ARTICLESشرعی سوالات

حجِ تمتع کی نیت سے آنے والی عورت کو ماہواری آ جانا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ایک عورت پاکستان سے حجِ تمتع کی نیت سے مکہ مکرمہ آئی ابھی پہنچی تھی کہ ماہواری آ گئی اور دو دن بعد منیٰ روانگی ہے اس نے ابھی عمرہ ادا نہیں کیا تو حج کا احرام کس طرح باندھے کیا عمرہ چھوڑ دے اور حج کا احرام باندھ لے اگر وہ ایسا کرتی ہے تو جو عمرہ اُس نے چھوڑا وہ کب ادا کرے اور اس عمرہ کے چھوڑنے کی وجہ سے اس پر کیا لازم ہو گا جب کہ عمرہ اُس نے مجبوری میں چھوڑا ہے تو اِس صورت میں اُس پر کیا لازم آتا ہے ؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اُس عورت پر دَم اور عمرہ کی قضاء لازم ہے ، مروی ہے کہ ایسا ہی واقعہ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں پیش آیا، جب حضور ﷺکی بارگاہ میں آپ نے اپنا معاملہ پیش کیا تو آپ ﷺ نے انہیں عمرہ چھوڑنے کا اور حج ادا کرنے کا حکم فرمایا چنانچہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ

أنّ عائئشۃ قالت : أَہْلَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ حَجَّہِ الْوَدَاعِ، فَکُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ وَ لَمْ یَسُقِ الْہَدْیَ، فَزَعَمَتْ أَنَّہَا حَاضَتْ، وَ لَمْ تَطْہُرْ حَتَّی دَخَلَتْ لَیْلَۃُ عَرَفَۃَ، فَقَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، ہذِہِ لَیْلَۃُ عَرَفَۃَ، وَ إِنَّماَ کُنْتُ تَمَتَّعَتْ بِعُمْرَۃٍ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ’’انْقُضِیْ رَأْسَکِ، وَ امْتَشِطِیْ، وَ أَمْسِکِیْ عَنْ عُمْرَتِکِ‘‘ فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَیْتُ الْحَجَّ، أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ، لَیْلَۃَ الْحَصْبَۃِ، فَأعْمَرَنِیْ مِنَ التَّنْعِیْمِ، مَکَانَ عُمْرَتِی الَّتِیْ نَسَکْتُ (167)

یعنی، اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں احرام باندھا، پس میں اُن میں سے تھی جنہوں نے تمتع کیا، اور (ساتھ) ہدی نہ لائے ، پس انہیں (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کو گمان ہوا کہ انہیں ماہواری آ گئی ہے ، اور آپ پاک نہ ہوئیں یہاں تک کہ عرفہ کی رات آ گئی، آپ نے عرض کی یا رسول اللہ! یہ عرفہ کی رات ہے اور میں نے صرف عمرہ کے ساتھ تمتع کیا ہے (یعنی میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا ہے ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اپنا سر کھول دے اور کنگھی کر لے اور اپنے عمرہ سے رُک جا‘‘ (آپ فرماتی ہیں کہ) میں نے (ایسے ہی) کیا، پس جب حج ادا کر لیا، تو (رسول اللہ ﷺ نے ) حصبہ کی رات عبد الرحمن (بن ابی بکر رضی اللہ عنہما) کو حکم فرمایاتو انہوں نے مجھے مقام تنعیم سے عمرہ کروایا، اور میں نے اس عمرہ کی جگہ جس کا میں نے احرام باندھا تھا عمرہ ادا کیا۔ حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں عورت عمرہ چھوڑ دے گی اور حج فوت ہونے کے خوف کی وجہ سے عمرہ کا احرام کھول دے گی اور حج کا احرام باندھے گی، چنانچہ شارح صحیح بخاری علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی 855ھ حدیثِ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تحت لکھتے ہیں :

أَنَّ الظّاہِرَ قولُہا ’’یا رسولَ اللہ ہٰذِہ لیلۃُ عرفۃَ إلی آخرہ‘‘ یدلَّ علی أنّہ علیہ الصّلاۃ و السّلام أَمرَہَا برفضِ عُمرتِہا، و أن تخرجَ منہا قبلَ تمامہا، و فی ’’التّوضیح‘‘ : بہ قال الکوفیونَ فی المرأۃِ تحیضُ قبلَ الطّواف و تخشیَ فواتَ الحجِّ : أنَّہا تَرفضُ العُمْرۃَ (168)

