ARTICLES

حالت حیض میں عمرہ کے طواف کا حکم

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کیا عورت حالت حیض میں عمرہ کا طواف کرسکتی ہے یا نہیں ؟اور اگر کوئی عورت حالت حیض میں عمرہ کا طواف کرلے تو اس پر کیا لازم ہوگا؟

(السائل : c/oاصف مدنی)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ ایسی عورت کو طواف کرنا ممنوع ہے کیونکہ طہارت واجبات طواف سے ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ لکھتے ہیں :

الطھارۃ عن الحدث الاکبر والاصغر۔(36)

یعنی،(طواف کے واجبات میں )حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہونا ہے ۔ علامہ حسن بن عمار بن علی شرنبلالی حنفی متوفی 1069ھ لکھتے ہیں :

القسم (الثانی) وضوء(واجب)وہو الوضوء( للطواف بالکعبۃ)۔(37)

یعنی،وضو کی دوسری قسم واجب ہے اور وہ خانہ کعبہ کے طواف کرنے کے لئے ہے ۔ اور علامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اور علماء ہند کی جماعت نے لکھا ہے :

وواجب وہو الوضوء للطواف ۔(38)

یعنی،اورطواف کے لیے وضو کرنا واجب ہے ۔ اور جو عورت ایسا کرے گی وہ گنہگار ہوگی کیونکہ جسے بھی نجاست حکمی لاحق ہووہ طواف کرنے سے گنہگار ہوتا ہے ۔ چنانچہ ملا علی بن سلطان قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

ویکون عاصیا۔ (39)

یعنی،(جسے نجاست حکمی لاحق ہو )وہ( طواف کرنے سے )گنہگار ہوگا۔ لہٰذا اگر کسی خاتون سے اس ممنوع کام کا ارتکاب ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس گناہ سے توبہ کرے اور جب تک وہ مکہ مکرمہ میں ہو تو دونوں حدث سے پاک ہوجانے کے بعدطواف کا اعادہ کرے کہ اعادہ واجب ہے ۔ چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

قال فی البحر : لو طاف للقدوم جنبًا لزمہ الاعادۃ واذا وجبت الاعادۃ فی القدوم ففی الصدر والفرض اولی۔(40)

یعنی،’’بحر الرائق‘‘ میں ( علامہ شیخ زین الدین ابن نجیم حنفی
متوفی970ھ)نے فرمایاہے کہ اگر کسی نے طواف قدوم حالت جنابت میں کیا تو اسے اعادہ کرنا لازم ہے اور جب طواف قدوم میں اعادہ واجب ہے توطواف صدر اور فرض طواف میں اعادہ کرنابدرجہ اولیٰ واجب ہے ۔ اور اعادہ نہ کرنے کی صورت میں دم دے اور افضل یہی ہے کہ اعادہ کرے کیونکہ شے کا اسی جنس کے ساتھ پورا ہونااولیٰ ہے اور اعادہ کرلینے کی صورت میں ترک واجب کی وجہ سے لازم انے والا دم بھی ساقط ہوجائے گا۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اور ملا علی بن سلطان قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(ولو طاف فرضا)ای یقینا او ظنا(او نفلا)ای سنۃاوتطوعا(علی وجہ یوجب النقصان)ای کلیااوجزئیا(فعلیہ الجزاء)ای دمااوصدقۃً(وان اعادہ سقط عنہ الجزاء فی الوجوہ کلھا)ای بالاتفاق (والاعادۃ افضل )ای ما دام بمکۃ(من اداء الجزاء)لان جبر الشیء بجنسہ اولی.(41)

یعنی،اگر کسی نے فرض یعنی یقینی یا ظنی(یعنی واجب) طواف کیا یا نفلی یعنی سنت یا نفل طواف اس طریقے پر کیاکہ جس سے کلی یا جزئی طور پرنقص کاوجوب ہوتا ہو تو اس پر جزاء یعنی دم یاصدقہ لازم ہوگااور اگر اس نے ایسے طواف کا اعادہ کرلیا تواس سے تمام صورتوں میں بالاتفاق دم ساقط ہوجائے گااور جزاء کی ادائیگی سے اعادہ کرناافضل ہے یعنی جب تک مکہ مکرمہ میں ہے کیونکہ شے کا اسی جنس کے ساتھ پورا ہونااولیٰ ہے ۔ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

