ARTICLES

حج بدل کرنے والا دم شکر کس کی جانب سے دے ؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرحج بدل کرنے والا قران یاتمتع پر مامورہوتو وہ دم شکر کس کی طرف سے اداکرے گا؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں حج بدل کرنے والا’’دم شکر‘‘اپنی طرف سے دے گا،کیونکہ’’دم شکر‘‘دومناسک کی ادائیگی پرموقوف ہے اور فعل کی حقیقت مامور کی طرف سے ہوگی،لہذا’’دم شکر‘‘بھی اسی پرلازم ہوگا۔ چنانچہ علامہ برھان الدین محمود بن صدرالشریعہ بن مازہ بخاری حنفی متوفی ٦١٦ھ لکھتے ہیں : دم نسک وھو دم المتعۃ والقران، وانہ علی المامور. ( ) یعنی،مناسک کا دم مامورپرلازم ہوگااورمناسک کے دم سے مرادتمتع اور قران کادم ہے ۔ علامہ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم حلبی حنفی متوفی٩٥٦ھ اورعلامہ عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان حنفی متوفی ١٠٧٨ھ لکھتے ہیں : (دم المتعۃ والقران علی المامور)؛لانہ موقوف لاداء النسکین والمامور مختص بہذہ النعمۃ ؛ لان حقیقۃ الفعل منہ وان کان الحج یقع علی الامر ؛ لانہ وقوع شرعی ووجوب دم الشکر سبب عن الفعل الحقیقی الصادر عن المامور۔ ( ) یعنی،تمتع اورقران کادم مامور پرلازم ہے ،کیونکہ‘‘دم شکر’’دومناسک کی ادائیگی پر موقوف ہے اور مامور اس نعمت کے ساتھ مختص ہے ،کیونکہ فعل کی حقیقت اسی کی طرف سے ہے اگر چہ حج امریعنی حکم دینے والے کی طرف سے واقع ہوگا اس لئے کہ یہ توشرعاواقع ہوناہے ،اور’’دم شکر‘‘ کاوجوب مامورسے حقیقت فعل صادرہونے کے سبب ہے ۔ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اور ملاعلی قاری حنفی متوفی ١٠١٤ھ لکھتے ہیں : (جمیع الدماء المتعلقۃ بالحج)ای بنفسہ کدم شکر (والاحرام)ای بارتکاب محظور فیہ….(علی المامور)ای اتفاقا، لان الشکر لہ والجبر منحصر علیہ( الا دم الاحصار خاصۃ، فانہ فی مال الامر)علی ما ذکرہ القدوری وغیرہ من غیر خلافٍ،وفی بعض نسخ ”الجامع الصغیر” : ان دم الاحصار علی الحاج المامور عند ابی یوسف ، وعند ابی حنیفۃ ومحمد علی الامر،وکذا ذکرہ قاضیخان فی”شرح الجامع”.(حتی لو امرہ بالقران او التمتع فالدم علی المامور) ای فی مال نفسہ۔( ) یعنی،حج سے تعلق رکھنے والے تمام دم بالاتفاق مامور پر لازم ہوں گے ،یعنی اپنے نفس کے سبب لازم انے والاجیسے دم شکراوراحرام کادم یعنی احرام میں ارتکاب ممنوع کے سبب،کیونکہ شکر اسی کے لئے ہے اوردم جبراسی پر منحصر ہے ، مگرخاص طورپردم احصار،کیونکہ دم احصارامرکے مال میں سے ہے ،اس بنیادپرکہ اسے امام قدوری وغیرہ نے اختلاف کے بغیر ذکر کیا ہے ، اور”جامع صغیر”کے بعض نسخوں میں ہے : امام ابو یوسف کے نزدیک دم احصار مامورحاجی پرلازم ہوگا،اور طرفین کے نزدیک حکم دینے والے پر لازم ہوگا،اور اسی طرح امام قاضیخان نے اسے "شرح جامع”میں ذکرکیا ہے ،حتی کہ اگراس نے حج بدل کرنے والے کو قران یا تمتع کا حکم دیاتو”دم شکر”مامور پر لازم ہوگایعنی مامور کے اپنے مال میں ۔ اورعلامہ عبد الحق الہ ابادی مہاجر مکی حنفی ١٣٣٣ھ/١٩١٥م لکھتے ہیں : دم شکر جو اس کے اوپر اس صورت مذکورہ میں بسبب قران کرنے کے یا تمتع کرنے کے لازم ہوگاتووہ حج بدل کرنے والا اپنے ہی مال سے کرے گا،امر کے مال سے نہیں ؛ کیوں کہ حقیقت فعل تواسی کی طرف سے ہے اگر چہ امر ہی طرف سے اس صورت میں حج واقع ہوجاتا ہے اس لئے کہ یہ تووقوع شرعی ہے ،نہ حقیقی۔( ) اوردم شکرجب مامورپرلازم ہے ،تو وہ اسے اپنی طرف سے ہی ادا کرے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
بدھ،٢٧ذوالقعدۃ،١٤٤٠ھ۔٣٠جولائی٢٠١٩م

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button