بہار شریعت

حج تمتع کی شرائط

حج تمتع کی شرائط

تمتع کی دس شرطیں ہیں :۔

(۱) حج کے مہینے میں پورا طواف کرنا یا اکثر حصہ یعنی چار پھیرے ۔

(۲)عمرہ کا احرام سے مقدم ہونا۔

(۳)حج کے احرام سے پہلے عمرہ کا پورا طواف یا اکژ حصہ کر لیا ہو۔

(۴)عمرہ فاسد نہ کیا ہو۔

(۵) حج فاسد نہ کیا ہو۔

(۶) المام صحیح نہ کیا ہو۔ المام صحیح کے یہ معنی ہیں کہ عمرہ کے بعد احرام کھول کر اپنے وطن کو واپس جائے اور وطن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتا ہے ، پیدائش کا مقام اگر چہ دوسری جگہ ہو لہذا اگر عمرہ کرنے کے بعد وطن گیا پھر واپس آکر حج کیا تو تمتع نہ ہوا ۔ اور اگر عمرہ کرنے سے پیشتر گیا یا عمرہ کر کے بغیر حلق کئے یعنی احرام ہی میں وطن گیا پھر واپس آکر اسی سال حج کیا تو یہ تمتع ہے یو نہی اگر عمرہ کرکے احرام کھول دیا پھر حج کا احرام باندھ کر وطن گیا تو یہ بھی المام صحیح نہیں ۔ لہذا اگر واپس آکرحج کرے گا تو تمتع ہوگا۔

(۷)حج اور عمرہ دونوں ایک ہی سال میں ہوں ۔

(۸) مکہ معظمہ میں ہمیشہ کے لئے ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو ، لہذا اگر عمرہ کے بعد پکا ارادہ کرلیا کہ یہیں رہے گا تو تمتع نہیں اور دو ایک مہینے کا ہو تو ہے۔

(۹)مکہ معظمہ میں حج کا مہینہ آجائے تو بے احرام کے نہ ہو ‘ نہ ایسا ہو کہ احرام ہے مگر چار پھیرے طواف کے اس مہینے سے پہلے کر چکا ہے ہاں اگر میقات سے باہر واپس جائے پھر عمرہ کا احرام باندھکر آئے تو تمتع ہو سکتا ہے (۱۰)میقات سے باہر کا رہنے والا ہو۔ مکہ کا رہنے والا تمتع نہیں کرسکتا(ردالمحتار )

مسئلہ ۲: تمتع کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا دوسری یہ کہ نہ لائے ۔ جو جانور نہ لایا وہ میقات سے عمرہ کا احرام باندھے ‘ مکہ معظمہ میں آکر طواف و سعی کرے اور سر مونڈائے اب عمرہ سے فارغ ہوگیا اور طواف شروع کرتے ہی یعنی سنگ اسود کو بوسہ دیتے وقت لبیک ختم کردے اب مکہ میں بغیر احرام رہے ، آٹھویں ذی الحجہ کو مسجد الحرام شریف سے حج کا احرام باندھے اور حج کے تمام افعال بجالائے مگر اس کے لئے قدوم نہیں اور طواف زیارت میں یا حج کا احرام باندھنے کے بعد کسی طواف نفل میں رمل کرے اس کے بعد سعی کرے اور اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد طواف قدوم کرلیا ہے (اگرچہ اس کے لئے یہ طواف مسنون نہ تھا) اور اس کے بعد سعی کرلی ہے تو اب طواف زیارت میں رمل نہیں خواہ طواف قدوم میں رمل کیا ہو یا نہیں اور طواف زیارت کے بعداب سعی بھی نہیں عمرہ سے فارغ ہو کر حلق بھی ضروری نہیں ۔ اسے یہ بھی اختیار ہے کہ سر نہ منڈائے بدستور محر م رہے یونہی مکہ معظمہ ہی میں رہنا اسے ضروری نہیں چاہے وہاں رہے یا وطن کے سواکہیں اور مگر جہاں رہے وہاں والے جہاں سے احرام باندھتے ہیں یہ بھی وہیں سے احرام باندھے اگر مکہ مکرمہ میں ہے تو یہاں والوں کی طرح احرام باندھے اور اگر حرم سے باہر اور میقات کے اندر ہے تو حل میں احرام باندھے اور میقات سے بھی باہرہو گیا تو میقات سے باندھے ۔ یہ اس صورت میں ہے جب کہ کسی اور غرض سے حرم یا میقات سے بھی باہر گیا ہواور اگر احرام باندھنے کے لئے حرم سے باہر گیا تو اس پر دم واجب ہے مگر جب کہ وقوف سے پہلے مکہ میں آگیا تو ساقط ہو گیا ۔ اورمکہ معظمہ میں رہا تو حرم میں احرام باندھے اور بہتر یہ ہے کہ مکہ معظمہ میں ہو اور اس سے بہتر یہ کہ مسجد حرم میں ہو اور سب سے بہتر یہ کہ حطیم شریف میں ہو۔ یونہی آٹھویں کو احرام باندھنا ضروری نہیں نویں کو بھی ہوسکتا ہے اور آٹھویں سے پہلے بھی بلکہ یہ افضل ہے ۔تمتع کرنے والے پر واجب ہے کہ دسویں تاریخ کو شکرانہ میں قربانی کرے اس کے بعد سر منڈائے ۔ اگر قربانی کی استطاعت نہ ہو تو اسی طرح روزے رکھے جو قران والے کے لئے ہیں (جوہرہ ص۲۱۲۔۲۱۳‘ عالمگیری ص۲۳۸۔۲۳۹‘منسک ص۱۹۲)