یعنی، بے شک اُمّ المؤمنین کے قول ’’یا رسول اللہ! یہ عرفہ کی رات ہے الخ‘‘ کا ظاہر اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں عمرہ چھوڑنے کا حکم فرمایا کہ وہ عمرہ سے اس کے پورا ہونے سے قبل نکل جائیں ، اور ’’توضیح‘‘ میں ہے کہ کوفیوں نے اِس عورت کے بارے میں جو (حجِ تمتع میں ) طوافِ عمرہ سے قبل حائضہ ہو جائے اور اُسے حج فوت ہونے کا خوف ہو یہی حکم کیا کہ وہ عمرہ چھوڑ دے ۔ اور اِس صورت میں عورت پر چھوڑے ہوئے عمرے کی قضا لازم ہو گی اور حدیث عائشہ میں مذکور ہے کہ آپ نے حج سے فارغ ہو کر اس عمرہ کی قضا کی چنانچہ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خود فرمایا کہ :

فَأَہْلَلْتُ مِنْہَا بِعُمْرَۃٍ، جَزَائً بِعُمْرَۃِ النَّاسِ الَّتِیْ اعْتَمَرُوْا (169)

یعنی، پس میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا بدلے لوگوں کے اس عمرہ کے جو انہوں نے (شروع میں ) ادا کیا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ :

فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ إِلَی التَّنْعِیْمِ
فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ : ’’ہٰذِہِ مَکَانَ عُمْرَتِکِ‘‘ (170)

یعنی، جب ہم نے حج ادا کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عبد الرحمن بن ابی بکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کے ساتھ تنعیم بھیجا پس میں نے عمرہ ادا کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا ’’یہ تیرے اُس عمرہ کی جگہ پر ہے ‘‘۔ اور ایک روایت میں ہے کہ :

حَتَّی إِذَا قَضَیْتُ حَجَّتِیْ، بَعَثَ مَعِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ وَ أَمَرَنِیْ أَنْ
أَعْتَمِرَ مِنَ التَّنْعِیْمِ، مَکَانَ عُمْرَتِیْ، الّتِیْ
أَدْرَکَنِیْ الحَجُّ وَ لَمْ أحْلِلْ مِنْہَا (171)

یعنی، یہاں تک کہ جب میں نے اپنا حج پورا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمن بن ابی بکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کو میرے ساتھ بھیجا اور مجھے حکم فرمایا، میں تنعیم سے اپنے اس عمرہ کی جگہ پر عمرہ ادا کروں کہ جس عمرہ سے میں (ماہواری کی وجہ سے ) فارغ نہ ہوئی تھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ :

فَأَعْمَرَنِیْ مِنَ التَّنْعِیْمِ، مَکَانَ عُمْرَتِی الَّتِیْ أَمْسَکْتُ عَنْہَا (172)

یعنی، پس (عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ) تنعیم سے مجھے عمرہ کروایا میرے اُس عمرہ کی جگہ کہ جس کی ادائیگی سے میں رُک گئی تھی۔ متمتع یا قارن عمرہ نہ کر پائے اور حج ادا کرے تو اُس پر سے حجِ متمتع یا قران کا دَم شکر جسے لوگ حج کی قربانی کہتے ہیں جو متمتع اور قارن دونوں پر واجب ہوتی ہے وہ ساقط ہو جاتی ہے اور اس پر عمرہ کی قضا اور عمرہ چھوڑنے کی وجہ سے دَم جبر لازم آتا ہے اور دَم جبر کے جانور کا سرزمین حرم پر ذبح کرنا واجب ہے اور اس کے لئے افضل دن یوم نحر ہے اور أمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے جب نسوانی عارضہ کی وجہ سے عمرہ چھوڑا تو آپ پر سے دَم شکر ساقط ہو گیا اور عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد عمرہ ادا کئے بغیر احرام کھولنے پر دَم جبر لازم آیا جسے نبی کریم ﷺ نے دیگر ازواج مطہرات کے دَم شکر کے ساتھ ادا فرمایا، چنانچہ أمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اُن کی طرف سے جانور ذبح کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں :

فَأُتِیْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ مَا ہَذَا؟ فَقَالُوْا : أَہْدَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ نِسَائِہِ الْبَقَرَ (173)

