ARTICLES

حالت احرام میں نکاح اوررخصتی کرنا کیسا؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ کیااحرام کی حالت میں نکاح ا وررخصتی کرنا جائز ہے کیونکہ بعض لو گ اس سے منع کرتے ہیں ؟

جواب

متعلقہ مضامین

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : فقہ حنفی کی رو سے حالت احرام میں عقد نکاح کرنا جائز ہے اور ایسا کرنا حدیث شریف سے ثابت ہوتاہے ۔ چنانچہ امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری نیساپوری متوفی 261ھ روایت نقل کرتے ہیں :

عن ابی الشعثاء ؛ان ابن عباسٍ، اخبرہ ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم تزوج میمونۃ وہو محرم۔(8)

یعنی،حضرت ابو شعثاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے بے شک انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بے شک نبی علیہ الصلوۃ و السلام ﷺ نے ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں نکاح فرمایا۔ اور ہماری دلیل بھی یہی حدیث شریف ہے ۔ چنانچہ امام برھان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی حنفی متوفی593ھ لکھتے ہیں :

ولنا : ما روی ’’انہ علیہ الصلاۃ والسلام : تزوج بمیمونۃ وہو محرم‘‘۔(9)

یعنی،ہماری دلیل یہ ہے کہ جو روایت کیا گیا ہے کہ بے شک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں نکاح فرمایا۔ قاضی القضاۃابو الولید احمد بن محمد بن محمد لسان الدین ابن شحنہ ثقفی حلبی حنفی متوفی 882ھ لکھتے ہیں :

ولنا ما روی : انہ علیہ السلام تزوج میمونۃوہو محرم۔ (10)

یعنی،ہماری دلیل یہ ہے کہ جو روایت کیا گیا ہے کہ بے شک حضور علیہ السلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں نکاح فرمایا۔ اسی حدیث شریف کی بناء پر فقہاء احناف کے نزدیک حالت احرام میں محرم اور محرمہ کو نکاح کرنا جائزہے ۔ چنانچہ امام ابو عبد اللہ محمد بن حسن شیبانی متوفی 189ھ لکھتے ہیں :

اخبرنا محمد عن ابی حنیفۃ قال : لا باس بان یتزوج المحرم ویزوج غیرہ۔ (11)

یعنی،ہمیں امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام اعظم سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ محرم کو نکاح کرنے اور اپنے غیرکا نکاح کروانے میں کوئی حرج نہیں ۔ اورامام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ طحاوی حنفی متوفی 321ھ لکھتے ہیں :

ولا باس علی المحرم ان یتزوج ولکنہ لا یدخل حتی یحل،والمحرمۃ فی ذلک کالمحرم سواء۔(12)

یعنی،محرم کونکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ دخول نہ کرے یہاں تک احرام سے باہر اجائے اور محرمہ اس مسئلہ میں محرم کی مثل ہے ۔ اورامام ابی الحسین احمد بن محمدقدوری حنفی متوفی428ھ اور علامہ عبد الغنی بن طالب بن حمادہ غنیمی دمشقی حنفی متوفی1298ھ لکھتے ہیں :

(ویجوز للمحرم والمحرمۃ) بالحج او العمرۃ او بہما (ان یتزوجا فی حال الاحرام)لما روی انہ صلی اللٰہ علیہ وسلم ’’تزوج میمونۃ وہو محرم‘‘(13)

یعنی، محرم اور محرمہ کو نکاح کرناجائز ہے خواہ حج کا احرام ہو یا عمرہ کا یا حج اور عمرہ دونوں کاکیونکہ روایت کیا گیاہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں نکاح فرمایا۔ امام ابو منصورمحمد بن مکرم بن شعبان کرمانی حنفی متوفی 597ھ لکھتے ہیں :

قال اصحابنا : لا باس للمحرم والمحرمۃ [فی]النکاح۔(14)

یعنی،ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ محرم اور محرمہ کو نکاح کرنے میں حرج نہیں ۔ اورقاضی القضاۃابو الولید احمد بن محمد بن محمد لسان الدین ابن شحنہ ثقفی حلبی حنفی متوفی882ھ لکھتے ہیں :

ویجوز للمحرم والمحرمۃ ان یتزوجا فی حالۃ الاحرام۔(15)

