ARTICLESشرعی سوالات

حالتِ احرام میں موتیا اور خوشبو والی کریم کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ حالتِ احرام میں موتیا کے گجرے ، خوشبو والی کریم وغیرہا استعمال کرنا کیسا ہے ؟

(السائل : C/O لبیک حج گروپ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حالتِ احرام میں خوشبو اور خوشبودار اشیاء کا استعمال ممنوع ہے چاہے اس کا استعمال بدن میں ہو یا کپڑوں میں ، پھر خوشبو کی اقسام کثیر ہیں اور ان کے استعمالات بھی مختلف ہیں اس لئے صرف سوال میں ذکر کردہ اشیاء اور ان کے استعمالات کا حکم بیان کیا جائے گا۔ موتیا اور گجرے : ان کا استعمال بطور سونگھنے اور گلے یاہاتھ میں پہننے کے ہوتا ہے ، ہاتھ یا گلے میں پہننے یا ہاتھ میں پکڑنے کی صورت میں اُن کی خوشببو ہاتھوں وغیرہ کو نہیں لگتی، خوشبو اُن کے پانی میں ہوتی ہے وہ اُن کو مسلنے سے نکلتا ہے نہ کہ پہننے اور ہاتھ لگانے سے ، باقی رہا سونگھنا تو وہ مکروہ ہے مگر اس پر کوئی کفّارہ لازم نہیں ہوتا لیکن مکروہ کے ارتکاب سے بھی بچنا چاہئے ، چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : خوشبو سونگھی پھل ہو یا پھول جیسے لیمو، نارنگی، گلاب، چمبیلی، بیلے ، جُوہی وغیرہ کے پھول تو کچھ کفّارہ نہیں اگرچہ محرم کو خوشبو سونگھنا مکروہ ہے (63) علامہ سراج الدین علی بن عثمان اوسی حنفی متوفی 569ھ لکھتے ہیں :

لَو شَمَّ الطِّیبَ لا شَیئَ علیہ (64)

یعنی، اگر خوشبو سونگھی تو اُس پر کچھ لازم نہیں ۔ اور علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161ھ اور علمائِ ہند کی ایک جماعت نے لکھا کہ :

لا یلزَمُہ شیٔ بشم الرَّیحان و الطّیب و أثمارِ الطّیبۃِ مع کراہۃِ شمِّہ کما فی ’’غایۃ السّروجی شرح الہدایۃ‘‘ (65)

یعنی، خوشبو، پھول اور پھل سونگھنے سے کچھ کفّارہ تو لازم نہیں آتا لیکن مکروہ ہے جیسا کہ ’’غایۃ السروجی شرح الہدایہ‘‘ میں ہے ۔ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

أنہ لو شَمّ طیباً أو ثِماراً طَیِّبۃً لا کفّارۃَ علیہ و إن کُرِہَ (66)

یعنی، اگر خوشبو یا خوشبودار پھل سونگھے تو اُس پر کوئی کفّارہ نہیں ہے اگرچہ (خوشبو سونگھنا) مکروہ ہے ۔ خوشبو دار کریم : اس میں خوشبو تھوڑی ہے تو پورے عضو پر لگانے کی صورت میں دَم اور اس سے کم میں صدقہ لازم ہو گا اور خوشبو اگر زیادہ ہے تو چوتھائی عضو پر لگانے کی صورت میں دَم اور اس سے کم میں صدقہ لازم ہو گا، چنانچہ علامہ سید محمد امین ا بن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

لو طیَّب بالقلیلِ عُضواً کاملاً أو بالکثیرِ رُبعَ عضوٍ لَزِمَ الدَّمُ و إلاَّ فصدقَۃ (67)

یعنی، تھوڑی خوشبو پورے عضو پر لگائی یا بہت خوشبو چوتھائی عضو پر تو قربانی واجب ہوئی ورنہ صدقہ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 4 ذوالحجہ 1430ھ، 21 نوفمبر2009 م 658-F

حوالہ جات

63۔ بہار شریعت، حج کا بیان، جُرم اور اُن کے کفارے ، خوشبو اور تیل لگانا، 1/1163

64۔ الفتاوی السّراجیۃ، کتاب الحجّ، باب التّطیّب المحرم، ص35

65۔ الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الحجّ، الباب الثّامن فی الجنایات، الفصل الأول فیما یجب بالتّطیّب و التّدھین، 1/240

66۔ رَدُّ المحتار علی الدُّرِّ ا لمختار، کتاب الحجّ، باب الجنایات، تحت قولہ : إنْ طیّب، 3/653

67۔ رَدُّ المحتار علی الدُّرِّ المختار، کتاب الحجّ، باب الجنایات، تحت قولہ : کاملاً، 3/653

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button