ARTICLES

حاجی مزدلفہ میں نماز مغرب ادا کی نیت سے پڑھے

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مزدلفہ کی رات مغرب و عشاء کی نماز ، عشاء کے وقت مزدلفہ میں ادا کی جاتی ہیں اور اس وقت تقریبا عشاء کا وقت ہی ہوتا ہے کیونکہ حاجی مغرب کے بعد عرفات سے نکل کر عشاء کے وقت میں ہی مزدلفہ پہنچتا ہے اس وقت چونکہ مغرب کا وقت نہیں ہوتا تو وہ جو مغرب نماز پڑھتا ہے وہ ادا ہوتی ہے یا قضاء، اور ہم نے ادا کی نیت کی تھی، بعض لوگ کہتے ہیں کہ مغرب قضاء ہوتی ہے ، اپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

(السائل : محمد اعجاز، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : مزدلفہ کی رات حاجی مزدلفہ میں جو مغرب کی نماز پڑھتا ہے وہ ادا ہوتی ہے قضاء نہیں ، اس لئے فقہاء کرام نے تصریح کر دی، نماز پڑھتے وقت ادا کی نیت کرے گا نہ کہ قضاء کی، چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبد اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و ینوی المغرب ادائً لا قضائً (242)

یعنی، مغرب نماز میں ادا کی نیت کرے گا نہ کہ قضاء کی۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

نیت کند نماز مغرب را اداء کما صرح بہ فی ’’البحر الزاخر‘‘ وغیرہ نہ قضاء چنانکہ توہم کردہ اند بعضے عوام (243)

یعنی، نماز مغرب میں ادا کی نیت کرے جیسا کہ ’’البحر الزاخر‘‘ وغیرہ میں اس کی تصریح کی ہے نہ کہ قضاء کی جیسا کہ بعض لوگوں کا وہم ہے ۔ اور ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

کما صرح بہ فی ’’البحر الزاخر‘‘ وغیرہ خلافا لما یتوہمہ العامۃ : فانہ ﷺ قال لمن قال لہ فی وقت المغرب ’’اما نصلی یا رسول اللٰہ؟ الصلاۃ امامک‘‘ ای : وقتہا ورائ ک (244)

یعنی، جیسا کہ اس کی ’’بحر الزاخر‘‘ وغیرہ میں تصریح کی ہے برخلاف اس کے کہ جس کا عوام نے وہم کیا، پس حضور ﷺ نے اسے فرمایا جس نے مغرب کے وقت کے بارے میں عرض کی یا رسول اللہ! کیا ہم نماز نہ پڑھ لیں ، نماز تیرے اگے ہے ، (245) یعنی نماز کا وقت تیرے اگے ہے ۔ اور اس کے تحت علامہ حسین بن محمد سعید بن عبد الغنی مکی حنفی متوفی 1366ھ لکھتے ہیں :

اقول : و اما قول صاحب البحر الرائق : ’’و المغرب قضائً‘‘ فقد ردہ فی ’’النہر‘‘ حیث قال : و ینوی فی المغرب الادائ لا القضائ کما فی ’’السراج‘‘ و بہ اندفع ما فی ’’البحر الرائق‘‘ : ان المغرب یقع قضائً اھ کذا فی ’’الحباب‘‘ (246)

یعنی، میں کہتا ہوں کہ صاحب ’’بحر الرائق‘‘ کا قول کہ ’’اور مغرب از روئے قضاء کے ‘‘ (247) (پڑھے ) پس تحقیق ’’نہر الفائق‘‘ (248) میں اس کا رد کیا جب کہ فرمایا مغرب میں ادا کی نیت کرے نہ کہ قضاء کی جیسا کہ ’’السراج الوہاج‘‘ (249) میں ہے اور اس سے وہ مندفع ہو گیا جو ’’بحر الرائق‘‘ میں ہے کہ ’’مغرب قضاء واقع ہو گی‘‘ اھ، اسی طرح ’’حباب‘‘ میں ہے ۔ او رامام اکمل الدین محمد بن محمود بابرتی حنفی متوفی 786ھ لکھتے ہیں :

و لا یجوز ان یکون قضائً فتعین ان یکون ذلک وقتہ (250)

یعنی، اور جائز نہیں کہ (نماز مغرب) قضاء ہو پس وہ اس (نماز) کا وقت ہونا متعین ہو گیا ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الخمیس، 19 ذوالحجۃ 1431ھ، 25 نوفمبر 2010 م 693-F

حوالہ جات

242۔ لباب المناسک ، باب احکام المزدلفۃ، فصل : فی الجمع بین الصلاتین بہا، ص145

243۔ حیات ا لقلوب فی زیارت المحبوب، باب ہفتم : در بیان مزدلفہ و احکام ان، فصل دویم : دربیان جمع بین المغرب و العشاء در مزدلفہ، ص195

244۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب احکام المزدلفۃ، فصل : فی الجمع بین الصلاتین بہا، ص353

245۔ ’’صحیح بخاری‘‘ میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی، نماز؟ تو اپ نے ارشاد فرمایا : ’’الصلاۃ امامک‘‘ نماز تیرے اگے ہے ، پھر مزدلفہ تشریف لائے تو کامل وضو فرمایا، پھر نماز کی اقامت ہوئی پس اپ نے نماز پڑھائی … پھر اقامت ہوئی، اپ نے نماز پڑھائی اور ان کے مابین کوئی نماز ادا نہ فرمائی۔ (صحیح البخاری، کتاب الحج، باب الجمع بین الصلاتین بالمزدلفۃ، برقم : 1672، 1/412، 413)

246۔ ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری، باب احکام المزدلفۃ، فصل : فی الجمع بین الصلاتین بہا، ص303

247۔ البحر الرائق، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قول الکنز : و صل بالناس العشائین، 2/597

248۔ النھر الفائق، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قول الکنز : باذان و اقامۃ، 2/85

249۔ السراج الوھاج، صاحب ’’جوہرہ نیرہ‘‘ علامہ ابو بکر بن علی بن محمد حدادی زبیدی متوفی 800ھ کی کتاب ہے جو کہ ’’مختصر القدوری‘‘ کی شرح ہے ۔

250۔ العنایۃ علی ھامش الفتح، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قولہ : اشارۃ الی ان التاخیر واجب 2/379

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button