یعنی،محرم اور محرمہ کے لئے حالت احرام میں نکاح کرنا جائز ہے ۔ اور علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161ھ لکھتے ہیں :

ویجوز للمحرم والمحرمۃ ان یتزوجا فی حال الاحرام۔(16)

یعنی،محرم اور محرمہ کے لئے حالت احرام میں نکاح کرنا جائز ہے ۔ اور نہ صرف نکاح کرنا جائز ہے بلکہ محرم کوتو اپنے غیر کانکاح کروانا بھی جائز ہے ۔ چنانچہ امام ابو منصورمحمد بن مکرم بن شعبان کرمانی حنفی متوفی 597ھ لکھتے ہیں :

ولہ ان یزوج غیرہ۔ (17)

یعنی،اس کے لئے حالت احرام میں نکاح کرواناجائز ہے ۔ اورامام عز الدین بن جماعۃالکنانی متوفی 767ھ لکھتے ہیں :

وعند الحنفیۃ انہ یجوز ان یزوج المحرم او یتزوج۔(18)

یعنی،’’حنفیہ‘‘کے نزدیک محرم کو نکاح کرانا یا کرنا جائز ہے ۔ البتہ اس میں ائمہ ثلاثہ(امام شافعی ،امام مالک اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کا اختلاف ہے ۔ چنانچہ امام کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن ھمام حنفی متوفی681ھ لکھتے ہیں :

وفیہ خلاف الثلاثۃ۔ (19)

یعنی،اس میں ’’ائمہ ثلاثہ ‘‘کا اختلاف ہے ۔ اورامام مالک ،شافعی اوراحمد علیہم الرحمہ حالت احرام میں نکاح کے عدم جواز کے قائل ہیں چنانچہ امام برھان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی حنفی متوفی593ھ اورامام محمود بن احمد بن موسی بن احمد بن حسین بدر الدین عینی حنفی متوفی 885ھ لکھتے ہیں :

(وقال الشافعی رحمہ اللٰہ : لا یجوز)وبہ قال مالک واحمد۔(20)

یعنی،امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ محرم اور محرمہ کو نکاح کرنا جائز نہیں اور یہی امام مالک اور امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایاہے ۔ واضح رہے کہ امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک حدیث شریف کی بنا پر عدم جوازکے قائل ہیں اور وہ حدیث شریف یہ ہے کہ

’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا ینکح المحرم ولا ینکح۔(21)

یعنی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : محرم نہ نکاح کرے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کروائے ۔ اس حدیث شریف میں دو مقام پر’’ینکح‘‘مذکور ہے لیکن ان دونوں کو الگ الگ اعراب کے ساتھ پڑھیں گے اور وہ اس طرح کہ پہلے ’’ینکح‘‘میں ’’یا‘‘پرزبر اور ’’کاف‘‘کوزیر کے ساتھ پڑھیں گے جبکہ دوسرے ’’ینکح‘‘میں ’’یا‘‘پر پیش اور’’کاف‘‘کو زیر دے کرپڑھیں گے ۔ چنانچہ امام شہاب الدین ابو العباس احمد بن حسین بن علی بن رسلان مقدسی رملی شافعی متوفی 844ھ لکھتے ہیں :

بفتح الیاء وکسر الکاف…..بضم الیاء وکسر الکاف۔(22)

یعنی،(لاینکح)’’یا‘‘کے فتح اور’’کاف‘‘ کے کسرہ کے ساتھ پڑھیں گے …… (ولاینکح)’’یا‘‘کے ضمہ کے ساتھ اور ’’کاف‘‘ کوزیر کے ساتھ پڑھیں گے ۔ اورفقہاء کرام کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ یہی حدیث امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دلیل ہے ۔ چنانچہ امام برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی حنفی متوفی593ھ لکھتے ہیں :

لہ قولہ علیہ الصلاۃ والسلام : ’’لا ینکح المحرم ولا ینکح” ۔(23)

یعنی،امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دلیل حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے کہ : محرم نہ نکاح کرے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کروائے ۔ قاضی القضاۃابو الولید احمد بن محمد بن محمد لسان الدین ابن شحنہ ثقفی حلبی حنفی متوفی882ھ لکھتے ہیں :

وقال الشافعی لا یجوز لقولہ علیہ السلام : لا ینکح المحرم ولا ینکح ۔(24)

