ARTICLES

حالتِ احرام میں گنگھی کرنے او رصابن سے نہانے کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے جاننے والوں کے ساتھ ایک خاتون ہیں وہ حج تمتع کے ارادے سے مکہ مکرمہ پہنچی تو اسے ماہواری شروع ہو گئی جب کہ وہ احرام میں تھیں اور حج کو ابھی دس سے زیادہ دن باقی ہیں اور اس نے احرام تو نہیں کھولا مگر بالوں کو کنگھی دے لی اور صابن سے نہا لیا اور پھر ہم نے اسے ان کاموں سے بھی روک دیا ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ دو کام اس نے کر لئے ہیں تو اس پر کوئی دم تو لازم نہیں ہو گا؟

(السائل : محمد بلال گھانچی، ملیر)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں بالوں میں کنگھی کرنے پر اگر تین سے زائد بال نکلے ہوں تو صدقہ لازم ہو گا اور اگر تین تک ہوں تو ایک مٹھی گندم دے دے یا ہر بال کے عوض ایک کھجور صدقہ کرے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور حارثی ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

پس اگر یک دوسہ موی باشد واجب شود یک کف از گندم یا بد ہد برائے موئے یک خرما، و اگرزائد شوند برسہ موئے نصف صاع گندم بدہد مادام کہ نرسد بربع رأس و رُبع لحیہ و چوں بربع رسید ذبح شاۃ لازم گردد (203)

یعنی، تو پس اگر بال تین تک ہوں تو ایک مٹھی گندم دے دے ، یا ہر بال کے عوض ایک کھجور صدقہ دے اور اگر تین سے زائد بال گریں تو نصف صاع (سوا دو سیریا دوکلو پینتالیس گرام تقریباً) گندم (یا اُس کی قیمت) صدقہ دے ، یہ مقدار چوتھائی سر یا داڑھی کے بقدر نہ ہو تو نصف صاع گندم یا اُس کی قیمت ہی دیا جائے گا۔ چوتھائی کی مقدار کو پہنچ جائے تو ایک بکری (بطور دَم) ذبح کرنی ہو گی۔ اور صابن سے نہانے کی صورت میں اگر بے خوشبو کے صابن سے نہایا ہو تو مکروہ تنزیہی ہے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی مکروہات تنزیہیہ کے بیان میں لکھتے ہیں :

شستن سر وریش و سائر جسد بعد از تحقّق احرام ببرگ درخت کنار یا صابون یا اُشنان (204) یعنی، احرام باندھنے کے بعد سر اور داڑھی اور تمام بدن کو بیری کے پتوں یا صابن یا اُشنان سے دھونا (مکروہ تنزیہی ہے ) ۔

اور صدر الشّریعہ محمد امجد علی حنفی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : (مکروہ ہے ) بال یا بدن کھلی یا صابن وغیرہ بے خوشبو کی چیز سے دھونا۔(205) کیونکہ یہ چیزیں مَیل چُھڑاتی ہیں جب کہ حاجی کا احرام میں مَیلا کُچیلا رہنا اور پراگندہ سر رہنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ا کو پسند ہے ، چنانچہ ’’شرح السنّہ‘‘(209) میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ’’کسی نے عرض کی یا رسول اللہ! حاجی کو کیسا ہونا چاہئے ؟ فرمایا : پراگندہ سر، مَیلا کُچیلا‘‘ الخ (206) اسی لئے مَیل چُھڑانے والی چیزوں کے استعمال او رکنگھی کرنے سے حاجی کو منع کیا جاتا ہے ۔ احرام اور خوشبو دار صابن : اور اگر صابن خوشبو دار ہو تو دم واجب ہو گا کیونکہ صابن میں خوشبو کا جواز خوشبو کے صابن میں پکنے سے ثابت نہیں ہو گاکہ پکنے سے جواز کھانے میں ثابت ہوتا ہے اگر یونہی ہو تو تیل میں خوشبو کے جوہر کو ڈال کر پکانے سے اُس کے استعمال کا جواز بھی ثابت ہو گا حالانکہ یہ ایسا نہیں ہے اور اگر اِس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ صابن میں خوشبو ڈال کر پکانے کے بعد اُس کا استعمال جائز ہے تو بھی خوشبودار صابن کے استعمال کا جواز ثابت نہیں ہو گا کیونکہ صابن میں خوشبو ڈال کر اُسے پکایا نہیں جاتا بلکہ پکنے کے بعد صابن کے سیال کو جب ٹھنڈا کیا جاتا ہے اُس وقت تقریباً چالیس درجہ سینٹی گریڈ پر اُس میں خوشبو ڈالی جاتی ہے اور اس درجہ حرارت پر کوئی چیز پکتی نہیں ہے ، اگر اِس درجہ حرارت پر چیزیں پکتی ہوں تو جب موسم گرما میں درجہ حرارت چالیس یا اُس سے بڑھ جاتا ہے تو اُس وقت ہر چیز پک جائے حالانکہ ایسا نہیں ہے اور اِس درجہ حرارت پر صابن میں خوشبو اِس لئے ڈالی جاتی ہے ، کیونکہ خوشبو ڈال کر صابن کو پکانے کی صورت میں خوشبو اُڑ جاتی ہے اِس طرح اُس مقدار میں خوشبو باقی نہیں رہتی جتنی کی ضرورت ہوتی ہے اِسی لئے خوشبو ڈالنے کے بعد صابن کو پکایا نہیں جاتا لہٰذا کسی بھی صورت میں خوشبو دار صابن کے استعمال کا جواز ثابت نہیں ۔ اور پھر بغیر خوشبو کے صابن سے نہایا ہے تو یہ فعل مکروہ (تنزیہی) ہے مگر اُس پر کوئی جزاء لازم نہ آئی بشرطیکہ نہانے میں سر کو ملنے یا صابن لگانے سے بال نہ گرے ہوں اور اگر خوشبو دار صابن سے نہایا ہے تو خوشبو کے استعمال کی وجہ سے اُس پر دَم لازم آئے گا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء،29 ذی القعدۃ1427ھ، 20دیسمبر 2006 م (305-F)

حوالہ جات

203۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب ، باب اول در بیان احرام، فصل ششم در بیان محرّمات احرام، ص85

204۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب،باب اول دربیان احرام، فصل ہفتم دربیان مکروہات تنزیہیہ احرام الخ، ص93

205۔ بہارِ شریعت، حج کابیان، احرام کے احکام، احرام کے مکروہات، 1/1079

206۔ شرح السنّۃ، کتاب الحج، باب وُجوب الحج اذا وجد الزّاد والرّاحلۃ، برقم : 184، 4/9

أیضاً سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب من سورۃ آل عمران، برقم : 2998، 4/75

أیضاً سنن ابن ماجۃ، کتاب المناسک، باب ما یوجب الحج، برقم : 2896، 3/413

أیضاً سنن الدارقطنی، کتاب الحج، برقم : 2397، 1/2/194

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button