باندھا پھر حرم میں داخل ہوا اور اس نے عمرہ کا احرام باندھا تو با لاتفاق ا س پر دو دم لازم ہیں ۔ علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبداللہ سندھی حنفی متوفی 993 ھ لکھتے ہیں :

ان احرم بالحج من الحل، وبالعمرۃ من الحرم اوبھما من الحرم فعلیہ دمان۔ (2)

یعنی، افاقی نے حج کا احرام حل سے اور عمرہ کا احرام حرم سے یا دونوں کا احرام حرم سے باندھا تو اس پر دو دم ہیں ۔ اور فقیہ حسین بن محمد سعید مکی حنفی متوفی 1366ھ لکھتے ہیں :

قال ابن الھام فی تعلیل الدمین : فلیس کلاھما للمجاورۃ ، بل الاول لھا، والثانی لترک میقات العمرۃ، فانہ لما دخل مکۃ التحق باھلھا، ومیقاتھم فی العمرۃ الحل اھ داملا اخوند جان۔ (3)

یعنی، ابن ہمام نے دو دموں کی تعلیل میں فرمایاکہ دونوں دم بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ پہلا دم اس لئے ہے اور دوسرا میقات عمرہ کے ترک کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ جب وہ مکہ مکرمہ داخل ہوا تو وہاں کے اہل سے لاحق ہو گیا اور ان کی عمرہ میں میقات حل ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الثلاثاء، 6 ذوالحجۃ 1437ھـ۔ 7 سبتمبر 2016 م 966-F

حوالہ جات

1۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب فی جزاء الجنایات وکفارتھا ، فصل فی جنایۃ القارن ومن بمعناہ،ص 572

2۔ لباب المناسک ،باب فی جزاء الجنایات،فصل فی جنایۃ القارن ومن بمعناہ،ص 252

3۔ ارشاد الساری الی مناسک ملا علی القاری ،باب جزاء الجنایات ،فصل فی جنایۃ القارن ومن بمعناہ،تحت قولہ : لمجاوزۃ المیقاتین،ص 572

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button