یعنی،امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ محرم اور محرمہ کو نکاح کرنا جائز نہیں حضور علیہ السلام کے فرمان کی وجہ سے کہ محرم نہ نکاح کرے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کروائے ۔ واضح رہے کہ امام شا فعی رضی اللہ تعالیٰ کے موقف پر دلالت کرنے والے اس حدیث شریف میں نکاح بمعنی ’’وطی‘‘ لیتے ہیں ۔ چنانچہ امام برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی حنفی متوفی593ھ لکھتے ہیں :

وما رواہ محمول علی الوطء۔(25)

اور جوانہوں ( امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ )(26) نے روایت کیا ہے تویہ (دراصل) وطی پر محمول ہے ۔ قاضی القضاۃابو الولید احمد بن محمد بن محمد لسان الدین ابن شحنہ ثقفی حلبی حنفی متوفی882ھ لکھتے ہیں :

وما رواہ محمول علی الوطء۔(27)

یعنی، جوامام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا ہے تووطی پر محمول ہے ۔ اورعلامہ عبد الغنی بن طالب بن حمادہ غنیمی دمشقی حنفی متوفی1298ھ لکھتے ہیں :

وما روی من قولہ صلی اللہ علیہ وسلم (لا ینکح المحرم ولا ینکح) محمول علی الوطء کما فی "الہدایۃ”۔(28)

یعنی،جو روایت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے روایت کیا گیا ہے کہ محرم نہ نکاح کرے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کروائے ۔یہ وطی (یعنی ہمبستری) پر محمول ہے جیساکہ "ہدایہ” میں ہے ۔ لہٰذااب اس حدیث کا مطلب یہ ہواکہ محرم نہ وطی کرے اور نہ ہی وطی کروائے ۔ اوراخر میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موقف پردلالت کرنے والی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے نکاح کی حدیث پر جمہور نے کئی جوابات دیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں ۔ (1) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور حضرت ابو رافع وغیرہماسے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ان سے حالت احرام کے بغیر نکاح کیا تھااور وہ اس معاملہ کوحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے زیادہ جانتے ہیں کیونکہ یہ انہی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ۔ (2) دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت میں ’’محرم ‘‘سے مراد حرم ہے ۔ (3)تیسرا جواب یہ ہے کہ اپ علیہ السلام کے قول اور فعل میں تعارض ہے اور جب قول وفعل میں تعارض ہو تو صحیح قول کے مطابق اصولیین کے نزدیک قول کو ترجیح حاصل ہوتی ہے ۔ (4)چوتھا جواب یہ ہے کہ یہ حضور علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ہے ۔ چنانچہ امام یحی بن شرف نووی دمشقی شافعی متوفی 677ھ لکھتے ہیں :

وقال ابو حنیفۃ والکوفیون : یصح نکاحہ لحدیث قصۃ میمونۃ واجاب الجمہور عن حدیث میمونۃ باجوبۃٍ : اصحہا : ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم انما تزوجہا حلالًا ہکذا رواہ اکثر الصحابۃ۔قال القاضی وغیرہ : ولم یرو انہ تزوجہا محرماالا ابن عباسٍ وحدہ،وروت میمونۃ وابو رافعٍ وغیرہما انہ تزوجہا حلالًا وہم اعرف بالقضیۃ لتعلقہم بہ بخلاف بن عباس۔۔۔۔۔الجواب الثانی تاویل حدیث بن عباسٍ علی انہ تزوجہا فی الحرم وہو حلال، ویقال لمن ہو فی الحرم محرم وان کان حلالًا وہی لغۃ شائعۃ معروفۃ ومنہ البیت المشہور’’قتلوا ابن عفان الخلیفۃ محرمًاای فی حرم المدینۃ۔ والثالث : انہ تعارض القول والفعل۔ والصحیح حینئذٍ عند الاصولیین ترجیح القول۔۔۔۔۔والرابع : جواب جماعۃٍ من اصحابنا ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم کان لہ ان یتزوج فی حال الاحرام وہو مما خص بہ دون الامۃ وہذا اصح الوجہین عند اصحابنا۔ (29)