یعنی، پس ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے بطور ہدی ذبح کی ہے ۔ اِن احادیث نبویہ علیہ التحیۃ و الثناء سے فقہاء کرام نے ایک قاعدہ اخذ کیا ہے جسے علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبد اللہ سندھی حنفی متوفی 993ھ اور ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ نے ذکر کیا ہے کہ :

کُلُّ مَنْ لَزِمَہُ رفضُ العُمْرۃِ فعلیہ دمٌ وَ قَضَائُ عُمْرَۃٍ ای لا غیرُ، لأنَّہ فِی معنی فاسدِ العُمرۃِ (174)

یعنی، ہر وہ شخص کہ جس پر عمرہ چھوڑنا لازم ہو جائے تو اُس پر (عمرہ کا احرام باندھ کر اُسے چھوڑنے کا) دَم اور (چھوڑے ہوئے ) عمرہ کی قضاء لازم ہے نہ کہ اور کچھ کیونکہ وہ عمرہ کو فاسد کرنے والے کے معنی میں ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 6ذو الحجۃ 1429ھ، 4 دیسمبر 2008 م 492-F

حوالہ جات

167۔ صحیح البخاری، کتاب الحیض، باب امتشاط المرأۃ عند غسلہا من المحیض، برقم : 316، 1/82، و باب الأمر بالنّساء، إذا نفسن، برقم : 294، 1/77، و باب تقضی الحائض المناسک کلّہا إلاَّ الطواف بالبیت، برقم : 305، ، 1/79، و باب نقض المرأۃ شعرہا عند المحیض، برقم : 317، 1/82، و باب کیف تہلّ الحائض بالحج و العمرۃ، برقم : 319، 1/82، و کتاب الحجّ، باب کیف تھلّ الحائض و النّفساء، برقم : 1556، 1/384، و باب قولہ تعالیٰ {الحجَّ اَشْہَرٌ مَّعْلُوْمٰت} الآیۃ، برقم : 1560، 1/385، و باب التّمتّع و القران إلخ، برقم : 1561، 1562، 1/386، و باب طواف القارن، برقم : 1638، 1/304، و باب تقضی الحائض المناسک کلّہا إلخ، برقم : 1651، 1/407، و باب إذا حاضت المرأۃ بعد ما افاضت، برقم : 1762، 1/432، و با ب الإذج من المحصب، برقم : 1772، 1/434، و کتاب العمرۃ، باب العمرۃ لیلۃ الحصبۃ، برقم : 1783، 1/437، و باب الإعتمار بعد الحجّ بغیر ہدیٍ، برقم : 1786، 1/438، و باب أجر العمرۃ علی قدر النّصب، برقم : 1787، 1/438، و باب المعتمر إدا طاف إلخ، برقم : 1788، 1/439، و کتاب الجہاد و السّیر، باب إرداف المرأۃ خلف أخیہا، برقم : 2984، 2985،2/269، و کتاب المغازی، باب حجۃ الوداع، برقم : 4395، 3/119، و کتاب الأضاحی، باب مَن ذبح ضحیۃ غیرہ، برقم : 5559، 3/491، و کتاب التمنی، باب قول النّبیّ ﷺ : لو استقبلت مِن أمری إلخ، برقم : 7230، 4/400

168۔ عمدۃ القاری، کتاب الحیض، باب امتشاط المرأۃ عند غسلِہا من المحیض، برقم : 316، 3/143، 144

169۔ صحیح مسلم، کتاب الحجّ، باب بیانِ وُجود الإحرام إلخ، برقم : 120/1211، 2/874

170۔ صحیح مسلم، کتاب الحجّ، باب بیانِ وُجود الإحرام إلخ، برقم : 111/1211، 2/870

171۔ صحیح مسلم، کتاب الحجّ، باب بیانِ وُجود الإحرام إلخ، برقم : 112/1211، 2/871

172۔ صحیح مسلم، کتاب الحجّ، باب بیانِ وُجود الإحرام إلخ، برقم : 113/1211، 2/871، ص556

173۔ صحیح مسلم، کتاب الحجّ، باب بیانِ وُجود الإحرام إلخ، برقم : 125/1211 ، 2/874

174۔ لُباب المناسک و شرحہ المسلک المتقسط، باب أضافۃ أحد النّسکَین، ص419

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button