ARTICLES

حالتِ احرام میں کنگھی کرنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ حالت احرام میں کنگھی کرنا شرعاً کیسا ہے ؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حالت احرام میں سر یا داڑھی میں کنگھی کرنا مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ کنگھی کرنا زینت ہے اور مُحرِم کو زینت سے روکا گیا ہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور حارثی ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

شانہ دادن موی سر و ریش خود را بعد از تحقّق احرام زیر انکہ آن از قسم زینت است، نیز درویست احتمال قطع شدن موئہا (207)

یعنی، احرام کے بعد سر یا داڑھی میں کنگھی کرنا (مکروہ ہے ) کیونکہ یہ آرائش میں داخل ہے اور اِس میں بالوں کے ٹوٹنے کا احتمال ہے ۔ جس پر کفّارہ لازم آئے گا۔ جس کے ایک یا دو یا تین بال ٹوٹے ہوں تو ہر بال کے بدلے ایک کھجور صدقہ دے ، یا مٹھی بھر گندم صدقہ کرے یا روٹی کا ٹکرا دے ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبداللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

لو سقَطَ من رأسِہ أو لحیتہ ثلاث شعرات عند الوضوء أو غیرہ (حین مسّہ أو حکہ) فعلیہ کف من طعام أو کسرۃ (من خبز) أو تمرۃ لکل شعرۃ (208)

یعنی، اگر وضو وغیرہ کے وقت سر یا داڑھی سے تین بال گریں تو اُس پر ایک مٹھی اناج یا روٹی کا ایک ٹکڑا یا ہر بال کے عوض ایک کھجور صدقہ دینا لازم ہے ۔ اور اگر تین سے زائد ہوں تو نصف صاع کی مقدار (یعنی تقریباً دو کلو پینتالیس گرام) گندم (یا اُس کی قیمت) دے یہ مقدار چوتھائی سر تک ہے اور چوتھائی سر کی مقدر ہونے پر دم لازم آتا ہے ۔ (209)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء،29 ذی القعدۃ1427ھ، 20دیسمبر 2006 م (308-F)

حوالہ جات

207۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول دربیان احرام ، فصل ہفتم در بیان مکروہات تنزیہیہ احرام ، ص93۔94

208۔ لباب المناسک، باب الجنایات، فصل فی سقوط الشّعر، ص254

209۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول در بیان احرام، فصل ششم در بیان محرمات احرام، ص85،86

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button