یعنی،امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کوفی حضرات فرماتے ہیں کہ اس کا حالت احرام میں نکاح کرناحضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قصہ کی وجہ سے صحیح ہے اور جمہور نے اس حدیث میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جوابات دیئے ہیں جن میں سے زیادہ صحیح یہ ہے کہ بے شک حضور علیہ السلام نے ان سے حالت احرام میں نکاح نہ فرمایا تھااسی طرح اکثر صحابہ نے روایت کیا ہے اورقاضی وغیرہ نے فرمایاکہ مروی نہیں ہے کہ حضور علیہ السلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں نکاح فرمایا ہومگر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے تنہا مروی ہے اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اورابو رافع وغیرہما نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے حالت احرام کے علاوہ نکاح فرمایا تھااور وہ اس معاملہ کے انہی کے ساتھ متعلق ہونے کی وجہ سے زیادہ جاننے والے ہیں بخلاف ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ۔۔۔۔۔اور دوسرا جواب یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی روایت کردہ حدیث میں تاویل ہے اور وہ یہ کہ حضور علیہ السلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حرم میں اس حال میں نکاح فرمایا تھا کہ جب اپ حالت احرام میں نہ تھے اور جو حرم میں ہوتاہے اسے بھی محرم کہا جاتا ہے اگر چہ وہ غیر محرم ہواور یہی لغوی اعتبار سے معروف ہے اور مشہور شعر بھی ہے کہ انہوں نے ’’ابن عفان خلیفہ کومحرم یعنی حرم مدینہ میں قتل کیااور تیسراجواب یہ ہے کہ جب قول وفعل میں تعارض ہو تو صحیح یہ ہے کہ اس وقت اصولیین کے نزدیک قول کو ترجیح حاصل ہوتی ہے ۔ ۔۔۔۔اور چوتھا جواب ہمارے اصحاب کی جماعت کی جانب سے یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کرنا اپ ہی کے ساتھ خاص ہے نہ کہ امت کے ساتھ اور یہ ہمارے نزدیک دووجہوں میں سے زیادہ صحیح ہے ۔ اور ان جوابات کو پڑھ کر حنفی مقلد بھی تذبذب کا شکار ہوسکتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے امام کے مذہب کی نصرت کی خاطر ان جوابات کا رد لکھیں اور یہ بالترتیب درج ذیل ہیں ۔ (1)یہ کہنا کیسے صحیح ہوگاکہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس قصہ کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے زیادہ جانتی ہیں کیونکہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس معاملے میں اور اس کے علاوہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے مرتبہ کو نہیں پہنچتیں اورساتھ اس کے کہ صحابہ کرام کی جماعت سے روایت کیا گیا ہے کہ جس سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت کو تائید وموافقت حاصل ہوتی ہے ۔ (2)محرم کی تاویل حرم سے کرنا درست نہیں کیونکہ” بخاری شریف” کی روایت میں ہے کہ ’’حضور علیہ السلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں نکاح فرمایا اور اپ کو اپنے گھر لائے اس حال میں کہ اپ غیر محرم تھے ‘‘اس حدیث شریف میں محرم اور غیر محرم الگ الگ مذکور ہے جو اس پر دال ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت میں محرم سے مراد حرم نہیں ورنہ پھر اس حدیث میں لفظ محرم اور لفظ حلال علیحدہ علیحدہ کیوں ذکر ہوئے ۔ (3)قول وفعل میں تعارض کے وقت قول کو ترجیح دینے میں خود اصولیین کا اتفاق نہیں ہے کیونکہ اس میں ان کااختلاف ہے ۔ (4)اس دعوی کے ثبوت پر دلیل کی حاجت ہے ۔ چنانچہ علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی متوفی 855ھ لکھتے ہیں :