قال فی البحر : الواجب احد شیئین : اما الشاۃ،او الاعادۃ، والاعادۃ ہی الاصل ما دام بمکۃ لیکون الجابر من جنس المجبور، فہی افضل من الدم،واما اذا رجع الی اہلہ، ففی الحدث اتفقوا علی ان بعث الشاۃ افضل من الرجوع. وفی الجنابۃ اختار فی "الہدایۃ” ان الرجوع افضل لما ذکرنا. واختار فی "المحیط” ان البعث افضل لمنفعۃ الفقرائ۔(42)

یعنی،’’بحر الرائق‘‘ میں ( علامہ شیخ زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف بابن نجیم حنفی متوفی970ھ)نے فرمایاہے کہ دو چیزوں میں سے ایک واجب ہے اور وہ یا تو بکری ذبح کرنا ہے یا پھر اعادہ کرنا اصل ہے جب تک وہ مکہ میں رہے تاکہ جو نقصان ہوا ہے وہ اسی جنس کے ساتھ پورا ہوجائے پس یہ دم دینے سے افضل ہے اور بہرحال جب وہ اپنے اہل کو لوٹ جائے بے وضو طواف کرنے میں اس بات پر اتفاق ہے کہ اسے بکری کا بھیجنا رجوع سے افضل ہے اور حالت جنابت میں طواف کرنے کی صورت میں صاحب’’ ہدایہ ‘‘کا مختار یہ ہے کہ لوٹنا افضل ہے کیونکہ ہم نے ذکر کیا اور صاحب’’ محیط ‘‘کا مختار یہ ہے کہ وہ بکری بھیجے کیونکہ اس میں فقراء کے لئے نفع ہے ۔ لیکن اگر کسی نے اعادہ نہ کیا تودم دینا ہوگا۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اور ملا علی بن سلطان قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(ولو طاف للعمر ۃ کلہ او اکثرہ او اقلہ ولو شوطا جنبا او حائضا او نفساء او محدثا،فعلیہ شاۃ)ای فی جمیع الصور المذکورۃ(ولا فرق فیہ)ای فی طواف العمرۃ(بین الکثیر والقلیل والجنب والمحدث،لانہ لامدخل فی طواف العمر ۃ للبدنۃ)ای لعدم ورود الروایۃ(ولا للصدقۃ)(43)

یعنی،اگرجنبی علیہ الصلوۃ و السلام ،حائضہ،نفاس والی عورت یا بے وضو نے مکمل ،اکثر،یا اقل اور اگرچہ ایک ہی چکر عمرے کا طواف کرے تو اس پر ذکر کردہ تمام صورتوں میں بکری ذبح کرنا لازم ہوگااور عمرے کے طواف میں کثیر،قلیل ،جنبی علیہ الصلوۃ و السلام اور بے وضو کے درمیان (حکم میں )کوئی فرق نہیں کیونکہ روایت کے وارد نہ ہونے کی وجہ سے عمرے کے طواف میں بدنہ اور صدقہ (کے لازم ہونے ) کو دخل نہیں ہے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ،19رمضان1440ھ۔24مئی 2019م FU-83

حوالہ جات

(36) لباب ا لمناسک،باب انواع الاطوفۃ واحکامھا،فصل فی واجبات الطواف،ص113

(37) مراقی الفلاح،کتاب الطھارۃ،فصل فی الوضوء،فصل،ص34

(38) الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطھارۃ،الباب الاول فی الوضوء،الفصل الثالث فی المستحبات ،1/9

(39) المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط علی لباب المناسک،باب انواع الاطوفۃ واحکامھا ، فصل فی واجبات الطواف،الاول : الطھارۃ عن الحدث الاکبر والاصغر،تحت قولہ : الطھارۃ عن الحدث الاکبر والاصغر،ص214

(40) ردالمحتار،کتاب الحج،باب الجنایات،تحت قولہ : والاصح وجوبھا،3/662

(41) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط ،باب الجنایات وانواعھا،النوع الخامس : الجنایات فی افعال الحج ،فصل : فی الطواف وعلی ثوبہ او بدنہ نجاسۃ، ص502

(42) ردالمحتار،کتاب الحج،باب الجنایات،تحت قولہ : والاصح وجوبھا،3/662

(43) لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب الجنایات وانواعھا،النوع الخامس : الجنایات فی افعال الحج،،فصل فی الجنابۃ فی طواف العمرۃ،ص499۔500

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button