ARTICLES

حالت ماہواری میں ادا کئے گئے طواف عمرہ کا حکم

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ساتھ ایک خاتون نے دو روز قبل عمرہ ادا کیا ہے جب اس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو اس وقت اسے ماہواری کے اثار بھی نہ تھے اور وہ دوائی لے رہی تھی دوران طواف اسے محسوس ہوا کہ ماہواری کا خون ا رہا ہے اور اس نے ابھی دو چکر ہی ادا کئے تھے پھر اس نے وضو کیا اور اسی حال میں عمرہ ادا کرلیا اب دو روز بعد ان کی وطن واپسی ہے ماہواری ابھی بند نہیں ہوئی اور نہ ہی روانگی سے قبل بند ہونے کا کوئی امکان ہے ۔ اس صورت میں وہ کیا کرے اور اس پر کیا لازم ہوگا؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : یاد رہے ماہواری کی مدت کم از کم تین روز ہے چنانچہ علامہ عبد اللہ بن احمد نسفی حنفی متوفی 710ھ لکھتے ہیں :

واقلہ ثلاثۃ ایام واکثرہ عشرۃ (60)

’’الوقایۃ الروایۃ‘‘ میں ہے :

واقل الحیض ثلاثۃ ایام ولیالیھا واکثرہ عشرۃ (61)

اگر اس سے کم ہوتو وہ ماہواری نہیں استحاضہ یعنی بیماری ہے چنانچہ علامہ نسفی حنفی لکھتے ہیں :

فما نقص من ذلک اوزاد استحاضۃ (62)

یعنی، جو اس سے کم ہو یا زیادہ ہو وہ استحاضہ ہے ۔ اور اس پر ماہواری والے احکام مرتب نہیں ہوتے ۔ چنانچہ علامہ مظفر الدین احمد بن علی ابن الساعاتی حنفی متوفی 694ھ لکھتے ہیں :

فتلحق بالطاھرات (63)

یعنی، پس وہ (یعنی استحاضہ والی عورت حکم میں ) پاک عورتوں کے ساتھ لاحق ہو گی۔ اور عمرہ کو دو روز گزر چکے ایک دن اور دیکھ لے اگر خون جاری رہتا ہے تو یقینا یہ خون ماہواری کا خون تھا اور اگر تین روز مکمل ہونے سے قبل بند ہو جاتا ہے تو اس پر کچھ لازم نہیں ائے گا۔ بشرطیکہ اس نے وہ طواف ایک نماز کے وقت کے اندرہی مکمل کرلیا ہو کیونکہ وہ معذور کے حکم میں بھی ہے اور معذور کا وضو نماز کا وقت ختم ہونے سے خود بخود ختم ہو جاتا ہے ۔ تین دن تک جاری رہنے کی صورت میں بھی اس کا عمرہ درست ہوگیا اور اس پر پاک ہونے کے بعد طواف کا اعادہ اور توبہ لازم ائی اور اعادہ نہ کرنے کی صورت میں ایک دم اور توبہ لازم ائی چنانچہ علامہ عالم بن العلاء انصاری دہلوی حنفی متوفی 786 ھ لکھتے ہیں :

فنقول : اذا طاف للعمرۃ محدثا اوجنبا فما دام بمکۃ یعید الطواف، فان رجع الی اھلہ ولم یعدففی المحدث تلزمہ شاۃ وفی الجنب القیاس ان تلزمہ بدنۃ، وفی الاستحسان : تکفیہ شاۃ (64)

یعنی، ہم کہتے ہیں عمرہ کا طواف جب بے وضو یا حالت جنابت میں کیا تو جب تک مکہ مکرمہ میں ہے طواف کا اعادہ کرے پس اگر اپنے اہل کو لوٹ گیا اور اس نے اعادہ نہ کیاتو بے وضو طواف کرنے میں ا س پر بکری لازم ہے اور حالت جنابت میں قیاس ہے کہ اس پر بدنہ لازم ہو اور استحسان ہے کہ اسے بکری کافی ہوگی۔ اور علامہ ابو منصور محمد بن مکرم کرمانی حنفی متوفی 597ھ لکھتے ہیں :

و فی طواف العمرۃ تجب شاۃ سواء کان جنبا او محدثا لا نہ دون الحج وان کان رکنا فیھا (65)

یعنی، طواف عمرہ میں بکری واجب ہے برابر ہے کہ وہ جنبی علیہ الصلوۃ و السلام تھا یا بے وضو کیونکہ یہ حج سے درجے میں کم ہے اگرچہ عمرہ میں یہ طوا ف رکن ہے ۔ حائضہ کا وہی حکم ہے جو جنبی علیہ الصلوۃ و السلام کا ہے چنانچہ امام کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن ہمام حنفی متوفی 861ھ لکھتے ہیں :

ولوطافت المرا ۃ الزیارۃ حائضا فھو کطواف الجنب سواء (66)

یعنی ، اگرعورت نے حالت حیض میں طواف زیارت کیا تو وہ حالت جنابت میں طواف کرنے والے کی مثل ہے ۔ لہٰذا اگر روانگی سے قبل ماہواری بند ہوجاتی ہے تو طواف کا اعادہ کر لے اس طرح دم ساقط ہوجائے گا توبہ لازم رہے گی اور اگر ماہواری بندنہیں ہوتی، اعادہ نہیں کر پاتی تو دم اور توبہ دونوں لازم رہیں گے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاثنین، 19 ذوالحجۃ 1437ھـ۔ 20 سبتمبر 2016م 979-F

حوالہ جات

60۔ کنز الدقائق، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ص : 169

61۔ وقایۃ الروایۃ مع شرحہ اختصار الروایۃ، کتاب الطہارۃ، باب الحیض و النفاس، 1/68

62۔ کنزالدقائق، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ص : 169

63۔ مجمع البحرین، کتاب الطھارۃ، فصل فی الحیض والاستحاضۃ الخ ص : 98

64۔ الفتاوی التاتار خانیۃ، کتاب الحج، الفصل السایع فی الطواف والسعی، 3/609

65۔ المسالک فی المناسک ، فضل فی کفارۃ الجنایۃفی الطواف : 2/780

66۔ فتح القدیر ، کتاب الحج ، باب الجنایات ، فصل : ومن طاف طواف القدوم الخ، تحت قولہ : لان بعد الاعادۃ، 2/462

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button