اجاب عن حدیث ابن عباس باربعۃ اجوبۃ نصرۃ لمذہب امامہ،۔۔۔۔۔فالجواب عن الاول : کیف یحکم بان میمونۃ اعرف بالقضیۃ من ابن عباس ولا تلحق میمونۃ ابن عباس فی ہذہ القضیۃ وفیر غیرہا؟ ومع ہذا روی عن جماعۃ من الصحابۃ ما یوافق فی ذلک روایۃ ابن عباس، وہو عبد اللہ بن مسعود وانس بن مالک وابو ہریرۃ وعائشۃ ومعاذ وابو عبد اللہ بن مسعود، اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی ’’مصنفہ‘‘ : حدثنا وکیع عن جریر بن حازم عن سلیمان الاعمش عن ابراہیم عن عبد اللہ انہ لم یکن یری بتزویج المحرم باسا، ورواہ الطحاوی عن محمد بن خزیمۃ عن حجاج عن جریر بن حازم عن سلیمان الاعمش عن ابراہیم : ان ابن مسعود کان لا یری باسا ان یتزوج المحرم. واثر انس بن مالک اخرجہ الطحاوی : حدثنا روح بن الفرج حدثنا احمد بن صالح حدثنا ابن ابی فدیک حدثنی عبد اللہ ابن محمد بن ابی بکر، قال : سالت انس بن مالک عن نکاح المحرم، قال : وما باس بہ، ہل ہو الا کالبیع؟ وہذا اسناد صحیح. وحدیث ابی ہریرۃ مرفوعا رواہ الطحاوی : حدثنا سلیمان بن شعیب حدثنا خالد بن عبد الرحمن حدثنا کامل ابو العلاء عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ، قال : تزوج رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، وہو محرم، وکذلک اخرج الطحاوی حدیث عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہا، : حدثنا محمد بن خزیمۃ حدثنا معلی بن اسد نا ابو عوانۃ عن مغیرۃ عن ابی الضحی عن مسروق عن عائشۃ قالت : تزوج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض نسائہ وہو محرم. واخرجہ البیہقی ایضا من حدیث علی بن عبد العزیز : حدثنا معلی بن اسد الی اخرہ نحوہ۔۔۔۔۔عن عائشۃ : تزوج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض نسائہ وہو محرم، واحتجم وہو محرم۔۔۔۔۔وقال الطحاوی : والذین رووا ان النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم تزوجہا وہو محرم اہل علم، وثبت اصحاب ابن عباس سعید بن جبیر وعطاء بن ابی رباح وطاوس ومجاہد وعکرمۃوجابر بن زید، وہؤلاء کلہم فقہاء یحتج بروایاتہم وارائہم، والذین نقلوا منہم فکذلک ایضا منہم عمرو بن دینار وایوب السختیانی وعبد اللہ بن ابی نجیح فہؤلاء ایضا ائمۃ یقتدی
بروایاتہم۔۔۔۔۔والجواب عن الثانی : ۔۔۔۔۔ فلفظ البخاری : انہ صلی اللہ علیہ وسلم تزوجہا وہو محرم وبنی بہا وہو حلال، یدفع ہذا التفسیر ویبعدہ.والجواب عن الثالث : وہو قولہ بان فعلہ معارض الی قولہ : یرجح القول، انہ لیس مما اتفق علیہ الاصولیون، فان فیہ خلافًا.والجواب عن الرابع : انہ دعوی فیحتاج الی برہان. وقال الطبری : الصواب من القول عندنا ان نکاح المحرم فاسد لحدیث عثمان، رضی اللہ تعالی عنہ، واما قصۃ میمونۃ فتعارضت الاخبار فیہا۔(30)