مسئلہ ۳: اگر اپنے ساتھ جانور لے جائے تو احرام باندھ کر لے چلے اور کھینچ کر لے جانے سے ہانکنا افضل ہے ،ہاں اگر پیچھے سے ہانکنے سے نہیں چلتا تو آگے سے کھینچے اور اس کے گلے میں ہا رڈال دے کہ لوگ یہ سمجھیں یہ حرم میں قربانی کو جاتا ہے ‘ اور ہار ڈالنا جھول ڈالنے سے بہتر ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جانور کے کوہان میں دہنی یا بائیں جانب خفیف سا شگاف کردے کہ گوشت تک نہ پہنچے اب مکہ معظمہ میں پہنچ کرعمرہ کرے اور عمرہ سے فارغ ہو کر بھی محرم رہے جب تک قربانی نہ کرلے۔ اسے سر منڈانا جائز نہیں ورنہ دم لازم آئے گا ۔ پھر وہ تمام افعال کرے جو اس کے لئے بتائے گئے کہ جانور نہ لایا تھا اور دسویں تاریخ کو رمی کرکے سر مونڈائے اب دونوں احرام کے ساتھ فارغ ہوگیا(درمختار و ردالمحتار ص۲۶۹ج۲‘منسک ص ۱۹۲‘ بحر ص۳۶۴ج۲‘ تبیین ص۴۶ج۲‘ جوہرہ ص۲۱۳)

مسئلہ ۴: جو جانور لایا اور جو نہ لایا دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر جانور نہ لایا اور عمرہ کے بعد احرام کھول ڈالا اب حج کا احرام باندھا اور کوئی جنایت واقع ہوئی تو جرمانہ مثل مفرد کے ہے ، اور وہ احرام باقی تھاتو جرمانہ قارن کی مثل ہے اور جانور لایا تو بہر حال قار ن کی مثل ہے(ردالمحتار ص۲۷۰ج۲‘ منسک ص۱۹۴)

مسئلہ ۵: میقات کے اندر والوں کے لیئے قران وتمتع نہیں اگر کریں تو دم دیں ( درمختار ص۲۷۰ج۲ ‘ ردالمحتار ص۲۷۱ج۲‘عالمگیری ص ۲۳۹ ج ۱‘ بحر ص ۳۶۵ ج۲ ‘ منسک ص ۱۸۲ ‘ جوہرہ ص ۲۱۴ ‘ تبیین ص ۴۸ ج ۲)

مسئلہ ۶: جو جانور لایا ہے اسے روزہ رکھنا کافی نہ ہوگا(درمختار و ردالمحتار ص۲۷۲ج۲‘عالمگیری ص۲۳۹ج۱‘جوہرہ ص۲۱۴‘بحر ص۳۶۶ج۲‘تبیین ص۴۴ج۲)

مسئلہ ۷: جانور نہیں لے گیا اور عمرہ کرکے گھر چلا آیا تو یہ المام صحیح ہے اس کا تمتع جاتا رہا ، اب حج کر گا تومفرد ہے اور جانور لے گیا اورعمرہ کرکے گھر واپس آیا پھرمحرم رہا اور حج کو گیا تو یہ المام صحیح نہیں لہذا اس کا تمتع باقی ہے یو نہی اگر گھر نہ ا ٓیا‘ عمرہ کرکے کہیں اور چلا گیا تو تمتع نہ گیا(درمختار و ردالمحتار ص۲۷۲ج۲‘ جوہرہ ص۲۱۵‘بحر ص۳۶۷ج۲‘تبیین ص۴۸ج۲)

مسئلہ ۸: تمتع کرنے والے نے حج یا عمرہ فاسد کردیا تو اس کی قضا دے اور جرمانہ میں دم اور تمتع کی قربانی اس کے ذمہ نہیں کہ تمتع رہا ہی نہیں (درمختار ، ردالمحتار ص۲۷۳ج۲‘بحر ص۳۶ج۲‘تبیین ص۵۱ج۲‘جوہرہ ص۲۱۵‘ عالمگیری ص۲۴۰ج۱)

مسئلہ ۹: تمتع کے لئے یہ ضروری نہیں کہ حج و عمرہ دونوں ایک ہی طرف سے ہوں بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک اپنی طرف سے ہو اور دوسرا کسی اور کی طرف سے یا ایک شخص نے اسے حج کا حکم دیا اور دوسرے نے عمرہ کا اور دونوں نے تمتع کی اجازت دیدی تو کرسکتا ہے مگر قربانی خود اس کے ذمہ ہے، اور اگر نادار ہے تو روزے رکھے (منسک ص۱۹۲)

مسئلہ۱۰: حج کے مہینے میں عمرہ کیا مگر اسے فاسدکردیا پھر گھر واپس گیا پھر آکر عمرہ کی قضا کی اور اسی سال حج کیا تو یہ تمتع ہو گیا اور اگر مکہ سے چلا گیا مگر میقات کے اندر رہا یا میقات سے بھی باہر ہوگیا مگر گھر نہ گیا اور آکر عمرہ کی قضا کی اور اسی سال حج بھی کیا تو ان سب صورتوں میں تمتع نہ ہوا۔ (جوہرہ ص۲۱۶‘ عالمگیری ص۲۴۰ج۱‘ردالمحتار ص۲۶۷ج۲‘بحر ص۳۶۹ج۲‘ تبیین ص۵۱ج۲)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button