ARTICLES

حالت جنابت میں کوئی بھی طواف کرنے پرلازم انے والاکفارہ اعادہ کرلینے پرساقط ہوگا؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی شخص حالت جنابت میں کوئی بھی طواف کرنے کے بعداپنے وطن لوٹ جائے ،پھرعرصہ بعدحج یاعمرہ کرنے ائے اورجنابت کی حالت میں کیے ہوئے طواف کاحالت پاکی میں اعادہ کرلے ،توکیالازم ایاہواکفارہ اس سے ساقط ہوجائے گا؟ (سائل : صوفی محمداقبال ضیائی صاحب،مدینہ منورہ)

جواب

متعلقہ مضامین

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس سے کفارہ ساقط ہوجائے گا،کیونکہ فرض وغیرہ کوئی طواف جسے ناقص طورپرکرنے کے سبب کفارہ لازم ہوجائے ،اورپھرکامل طورپراس کااعادہ کرلیاجائے ،توکفارہ ساقط ہوجاتاہے ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان متوفی1340ھ لکھتے ہیں : فرض وغیرہ کوئی طواف ہو جیسے (وفی نسخۃ : جسے )ناقص طورپر کیا کہ کفارہ لازم ہوا، جب کامل اعادہ کرلیا کفارہ اترگیا مگر بارہویں کے بعد ہونے سے جو نقصان طواف فرض کے سوا کسی پھیرے میں ایا اس کا اعادہ ناممکن، بارہویں تو گزرگئی۔( ) لیکن اگرکسی نے حالت جنابت میں طواف زیارت کیا،اورپھراس طواف کاحالت پاکی میں اعادہ ایام نحرکے بعدکیا،توکامل طور پرطواف اداہوجانے کے سبب اس سے کفارہ میں بدنہ توساقط ہوجائے گا،البتہ تاخیرکے سبب ایک دم لازم ہوگا۔ چنانچہ علامہ ابوبکربن علی حنفی متوفی800ھ لکھتے ہیں : اذا اعاده وقد طافه جنبًا ان اعاده في ايام النحر لا شيء عليه وان اعاده بعدها لزمه دم بالتاخير عند ابي حنيفة وتسقط عنه البدنة وان رجع الى اهله وقد طافه جنبًا فعليه ان يعود لان النقص كثير ويعود باحرامٍ جديدٍ وان لم يعد وبعث ببدنةٍ او ببقرةٍ اجزاه الا ان الافضل العود وان رجع الى اهله وقد طافه محدثًا ان اعاد فطاف جاز وان بعث بالشاة فهو افضل لان النقصان يسير وفيه نفع للفقراء۔( ) یعنی،اگرحالت جنابت میں کئے ہوئے طواف کااعادہ ایام نحرمیں کیا،تواس پرکچھ لازم نہیں ہوگا،اورایام نحرکے بعدکیاتوامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک اسے تاخیرکے سبب ایک دم لازم ہوگا،اوراس سے بدنہ ساقط ہوجائے گا، اور اگرکوئی حالت جنابت میں طواف کرکے اپنے اہل کی طرف لوٹ گیا، تواس پر لازم ہے کہ وہ لوٹے ،کیونکہ نقص کثیرہے ،اوروہ نئے احرام کے ساتھ لوٹے گا،اوراگروہ نہ لوٹااوراونٹ یاگائے کوبھیج دیاتواسے کافی ہے ،لیکن لوٹناافضل ہے اوراگرکوئی بے وضو طواف کرکے اپنے اہل کی طرف لوٹ گیا،پھرلوٹااورطواف کااعادہ کرلیا توجائز ہے ،اور اگربکری بھیج دی تویہ افضل ہے کیونکہ نقصان کم ہے اور دم کی ادائیگی میں فقراء کا نفع بھی ہے ۔ اورعلامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ
اورعلماءہندکی جماعت نے لکھاہے : لو طاف طواف الزيارة محدثًا فعليه شاة، وان كان جنبًا فعليه بدنة وكذا لو طاف اكثره جنبًا او محدثًا والافضل ان يعيد الطواف ما دام بمكة ولا ذبح عليه والاصح ان يعيد في الحدث ندبًا وفي الجنابة وجوبًا ثم ان اعاده وقد طاف محدثًا لا دم عليه، وان اعاده بعد ايام النحر، وان اعاده وقد طاف جنبًا في ايام النحر لا شيء عليه، وان اعاده بعد ايام النحر يجب الدم عند ابي حنيفة – رحمه الله تعالى – بالتاخير كذا في الكافي وتسقط عنه البدنة كذا في السراج الوهاج ، ولو رجع الى اهله وقد طاف جنبًا يجب ان يعود، ويعود باحرامٍ جديدٍ، وان لم يعد وبعث بدنةً اجزاه الا ان العود هو الافضل ولو رجع الى اهله وقد طاف محدثًا ان عاد وطاف جاز، وان بعث بالشاة فهو افضل كذا في التبيين۔( ) یعنی،اگرکسی نے بے وضوطواف زیارت کیاتواس پرایک بکری کی قربانی واجب ہوگی،اوراگرحالت جنابت میں طواف کیاتواس پربدنہ لازم ہوگا،اوراسی طرح حکم ہے اگرکسی نے اکثرطواف بے وضویاحالت جنابت میں کیا،اورافضل یہ ہے کہ وہ طواف کااعادہ کرے جب تک مکہ مکرمہ میں ہے اورقربانی اس پرواجب نہیں ہوگی،اوراصح یہ ہے کہ بے وضو حالت میں کیے گئے طواف کااعادہ مستحب ہے اور حالت جنابت میں کیے گئے طواف کا اعادہ واجب ہے ،پھراگراس نے بے وضوحالت میں کیے گئے طواف کااعادہ کرلیاتواس پردم لازم نہیں ہوگا،اگرچہ ایام نحرکے بعد اعادہ کیاہو،اوراگر حالت جنابت میں کیے ہوئے طواف کااعادہ ایام نحرمیں کیاتواس پرکچھ لازم نہیں ہوگا،اورحالت جنابت میں کیے ہوئے طواف کااعادہ ایام نحر کے بعدکیاتواس پرامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک تاخیرکے سبب ایک دم لازم ہوگا،اسی طرح "کافی”میں ہے ،اوراس سے بدنہ ساقط ہوجائے گا،اسی طرح "سراج الوھاج”میں ہے ،اوراگرجنبی علیہ الصلوۃ و السلام طواف کرکے اپنے اہل کی طرف لوٹ گیاتواس پرواجب ہے کہ وہ لوٹ کرطواف کااعادہ کرے ،اوروہ نئے احرام کے ساتھ لوٹے گا،اوراگروہ نہ لوٹااوربدنہ بھیج دیاتواسے کافی ہے ،لیکن لوٹناافضل ہے ، اور اگر کوئی بے وضوطواف کرکے اپنے اہل کی طرف لوٹ گیا،پھرلوٹااورطواف کااعادہ
کرلیاتوجائزہے ،اوراگربکری بھیج دی تویہ افضل ہے ،اسی طرح”تبیین الحقائق” میں ہے ۔ اورصدرالشریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : طواف فرض کل یا اکثر یعنی چار پھیرے جنابت یا حیض و نفاس میں کیا تو بدنہ ہے اور بے وضو کیا تو دم اور پہلی صورت میں طہارت کے ساتھ اعادہ واجب، اگر مکہ سے چلا گیا ہو تو واپس اکر اعادہ کرے اگرچہ میقات سے بھی اگے بڑھ گیا ہو مگر بارھویں تاریخ تک اگر کامل طور پر اعادہ کرلیا تو جرمانہ ساقط اور بارھویں کے بعد کیا تو دم لازم، بدنہ ساقط۔لہٰذا اگرطواف فرض بارھویں کے بعد کیا ہے تودم ساقط نہ ہوگا کہ بارھویں تو گزر گئی۔( ) واللہ تعالیٰ اعلم بدھ،8رجب1441ھ۔4مارچ2020م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button