یعنی،(علامہ عینی حنفی فرماتے ہیں )میں حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر دیئے گئے جوابات کے (رد میں ) چارجوابات اپنے امام کے مذہب کی نصرت کے لئے دیتا ہوں ۔۔۔۔۔پس پہلے کا جواب یہ ہے کہ اس بات کا کیسے حکم لگایا گیا کہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس معاملے کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے زیادہ جانتی ہیں اس حال میں کہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس معاملے میں اور اس کے علاوہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے مرتبہ کو نہیں پہنچتیں ؟اور ساتھ اس کے کہ صحابہ کی جماعت سے روایت کیا گیا ہے جو کہ اس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی روایت کے موافق ہے اور یہی حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت انس بن مالک ،حضرت ابو ہریرہ ،حضرت عائشہ،حضرت معاذاور ابو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم کاقول ہے ۔ ابن ابی شیبہ اسے اپنی
’’مصنف‘‘میں لائے : کہ ہمیں وکیع نے جریر بن حازم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا انہوں نے سلیمان اعمش سے روایت کیا انہوں نے ابراہیم سے روایت کیا اور انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ محرم کو نکاح کرنے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے ،اور اسے امام طحاوی نے محمد بن خزیمہ سے روایت کیاانہوں نے حجاج سے روایت کیا ہے انہوں نے جریر بن حازم سے روایت کیا ہے انہوں نے سلیمان اعمش سے روایت کیا ہے انہوں نے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ بے شک ابن مسعود محرم کے نکاح کرنے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے اور انس بن مالک کی حدیث اسے امام طحاوی لائے ہیں کہ ہمیں بیان کیاہے روح بن فرج نے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں بیان کیاہے احمد بن صالح انہوں نے فرمایا کہ ہمیں ابن ابی فدیک نے بیان کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھے عبد اللہ بن محمد بن ابی بکر نے بیان فرمایا ہے انہوں نے فرمایاکہ میں نے انس بن مالک کو محرم کو نکاح کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں کیا یہ بیع کی مثل نہیں اور یہ اسناد صحیح ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث مرفوع ہے اسے امام طحاوی نے روایت کیا ہے کہ ہمیں سلیمان بن شعیب نے بیان کیا ہے یہ فرماتے ہیں کہ ہمیں خالدبن عبد الرحمن نے بیان کیا ہے یہ فرماتے ہیں کہ ہمیں کامل ابو العلاء نے ابو صالح نے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں نکاح فرمایا ہے اور اسی طرح امام طحاوی حدیث عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لائے ہیں کہ ہمیں بیان کیا محمد بن خزیمہ نے یہ فرماتے ہیں کہ ہمیں معلی بن اسدنے بیان کیا ہے یہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ابو عوانہ نے مغیرہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے انہوں نے ابوالضحی سے روایت کیا ہے انہوں نے مسروق سے روایت کیا ہے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج سے حالت احرام میں نکاح فرمایاہے اور اس حدیث کو امام بیہقی بھی علی بن عبد العزیزکی حدیث سے لائے ہیں کہ ہمیں بیان کیا معلی بن اسد نے (اور)اس کے اخر تک پچھلی کے مثل ہے ۔۔۔۔۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج سے حالت احرام میں نکاح فرمایا ہے اور حالت احرام میں حجامہ فرمایا ہے ۔۔۔۔۔اور امام طحاوی نے فرمایا کہ جنہوں نے حالت احرام میں نکاح کرنے کو ذکر فرمایا ہے تو وہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اہل علم اصحاب ہیں (اور وہ)سعید بن جبیر ،عطاء بن ابی رباح ،طاوس،
مجاہد،عکرمہ،اورجابربن زید ہیں اور یہ تمام ایسے فقہاء ہیں کہ جن کی روایات اور اراء سے حجت پکڑی جاتی ہے اور جنہوں نے ان سے نقل کیا ہے وہ ان ہی کی مثل ہیں (اور وہ)عمرو بن دینار،ایوب سختیانی ،عبد اللہ بن ابی نجیح ہیں پس یہ بھی وہ ائمہ ہیں کہ جن کی روایات کی اقتداء کی جاتی ہے ۔۔۔۔ ۔دوسرے کا جواب۔۔۔۔۔پس بخاری کے لفظ ’’حضور علیہ السلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں نکاح فرمایا اور اپ کو اپنے گھر لائے اس حال میں کہ اپ غیر محرم تھے ‘‘اور یہ تفسیر اس تاویل کو دفع کرتی ہے اور اسے بعید ٹھہراتا ہے اور تیسرے کا جواب یہ ہے کہ جمہور کا قول کہ حضور علیہ السلام کا فعل اپ کے قول کے معارض ہے تو قول کو ترجیح حاصل ہوگی بے شک یہ اس میں سے نہیں کہ جس پر اصولیین کا اتفاق ہو بلکہ اس میں اختلاف ہے اور چوتھے کا جواب یہ ہے کہ اس دعوی میں دلیل کی حاجت ہے اور امام طبری رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک درست قول یہی ہے کہ محرم کا نکاح حضرت عثمان کی حدیث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے فاسد ہے اوربہرحال حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قصہ تو اس میں تعارض ہے ۔ باقی رہی بات رخصتی کی تو یہ جائز ہے کہ کیونکہ ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور اس فتوی میں ’’مختصرالطحاوی‘‘کی ذکر کردہ عبارت میں اسی طرف اشارہ ملتاہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ حالت احرام میں ہوتے ہوئے ہمبستری اورعورت کوبشہوت چھوناحرام ہے کیونکہ یہ ممنوعات احرام سے ہیں ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 993 ھ لکھتے ہیں :

والجماع،ودواعیہ کالقبلۃ واللمس والمفاخذۃ والمعانقۃ بشھوۃ۔(31)

