بہار شریعت

حجب کے متعلق مسائل

حجب کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: علم الفرائض کی اصطلاح میں حجب سے مراد یہ ہے کہ کسی وارث کا حصہ کسی دوسرے وارث کی موجودگی کی وجہ سے یا تو کم ہو جائے یا بالکل ہی ختم ہو جائے اس کی دو قسمیں ہیں ۔ (۱) حجب نقصان اور (۲) حجب حرمان۔ (شریفیہ ص ۵۷)

مسئلہ ۲: حجب نقصان یعنی وارث کے حصہ کا کم ہو جانا پانچ قسم کے وارثوں کیلئے ہے (۱) شوہر کیلئے۔

متعلقہ مضامین

شوہر کا حصہ ۱/۲ تھا مگر میت کی اولاد کی وجہ سے چوتھائی ۱/۴ ہو گیا بیوی کا بھی یہی حال ہے۔

(۲) بیوی کو اگر اولاد نہ ہوتی تو چوتھائی ملتا ہے مگر اولاد حصہ کم کر دیتی ہے یعنی بجائے چوتھائی کے آٹھواں ملے گا۔

(۳)ماں کا حصہ بھی اولاد یا دو بھائیوں کی موجودگی میں بجائے تہائی کے چھٹا رہ جاتا ہے۔

(۴) پوتی۔ پوتی کا حصہ ایک حقیقی بیٹی کی موجودگی میں نصف سے کم ہو کر چھٹا رہ جاتا ہے۔

(۵) باپ شریک بہن۔ اس کا حصہ حقیقی بہن کی موجودگی میں نصف کے بجائے چھٹا رہ جاتا ہے۔

مسئلہ ۳: حجب حرمان۔ یعنی کسی وارث کا دوسرے وارث کی وجہ سے محروم ہو جانا۔ (شریفیہ ص ۵۷)

مسئلہ ۴: ہر وہ شخص جس کو میت سے کسی شخص کے ذریعہ سے تعلق ہو وہ اس درمیانی شخص کی موجودگی میں وراثت سے محروم رہے گا۔ البتہ ماں شریک بہن اور بھائی اس قانون کے اطلاق سے مستثنی ہیں مثلاً دادا باپ کے ہوتے ہوئے محروم رہے گا۔

مسئلہ ۵: قریبی رشتہ دار دور والے رشتہ دار کو محروم کر دیتاہے۔

پوتا خواہ اس بیٹے سے ہو یا دوسرے بیٹے سے ہو محروم رہے گا کیونکہ بیٹا بہ نسبت پوتے کے زیادہ قریب ہے۔

مسئلہ ۶: یہ جو وارث خود میراث سے محروم ہو گیا ہے وہ دوسرے وارث کا حصہ کم یا بالکل ختم کر سکتا ہے،۔

اب بھائی باپ کے ہوتے ہوئے محروم ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے ماں کا حصہ تہائی سے کم کر کے چھٹا کر دیا۔

اس صورت میں دادی باپ کی وجہ سے محروم ہے مگر اس نے پر نانی کو محروم کر دیا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button