بہار شریعت

حج اور عمرے میں سر منڈوانے یا بال کتروانے کے احکام

حج اور عمرے میں سر منڈوانے یا بال کتروانے کے احکام

طواف وسعی مذکور کے بعد حلق کریں یعنی سارا سر منڈادیں یا تقصیر یعنی بال کتروائیں اور احرام سے باہر آئیں ۔عورتوں کو با ل منڈانا حرام ہے وہ صرف ایک پورے برابر بال کتروالیں اور مردوں کو اختیار ہے کی حلق کریں یا تقصیر اور بہتر حلق ہے ۔حضور اقدس ﷺ نے حجۃ الوداع میں حلق کرایا اور سر مونڈنے والوں کے لئے دعائے رحمت تین بار فرما ئی اور کتروانے والوں کے لئے ایک بار ‘ اورمتمتع منی کی قربانی کیلئے جانور ساتھ لے گیا ہے تو عمرہ کے بعد احرام کھولنا اسے جائز نہیں بلکہ قارن کی طرح احرام میں رہے اور لبیک کہا کرے یہاں تک کہ دسویں کی رمی کے ساتھ لبیک چھوڑے پھر قربانی کے بعد حلق یا تقصیر کرکے احرام سے باہر ہو ۔ پھر متمتع چاہے تو آٹھویں ذی الحجہ تک بے احرام رہے مگر افضل یہ ہے کی جلد حج کا احرام باند ھ لے ، اگر یہ خیال نہ ہو کہ دن زیادہ ہیں احرام کی قیدیں نہ نبھیں گی

(۲۸) تنبیہ ۔ طواف قدوم میں اضطباع و رمل اور اس کے بعد صفا و مروہ میں سعی ضروری نہیں مگر اب نہ کرے گا تو طواف زیارت میں کہ حج کا طواف فرض ہے ، جس کا ذکر انشا ء اللہ آتا ہے ‘ یہ سب کام کرنے ہوں گے اور اس وقت ہجوم بہت ہوتا ہے ، عجب نہیں کی طواف میں رمل اور مسعی میں دوڑنا ہوسکے اور اس وقت ہوچکا تو اس طواف میں ان چیزوں کی حاجت نہ ہوگی ۔ لہذا ہم نے ان کو مطلقاً ترکیب میں داخل کردیا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button