یعنی، حالت احرام میں جماع اور جماع کی طرف بلانے والے کام حرام ہیں جیسے بوسہ دینا ،چھونا،رانوں پر جماع کرنااورگلے لگانا(جب کہ اخری چاروں باتیں ) شہوت کے ساتھ ہوں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ،6ربیع الاخر1440ھ۔13دسمبر2018م FU-63

حوالہ جات

(8)صحیح مسلم،کتاب النکاح،باب تحریم نکاح المحرم ،وکراھۃخطبۃ،2/1031

(9)الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی،کتاب النکاح،فصل فی بیان المحرمات،1۔2/228

(10)لسان الحکام فی معرفۃ الاحکام،الفصل الثالث عشر : فی النکاح،مطلب : ولا یحل ان یجمع بین الاختین بنکاح،ص186

(11)کتاب الحجۃعلی اھل المدینۃ،کتاب المناسک،باب نکاح المحرم،2/461۔465

(12)مختصر الطحاوی ،کتاب النکاح،نکاح المحرم،181

(13)مختصر القدوری وشرحہ اللباب فی شرح الکتاب،کتاب النکاح، ص1۔3،2/144

(14)المسالک فی المناسک ،القسم الثانی : فی بیان نسک الحج من فرائضہ وسننہ وادابہ وغیر ذلک، فصل فی نکاح المحرم،2/790

(15)لسان الحکام فی معرفۃ الاحکام،الفصل الثالث عشر : فی النکاح،مطلب : ولا یحل ان یجمع بین الاختین بنکاح،ص186

(16)الفتاوی الھندیۃ،کتاب النکاح،الباب الثالث : فی بیان المحرمات وھی تسعۃ اقسام،القسم التاسع : المحرمات بالمطلقات،1/283

(17)المسالک فی المناسک ،القسم الثانی : فی بیان نسک الحج من فرائضہ وسننہ وادابہ وغیر ذلک، فصل فی نکاح المحرم،2/791

(18)ھدایۃ السالک الی المذاھب الاربعۃ فی المناسک،الباب الثامن فی محرمات الاحرام وکفاراتھا، النوع السادس : عقد النکاح،2/624

(19) فتح القدیر ،کتاب النکاح، فصل : فی بیان المحرمات،تحت قولہ : ویجوز للمحرم والمحرمۃ ان یتزوجا فی حالۃ الاحرام،3/138

(20)الھدایۃ وشرحہ البنایۃ شرح الھدایۃ، ،کتاب النکاح، فصل : فی بیان المحرمات،5/47

(21)سنن ابی داود،کتاب المناسک،باب المحرم یتزوج،برقم1841،2/289۔290

(22)شرح سنن ابی داودلابن رسلان،کتاب المناسک،باب المحرم یتزوج،تحت الحدیث 1841، 8/438۔439

(23)الھدایۃشرح بدایۃ المبتدی،کتاب النکاح،فصل فی بیان المحرمات،1۔2/228

(24)لسان الحکام فی معرفۃ الاحکام،الفصل الثالث عشر : فی النکاح،مطلب : ولا یحل ان یجمع بین الاختین بنکاح،ص186

(25)الھدایۃشرح بدایۃ المبتدی،کتاب النکاح،فصل فی بیان المحرمات، 1۔2/228

(26)کما فی البنایۃ شرح الھدایۃ، ،کتاب النکاح، فصل : فی بیان
المحرمات،تحت قولہ : ومارواہ،5/49،وفیہ : ای ما رواہ الشافعی رحمہ اللٰہ

(27)لسان الحکام فی معرفۃ الاحکام،الفصل الثالث عشر : فی النکاح،مطلب : ولا یحل ان یجمع بین الاختین بنکاح،ص186)

(28)اللباب فی شرح الکتاب،کتاب النکاح، ص : 1۔3،2/144

(29)صحیح مسلم بشرح النووی،کتاب النکاح،باب تحریم نکاح المحرم ،وکراھۃ خطبتہ،تحت الحدیث 1409،9۔10؍165۔166

(30)عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری،کتاب النکاح،باب نکاح المحرم،تحت الحدیث5114، 14؍65،66،67

(31)لباب المناسک وعباب المسالک،باب الاحرام : شرائط صحتہ وواجباتہ وسننہ ومستحباتہ،فصل فی محرمات الاحرام،ص96

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button